Pages - Menu

منگل، 30 جولائی، 2013

زندہ لفظ

 
روح پرور اور تخلیقی معاشرہ بےجان لفظوں کی آماجگاہ نہیں ہوتا۔ ایسے معاشرے میں اقدار کے متعلق تقریریں نہیں ہوتیں، نعرے بلند نہیں کئے جاتے۔ صداقت، نیکی اور حسن کی اقدار نعروں کی صورت میں بلند بانگ لفظوں میں ادا ہونے کے بجائے انسانی عمل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہی وہ صورت ہے جس میں معنی خود لفظ بن جاتے ہیں اور ایسے ہی لفظوں کو ہم ’زندہ لفظ‘ کہتے ہیں۔ اس کے برعکس غیرتخلیقی معاشرے میں قول و عمل کا تضاد لفظوں کو بےروح اور عمل کو بےجہت بنادیتا ہے۔ اس بات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی شے کی حرمت باقی نہیں رہتی۔ ترجیحات ختم ہوجاتی ہیں اور اعلیٰ و ادنیٰ کی تمیز مٹ جاتی ہے۔ زندگی کی سمتیں کھوجاتی ہیں۔ افراد کھوکھلے ہوجاتے ہیں۔ انسانوں کی معنوی وحدت ختم ہوجاتی ہے۔ لفظ اور معنی کا ربط ٹوٹ جاتا ہے اور زندگی کے کھوکھلے پن کو بھرنے کے لئے مجرد نعرے بروئے کار آتے ہیں جو زندگی کی لغویت اور بےمعنویت میں مزید اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ نعرے زیادہ لگنے لگیں تو سمجھ لیجئے کہ عمل رک گیا ہے۔

(سجاد باقر رضوی کے مضمون ’زندہ لفظ‘ سے اقتباس)

اتوار، 28 جولائی، 2013

’عبقری‘ کے روحانی اقتباسات

آج سویرے ہاکر ’ڈان‘ کے ساتھ ماہنامہ عبقری لاہور کا تازہ شمارہ بھی پھینک گیا۔ حسبِ معمول قریب از دوپہر بیدار ہو کر گیراج میں اخبار لینے گیا تو وہاں بیچارے ’ڈان‘ کو ’عبقری‘ کے ’روحانی بوجھ‘ تلے دبا ہوا پایا۔ یکے بعد دیگرے دونوں کو بالترتیب مرغوبیت اور مرعوبیت سے اٹھایا اور بغیر ٹیلیویژن والے ٹی وی لاؤنج میں اپنی مخصوص نشست پر براجمان ہو کر پہلے ’ڈان‘ پر نظر دوڑائی۔ سرخیوں اور مضامین کے عناوین کو دیکھنے کے بعد چنیدہ چیزوں کے تفصیلی مطالعے کو موقوف کرتے ہوئے خود کو اپنے ہی باذوق ہونے کا ثبوت فراہم کرنے کے لئے ’عبقری‘ کی جانب مائل ہوا کہ مجلے کی پیشانی پر ’باذوق مردوں اور باوقار خواتین کے لئے جسے بچے بھی پڑھ سکتے ہیں‘ کے الفاظ درج تھے۔ اب جو فہرست مضامین پر نظر ڈالی تو دنیا و مافیہا کے ہر ممکنہ اور غیرممکنہ مسئلے کا حل ’عبقری‘ میں پوشیدہ پایا۔ اگلے پچپن صفحات پر جو کچھ درج تھا اسے مکمل طور پر ہضم کی سکت آپ کے روحانیت سے عاری معدے میں یقیناً نہیں ہوگی، تاہم کچھ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیے اور اپنی حیاتِ آسودگی طلب کو اطمینان کی دولت سے مالا مال کیجئے کہ ’عبقری‘ میں ’گھر بھر کی جسمانی بیماریوں، ذہنی الجھنوں اور روحانی مسائل کا حل‘ موجود ہے۔

تبادلہ رکوانا
اگر کسی کا تبادلہ مرضی اور بلا کسی سبب کے دور دراز ہوگیا ہو یا وہ چاہتا ہو کہ دوبارہ اسی پوسٹ پر اسی شہر میں واپس آجاؤں تو سورہء لہب پارہ نمبر 30 مکمل باوضو ہر روز عشاء کی نماز کے بعد انیس مرتبہ انیس روز تک بلاناغہ پڑھیں اور متبادلہ کی منسوخی کی دعا کریں۔ انشاءاللہ تبادلہ منسوخ ہوجائے گا۔

مقدمہ میں کامیابی
بعض لوگ اپنی غلطی سے یا بعض مرتبہ دشمنوں اور حاسدوں کی چال کے سبب مقدمات میں الجھ جاتے ہیں اور عدالت کے چکر لگا لگا کر وقت اور رقم دونوں برباد کردیتے ہیں لیکن مقدمہ میں جگہ جگہ ناکامی ہوتی ہے۔ مقدمہ میں کامیابی کیلئے گھر کے سب افراد مرد عورت کثرت سے یاحفیظ پڑھیں۔ انشاءاللہ تعالیٰ مقدمہ میں کامیابی ہوگی۔

مقبولیت اور عزت
جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا چہرہ پرکشش و پرنور ہوجائے۔ اس کی ہیبت ہر شخص کے دل پر قائم ہوجائے اور وہ لوگوں کو جو بھی حکم دے وہ اس کی تعمیل کریں تو اسے چاہیے کہ ہر روز تازہ غسل کر کے بالکل سفید لباس پہن کر بعد نماز عشاء مکمل تنہائی میں دو نفل ادا کرنے کے بعد المومن سات سو چھیاسی مرتبہ روزانہ پڑھے تو اکتالیس دن کے بعد دیوار پر ایک نور ظاہر ہوگا اور اس کو ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے یہ نور اس کے دل میں منتقل ہورہا ہے اور اس کے بعد اس میں یہ صفت پیدا ہوجائے گی کہ جو بھی وہ لوگوں کو حکم دے گا۔ لوگ اس کی تعمیل کریں گے اور اس کے چہرے پر ایک خاص قسم کا نور ہر وقت جلوہ گر رہے گا اور انشاءاللہ تعالیٰ اس کی قدر و منزلت میں خوب اضافہ ہوگا۔

مراقبے سے فیض پانے والے
محترم حکیم صاحب السلام علیکم! آپ مراقبے کے بارے میں کافی فرماتے ہیں اور لوگوں کی کیفیات بھی بہت ہیں، کچھ عبقری میں کیفیات پڑھنے سے اور آپ کے درس اور حلقہ کشف المحجوب میں مراقبہ پر زور دینے سے مجھ میں بہت شوق پیدا ہوا۔ روزانہ تھوڑا سا مراقبہ کرتا ہوں، کافی عرصے بعد ایک دو بار ہلکی سی کیفیت ہوئی ہے، ایک بار سفید سی چیز کو اوپر آسمان پر جاتے ہوئے دیکھا اور ایک مرتبہ خود کو خانہ کعبہ کے قریب محسوس کیا۔ اب جب بھی مراقبہ شروع کرتا ہوں تو نور کو آسمان سے آتے ہوئے محسوس کرتا ہوں۔ جب سے مراقبہ کرنا شروع کیا ہے میری الحمدللہ بہت سی پریشانیاں دور ہورہی ہیں اور مجھے سکون کی نیند نہیں آتی تھی، میں ڈیپریشن کا مریض تھا مگر الحمدللہ ہر وقت دماغی سکون رہتا ہے اور میں پرسکون نیند سوتا ہوں۔ مراقبے نے میرے بہت سارے مسائل حل کردئیے ہیں۔ (خ،م۔لاہور)

روحانی پھکی کی کیا بات ہے۔۔۔ !!!
محترم حکیم صاحب السلام علیکم! میں عبقری کی پچھلی چھ ماہ سے قاری ہوں اور تقریباً دو ماہ سے روحانی پھکی استعمال کررہی ہوں اور اس نیت سے استعمال کرتی ہوں کہ اللہ میری تمام بیماریاں دور کردے، اللہ کے حکم سے کافی فرق پڑا ہے۔ اس سے پہلے گرمیاں شروع ہوتے ہی پاؤں پر دانے نکلتے تھے جو پانی والے ہوتے تھے اور اس سے پہلے خارش ہوتی ہے جب سے پھکی استعمال کی ہے۔ اللہ کا کرم ہے کہ اس مرتبہ پانی والے دانے نہیں بنے، کافی فرق ہے اور پیٹ میں بھی سکون محسوس ہوتا ہے۔ (ثریا ناز)
 
امید واثق ہے کہ آپ کو ’عبقری‘ کے ان روحانی اقتباسات سے کافی فرق پڑا ہوگا اور پیٹ میں بھی سکون محسوس ہورہا ہوگا، بصورتِ دیگر مبلغ چالیس روپے سکہ رائج الوقت میں ’عبقری‘ خرید فرمائیے اور ’سانس میں ذکر بسانے کا سائنسی طریقہ‘، ’جنات کا پیدائشی دوست (قسط نمبر 46) از علامہ لاہوتی پراسراری‘، ’عبقری وظیفے سے حج کیسے ہوا؟‘، ’جنات کا دیا کباب کھایا اور زندگی برباد‘ اور ’چاق و چوبند رہنے کے انوکھے راز‘ جیسی روحانی تحریروں سے مستفید و مستفیض ہوئیے۔

پسِ تحریر: جو احباب حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی اور ’عبقری‘ کی باتوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں ان سے معذرت کا خواستگار ہوں مگر میرے نزدیک یہ سب طنز و مزاح کے سوا کچھ بھی نہیں۔

جمعہ، 26 جولائی، 2013

میں اس 'چور' کا ممنون ہوں

ایک قومی روزنامے میں شائع ہونے والی ایک سنگل کالمی خبر نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ خبر کچھ یوں تھی، "(جہانیاں کے نواحی گاؤں) چک نمبر 111 دس آر کی مسجد اللہ والی سے چور نے تمام ٹونٹیاں اتار لیں۔ نامعلوم چور مسجد میں یہ تحریر چھوڑ گیا، "میں انتہائی غریب آدمی ہوں۔ میرے گھر میں آٹا بھی نہیں۔ حالات بہتر ہونے پر ٹونٹیوں کی قیمت مسجد میں جمع کرادوں گا۔""

مملکتِ خداداد پاکستان دنیا میں نظریاتی بنیادوں پر حاصل کی جانے والی پہلی ریاست تھی۔ ریاست کے قیام کے وقت جان و مال کی قربانیاں دینے والے یہ امید کررہے تھے کہ پاکستان کے قائم ہوتے ہی مصائب و آلام کا دور ختم ہوجائے گا اور عزت و وقار کے ساتھ جینے کے وسیلے میسر آئیں گے۔ لہو کی ندیاں بہیں، عزتوں کی دھجیاں اُڑیں، مال و متاع کی بربادی ہوئی اور ریاست قائم ہوگئی۔ ریاست کا قیام ایک عام آدمی کے لئے کس حد تک خوشحالی و آسودگی کا وسیلہ ثابت ہوا، اس بات کا جائزہ لینے کے لئے کسی دیہات یا قصبے میں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ کسی بھی بڑے شہر کے چھوٹے رہائشی علاقوں میں چلے جائیے، آپ کو اندازہ جائے گا کہ ہم معاشرتی ترقی کے کس دور میں جی رہے ہیں۔

ریاست کی بدحالی میں جہاں سیاستدانوں، جاگیرداروں اور نوکر شاہی نظام نے بدترین کردار ادا کیا ہے، وہیں مذہبی ٹھیکیدار بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہے اور انہوں نے اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا۔ ملک بھر میں موجود لاکھوں مساجد اب عبادت گاہیں نہیں رہیں بلکہ مسلکی منافرت پھیلانے کے ٹھکانے اور مال بٹورنے کے اڈے بن چکی ہیں۔ میں نے اپنے ہوش کے دو ڈھائی عشروں میں کئی مساجد کی تعمیر شروع ہوتے دیکھی اور حلفاً کہتا ہوں کہ آج تک ان میں سے کسی ایک کی بھی تعمیر مکمل نہیں ہوئی۔ کبھی لینٹر کے لئے سریا کم پڑ جاتا ہے تو کبھی مینار اور گنبد پر پلستر کے لئے سیمنٹ درکار ہوتا ہے۔ کسی حاجی صاحب، ملک صاحب یا چوہدری صاحب کی نیک کمائی سے سریے اور لینٹر کے مسائل حل ہوجائیں تو مسجد کے اندر اور باہر رنگارنگ ٹائلیں لگانے کے لئے چندہ مانگنا شروع کردیا جاتا ہے۔ محلے والوں کی حبِ انفاق فی سبیل اللہ کے باعث یہ کام خوش اسلوبی سے مکمل ہوجائے تو مسجد کی توسیع کا کام شروع کردیا جاتا ہے۔ محلے کے 99 فیصد سے زیادہ گھروں میں ائیر کنڈیشنر نہیں ہوگا مگر مسجد میں ضرور لگوایا جائے گا۔ مسجد میں چلے جائیں تو ایسا لگتا ہے کہ اللہ کا گھر نہیں تعمیر ہوا بلکہ محلے والوں کی چھاتی پر مونگ دلنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ میں نے اپنے گناہگار کانوں سے کبھی کسی مسجد کے اسپیکر سے یہ نہیں سنا کہ مسجد کو چندہ تو آپ دیتے ہی رہتے ہیں کبھی اپنے اردگرد کے گھروں میں بھی جھانک کر دیکھ لیجئے کہ کوئی مجبور اور مفلس فاقوں تو نہیں مررہا۔

مسجد سے ٹونٹیوں کی چوری کا وہ واقعہ جس سے بات شروع ہوئی تھی کل میں بھی بھول جاؤں گا اور یقیناً آپ کا حافظہ بھی اسے زیادہ دیر محفوظ نہیں رکھ سکے گا مگر میں اس 'چور' کا تہہ دل سے ممنون ہوں جس نے ہماری معاشرتی بےحسی اور مذہبی ڈھکوسلے بازی کا پردہ چاک کردیا۔

بدھ، 24 جولائی، 2013

تبدیلی کی ایک جھلک

گزشتہ رات میرے ایک دوست کی کال آئی۔ یہ معلوم ہونے پر کہ میں گھر میں ہوں، انہوں نے کہا کہ میں آپ کو لینے آرہا ہوں۔ کچھ ہی دیر میں گاڑی دروازے پر آ کر رکی اور میرے سوار ہوتے ہی ہم دونوں روانہ ہوگئے۔ رستے میں پتہ چلا کہ ہم علامہ اقبال ٹاؤن کے ایک بلاک میں جارہے ہیں جہاں کوئی صاحب ہمارے منتظر ہیں۔ مقررہ جگہ پر پہنچ کر میرے دوست نے فون کیا تو ایک نوجوان سامنے سے چلتا ہوا آیا اور آ کر گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر نشست پر براجمان ہوگیا۔

نوجوان نے ہاتھ ملاتے ہوئے بات کا آغاز کیا کہ ”ہم نے اپنے ہمسائے میں موجود پلاٹ پر مقیم ایک شخص کو دو ہزار روپے ماہانہ کے عوض بجلی فراہم کررکھی تھی اور اس سے طے پایا تھا کہ وہ صرف ایک بلب اور ایک پنکھا استعمال کرے گا۔ اس شخص نے استری اور دھلائی مشین وغیرہ کا استعمال کیا جس سے بجلی کی تار جل گئی۔ ہم لوگوں نے اسے بجلی کی فراہمی بند کردی۔ میرے ابو اس سلسلے میں بات کرنے گئے تو اس شخص نے انہیں دھکا دیا۔ وہ گھر آگئے اور پھر ہم سات آٹھ لوگوں نے وہاں جا کر اس شخص کی خوب پٹائی کی۔ اس نے پولیس اور ایمبولینس کو کال کردی۔ ایمبولینس کے ذریعے وہ اسپتال پہنچا تو میرے ابو بھی وہاں پہنچ گئے۔ ڈاکٹر نے اس شخص کا طبی معائنہ کرنے کے بعد اسے رخصت کردیا اور ڈسچارج سلپ میرے ابو کو دیدی۔“

یہاں تک اپنی کتھا سنانے کے بعد اس نوجوان نے بتایا کہ اب اس معاملے میں پولیس بھی ملوث ہوچکی ہے اور ایس ایچ او کہتا ہے کہ ”تم لوگوں نے بڑا ظلم کیا ہے، سو اب میں تمہارے خلاف مقدمہ ضرور درج کروں گا۔“ یہ کہہ کر نوجوان نے ایس ایچ او اور پولیس کی شان میں کچھ غیرپارلیمانی کلمات کہے جنہیں یہاں لکھنا سینسر بورڈ کی غیرتِ ایمانی کو للکارنے کے مترادف ہے۔ خیر، نوجوان نے بتایا کہ میاں (محمودالرشید) صاحب نے تو ایس ایچ او کو کال کردی ہے مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا، لہٰذا اب اس علاقے کے رکن قومی اسمبلی (یعنی شفقت محمود) سے کہا جائے کہ وہ ایس ایچ او کو فون کریں تاکہ وہ ان کے خلاف قانونی کارروائی سے باز رہے۔ میرے دوست نے کہا کہ ”ایم این اے کو اس میں ڈالنے کی ضرورت نہیں، میاں صاحب پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں، ان کا فون زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔“

ہم جس جگہ کھڑے تھے اس کے بالکل سامنے پولیس چوکی تھی جبکہ تھانہ وہاں سے کچھ فاصلے پر تھا۔ میرے دوست گاڑی سے اتر کر چوکی میں گئے اور وہاں سے ایک پولیس اہلکار کے بارے میں پتہ کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے چھٹی پر ہے۔ میرے دوست نے واپس آ کر اس نوجوان سے کہا کہ وہ جا کر اس سلسلے میں کسی اور سے بات کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ نوجوان گاڑی سے اتر گیا اور ہم دونوں چائے پینے کے لئے ایک ہوٹل کی طرف چل پڑے۔ رستے میں میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ یہ لڑکا کون تھا؟ انہوں نے جواب دیا، ”ہماری پارٹی کا اسپورٹر ہے۔“

اتوار، 21 جولائی، 2013

الوداع ہیلن!!!

 4 اگست 1920ء کو پیدا ہونے والی مشہور و معروف امریکی صحافی و مصنفہ ہیلن تھامس 20 جولائی 2013ء کو اپنی 93ویں سالگرہ سے دو ہفتے قبل ہی انتقال کرگئیں۔ ہیلن نے 1942ء میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد واشنگٹن ڈیلی نیوز نامی اخبار سے عملی صحافت کا آغاز کیا۔ 4 جون 2010ء کو قصرِ سفید یعنی وہائٹ ہاؤس کے باغیچے میں ہیلن نے ایک انٹرویو کے دوران فلسطین پر قابض یہودیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’وہ فلسطین سے دفع ہوجائیں۔۔۔ ‘ ہیلن کو اس بیان کے تین روز بعد 7 جون 2010ء کو ’روزنامہ ہرسٹ‘ سے مستعفی ہونا پڑا۔

تقریباً سات عشروں کو محیط صحافتی زندگی میں سے انہوں نے آدھی صدی وہائٹ ہاؤس کی رپورٹنگ کرتے ہوئے گزاری۔ وہائٹ ہاؤس میں رپورٹنگ کرتے ہوئے ہیلن نے جان ایف کینیڈی سے لے کر باراک اوبامہ تک دس امریکی صدور کا دورِ حکومت دیکھا۔ کیوبا کے حوالے سے میزائل بحران کا مسئلہ ہو یا ویتنام اور عراق کے حوالے سے جنگ کی بحث، تیل کی قلت کا معاملہ ہو یا امریکی معیشت کی بنیادیں ہلنے پر گفتگو، واٹر گیٹ اسکینڈل ہو یا جوہری ہتھیاروں کی دوڑ پر نوک جھونک، امریکی صدور کو اپنی اخباری کانفرنسوں کے دوران ہمیشہ ہی ہیلن کے تیکھے سوالات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ہیلن بہت نڈر اور بےباک خاتون تھیں۔ 6 کتابیں لکھنے، 30 سے زائد اعزازی ڈگریاں لینے اور بیسیوں اعزازت اور ایوارڈز حاصل کرنے والی وہ بڑھیا مجھے بہت پسند تھی۔ ہیلن، کوئی اور تمہیں یاد کرے نہ کرے مگر میں تمہیں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ الوداع ہیلن، الوداع!!!

اتوار، 7 جولائی، 2013

دادی: ایک ہنس مکھ اور بہادر خاتون

دادی کی عمر 80 سال کے لگ بھگ ہوگی۔ ان سے ہمارا پہلا تعارف کب ہوا تھا، یہ ہمیں یاد نہیں مگر بتایا کچھ ایسا ہی گیا ہے کہ ہماری پیدائش کے چند ہی منٹ کے بعد شہد کی وہ تھوڑی سی مقدار جو گھٹی کے طور پر ہمیں دی گئی تھی، وہ دادی ہی کی انگشت مبارک سے ہمارے دہن تک منتقل ہوئی تھی۔ جب ہوش سنبھالا تو پتہ چلا کہ دادی ویسے تو والدِ بزگوار کی اماں ہیں مگر ہم سے بڑے تمام تایا اور پھوپھی زاد انہیں 'وڈی امی یا امی' کہہ کر بلاتے ہیں، لہٰذا ہم نے بھی ان لوگوں کی پیروی کرتے ہوئے دادی کو 'وڈی امی' کہنا شروع کردیا۔ چونکہ پردادا سے چلنے والی مرکزیت دادا اور ابا جی سے ہوتی ہوئی ہم تک منتقل ہوچکی تھی (یہ مرکزیت کیا ہے اور خاندان کے مجھ سے بڑے اور چھوٹے کئی دیگر سپوتوں کے ہوتے ہوئے ہمارا ہی مقدر کیوں بنی، اس کا احوال ادھار رہا!)، سو ہم دادا اور دادی کو بہت عزیز تھے اور ہمارا زیادہ تر وقت انہی دونوں کے ساتھ گزرتا تھا۔ ہم نے جب سے دادی کو دیکھا ہے انہیں بہت ہی ہنس مکھ اور پیار کرنے والی خاتون پایا ہے، خود ہنستی ہیں، دوسروں کو ہنساتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ سب ہی ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔ دادی کو سینکڑوں لطیفے اور کہانیاں یاد ہیں جنہیں سنا کر وہ ہم سب کو خوش کرتی رہتی ہیں!

امی بتاتی ہیں کہ ایک بار ابا جی کے ایک کزن نے شرارتاً دادی سے کہا کہ آج چاچا جی گھر آئیں گے تو آپ انہیں 'آئی لو یو' کہنا۔ دادی سیدھی سادی خاتون تھیں، انہوں نے بات کا مطلب نہیں پوچھا اور جب دادا گھر آئے تو وہ گلی میں کھڑی تھیں جہاں کچھ اور لوگ بھی موجود تھے، دادی نے ان سب کے سامنے دادا سے کہا، آئی لو یو۔ دادا پڑھے لکھے اور بےحد دلچسپ انسان تھے، انہوں نے فوراً جواب میں کہا، میں بھی تم سے پیار کرتا ہوں۔ دادی نے کہا، ہائے میں مرگئی، اور شرما کر گھر کے اندر چلی گئیں۔

نومبر 1985ء کی 21 تاریخ دادی کے لئے ان کی زندگی کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک تھی کیونکہ اس روز دادا ان سے کئے ہوئے پیار محبت کے تمام تر وعدوں کو توڑ کر دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔ ہم تو بہت ہی چھوٹے تھے، سو دادا کی کمی زیادہ محسوس نہیں کی مگر تایا، ابا جی، چچاؤں اور پھوپھیوں کی زندگی پر ان کے جانے سے بہت فرق پڑا اور سب سے زیادہ فرق جس شخص کو پڑا، وہ دادی تھیں۔ مگر وہ ایسی صابر اور باہمت خاتون ثابت ہوئیں کہ دادا کی جدائی کے صدمے کو اپنے دل کے نہاں خانوں میں چھپا کر بچوں کی تربیت پر توجہ دینے لگیں۔ تایا کو کام کرنے کی عادت نہیں تھی، اسی لئے دادا، ابا جی کو اپنے ساتھ رکھتے تھے اور دادا کے بعد کاروبار بھی ابا جی کو ہی سنبھالنا پڑا۔ یوں بڑے بھائی کے کنبے، اپنے بیوی بچوں، ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری ابا جی پر آن پڑی مگر آفرین ہے اس مردِ قلندر پر کہ انہوں نے کبھی ایک حرف بھی گلے یا شکوے کا نہیں کہا اور سب کی خدمت کرتے رہے اور الحمدللہ آج تک کررہے ہیں۔ خیر، بات دادی کی ہورہی تھی، ابا جی تو یونہی درمیان میں آگئے کیونکہ وہ دادی کے بہت لاڈلے ہیں۔

09 جنوری 1986ء کے روز، جب دادا کو ہم لوگوں سے بچھڑے ابھی دو مہینے بھی نہیں ہوئے تھے، ہمارا چھوٹا بھائی کاشف میو ہسپتال میں آپریشن کے دوران انتقال کرگیا۔ وہ ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت اور صحت مند بچہ تھا اور اس نے صحت مند بچوں کا ایک مقابلہ بھی جیت رکھا تھا جس میں حاصل کئے گئے انعامات آج بھی ہماری امی کے پاس محفوظ ہیں اور وہ کبھی کبھار اس کی تصویروں اور ان انعامات کو دیکھ کر روتی بھی ہیں۔ دادی کے لئے یہ دوسرا بڑا صدمہ تھا۔
 
وقت گزرتا رہا اور ایک ایک کرکے دادی نے سب بچوں کی شادی کردی۔ دادی کی والدہ، جنہیں ہم سب ہی نہیں بلکہ پورا علاقہ ہی بے بے یا بے جی کہتا تھا، تب تک زندہ تھیں اور دادی کے ساتھ ان کے تعلق کی نوعیت بہت دلچسپ تھی۔ کبھی وہ دونوں بیٹھ کر ایک دوسری کے ساتھ سکھ دکھ بانٹتیں تو کبھی ایک دوسری سے ناراض ہوجاتیں۔ جھگڑا ہوتا تو بے بے کہتیں، "صغریٰ، ہن میں تیرے گھر نئیں آنا۔" مگر جانا کہاں ہوتا تھا انہوں نے، کچھ دیر کے بعد واپس آجاتیں اور پھر سے دونوں کی 'صلح' ہوجاتی۔ (یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ ہم دادی ہی نہیں، بے بے کے بھی منظور نظر تھے۔ وہ ہمیں پیار سے 'آپی' کہتی تھیں اور ہمیشہ ہمارے سر کو چومتی تھیں۔)
 
ہم ابھی سکول میں ہی پڑھتے تھے کہ بے بے کا انتقال ہوگیا اور یوں دادی اپنی ایک بہترین سہیلی سے محروم ہوگئیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی تایا کی طبیعت بھی خراب رہنے لگی۔ ویسے تو وہ ان کے لئے پہلے سے بنائے ہوئے الگ گھر میں جا کر رہنے لگے تھے مگر مالی حوالوں سے اب بھی ان کا بہت سا انحصار اپنے چھوٹے بھائی یعنی ابا جی پر ہی ہوتا تھا اور الحمدللہ ہمارے ہاں کبھی بھی کسی نے اس بات پر اعتراض نہیں کیا۔ تایا ہمارے دوستوں میں شمار ہوتے تھے اور ہمیں تاش کے مختلف کھیل کھیلنا بھی انہوں نے ہی سکھایا تھا مگر یہ سب کھیل ہم ابا جی سے چھپ کر کھیلتے تھے کیونکہ وہ ایسی چیزوں کے بہت خلاف تھے۔ خیر، تایا عارضۂ قلب میں مبتلا ہوگئے اور پھر ایک بار انہیں ہارٹ اٹیک ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ دادی کے لئے بیٹے کی وفات کا صدمہ ناقابل برداشت تھا مگر اللہ نے صبر و ہمت دی اور وہ اسے بھی سہہ گئیں۔
 
تایا کے بچے چھوٹے تھے، ابا جی نے ان لوگوں پر زیادہ دھیان دینا شروع کردیا۔ دادی پہلے بھی تایا کے تقریباً روز ہی جایا کرتی تھیں مگر اب تو وہ کئی کئی گھنٹے جا کر اپنے پوتے پوتیوں کے پاس بیٹھی رہتیں، ان کا بہت خیال رکھتیں۔ جب کبھی دادی اور تائی کی آپس میں نوک جھونک ہوجاتی تو دادی ان کے گھر جانا چھوڑ دیتیں مگر دن میں دو تین بار آ کر باہر سے ہی بچوں کا حال پوچھتیں اور ان کے دروازے کو ہاتھ لگا کر واپس چلی جاتیں۔ تایا کی وفات کے دو تین سال بعد ہی ایک روز تائی بھی ان کے پاس چلی گئیں اور یوں ان کے بچے ماں کی شفقت سے بھی محروم ہوگئے۔ اس نازک مرحلے پر بھی دادی نے بہت حوصلے سے کام لیا اور ان بچوں کو اپنے اور زیادہ قریب کرلیا تاکہ انہیں ماں کی کمی محسوس نہ ہوسکے، دوسری جانب باپ کے طور پر ذمہ داری ابا جی نے لے رکھی تھی اور وہ ہر موقع پر اپنے بھائی کی اولاد کو اپنی اولاد سمجھ کر پیار دیتے اور آج بھی ایسا ہی ہے۔
 
دو تین سال کے وقفے سے یکے بعد دیگرے دادی کی دو بیٹیاں (یعنی ہماری پھوپھیاں) طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں۔ ہماری سب سے بڑی پھوپھی اور دادی کی آپس میں بہت بنتی تھی اور دادی کو ان کی وفات کا بےحد دکھ بھی ہوا مگر زندگی کا سفر چونکہ ابھی باقی تھا، سو چلتی رہیں۔ چند ماہ قبل ہماری جواں سال تایا زاد کی وفات سے بھی دادی کو بہت صدمہ ہوا مگر صبر کرنے کے سوا کیا ہوسکتا تھا۔ یہ سب صدمے، مصائب اور تکلیفیں سہہ کر بھی دادی اپنے پہاڑ جیسے حوصلے کے ساتھ زندہ رہیں اور سب سے پیار محبت کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ خوشیاں بانٹتی رہیں۔

تاریخِ اشاعت: 03 اکتوبر، 2012ء

ملالہ کا ملال اور قوم کی دھمال

کہتے ہیں ہوا کی مخالف سمت میں اُڑنا ایک انتہائی مشکل کام ہے اور ایسا کرنے والوں کو اکثر نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ تحریر بھی بہاؤ مخالف سوچ کی عکاس ہے اور اسے پڑھ کر اگر آپ کا ہمیں گالی دینے کو دل چاہے تو آپ یہ حق محفوظ رکھتے ہیں اور اگر آپ کی دلآزاری ہو تو اس کے لئے ہم پیشگی معذرت خواہ ہیں۔ اس تحریر کا مقصد کسی کا دل دُکھانا نہیں بلکہ صرف تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی ایک کوشش ہے۔

گزشتہ روز چودہ سالہ بچی ملالہ یوسفزئی پر حملہ ہوا۔ اس بزدلانہ فعل کی جتنی بھی مذمت کی جائے، وہ کم ہے۔ اخبارات اور ابلاغ کے دیگر ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کیا گیا۔ مذکورہ کالعدم تحریک کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک خبررساں ادارے سے ٹیلیفون پر رابطے کے دوران بتایا کہ ملالہ طالبان مخالف سوچ رکھتی ہے اور منفی پراپیگنڈہ کررہی ہے، اس وجہ سے اس پر حملہ کیا گیا۔

حملے کے بعد تمام ٹیلیویژن چینلز پر ایک ایسا ہنگامہ بپا ہوا جو رات گئے تک تھمنے میں نہ آسکا۔ آج کے تمام قومی اخبارات کی شہ سرخی بھی یہی واقعہ بنا اور سرورق پر اس واقعے یا ملالہ سے متعلق دیگر خبروں نے بھی خوب جگہ پائی۔ صدر مملکت اور وزیراعظم کے علاوہ کئی سیاسی راہنماؤں نے اس واقعے کی بھرپور مذمت کی۔ اس موقع پر کشور ناہید کی نظم "وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے" بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر کئی جگہ دیکھنے کو ملی۔

ملالہ پر ہونے والے افسوسناک حملے کی مذمت امریکہ نے بھی کی اور ہمارے ہاں عوامی حلقوں میں بھی اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ اس قبیح عمل کی مذمت میں اٹھنے والی ہر آواز جائز، ہر نعرہ برحق اور ہر کوشش لائق ستائش ہے مگر کیا ملالہ وہ پہلا انسان یا پاکستانی ہے جس پر ایسا کوئی حملہ ہوا ہے؟ کیا ہمارے ہاں ہر انسان یا پاکستانی پر ہونے والے حملے کے بعد ایسی ہی افراتفری مچتی ہے؟ کیا پاکستان میں کسی بچے پر ہونے والے ہر حملے کی مذمت یونہی کی جاتی ہے؟ کیا یہاں کسی حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے ہر بچے کو علاج معالجے کی ایسی ہی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں؟ آئیے ذرا کچھ حقائق پر نظر ڈال کر ان سوالات کے جوابات تلاش کرتے ہیں۔

ہم نے ملالہ کی ڈائری کے وہ صفحات پڑھے ہیں جو وہ 2009ء میں تقریباً دس برس کی عمر میں 'گل مکئی' کے فرضی نام سے لکھ کر برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو سروس کو مبینہ طور پر بھجواتی رہی ہے۔ ان صفحات میں بہت صاف اور سلیس اردو میں عموماً روزمرہ باتوں کو قلمبند کیا گیا اور خصوصی توجہ طالبان کی فکر اور ان کی سرگرمیوں پر رکھی گئی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ملالہ نے جب جنوری 2009ء میں یہ ڈائری لکھنے کا آغاز کیا اس وقت ساتویں جماعت کی طالبہ تھی اور آج پونے چار برس گزرنے کے بعد وہ آٹھویں جماعت میں ہے۔

دی بیورو آف انویسٹیگیٹیو جرنلزم کی ایک رپورٹ کے مطابق جون 2004ء سے ستمبر 2012ء تک پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کے نتیجے میں 176 بچے شہید ہوئے۔ معروف برطانوی جریدے گارڈین کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2006ء میں ایک مدرسے پر کئے جانے والے ڈرون حملے کے نتیجے میں 69 بچے شہید ہوئے جبکہ بعض پاکستانی صحافیوں کے مطابق یہ تعداد 85 ہے۔ ان میں سے کئی بچوں کی عمریں دس برس سے کم تھیں۔ ان میں سے کئی بچے جنگ اور امن کی تعریف سے بھی واقف نہیں تھے۔ اس وقت جرنیلی صدارت چل رہی تھی اور روشن خیالی کا دور دورہ تھا۔ حملے کا شکار ہونے والے بچے چونکہ انسان نہیں بلکہ کیڑے مکوڑے تھے، سو نہ تو کسی کو انسانی حقوق کا خیال آیا، نہ ہی کوئی نظم کہی گئی اور نہ ذرائع ابلاغ نے اس حوالے سے شور مچانا مناسب سمجھا۔

لاہور، کراچی یا کسی بھی بڑے شہر کے کسی سکول کے باہر کوئی کریکر چلنے سے بھی چند بچے زخمی ہوجائیں تو ان بچوں کے اوصاف و فضائل پر ایسی ایسی رپورٹیں ٹیلیویژن پر چلائی جاتی ہیں اور ایسے ایسے نغمے اور نوحہ نما نظمیں پیش کی جاتی ہیں کہ جی چاہتا ہے ان لوگوں کے ٹکڑے کردیں جو ان ننھے سقراطوں اور معصوم ارسطوؤں کی جان کے در پے ہوگئے ہیں۔ لیکن وزیرستان یا اس سے ملحقہ علاقوں میں کسی ڈرون حملے کے نتیجے میں شیرخوار بچوں کے چیتھڑے بھی اُڑ جائیں تو محض چند سیکنڈز کی ایک خبر اور کچھ پٹیاں چلا کر اپنا 'صحافتی فریضہ' ادا کردیا جاتا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو سروس پاکستان کے اندر کن سرگرمیوں میں ملوث ہے اور اس ادارے کے ذریعے کن خیالات اور نظریات کی ترویج کی جارہی ہے اس بحث کو ہم کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ فی الحال تو سوال یہ ہے کہ مذکورہ کالعدم تحریک سے جڑے ہوئے جنگجو جو ہماری انتہائی تربیت یافتہ فوج کے خلاف کارروائیاں کرنے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں، کیا اتنے ہی غیرتربیت یافتہ ہیں کہ ایک چودہ سالہ نہتی بچی پر 'ناکام حملہ' کرکے بھاگ کھڑے ہوئے؟ ملالہ کی تصویریں دنیا بھر میں شائع ہوچکی ہیں تو پھر حملہ آوروں کو یہ پوچھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ گاڑی میں بیٹھی بچیوں میں سے ملالہ یوسفزئی کون ہے؟ ملالہ کے ساتھ تو سیکیورٹی اہلکار نہیں ہوتے اور مبینہ طور پر اسے دھمکیاں بھی ملتی رہی ہیں تو اس پر اب سے پہلے حملے کرنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ حالیہ دنوں میں ملالہ نے کون سی ایسی اہم سرگرمی کی تھی جس کی وجہ سے اس پر حملہ کیا گیا؟ کیا اس طرح کی کارروائیوں سے وزیرستان آپریشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش تو نہیں کی جارہی؟ اور آخر میں ہم یہ بھی جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ مغرب کی مخالفت کے باوجود ہم لوگ ان کی طرف سے ہی چنے اور نمایاں کئے گئے لوگوں کو کیوں اپنے معاشرے میں تبدیلی اور اثبات کی علامت سمجھتے ہیں؟؟؟

اطلاعات کے مطابق ملالہ کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ملالہ کو صحت، تندرستی اور لمبی زندگی عطا فرمائے، آمین!

تاریخِ اشاعت: 10 اکتوبر، 2012ء

یوٹیوب پر پابندی اور ہماری تفریحِ طبع

پاکستان میں وفاقی حکومت نے تقریباً دو مہینے قبل دنیا بھر میں نشریاتی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والی سب سے بڑی ویب سائٹ ’یوٹیوب‘ پر پابندی عائد کردی تھی۔ پابندی کی وجہ امریکہ میں بننے والی نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی پر مبنی فلم کا مذکورہ ویب سائٹ پر دستیاب ہونا اور ویب سائٹ انتظامیہ کی جانب سے اسے ہٹانے سے انکار تھا۔ پابندی کے اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ وہ دباؤ بھی بنا جو بڑے پیمانے پر ملک کے مختلف شہروں میں مذکورہ فلم کے منظر عام پر آنے کے بعد احتجاج کی صورت میں دکھائی دیا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے حکومت کے اس فیصلے کو سراہا بھی اور بعض حلقوں کی جانب سے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
 
نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ مقدس و متبرک ہستی ہیں جن کے وجود کو تمام جہانوں کے لئے رحمت قرار دیا گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہ ماننے والے بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاک کردار اور اعلیٰ اخلاق کی شہادت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فلم پر نہ صرف اسلامی بلکہ غیراسلامی ممالک میں بھی شدید تنقید کی گئی۔
 
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کے مختلف حصوں میں بسنے والے لوگوں کے درمیان مذہب کے علاوہ شاید ہی کوئی ایسی مشترک قدر پائی جاتی ہو جس کی بنیاد پر ان لوگوں کو ایک قوم قرار دے کر ایک دوسرے سے جوڑا جاسکے۔ پاکستان میں مذہب سے وابستگی چونکہ لوگوں کو ایک مرض کی طرح لاحق ہے، لہٰذا مختلف اوقات میں لوگ ایک خاص حد سے گزر کر بھی اس وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
 
ہم ذاتی طور پر یوٹیوب پر پابندی کے معاملے میں بھی لوگوں کی مذہب اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وابستگی کے کچھ ایسے ہی اظہار کی توقع کررہے تھے مگر یہ جان کر بہت دکھ اور افسوس ہوا کہ مذہب سے وابستگی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت ہماری معاشرتی زندگی کے دیگر کھوکھلے نعروں اور دوغلی پالیسیوں کی طرح کا ہی ایک معاملہ ہے۔ وہی لوگ جو ایک طرف عشقِ نبی کے دعویدار ہیں، دوسری جانب پراکسی ویب سائٹس اور مختلف سافٹ وئیرز کی مدد سے گانے سننے، فلمیں دیکھنے اور مزاحیہ کلپس سے محظوظ ہونے کے لئے دھڑا دھڑ یوٹیوب کو استعمال کررہے ہیں۔ بعض لوگ نعتیں، منقبتیں، نوحے اور مرثیے وغیرہ سننے کے لئے بھی پابندی کے باوجود کسی نہ کسی طریقے سے مذکورہ ویب سائٹ کو استعمال میں لارہے ہیں۔
 
اگر کوئی شخص تحقیقی مقاصد کے لئے مذکورہ ویب سائٹ کو استعمال میں لارہا ہے تو اس کی بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن محض تفریحِ طبع کے لئے ایسا کرنے والوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ اس ویب سائٹ پر پابندی صدر آصف علی زرداری یا وزیر داخلہ عبدالرحمٰن ملک کی وجہ سے نہیں بلکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پاک ذات سے اظہار عقیدت و محبت کے لئے لگائی گئی ہے۔ پابندی کے پہلے دن سے لے کر آج تک پاکستان میں اس ویب سائٹ کے مسلسل استعمال سے یوٹیوب انتظامیہ کو یہ پتہ چل گیا ہوگا کہ ہم لوگ عشقِ رسول کے زبانی دعوے تو بہت کرسکتے ہیں مگر عملی طور پر کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی پر مبنی فلم اپنی ویب سائٹ سے ہٹانے کی ضرورت کبھی بھی محسوس نہیں ہوگی اور ہم نہ چاہ کر بھی ان لوگوں کو ایسا کرنے کے لئے ایک جواز فراہم کررہے ہیں۔
 
ہماری باتوں سے اختلاف کرنے کا حق آپ محفوظ رکھتے ہیں لیکن صرف ایک بار سوچئے گا کہ یوٹیوب کو استعمال نہ کرنے سے ہمیں کون سا ایسا خسارہ ہوجائے گا جس سے بچنے کے لئے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مقدس ذات سے وابستگی، عقیدت اور محبت تک کو داؤ پر لگارہے ہیں؟؟؟ 

تاریخِ اشاعت: 24 نومبر، 2012ء

محبانِ اردو کے لئے لمحہء فکریہ

گزشتہ روز سید زبیر صاحب کی محبت اور شفقت کے ساتھ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد، کا تحقیقی و تنقیدی مجلہ ’معیار‘ موصول ہوا۔ معیار کے ابتدائیہ میں درج ذیل اقتباس پڑھ کر بہت افسوس ہوا:

”پاکستان میں اردو اگرچہ آئین کے مطابق قومی زبان ہے لیکن اردو کو دفتری زبان بنانے کے لیے ہمارے قومی نمائندوں نے جو منفی کردار ادا کیا ہے ان کی روداد ’معیار‘ کے گزشتہ شماروں میں چھپ چکی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے قومی نمائندوں کا نفاذ اردو کے حوالے سے کیا رویہ رہا ہے۔ حال ہی میں قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق اردو کو قومی زبان کی بجائے دوسری پاکستانی زبانوں کے ساتھ شامل کر کے سب کو پاکستان زبانیں کہا گیا ہے اور تجویز کیا گیا ہے کہ جب تک یہ زبانیں ترقی یافتہ صورت اختیار نہیں کرتیں انگریزی متبادل زبان کے طور پر دفاتر میں رائج رہے گی۔ اگر یہ بل منظور ہوجاتا ہے اور جس کی ابھی تک کوئی مخالفت نہیں ہوئی تو پاکستان میں اردو کے نفاذ کے امکانات ہمیشہ کے لیے معدوم ہوجائیں گے۔ اردو سے محبت رکھنے والوں کے لیے یہ لمحہء فکریہ ہے!“
[’ابتدائیہ‘ (معیار - جنوری۔جون2013ء)]
× × × × ×

پاکستان کی قومی اسمبلی میں اس نوعیت کا بل پیش کیا جانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت بات ہے۔ وہ اسمبلی جس میں مذکورہ بل پیش کیا گیا تھا اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد ختم ہوچکی ہے اور ضوابط کے مطابق آئندہ اسمبلی گزشتہ اسمبلی کے ادھورے کام اور غیرمنظورشدہ بلوں کو نئے سرے سے ایجنڈے کا حصہ نہیں بناسکتی، تاہم اس بات پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ ایک ہی نوعیت کے دو بل دو اسمبلیوں میں پیش نہیں کیے جاسکتے۔ بناءبریں، خیال یہ ہے کہ وہ گروہ یا لابی جس نے گزشتہ اسمبلی میں اردو کو دیگر علاقائی زبانوں کے برابر قرار دے کر اس کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی تھی، آئندہ اسمبلی میں بھی اس طرح کی کوئی حرکت کرسکتی ہے اور گزشتہ اسمبلی میں تو مذکورہ بل اسمبلی کی مدت کم رہ جانے کی وجہ سے منظور نہیں ہوپایا تھا مگر آئندہ اسمبلی کے پاس تو آئینی طور پر پانچ سال کی مدت ہوگی اور اتنی طویل مدت میں اس نوعیت کے کسی بل کو سہولت سے منظور کیا جاسکتا ہے۔ اردو سے محبت رکھنے والے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنی سطح پر اس عمل کی شدید مذمت کرے!

تاریخِ اشاعت: 01 اپریل، 2013ء

تو پرندے مار دے سرو و صنوبر مار دے

تو پرندے مار دے سرو و صنوبر مار دے
تیری مرضی جس کو دہشت گرد کہہ کر مار دے

تیرا اس کے ماننے والوں سے پالا پڑ گیا
جو پرندے بھیج کر لشکر کے لشکر مار دے

تم بھی موسیٰ کے تعاقب میں چلے تو آئے ہو
دیکھنا تم کو نہ یہ نیلا سمندر مار دے

تو نے جس کے ڈھونڈنے کو بھیج دی اتنی سپاہ
یہ نہ ہو وہ تجھ کو تیرے گھر کے اندر مار دے

اس کو کیا حق ہے یہاں بارود کی بارش کرے
اس کو کیا حق ہے مرے رنگلے کبوتر مار دے

فیصلے تاریخ کے، میدان میں ہوتے نہیں
مارنے والو! کوئی تم کو نہ مر کر مار دے

روشنی کے واسطے پندار کا سودا نہ کر
 سامنے سورج بھی ہے تو اس کو ٹھوکر مار دے

گونج تو بھی اس کے لہجے میں پہاڑوں کی طرح
تابش اس کی بات تو بھی اس کے منہ پر مار دے

(عباس تابش)

دورہء پاک ٹی ہاؤس

کل صبح کچھ مالی معاملات طے کرنے کے لئے مجھے ایک لمبے عرصے کے بعد اپنے بینک جانا پڑا۔ عام طور پر میں بینک سے لین دین انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے ہی کرتا ہوں اور دیگر معاملات کے لئے بوقتِ ضرورت ڈیبٹ کارڈ کی سہولت سے فائدہ اٹھاتا ہوں۔ بینک چونکہ جی سی یونیورسٹی کے سامنے واقع ہے، لہٰذا یہ تو ناممکن تھا کہ میں اپنی مادرِ علمی کا چکر نہ لگاتا۔ خیر، یونیورسٹی گیا، اپنے استادوں سے ملا اور دفتر گزٹ، دفتر راوی، ایمفی تھیئٹر، لوَرز گارڈن (لوجیا)، اوول، بخاری لانز اور دیگر جگہوں پر گھوم پھر کر پرانے سنہرے دنوں کی یادوں کو تازہ کیا۔
 
یونیورسٹی میں گھوم پھر رہا تھا کہ اچانک میری نظر کلائی گھڑی پر پڑی تو دیکھا کہ ساڑھے بارہ بج رہے تھے، مجھے خیال آیا کہ نجیب بھائی اور ساجد بھائی سے ملے کئی دن گزر گئے ہیں تو کیوں نہ ان دونوں بزرگوں کو پاک ٹی ہاؤس میں بلایا جائے۔ یہ خیال آتے ہیں میں نے جھٹ سے موبائل فون جیب سے نکال کر ساجد بھائی کا نمبر ملایا تو ان کے جانشین انس نے فون اٹھایا۔ میں نے پوچھا کہ اس کے ابا حضور کہاں ہیں تو انس نے بتایا کہ وہ ذرا مصروف ہیں اور جیسے ہی فارغ ہوں گے وہ انہیں میرے فون سے متعلق اطلاع دے گا۔ بعدازاں میں نے نجیب بھائی کا نمبر ملایا۔ انہوں نے فون اٹھایا تو مجھے آواز سے اندازہ ہوگیا کہ جناب خواب نگر میں تھے اور میں نے بےوقت کردیا۔ خیر، نجیب بھائی سے معذرت کی تو انہوں نے انتہائی تپاک سے کہا کہ میں تو بس اٹھنے ہی والا تھا۔ ان سے پوچھا کہ دو بجے کیا کررہے ہیں، فرمایا کہ کچھ بھی نہیں۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور کہا کہ بس پھر دو بجے پاک ٹی ہاؤس پہنچ جائیے، میں ساجد بھائی سے بھی کہہ دیتا ہوں اور باقی باتیں ملاقات پر ہی ہوں گی۔
 
ساڑھے بارہ سے لے کر دو بجے تک میں نے ساجد بھائی سے رابطہ کرنے کی چار مرتبہ کوشش کی مگر ہر بار دس بارہ گھنٹیاں بجنے کے بعد ایک اجنبی خاتون کی مانوس سی آواز آتی، 'The number you've dialed is not responding at the moment, please try later (آپ کے مطلوبہ نمبر سے فی الوقت رابطہ ممکن نہیں، براہِ مہربانی کچھ دیر بعد کوشش کیجئے۔ شکریہ)'۔ میں ساجد بھائی سے رابطے کی انہی ناکام کوششوں میں مصروف تھا کہ دو بج کر پانچ منٹ پر نجیب بھائی کی کال آئی کہ وہ پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھے بوتل پیتے ہوئے میرا انتظار کررہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں بس پانچ منٹ میں حاضر ہورہا ہوں۔
 
 سوا دو بجے کے لگ بھگ میں موٹرسائیکل پارک کرنے کے بعد پاک ٹی ہاؤس کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو سامنے والی میز پر نجیب بھائی کو منتظر پایا۔ ان سے ملا، تاخیر سے پہنچنے پر معذرت کی اور پھر کچھ رسمی گفتگو کے بعد ہم نے منیو پر نظر ڈالی کہ کیا منگوایا جائے۔ کچھ ہی دیر میں طے پاگیا کہ بریانی کھائی جائے گی۔ سجاد نامی بیرے پر نجیب بھائی میرے پہنچنے سے پہلے ہی اپنی شخصیت کی دھاک بٹھا چکے تھے، لہٰذا اسے طلب کر کے کہا گیا کہ دو پلیٹ بریانی حاضر کی جائے۔ کچھ ہی دیر میں سجاد نے بریانی پیش کردی۔ کھانا کھانے کے بعد ہم لوگوں سے سجاد سے چائے لانے کا کہا اور خود مختلف زاویوں سے ٹی ہاؤس کی تصاویر لینے لگے۔ نجیب بھائی کی اور میری متفقہ رائے یہ تھی کہ پاک ٹی ہاؤس کی بحالی بلاشبہ پنجاب حکومت کے کارناموں میں سے ہے۔ جس عمدہ طریقے سے اس قومی اثاثے کو بحال اور محفوظ کیا گیا ہے وہ واقعی لائقِ تحسین ہے۔

تاریخِ اشاعت: 21 مارچ، 2013ء

فقیر بمقابلہ اسیر

ڈاکٹر فقیر محمد فقیر مرحوم کی پنجابی شعر و ادب میں تخلیقی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ مرحوم نے اس وقت پنجابی لکھنے، پڑھنے اور بولنے کا عَلم بلند کیا جب ادیب اور شاعر پنجابی میں لکھنا کسرِ شان سمجھتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم نہ صرف خود پنجابی لکھتے تھے بلکہ بڑے بڑوں کو پنجابی لکھنے پر مجبور کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ مرحوم، علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں پنجابی میں شاعری کرنے کی ترغیب دلائی۔ علامہ نے پنجابی میں شاعری کرنے سے معذوری ظاہر کی اور فرمایا، ایک تو میرا مزاج اردو، فارسی پڑھتے اور لکھتے ایسا بن چکا ہے، دوسرے پنجابی زبان میرے افکار و خیالات کے اظہار پر قادر نہیں۔ اس پر ڈاکٹر فقیر محمد فقیر جوش میں آگئے اور کہنے لگے ’یہ آپ کیوں کہتے ہیں کہ پنجابی میں قوتِ اظہار نہیں۔ لائیے، میں آپ کے جس شعر کا کہیں پنجابی ترجمہ کیے دیتا ہوں۔‘ علامہ نے کہا کہ میرے اس شعر کا ترجمہ کردیجئے:
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
ہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر
 
ڈاکٹر فقیر محمد فقیر نے فوراً یہ مصرع موزوں کردیا:
لشکن والیاں زلفاں نوں توں ہور ذرا لشکاندا جا
 
علامہ اقبال نے یہ ترجمہ سنتے ہی ڈاکٹر فقیر مرحوم سے کہا کہ ہم ہارے اور آپ جیتے۔ لیکن اصل بات یہ تھی کہ علامہ کے نزدیک یہ ترجمہ درست نہیں تھا۔ میں نے جب اسیر عابد کے ترجمہء ’بالِ جبریل‘ میں اس شعر کا ترجمہ پڑھا تو مجھے یہ خیال آیا کہ اگر علامہ مرحوم اسیر عابد کا ترجمہ سن لیتے تو مزید ترجمے کی فرمائش کرتے۔ آپ بھی ترجمہ دیکھیں:
کُنڈلائیاں ہوئیاں زلفاں نوں توں ہور ذرا کُنڈلا سجنا
عقلاں نوں جال پھسا سجنا، عشقاں نوں پھاہیاں پا سجنا
 
ڈاکٹر فقیر مرحوم نے ’تابدار‘ کا ترجمہ ’لشکن والیاں‘ کیا تھا جبکہ اسیر عابد نے اس کا ترجمہ ’کُنڈلائیاں ہوئیاں‘ کیا ہے۔ شعر کی صنعت گریوں اور ہنرمندیوں سے واقف فیصلہ کرسکیں گے کہ ہوش و خرد شکار کرنے کے لئے زلفوں کے جال کی ضرورت ہوتی ہے یا زلفوں کے چمکنے کی۔
 
(اسیر عابد کی ’جبریل اُڈاری‘ پر ڈاکٹر وحید عشرت کے دیباچہ سے اقتباس)

توں سردار، میں کمّی کیوں؟؟؟

لوگ کہتے ہیں کہ اکیسویں صدی ٹیکنالوجی اور علم کی صدی ہے مگر آج ایک خاص واقعے کے بعد مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ صدی بھی گزشتہ صدیوں کی طرح جہالت اور تعصب ہی کی صدی ہے۔ میں ذاتی طور پر ایسے ہر قاعدے اور ضابطے کے سخت خلاف ہوں جو کسی انسان کی حرمت کی پامالی کے لئے بنایا جائے۔ میں ابنِ آدم ہوں اور بلاتفریق رنگ و مذہب و نسل ان سب کے برابر ہوں جو میری ہی طرح آدم کی اولاد ہیں۔
 
ہوا کچھ یوں کہ تھوڑی دیر پہلے مجھے کھانا کھانے کے لئے دفتر کی چوتھی منزل پر بنے کیفےٹیریا میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اندر گیا تو صرف تین چار میزوں پر لوگ بیٹھے تھے۔ میں نے ایک خالی میز دیکھی اور جا کر وہاں پر براجمان ہوگیا اور آج کے مینیو پر نظر ڈال کر سوچنے لگا کہ کیا کھایا جائے۔ اتنی دیر میں ایک ذرا سی تلخ آواز سنائی دی تو میں نے پلٹ کر دیکھا۔ مجھ سے تھوڑی دور ایک میز پر بیٹھے ہوئے خاکروب سے کیفے کا ملازم شہریار کہہ رہا تھا کہ ’تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ تمہیں پہلے بھی منع کیا تھا کہ یہاں مت بیٹھا کرو!‘ اس خاکروب نے کچھ نہیں کہا، اپنا چائے کا کپ اٹھایا اور کیفے سے نکل کر اس راہداری میں جا کر فرش پر بیٹھ گیا جہاں واش رومز بنے ہوئے ہیں۔
 
اس خاکروب نے اپنے اندر اس بات کا درد کتنا محسوس کیا ہوگا اس کا تو میں اندازہ نہیں لگا سکتا، البتہ مجھے اس وقت جو تکلیف ہوئی وہ ایسی تھی کہ میں الفاظ میں اس کا اظہار نہیں کرسکتا۔ میں نے شہریار کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ ’تم نے اسے میز سے اٹھنے کو کیوں کہا؟‘ ’سر، حبیب صاحب نے منع کیا ہوا ہے ان کو یہاں بیٹھے سے!‘ شہریار نے جواب دیا۔ ’یہ حبیب صاحب کون ہیں؟‘ میں کیفے کے مینیجر کا نام نہیں جانتا تھا۔ شہریار نے بتایا تو میں نے جان بوجھ کر انجان بنتے ہوئے اگلا سوال پوچھا کہ ’منع کرنے کی وجہ کیا ہے؟‘ ’سر، یہاں آنے والے لوگ ان کے یہاں بیٹھنے پر اعتراض کرتے ہیں‘ شہریار کا جواب بہت صاف اور سیدھا تھا۔ میں نے اسے جانے کا کہا اور خود سوچ میں ڈوب گیا کہ ہم لوگ کتنے رذیل اور کمینے ہیں کہ ہمیں خود سے کم تنخواہ پانے اور کم تر کام کرنے والے لوگوں کا ہمارے برابر بیٹھ کا کھانا پینا بھی ناگوار گزرتا ہے۔ شاید ہمارا بس چلے تو ہم ان لوگوں کے سانس لینے کے لئے بھی آکسیجن کی بجائے کسی دوسری گیس کا انتخاب کریں کہ ہم ’اعلٰی و ارفع‘ حیثیت کے حامل لوگوں کا سانس ان ’کمّی کمین‘ لوگوں جیسا تو نہیں ہے ناں۔
 
میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ کچھ دیر میں وہ خاکروب چائے پی کر آیا اور قریب سے گزرتے ہوئے میرا حال احوال پوچھا۔ میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بات کا جواب دیدیا۔ اس وقت نجانے کیوں مجھے اس کی آنکھوں میں واضح طور پر یہ سوال دکھائی دے رہا تھا:
اکو تیری میری ماں
اکو تیرا میرا پیو
اکو ساڈی جمّن بھوں
توں سردار، میں کمّی کیوں؟
 
تاریخِ اشاعت: 19 دسمبر، 2012ء

ترکیب برائے حصولِ انصاف

انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے شاہزیب قتل کیس کے دو ملزمان، شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور، کو سزائے موت اور دو ملزمان، سجاد علی تالپور اور مرتضیٰ لاشاری، کو عمر قید سنائے جانے کا فیصلہ خوش آئند ہے کہ بہرطور کسی بھی جرم کا ارتکاب کرنے والے کو کیفرِ کردار تک پہنچنا چاہئے۔ یہ مقدمہ تقریباً ساڑھے پانچ مہینے کے عرصے میں فیصل ہوگیا۔ اس کیس کے حوالے سے میڈیا کی لاجواب کوریج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بےمثال مستعدی اور باکمال عدالتی کارروائی دیکھ کر ہمیں تو کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کراچی میں 24 دسمبر 2012ء کی رات کو شاہ رخ جتوئی کے ہاتھوں شاہزیب نہیں بلکہ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل ہوگیا تھا کہ انسانی تاریخ کے اس پہلے قتل کا ارتکاب کرنے والے کو سزا دلوائے بغیر نہ تو میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چین آنا تھا اور نہ ہی اسے سزا دئیے بغیر عدالت کے وجود کا کوئی جواز باقی بچتا۔

پاکستان میں کوئی اخبار کسی خبر کو چھاپتے یا کوئی ٹیلیویژن اسے نشر کرتے ہوئے کتنی غیرجانبداری کا مظاہرہ کرتا ہے اس امر سے واقفیت کے لئے آئن سٹائن جیسی ذہانت و فطانت درکار نہیں ہے۔ یہاں جرائم کے انسداد کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کس حد تک اپنا کردار دیانتداری سے ادا کرتے ہیں یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ کسی عدالت میں چھوٹے سے چھوٹے مقدمے کا فیصلہ بھی کتنے عرصے میں ہوتا ہے اس کا اندازہ بھی تقریباً ہر شہری کو ہے۔
 
ان تمام عناصر کو سامنے رکھتے ہوئے اگر شاہزیب قتل کیس اور اس کے حوالے سے میڈیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو مستقبل میں قتل ہونے والے تمام پاکستانیوں سے یہ گزارش کرنے کو جی چاہتا ہے کہ اگر آپ واقعی اپنے قاتل کو سزا دلوانا چاہتے ہیں تو اپنے قتل سے پہلے اپنے والدِ محترم کو کم از کم ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے منصبِ جلیل پر فائز کروائیے اور پھر انہیں کہیے کہ اس حد تک دولت کمالیں کہ ملک کے کسی بھی بڑے شہر کے پوش علاقے میں کم از کم ایک بڑی سی کوٹھی اور چند ایک گاڑیاں ان کی ملکیت ہوں۔ علاوہ ازیں، آپ کا ایک رشتہ دار نبیل گبول جتنا طاقتور سیاستدان بھی ہونا چاہئے۔ بس جب اس ترکیب کے مذکورہ تمام اجزاء پورے ہوجائیں تو پھر آپ سہولت سے قتل ہوسکتے ہیں کہ اب آپ کے قتل کے فوراً بعد میڈیا آپ پر ہونے والے ظلم کو اس حد تک جانفشانی کے ساتھ منظر عام پر لائے گا کہ قانون کے نفاذ پر مامور فرض کی انجام دہی کو بےچین افسران و اہلکاران بیرونِ ملک سے بھی جا کر آپ کے قاتل کو پکڑ لائیں گے اور پھر ہر لمحہ عدل و انصاف بانٹتی عدالتیں چند ہی مہینوں میں اس ظالم کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لئے فیصلہ صادر فرما دیں گی۔ 

تاریخ اشاعت: 07 جون، 2013ء

ہفتہ، 6 جولائی، 2013

تنقید و ترمیم سے ماورا ایک گورا قانون

پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر نے عوامی جذبات و احساسات کا خیال اور اپنے عہدے کا پاس رکھے بغیر توہینِ رسالت سے متعلق قانون کو 'کالا قانون' کہا اور پھر انہیں ان کی حفاظت پر مامور ایک عام آدمی کے ردِعمل سے اس بات کا جواب بھی مل گیا کہ جب کسی کے مذہبی جذبات و احساسات کو بار بار مجروح کیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ ممتاز قادری کا وہ فعل کس حد تک جائز تھا مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ جب کسی ریاست کے انتہائی اہم منصب پر فائز اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ خود کو کسی بھی قاعدے ضابطے سے ماورا سمجھتے ہوئے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں تو پھر آپ درجہ چہارم کے کسی نیم خواندہ ملازم سے غیرمعمولی صبر و تحمل اور برداشت کی توقع نہیں کرسکتے۔
 
سلمان تاثیر جس سیاسی جماعت سے متعلق تھے اس نے 2010ء میں عورتوں کو دفاتر اور دیگر کاروباری جگہوں پر ہراساں کرنے کے مسئلے کا تدارک کرنے کے لئے انسدادِ ہراسگی کا قانون منظور کروایا۔ اس قانون کے تحت پارلیمان نے یہ طے کردیا کہ ہراساں صرف عورتوں کو ہی کیا جاسکتا ہے، مرد نامی جنس سے تعلق رکھنے والا انسان خواہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہو اور معاشرے کے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو اسے ہراساں نہیں کیا جاسکتا۔ قانون کی شقوں میں ہراسگی کا دائرہ اس حد تک وسیع کردیا گیا کہ کوئی خاتون کسی شخص کے خلاف محض یہ کہہ کر مقدمہ درج کروا سکتی ہے کہ وہ شخص اسے گھور رہا تھا۔

دنیا بھر میں موجود قوانین کے مطابق کسی شخص کو اس وقت تک مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک کہ گواہوں اور ثبوتوں کی مدد سے اس پر لگایا جانے والا الزام ثابت نہ ہوجائے مگر انسدادِ ہراسگی کا قانون اس حوالے سے بھی اپنی نوعیت کا واحد قانون ہے کہ اس کے تحت جس شخص کے خلاف درخواست دیدی جائے وہ بغیر کسی گواہی یا ثبوت کے فوری طور پر مجرم قرار پاجاتا ہے اور اب یہ الزام لگانے والے کا نہیں بلکہ اس شخص کا مسئلہ ہے کہ وہ خود کو بےگناہ ثابت کرے ورنہ بدنامی کا داغ ماتھے پر لیے اپنی عزت کی دھجیاں سمیٹتے ہوئے زندگی کے باقی ماندہ سال گزارے۔


یہ بات تو وثوق سے نہیں کہی جاسکتی کہ گزشتہ تین برس کے دوران اس قانون کے باعث عورتوں کے خلاف ہراسگی کا انسداد یا تدارک کس حد تک ممکن ہوپایا ہے، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ مذکورہ قانون تعلیمی اداروں، دفاتر اور دیگر جگہوں پر مردوں کو ہراساں کرنے کا وسیلہ ضرور بنا ہے۔ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ کوئی خاتون شاگرد اپنے مرد استاد کے پاس تحقیقی خاکہ یعنی ریسرچ سائناپسس لے کرگئی اور استاد نے اس تحقیقی خاکے کی غلطیاں واضح کرتے ہوئے موصوفہ سے تحقیقی خاکہ دوبارہ ترتیب دینے کو کہا تو وہ لائبریری کا رخ کرنے کی بجائے سیدھی سربراہِ ادارہ کے دفتر پہنچی اور پہلے رو رو کر اپنی من گھڑت کتھا بیان کی کہ کس طرح استاد موصوف نے اسے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی اور پھر ایک عدد درخواست داغ کر استادِ محترم کے عشروں کو محیط کیرئیر اور نیک نامی کا قصہ تمام کردیا۔ 

پاکستان میں ایک خاص طبقے کی جانب سے قانونِ توہینِ رسالت کو 'کالا قانون' کہہ کر اس کی تنسیخ کا مطالبہ تو شد و مد سے کیا جاتا ہے، تاہم گزشتہ تین برس کے دوران انسدادِ ہراسگی کے 'گورے قانون' کے جال میں بیسیوں بےگناہوں کے پھنسنے کے باوجود نہ تو اس میں کسی ترمیم کی ضرورت محسوس کی گئی اور نہ ہی کبھی اسے انسانی حقوق سے متصادم قرار دیا گیا۔