Pages - Menu

جمعہ، 16 اگست، 2013

ہر شخص اپنے فرض سے غافل ہے آج کل​

آج صبح معمول کے مطابق کالج کے لئے گھر سے نکلا تو رِنگ روڈ پر تقریباً پندرہ منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد دیکھا کہ ایک بزرگ اور درمیانی عمر کا شخص سڑک پر زخمی حالت میں پڑے ہیں اور قریب ہی ایک موٹرسائیکل بھی گِری ہوئی ہے۔ حادثہ اس شخص کی تیز رفتاری اور بابا جی کی بےدھیانی کی وجہ سے ہوا تھا۔ دو تین افراد ان دونوں کو اٹھا کر سڑک کی ایک طرف لارہے تھے۔ میں نے فوری طور پر اپنی موٹرسائیکل کو ایک طرف لگایا اور ریسکیو 1122 والوں کو کال کی تاکہ وہ بروقت پہنچ کر زخمیوں کو اسپتال منتقل کرسکیں۔ اتنے میں ایک دو اور لوگوں نے بھی ریسکیو والوں سے رابطہ کیا کہ وہ جلدی پہنچیں کیونکہ دونوں افراد کی حالت کافی بگڑی ہوئی تھی۔ وہ درمیانی عمر کا شخص بےہوش تھا جبکہ وہ بزرگ ہوش میں تھے مگر ان کی حالت بھی کافی خراب تھی۔ ریسکیو والوں کا رسپانس ٹائم 7 منٹ ہے مگر 15 منٹ گزرنے کے باوجود بھی وہاں کوئی نہ پہنچا تو میں نے دوبارہ کال ملائی اور آپریٹر کو غصے سے کہا کہ ’جب بندے مر جائیں گے اس وقت گاڑی بھیجو گے کیا؟‘ ’سر، گاڑی نکل چکی ہے اور اب پہنچنے والی ہوگی!‘ کچھ ہی دیر میں وہاں بہت سے لوگ جمع ہوچکے تھے جن میں زیادہ تعداد ’تماشہ‘ دیکھنے والوں کی تھی۔

اتنے میں ٹریفک پولیس کا ایک وارڈن وہاں پہنچ گیا اور اس نے قریب ہی موجود اپنے سینئرز کو وائرلیس پر حادثے کی اطلاع دی تو کچھ ہی دیر میں ٹریفک پولیس کا ایک انسپکٹر کار میں وہاں پہنچ گیا۔ انسپکٹر نے آ کر کچھ دیر صورتحال کا جائزہ لیا اور لوگوں سے کہا کہ وہ اس بےہوش شخص کو سڑک کے کنارے پر تھوڑا آگے لے جائیں۔ میں نے اس کے قریب جا کر کہا کہ آپ کے پاس کار ہے تو اس کو اسپتال کیوں نہیں پہنچادیتے۔ ’اس گاڑی کو سڑک سے نیچے نہیں اتار سکتے!‘ ’چاہے بندہ مرجائے مگر کار سڑک پر کھڑی رہنی چاہئے،‘ میں غصے اور پریشانی کے عالم میں تھا۔ ’میں یہ گاڑی اس کام کے لئے استعمال نہیں کرسکتا!‘ انسپکٹر کا جواب ’قانون کے مطابق‘ تھا۔

اسی دوران میری اپنی کلائی گھڑی پر نظر پڑی تو 11 بج رہے تھے اور اب میں کسی بھی صورت ساڑھے گیارہ تک کالج نہیں پہنچ سکتا تھا۔ جیب سے موبائل نکال کر صدرِ شعبہ کو اطلاع دینا چاہی کہ میں تاخیر سے پہنچوں گا، وہ میری کلاس کو سنبھال لیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے شعبہ کے تیسرے ساتھی آج چھٹی پر ہیں اور وہ تینوں کلاسوں کے بچوں کو بیک وقت نہیں سنبھال سکتے، سو مجھے جلد از جلد کالج پہنچنا چاہئے۔ اب نہ چاہتے ہوئے مجھے بھی ان دونوں زخمیوں وہیں چھوڑ کر کالج کی طرف روانہ ہونا پڑا۔ یوں تو انہیں اسپتال پہنچانے کے لئے کئی افراد موجود تھے مگر مجھے ایک عجیب سی الجھن نے گھیر رکھا تھا۔ کالج کی طرف جاتے ہوئے دس بارہ برس قبل پڑھا ہوا قطعہ مسلسل میرے ذہن کے دریچوں میں گونج رہا تھا:
تارِ نفس ہی خنجرِ قاتل ہے آج کل​
آساں ہے موت، زندگی مشکل ہے آج کل​
کیوں حادثات روز کا معمول بن گئے​
ہر شخص اپنے فرض سے غافل ہے آج کل​

تاریخ: یکم اکتوبر 2012ء

جمعرات، 8 اگست، 2013

’بےاعتنائی‘

کہتے ہیں، کون کہتے ہیں یہ مجھے نہیں پتہ مگر میں نے اسی طرح سنا ہے کہ کہتے ہیں، جب گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے، اور جب میرا برا وقت آنا ہوتا ہے تو میں ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی بہت ہی خاص بات یا اہم ترین کام کرنا بھول جاتا ہوں۔ اپنے اس بھلکڑپن کی وجہ سے میں کئی بار شرمندگی کا سامنا بھی کرچکا ہوں اور مستقبل قریب و بعید میں بھی سدھرنے کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ سچ پوچھیں تو میں آرزو اور ارادہ تو رکھتا ہوں مگر یہاں مجھے فیض کا کہا سچ دکھائی دیتا ہے کہ
وصالِ یار فقط آرزو کی بات نہیں​

میری اوپر بیان کی گئی باتوں سے ہرگز یہ مراد نہ لی جائے کہ ڈائریا کی حالت میں استعمال کیا جانے والا او آر ایس میرے دماغ کو چڑھ گیا جس کی وجہ سے میں بہکی بہکی باتیں کرنے لگ گیا ہوں۔
 
ویسے تو ہر ماں کو ہی اپنے بچے بہت عزیز ہوتے ہیں مگر میری اماں میرے حوالے سے بےحد جذباتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میری چھوٹی چھوٹی مثبت حرکتوں پر وہ بہت خوش ہوتی ہیں اور کسی چھوٹی سی بھول پر بہت دکھی بھی ہوجاتی ہیں۔ میں تو پھر میں ہی ہوں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ میں کوئی بھول چوک نہ کروں، سو اکثر و بیشتر میں ایسی حرکتیں کرتا رہتا ہوں جس سے اماں کو پریشان ہونے کے مواقع میسر آتے رہتے ہیں۔ کئی بار سمجھایا ہے کہ اتنا پریشان مت ہوا کریں کہ کبھی نہ کبھی تو سدھر ہی جاؤں گا اور نہ بھی سدھرا تو اتنا یقین دلاتا ہوں کہ مزید نہیں بگڑوں گا۔ بس یہی وہ مقام ہے جہاں اماں مزید الجھن میں مبتلا ہوجاتی ہیں اور پھر پاکستانی سیاست دانوں کی طرح مجھے اپنے بیان کی سو سو وضاحتیں کرنا پڑتی ہیں اور کئی بار وضاحتوں کے چکر میں مزید پھنس جاتا ہوں۔
 
اماں اور میرے تعلق میں بیانات اور پھر وضاحتیں ایک معمول کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔ وہ بےچاری تنگ آتی ہیں، روتی ہیں اور پھر کسی چھوٹی سی بات پر خوش ہو کر سب کچھ بھول جاتی ہیں۔ اگر رونے دھونے کے دوران چپ کرانے کے لئے میں یہ کہوں کہ میری شکر پاری، آپ مجھے بہت عزیز ہیں، تو رونا بھول کر ہنستے ہوئے جواب دیتی ہیں کہ اس طرح کی مسکہ بازی مجھ پر اثر نہیں کرتی۔ خیر، میں انہیں کسی نہ کسی طرح منا لیتا ہوں اور اگلی بار پھر کوئی نہ کوئی حرکت ایسی کر بیٹھتا ہوں کہ اماں پھر سے پریشان ہوجاتی ہیں۔
 
مجھے یہ احساس بھی ہے کہ وہ مجھ سے ہزاروں میل دور اکیلی رہتی ہیں اور اس صورت میں ان کا جذباتی انحصار مجھ پر اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ ان سے کہتا ہوں کہ ہمارے پاس پاکستان آجائیں تو یہ ان کے لئے ممکن نہیں کہ ایک تو اس عمر میں اتنا لمبا سفر اکیلے نہیں کرپائیں گی اور دوسرا پاکستان کے ماحول اور موسم میں ان کا گزارہ ہی نہیں ہوسکے گا۔ دوسری جانب جب وہ مجھے امریکہ منتقل ہونے کو کہتی ہیں تو میں یہ کہہ کر معذوری کا اظہار کرتا ہوں کہ میرے لئے پاکستان اور لاہور کے بغیر رہنا بہت مشکل ہے اور ویسے بھی میں اس ملک کی بہتری کے لئے اپنے حصے کا کردار یہیں رہ کر ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اماں کو پاکستان کے حوالے سے میرے نظریات اور جذبات کی شدت کا بخوبی اندازہ ہے اس لئے دعائیں دیتے ہوئے موضوع بدل لیتی ہیں۔
 
موضوع تو آج بھی بدل سکتا تھا مگر میری حرکت ہی ایسی تھی کہ اماں بات ختم ہونے تک ناراض اور دکھی رہیں۔ دراصل، 6 اگست کو اماں کی سالگرہ تھی اور میں ایسا بےوقوف ہوں کہ مجھے بالکل یاد ہی نہیں رہا۔ بھولنے کی ایک وجہ میری طبیعت کی خرابی بھی تھی۔ پورا دن بار بار موبائل فون کا کیلنڈر دیکھ کر سوچتا رہا کہ آج کا دن بھلا کس وجہ سے خاص ہے مگر میرے بھلکڑ دماغ میں یہ خیال ایک بار بھی نہیں آیا کہ آج اماں کی سالگرہ ہے۔ اماں کی ناراضگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں نے فیس بُک پر جب کوئی تازہ پوسٹ ارسال کی تھی تو اس وقت وہ آنلائن تھیں مگر میرے آفلائن ظاہر ہونے کی وجہ سے مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ موجود ہیں، لہٰذا اس وقت بھی میں انہیں مبارکباد نہ دے سکا۔
 
اپنی اس حرکت کی وجہ سے آج میں نے فون پر بات کرتے ہوئے اماں کو روتے سنا تو بہت تکلیف ہوئی اور خود پر بےحد غصہ بھی آیا کہ میں ہر بار ایسی باتیں کیوں بھول جاتا ہوں جو بہت ہی ضروری ہوتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ پچھلے دو ہفتوں سے مسلسل اتوار کو سنیچر سمجھ کر اماں کا نمبر ملاتا ہوں اور پھر احساس ہوتا ہے کہ آج تو مصروف ہوں گی مگر ساتھ ہی خود کو لعن طعن کرتے ہوئے یہ بھی سوچتا ہوں کہ انہوں نے سنیچر کا پورا دن اس آس پر گزار دیا ہوگا کہ میرا فون کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی روتی ہوئی اماں کو اپنی ’مسکہ بازی‘ سے میں نے ہنسا تو دیا مگر وہ جاتے ہوئے بھی یہی کہہ کرگئیں کہ انہیں اس بات کا بہت دکھ ہوا۔ اماں تو چلی گئیں مگر میں خود کو ابھی تک بیٹھا ملامت کررہا ہوں کہ مجھے اماں کی محبت اور خلوص کے جواب میں اس قدر ’بےاعتنائی‘ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔

بدھ، 7 اگست، 2013

علم کے فروغ اور سود کی تعدیم کا تعلق

ایک اور بڑا مسئلہ جس پر حکومتِ وقت خصوصی توجہ دینے کے عزم کا اظہار کرچکی ہے، تعلیم کا مسئلہ ہے۔ تعلیم کی سطح اور پھیلاؤ دونوں اس قدر توجہ طلب ہوچکے ہیں کہ ان میں مزید تاخیر کی گنجائش بہت کم ہے۔ دسیوں ایجوکیشن کمیشنوں نے پاکستان کی تخلیق سے پہلے بھی اور اس کے مابعد بھی تمام متعلقہ مسائل کے جواب دیئے ہوئے ہیں، (سوائے ایک کے) اور ان پر اصلاح کی چنداں گنجائش نظر نہیں آتی۔ دقت صرف ایک ہے اور اس کا نام سرمایہ ہے۔ تعلیم کو نتیجہ خیز اور عام کرنے کے لئے جتنے وسائل کی ضرورت ہے وہ سرے سے میسر ہی نہیں۔ نئے سکول بناؤ، انہیں تخلیقی و فنّی رجحان دو، یونیورسٹی کی تعلیم اور بالخصوص آرٹس کی تعلیم بےانتہا قابلیت کے طلباء کے لئے مختص کرو، لیبارٹریاں بناؤ، کھیل کے میدان بناؤ، پرائمری مدارس کی تعداد میں تین گنا اضافہ کرو، ایک یا دو استادوں والے پرائمری سکول صحیح تعلیمی بنیاد فراہم کرنے سے قاصر رہتے ہیں، ان میں استادوں کی تعداد بڑھاؤ۔ اب اگر ہزاروں نئے سکول کھولے جائیں اور ہزاروں سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کی جائے اور اس پر مستزاد یہ اصرار کہ اساتذہ کی تنخواہوں میں اتنا اضافہ کرو کہ ملک کے بہترین نوجوان اس پیشہ کی طرف راغب ہوجائیں۔ جس تجویز کو بھی دیکھو ٹنوں سونا مانگتی ہے۔ ایک بات جو کسی ایجوکیشن کمیشن نے نہیں بتائی وہ یہ ہے کہ ٹنوں سونا کہاں سے آئے گا؟ حکومت کی آمدنی تو وہی ہے جو ٹیکسوں سے وہ حاصل کرتی ہے۔ ان ٹیکسوں کو قومی پیداوار کے ایک مناسب جز سے آگے لے جانا ترقیِ معکوس کا پیش خیمہ بن جاتا ہے، لہٰذا بنیادی حل اس تمام مسئلے کا قومی پیداوار میں انقلاب آفریں اضافہ ہے۔ اس سطح کا اضافہ اسی سطح کی سرمایہ کاری کے بغیر ممکن نہیں، اور سرمایہ کاری کی سطح میں انقلاب آفریں اضافہ سود اور بنکنگ ریزرو ختم کرنے کے بغیر ناممکن ہے۔
 
ایک چھوٹی سی مثال سے شاید بات واضح ہوجائے، آج شرح سود صفر پر لے آئیے تو ملک کے تمام بیمار کارخانے صحت مند ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے کسی کا بیلنس شیٹ اٹھا کر دیکھیے تو ایک قدرِ مشترک جو ہر بیمار کارخانے میں نظر آئے گی، یہ ہے کہ کارخانے پر سود کا بوجھ اس کی مجموعی آمدنی سے کہیں زیادہ ہے۔ اب نقصان اٹھا کر کارخانہ چلانا کسی کے بس میں نہیں ہوتا، لہٰذا کارخانہ بند ہوجاتا ہے اور بیمار کارخانہ کہلاتا ہے۔ ان بیمار کارخانوں میں ملک کی مجموعی صنعتی سرمایہ کاری کا ایک چوتھائی لگا ہوا ہے۔ آج شرح سود صفر پر لے آئیے تو ان میں سے ہر کارخانہ صحت مند کارخانہ بن جاتا ہے اور ہزار ہا لوگوں کی روزی اور حکومت کی آمدنی میں بیش بہا اضافے کی صورت نکل آتی ہے۔ صحیح پالیسی بنانے میں سوائے قوتِ فیصلہ کے کچھ خرچ نہیں ہوتا، الٹا حکومت کا خزانہ بھرنا شروع ہوجاتا ہے۔
 
پھر شرح سود صفر تک گرنے سے محض بیمار کارخانے ہی صحت مند نہیں ہوں گے، صحت مند کارخانے چھلانگیں لگانے لگیں گے اور پیداوار بڑھانے کی بھرپور کوششیں کریں گے، مسابقت کے تقاضے نت نئے کارخانے وجود میں لائیں گے اور پھر محض نئی صنعتیں اور نئی ٹیکنالوجی ہی میسر نہیں آئے گی، زراعت پیشہ لوگ ٹریکٹر اور ٹیوب ویل لگائیں گے کیونکہ سرمایہ بغیر سود کے میسر ہے۔ متوسط لوگ پاور لوم قسم کے چھوٹے چھوٹے کارخانے لگائیں گے، غریب لوگ چھوٹے چھوٹے مرغی خانے یا ایک دو بھینس خرید کر اپنی روزی پیدا کرلیں گے اور جو اس قابل بھی نہیں، وہ ان ملازمتوں کی طرح رجوع کرسکیں گے جو سرمایہ کاری میں اضافہ کی وجہ سے پیدا ہوجائیں گی۔ ان سب کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک طرف بےروزگاری صفر کی سطح تک اتر جائے گی، دوسری طرف ہر سمت سے قومی دولت میں اضافہ ہونا شروع ہوجائے گا اور اس مسلسل اضافے کا ایک حصہ حکومت کے خزانے تک پہنچ کر اسے بھرنا شروع کردے گا۔ یہ واحد طریقہ ہے جس سے وہ ٹنوں سونا میسر آسکتا ہے جس سے تعلیم (اور بہت سی چیزوں) کی نتیجہ خیز اصلاح اور توسیع دونوں کا راستہ کھل جاتا ہے۔

(شیخ محمود احمد کی ’سود کی متبادل اساس‘ سے اقتباس)
 
پسِ تحریر: نومبر 1977ء میں اسلامی نظریاتی کونسل نے سود کی متبادل اساس کا فیصلہ کرنے کے لئے ماہرینِ معاشیات اور ممتاز بنک کاروں پر مشتمل ایک پینل تشکیل دیا تھا۔ شیخ محمود احمد ایک ممتاز ماہرِ معاشیات کی حیثیت سے اس پینل کے رکن تھے اور آپ نے فروری 1980ء میں پینل کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ پر مارچ 1980ء میں ایک جامع اختلافی نوٹ تحریر کیا تھا جو بعدازاں ’سود کی متبادل اساس‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوا۔ اس اختلافی نوٹ کو بالغ نظر اور سنجیدہ فکر حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی، تاہم اس میں پیش کردہ سفارشات کو پاکستان میں مروج سودی نظام کے خاتمے کے لئے سرکاری سطح پر استعمال کرنے کی زحمت کبھی گوارا نہیں کی گئی۔

جمعرات، 1 اگست، 2013

رضیہ پاکستانی اور میڈیائی غنڈے

اکیسویں صدی کا موڑ مڑتے ہی پاکستانی معاشرہ میڈیا نامی عفریت کے ہتھے چڑھ گیا۔ یکے بعد دیگرے نشریاتی ادارے قائم ہونا شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے عام آدمی محاوراتی رضیہ کی طرح ان نشریاتی اداروں کے نرغے میں پھنس گیا۔ نجی ٹیلیویژن چینل چونکہ سرمایہ دارانہ نظام کے استعماری ایجنڈوں کو فروغ دینے کے لئے وجود میں آئے تھے، لہٰذا ان سے کسی بھی بہتری کی توقع یا معاشرے میں کسی صحت مند رحجان کی ترویج کی امید دیوانے کے خواب سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایسے نشریاتی اداروں کی بنیاد بھی رکھی گئی جن کے قیام کا واحد مقصد اپنے مالکان کی کالے دھن کو سفید کرنے کی کوششوں میں ممد ثابت ہونا تھا۔

یادش بخیر قومی اسمبلی میں موجودہ قائد حزبِ اختلاف اور سابق وفاقی وزیر برائے محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ نے تین برس قبل اسمبلی اجلاس کے دوران ایک توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ بارہ نجی ٹیلیویژن چینلوں نے ٹیکس کی مد میں حکومت کو پونے تین ارب روپے ادا کرنا ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی ادارہ اپنے ذمے واجب الادا رقم ادا کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس واجب الادا خطیر رقم میں آدھے سے زیادہ حصہ اس نجی نشریاتی ادارے کا تھا جو خود کو صحافتی اور انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار اور قانون کا اول درجے کا پاسبان گردانتا ہے۔

نجی نشریاتی اداروں کی بدعنوانی کا حوالہ محض مالی ہی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ بھی ہے۔ خبری مواد کی جمع آوری سے لے کر اس کے تدوین کے مراحل سے گزر کر نشر ہونے تک دنیا بھر میں جن مسلمہ اصولوں کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے، ہمارے ہاں ان اصولوں کی دھجیاں کس طرح اڑائی جاتی ہیں اس کا مشاہدہ ہمیں تین بڑے نشریاتی اداروں سے انسلاک کے دوران ہوا۔ ایک انتہائی تکلیف دہ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کی نشریاتی صحافت خبری عمارت کے لئے نیو کی حیثیت رکھنے والی ادارتی حکمتِ عملی یا ایڈیٹوریل پالیسی کے نام سے ہی ناواقف دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں نجی نشریاتی اداروں کی ادارتی حکمتِ عملی محض اس کلیے کے گرد گھومتی ہے کہ بہتر سے بہتر ریٹنگ لے کر زیادہ سے زیادہ اشتہارات کیسے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

ریٹنگ کی اس دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے نجی ٹیلیویژن چینلوں نے ہر طرح کی اخلاقی، معاشرتی اور مذہبی اقدار کو بھی بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ رواں برس ریٹنگ نام کی بلا ماہِ رمضان کے تقدس کو بھی نگل گئی ہے۔ ہر نجی ٹی وی پر رمضان نشریات کے نام سے پیش کئے جانے والے پروگراموں کی میزبانی رنگ برنگے ڈیزائنر کُرتوں میں ملبوس سرمایہ دارانہ استعماریت کے دلدادہ جدید ملا کررہے ہیں یا سحر و افطار کے اوقات میں رحمتوں اور برکتوں کے پردے میں نحوستیں اور خباثتیں بانٹنے کے لئے میڈیا کا دیوِ استبداد اداکاراؤں اور عام دنوں میں صبح کی نشریات پیش کرنے والی نیلم پریوں کا رہینِ منت دکھائی دیتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں بسنے والے عام آدمی کی فکری پستی یا سادہ لوحی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ظلمت کے ان تاجروں سے ضیاء خریدنے کے لئے ٹیلیویژن کہلانے والے چوکور برقی ڈبے سے یوں چپکا بیٹھا ہے جیسے بندر کا نومولود بچہ ماں کے سینے سے لپٹا ہوتا ہے۔ 2002ء میں نشریاتی اداروں کی نگرانی کے لئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نامی ادارے کا قیام تو عمل میں لایا گیا تھا مگر پاکستان میں سیاسی اور ذاتی مفادات چونکہ اکثر ہی وسیع تر قومی مفاد کا روپ دھار لیتے ہیں، لہٰذا ہمارے سامنے کوئی ایک بھی ایسی بیّن مثال موجود نہیں جسے پیمرا کی مثبت کارکردگی کے ضمن میں پیش کیا جاسکے۔ اگر حکومت، پیمرا اور نجی نشریاتی اداروں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ایک وقت آئے گا جب 'نشریات گردی' کے ستائے ہوئے لوگ بجلی کی بندش اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی طرز پر ٹیلیویژن چینلوں کے دفاتر پر دھاوا بول دیا کریں گے کیونکہ پاکستانی میڈیا آزاد تو کب کا ہوچکا مگر ذمہ دار ابھی تک نہیں ہوسکا۔


پسِ تحریر: یہ مضمون بنیادی طور پر 'ہم آپ ڈاٹ کام' نامی ویب سائٹ کے لئے لکھا گیا تھا اور وہاں شائع بھی ہوچکا ہے۔