Pages - Menu

منگل، 31 دسمبر، 2013

تقویمی مماثلت اور پاکستان


1947ء اور 2014ء کے کیلنڈر ایک دوسرے سے مماثل ہیں، یعنی 1947ء کا آغاز بھی بدھ کے روز ہوا تھا اور 2014ء کی شروعات بھی اسی دن سے ہونے جارہی ہے۔ اس حساب سے آئندہ برس پندرہ اگست اسی دن کو آئے گا جس روز یہ اڑسٹھ برس قبل آیا تھا۔ 1947ء بالعموم برِعظیم ہندوستان کے تمام بسنے والوں اور بالخصوص پاکستانیوں کے لئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس برس کے آٹھویں مہینے کے وسط میں صرف ہندوستان نامی خطہ ہی تقسیم نہیں ہوا تھا بلکہ اس کے ایک مخصوص نظریے سے وابستگی رکھنے والے باسیوں نے اپنے لہو سے اپنی تقدیر بھی لکھی تھی۔ تقدیر کی یہ تحریر سرحد نامی لکیر بن کر ہندوستان کے سینے پر کھنچ گئی اور یوں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔

ہمارے ہاں دو مخالف گروہوں کے مابین پاکستان کے نظریاتی وجود اور دستوری ڈھانچے سے متعلق پائی جانے والی لمبی لمبی اور لاحاصل بحثیں اپنی جگہ، تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے قائدین اسلامی تشخص کی بناء پر ہی الگ مملکت کا مطالبہ کررہے تھے۔ یہ مطالبہ پاکستان نامی عمارت کے لئے نیو کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر اس نیو کو ہٹا دیا جائے تو پاکستان کے وجود کا جواز فراہم کرنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہو کر رہ جائے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے قیام سے قبل مختلف مذہبی جماعتوں نے اس کی مخالفت بھی کی لیکن وہ مخالفت نظریاتی و اصولی معاملات سے زیادہ منصوبہ جاتی مسائل سے تعلق رکھتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد اس کے قیام کی مخالفت کرنے والے بھی قومی زندگی کے دھارے میں ایک موافق قوت کے طور پر شریک ہوگئے۔

1947ء سے آج تک پاکستان کا سفر معاشرتی، معاشی، دستوری اور دیگر حوالوں سے کیسا رہا، اس کا جائزہ آپ اور ہم اپنے اپنے طور پر لے سکتے ہیں کہ ہر شخص کا جائزہ درحقیقت اس کے انفرادی تعصبات کا عکاس ہوتا ہے، اور ہم کسی پر اپنی ذاتی عصبیت کو مسلط کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ گزشتہ چھیاسٹھ سے زائد برسوں میں پاکستان نے بلاشبہ بہت کچھ کھویا اور بہت کچھ پایا۔ جہاں بہت سے مسائل پیدا ہوئے، وہیں بہت سی سہولتوں نے بھی جنم لیا۔ جہاں بعض حوالوں سے تنزلی ہمارا مقدر بنی، وہیں کئی حوالوں سے ترقی نے بھی آگے بڑھ کر ہمیں گلے لگایا۔ جہاں ہمارا قومی لبادہ کچھ بدنما دھبوں سے دغدار ہوا، وہیں بعض تابناک ستاروں نے ہماری اجتماعی مانگ بھی سجائی۔

یہ سب کچھ گزر گیا۔ آج ہمارے پاس اس سب کو بنظرِ غائر جانچنے کا موقع تو ضرور ہے، تاہم ہم ان میں سے کسی بھی امر کے وقوع کو روکنے یا بدلنے پر قدرت نہیں رکھتے کہ گزرے ہوئے وقت کا جائزہ تو لیا جاسکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ ماضی کا سفر کر کے کسی بگڑے ہوئے معاملے کو درست کرلیا جائے۔ سالِ آئندہ کی ساعتیں زندگی کے دریچوں پر دستک دے رہی ہیں اور اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اپنی ذاتی اور قومی فلاح و بہبود کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے 1947ء سے مماثلت رکھنے والے اس نئے برس کے تین سو پینسٹھ دنوں کو کیسے بسر کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ پروردگار پاکستان کو امن و آشتی کا گہوارہ بنائے اور ہم سب پر اپنی رحمت نازل کرے۔ آمین

پیر، 30 دسمبر، 2013

یہ رات (از احمد ندیم قاسمی)


دلیلِ صبح طرب ہی سہی یہ سناٹا
مگر پہاڑ سی یہ رات کٹ چکے تو کہوں
پسِ نقاب ہی پنہاں سہی عروسِ سحر
مگر یہ پردۂ ظلمات ہٹ چکے تو کہوں

یہ رات بھی تو حقیقت ہے تلخ و تند و درشت
اسے سحر کا تصور مٹا نہیں سکتا
مجھے تو نیند نہیں آئے گی کہ میرا شعور
شبِ سیاہ سے آنکھیں چرا نہیں سکتا

اگر نشانِ سفر تک کہیں نہیں، نہ سہی
میں رینگ رینگ کے یہ شب نہیں گزاروں گا
شکست سے مرا اخلاق اجنبی ہے ندیم
سحر ملے نہ ملے، رات سے نہ ہاروں گا

جمعہ، 27 دسمبر، 2013

یہ بھی مرا قصور کہ تم ہو دروغ گو

یہ واقعہ مارچ 2012ء کے ابتدائی دنوں کا ہے۔ ایک صبح ہمارے ایک دوست نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور کہا کہ ایک بین المذاہب کانفرنس کے سلسلے میں چار روز کے لئے آپ کو اندرونِ سندھ لے کر جانا ہے۔ ہم نے کہا کہ دفتر سے اجازت لے کر ہم آپ کو آگاہ کریں گے۔ خیر، اجازت مل گئی اور دو روز کے بعد ہم لوگ پہلے لاہور سے بذریعہ پرواز کراچی اور پھر وہاں سے بذریعہ بس رات گئے میرپور خاص پہنچے۔ کانفرنس کا اہتمام ایک پاکستانی غیرسرکاری تنظیم یعنی این جی او کی طرف سے کیا گیا اور یہ بات ہمیں بعد میں معلوم ہوئی کہ اس کے لئے رقم یا فنڈنگ ایک معروف بین الاقوامی عیسائی ادارے کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والے تقریباً تمام افراد کا تعلق شعبۂ صحافت سے تھا، تاہم مقررین مختلف شعبۂ ہائے حیات سے منسلک تھے۔

کانفرنس کے مختلف سیشنز کے دوران جن لوگوں نے خطاب کیا ان میں ڈپٹی بشپ آف حیدرآباد فادر ڈینیل فیاض، روزنامہ عبرت حیدرآباد کے مذہبی ایڈیشن کے انچارج جے پرکاش مورانی، معروف ہندو وکیل ایم پرکاش، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سندھ کے نمائندے ڈاکٹر آشوتم اور 'ہیرالڈ' کے ایڈیٹر محمد بدر عالم شامل تھے۔ کانفرنس میں جو باتیں اور بحثیں ہوئیں انہیں تفصیل سے بیان کرنے کو دل تو بہت چاہ رہا ہے مگر اس کام کے لئے یہ موقع مناسب نہیں کہ ابھی ہمیں صرف اس سیشن سے متعلق بات کرنا ہے جس میں بدر عالم نے پاکستان کی معاشرتی تاریخ کو ایک خاص نقطۂ نظر سے پیش کرنے کی کوشش کی۔

گفتگو کے آغاز میں بدر عالم نے تختے پر مارکر سے ایک تکون بنائی۔ اب بات چلی تو سب سے پہلے جوگندر ناتھ منڈل کا ذکر آیا کہ وہ پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے اسپیکر تھے اور انہوں نے ہی قائداعظم محمد علی جناح سے حلف لیا تھا۔ تکون کے تینوں کونوں پر بدر عالم نے قائداعظم، منڈل اور پاکستان کے نام لکھ دیئے۔ پھر پہلے دو نام مٹا کر ایک کونے پر انہوں نے پاکستان-1947ء لکھا، دوسرے کونے پر اسلام-1000 اور تیسرے کونے پر پنجابی/بلوچی/سندھی/پشتون لکھ دیا۔ بدر عالم ہماری معاشرتی تاریخ کے ابتدائی حصے پر بات کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ جناح صاحب بہت بڑے ویژنری اور زیرک تھے۔ ہم نے اچھا موقع جانتے ہوئے ہاتھ ہوا میں لہرایا اور کہا کہ حاضرین کو اگر محمد اسد اور قائداعظم کی طرف سے انہیں سونپی جانے والی ذمہ داریوں کے بارے میں بھی بتادیا جائے تو مناسب رہے گا۔ بدر عالم نے پوچھا کہ محمد اسد کہاں کے رہنے والے تھے۔ ہمارا جواب تھا کہ شاید آسٹریا کے۔ فرمایا، میں کسی غیرملکی پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ عرض کی گئی کہ وہ ان اولین لوگوں میں سے تھے جنہیں قائداعظم نے خود پاکستانی شہریت سے نوازا تھا، لہٰذا اب بتادیجئے کہ ان کے پاس کیا ذمہ داری تھی۔ بدر عالم قدرے برہم ہو کر بولے تو پھر آپ ہی بتادیجئے۔ ہم نے کہا کہ ہم تو سامع ہیں، آپ ہی بتائیے تو مناسب رہے گا۔ کہنے لگے، نہیں، آپ بتائیں اب۔ ہم نے جواب دیا کہ محمد اسد مفسرِ قرآن ہیں اور انہوں نے بخاری شریف کی شرح بھی لکھی ہے۔ انہیں قائداعظم کی طرف سے پاکستان کے پہلے دستور کے لئے اسلامی سفارشات مرتب کرنے کا کام سونپا گیا تھا اور انہوں نے سفارشات مرتب بھی کیں جو آج بھی کسی محکمے میں محفوظ پڑی ہیں۔ بدر عالم کہنے لگے کہ یہ جناح صاحب کی غلطی تھی۔ عرض کی گئی کہ ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ وہ بہت بڑے ویژنری اور زیرک تھے۔ فرمایا، ہاں مگر ان سے غلطی ہوئی تھی۔

خیر، خطاب آگے چل پڑا۔ اب تاریخ کے تقریباً ہر موڑ پر ہماری اور بدر عالم کی آپس میں مڈبھیڑ ہورہی تھی اور وجہ صاف ظاہر تھی کہ وہ تاریخ کو اپنی مرضی کا رنگ دینا چاہ رہے تھے اور ہم ان سے گزارش کررہے تھے کہ ہم سب لوگ بھی آپ کی طرح صحافی ہیں، آپ تاریخ بیان کرتے ہوئے اپنے نقطۂ نظر سے الگ ہو کر تصویر کے دونوں رخ ہمارے سامنے رکھ دیں اور فیصلہ ہمیں کرنے دیں کہ کب، کہاں اور کیا گڑبڑ ہوئی۔ بالآخر بدر عالم تپ کر بولے کہ آپ اس لئے ایسی باتیں کررہے ہیں کیونکہ آپ کی پرورش 'منصورہ' میں ہوئی تھی۔ ہم نے کہا کہ بدر صاحب، ذاتیات پر تو ہم بھی اتر سکتے ہیں مگر ہم آپ جیسے نہیں اور آپ کی اس حرکت سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ آپ اختلافِ رائے رکھنے والوں سے کیسے پیش آتے ہیں۔

کانفرنس کے دیگر سیشنز کی طرح یہ سیشن بھی ہمیں اس کانفرنس کے اغراض و مقاصد سے بخوبی واقف کررہا تھا۔ ہمارا کسی 'روشن خیال' سے یہ پہلا ٹاکرا نہیں تھا، تاہم اس واقعے سے ہم پر یہ واضح ہوگیا کہ لبرلزم کے دعویدار خواہ کتنے ہی پڑھے لکھے ہوں اور وہ کسی بھی پیشے منسلک سے ہوں، ان سے غیرجانبداری اور صاف گوئی کی توقع کرنا عبث ہے۔

ہفتہ، 14 دسمبر، 2013

اپنے باپ کا نہ سمجھو مال۔۔۔

وفاقی حکومت توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے ملک بھر میں تین کروڑ انرجی سیورز مفت تقسیم کررہی ہے۔ ایک انرجی سیور کی قیمت کم از کم سو روپے بھی فرض کرلی جائے تو اس حساب سے تین کروڑ انرجی سیورز کی خریداری پر تین ارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہوگی۔ اس منصوبے کی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں تشہیر پر جو خرچہ اٹھ رہا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ اسی طرح فی گھر دو انرجی سیورز کی تقسیم کے لئے ظاہر ہے بندے بھی درکار ہوں گے کہ چراغ کے جن یا آسمان کے فرشتے اس طرح کے کام نہیں کرتے۔ علاوہ ازیں، ان انرجی سیورز کی خریداری کے بعد انہیں بحفاظت رکھنے کے لئے گودام وغیرہ کی بھی ضرورت پیش آئے گی کہ کسی فیکٹری سے لے کر انہیں فوراً شہر شہر اور قریہ قریہ جا کر پہنچا آنا عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ اگر تشہیر، خریداری کے بعد گودام میں رکھنے اور پھر ہر شہر، قصبے اور گاؤں تک ان انرجی سیورز کو پہنچانے کا خرچ دس کروڑ روپے تصور کرلیا جائے تو یوں کل ملا کر اس منصوبے کا خرچہ ایک محتاط اندازے کے مطابق تین ارب دس کروڑ روپے تک پہنچ جائے گا۔

ہمارے اندازے کے مطابق آنکی گئی اس تین ارب روپے سے زائد رقم کو ذہن میں رکھئے اور موجودہ حکومت کی ایک اور غیردانشمندانہ حرکت پر غور کیجئے کہ رواں برس پاکستان کے بیرون ممالک میں موجود ستر میں سے بائیس سفارتخانوں کو بند کرنے کی تجویز سامنے لائی گئی۔ تجویز کے مطابق جن ممالک میں موجود سفارتخانے بند کرنے کا سوچا جارہا ہے وہ ممالک لاطینی امریکہ، افریقہ اور وسط ایشیاء میں پڑتے ہیں۔ ان بائیس سفارتخانوں کو بند کر کے حکومت سالانہ تقریباً ایک ارب روپے کی بچت تو کر لے گی مگر غیرملکی (بالخصوص لاطینی امریکہ اور افریقہ کی) منڈیوں تک رسائی، عالمی برادری میں اثر و رسوخ اور دیگر سفارتی و تزویراتی حوالوں سے جو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، وہ اس بچت سے کہیں مہنگا ثابت ہوگا۔

پاکستان کے عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے مختلف مدات میں ٹیکس ادا کر کے جس خزانے کو بھرتے ہیں وہ نہ تو کسی کے باپ کا مال ہے اور نہ ہی کسی کی والدہ ماجدہ کو جہیز میں ملا تھا۔ جن افراد کو اپنے ووٹوں کے ذریعے منتخب کر کے لوگ اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ملکی معاملات کو چلاتے ہوئے عقل اور ہوش سے کام لیں گے اور ملک کے خزانے کو ایک امانت سمجھ کر استعمال کریں گے۔ ہمارے حکمرانوں کو ذاتی تشہیر اور دریا دلی دکھانے کا اگر اتنا ہی شوق ہے تو اپنی گرہ سے مال خرچ کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکیں، اس طرح کے مقاصد کے لئے قومی خزانے کو کیوں استعمال میں لاتے ہیں۔ تین کروڑ انرجی سیورز کی خریداری اور اس منصوبے کی دیگر مدات پر قومی خزانے سے جو اربوں روپے خرچ ہورہے ہیں اتنی رقم سے عوام کی فلاح و بہبود کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کوئی ترقیاتی منصوبہ لگایا جائے تو ملکی مسائل کے حل میں کسی حد تک مدد مل سکتی ہے۔

جمعہ، 6 دسمبر، 2013

اے گرفتارِ ابوبکر و علی ہشیار باش

تین روز قبل کراچی میں مجلسِ وحدت المسلمین کے رہنما علامہ دیدار علی جلبانی کو قتل کردیا گیا اور آج لاہور میں اہلِ سنت والجماعت پنجاب کے صدر مولانا شمس الرحمٰن معاویہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے۔ علامہ جلبانی شیعہ مکتبِ فکر میں اہم حیثیت کے حامل تھے تو مولانا معاویہ دیوبندی مسلک کے سرکردہ لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔

سانحہء راولپنڈی کے بعد پاکستان میں مذہب کے نام پر قتل و غارت گری کا نیا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ اس حوالے سے کسی سنّی سے بات کریں تو وہ بھرپور جذباتی انداز میں شیعوں کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد سے لے کر دورِ حاضر تک ایسے ایسے واقعات کا حوالہ دیتا ہے کہ جواب میں صلح جوئی پر مبنی کوئی بات کہنا ہی مشکل ہوجاتا ہے اور اگر کسی شیعہ کو کچھ سمجھانا چاہیں تو جواباً وہ بھی تاریخ کے اسی دورانیے کو لے کر ایسے ایسے دلائل پیش کرتا ہے کہ مصلحت کا کوئی امکانی رستہ ہی نظر نہیں آتا۔ ہر مسلک کا ماننے والا خود کو سچا اور پکا مسلمان کہتا ہے مگر جب عمل کا مرحلہ آتا ہے تو وہ وہی سب کچھ کرتا ہے جو اس کی اندھی تقلید اس سے تقاضہ کرتی ہے۔

دنیا کے تقریباً ہر ملک میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے مختلف الخیال لوگ بستے ہیں۔ ان لوگوں کے مابین بھی فکری اختلافات اتنے ہی سنجیدہ اور سنگین ہیں جتنے شیعہ اور سنّی کے نظریاتی جھگڑے مگر وہ اپنے نظریاتی فرق کو ایک طرف رکھ کر بقائے باہمی اور رواداری کے اصولوں کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ پورے عالم میں ایک ہم ہی ہیں جنہیں اپنی دنیا بہتر بنانے سے زیادہ اپنے کسی ہمسائے، دوست یا عزیز کی آخرت سنوارنے کی پڑی ہوتی ہے اور اسی چکر میں ہم خود اذیتِ مسلسل میں رہنے کے ساتھ ساتھ اس شخص کا جینا بھی دوبھر کردیتے ہیں۔

اس بات پر تو ہم سب متفق ہیں کہ پاکستان اور اسلام مخالف قوتیں کسی بھی طور ہمیں مستحکم ہوتے اور پھلتے پھولتے نہیں دیکھ سکتیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان میں مختلف مسالک کے لوگوں کو آپس میں لڑوا کر اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود ہم کبھی بھی اپنے مسلکی دائرے سے نکل کر پاکستان اور اسلام کو ان بیرونی سازشوں سے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ اقبال نے آج سے کئی دہائیاں پہلے انہی سازشوں کو بھانپتے ہوئے ہمیں ایک نصیحت کی تھی:
اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش
اے گرفتارِ ابوبکر و علی ہشیار باش

بدھ، 4 دسمبر، 2013

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

ایک قومی روزنامہ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق احمد گجر نے اپنے بھائی رکن صوبائی اسمبلی چوہدری گلزار احمد گجر کی انتخابی مہم کے لئے اشتہارات کی مد میں دل کھول کر رقم خرچ کرنے والے معطل سب انسپکٹر چوہدری ذوالفقار علی گجر کو نہ صرف بحال کیا بلکہ انہیں تھانہ وحدت روڈ کے ایس ایچ او کے طور پر بھی تعینات کردیا۔ ذوالفقار گجر نے سی سی پی او کے بھائی کی انتخابی مہم کے لئے جو اشتہارات چھپوائے ان میں موصوف نے اپنی تصویر بھی ساتھ لگوائی۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں جب ذوالفقار گجر سے مؤقف لینے کے لئے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اشتہارات چھپوانے والا شخص ان کا ہم شکل اور ہم نام ہوگا۔

ہم شکل اور ہم نام ہونے کے اس بیان سے یقیناً ہماری طرح آپ بھی لطف اندوز تو بہت ہوئے ہوں گے مگر اب ذرا اس بات کا اس پہلو سے بھی جائزہ لیجئے کہ ہمارے ہاں قانون کے نفاذ پر مامور افراد کس ذہنیت کے حامل ہیں اور وہ عام لوگوں کو کتنا بےوقوف اور سادہ لوح خیال کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں تھانہ کلچر کی قبیحات کی مذمت کرتے ہوئے پولیس میں عملِ تطہیر کی اہمیت پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے جو عملی اقدامات کیے ان کے تحت پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں غیرمعمولی اضافہ بھی کیا گیا۔ شہباز شریف کے اقدامات اپنی جگہ مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان اقدامات کے نتیجے میں خاطر خواہ نتائج برآمد ہو پائے یا نہیں اور اگر خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے تو اس کی کیا وجوہات ہیں اور بھلا اور کون سے ایسے اقدامات ہوسکتے ہیں جن کی مدد سے پولیس جیسے اہم ترین محکمے کی 'قلبِ ماہیئت' ممکن ہے۔

مذکورہ خبر میں جن رکن صوبائی اسمبلی کا ذکر ہے ان کا تعلق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے ہی ہے۔ جس افسر پر مبینہ 'اشتہاری رشوت' کے ذریعے اثر انداز ہوا گیا وہ کوئی اے ایس آئی، سب انسپکٹر یا انسپکٹر نہیں بلکہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل اور صوبائی دارالحکومت کے نظم و نسق کا سربراہ ہے۔ جہاں ڈی آئی جی کے عہدے پر فائز شخص بھی غیرقانونی اور غیراخلاقی طریقوں سے اثر انداز ہونے کا رجحان رکھتا ہو وہاں ایک سپاہی یا حوالدار سے بھلا کیسی اخلاقیات اور فرض شناسی کی توقع کی جانی چاہئے؟

اب دیکھنا یہ ہے کہ اخبار کے ذریعے اس بات کے عام ہوجانے کے بعد خادمِ اعلیٰ کہلانے والے صوبائی حاکمِ اعلیٰ اپنی جماعت کے رکن صوبائی اسمبلی اور سی سی پی او لاہور کے خلاف کیا کارروائی کرتے ہیں۔ اگر اس سلسلے میں روایتی سیاسی مصلحت کوشی کو بنیاد بنا کر معاملہ دبا دیا گیا تو سمجھ لیجئے کہ پنجابی محاورے کے مطابق چور اور کتی نے آپس میں ساٹھ گانٹھ کررکھی ہے اور اب اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔

پیر، 2 دسمبر، 2013

بات تو سچ ہے مگر۔۔۔


آج یونیورسٹی سے واپسی پر چوبرجی کے قریب ایک رکشے پر نظر پڑی جس کے پیچھے ایک انتہائی فکر انگیز جملہ لکھا ہوا تھا۔ جملہ کچھ یوں تھا کہ "جس ملک میں واٹر کولر پر رکھے ہوئے گلاس کو زنجیر سے باندھنا پڑے اور مسجدوں میں لوگوں کو آخرت سے زیادہ اپنے جوتوں کی فکر ہو، وہاں صدر یا وزیراعظم کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"

یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور ایسے کئی معاملات ہیں جن کی طرف ہمارا دھیان عام طور پر جاتا ہی نہیں اور اگر دھیان اس طرف چلا بھی جائے تو ہم یہ سوچ کر اس خیال کو باطل قرار دے دیتے ہیں کہ بھلا میرے سنورنے سے یہاں کون سی تبدیلی آجانی ہے۔ ذرا سوچئے کہ جس ملک میں لوگ ٹریفک کے اشارے پر محض کچھ سیکنڈز کے لئے دوسرے کے حقوق کا احترام نہیں کرتے، وہاں مستقل طور پر انسانی حقوق، حقوقِ نسواں اور اقلیتوں کے حقوق کا رونا چہ معنی دارد؟ جہاں دکان کے بورڈ پر جلی حروف میں "و من غش فلیس منی" کے الفاظ لکھے ہوں اور پھر عین اس کے نیچے کھڑے ہو کر دودھ میں پانی ملا کر بیچتے ہوئے توہینِ حکمِ رسول دھڑلے سے کی جائے وہاں عشقِ رسول کے کھوکھلے دعوے محض زبانی جمع خرچ نہیں تو اور کیا ہیں؟ جہاں ایک خوانچہ فروش چار آنے کا نفع حاصل کرنے کے لئے آٹھ جھوٹی قسمیں کھانے کو ناگوار کی بجائے ناگزیر خیال کرتا ہوں وہاں اقوال و اعمال میں کون سی ایسی مطابقت پائی جاتی ہوگی جس کے مطابق ہم خود کو دینِ مبین کے پیروانِ متین کہلانے کا مستحق سمجھتے ہوں؟

یہ تو قانون قدرت ہے کہ جیسے لوگ ہوتے ہیں ان پر ویسے ہی حکمران مسلط کردیئے جاتے ہیں۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا ہے کہ ہم سب خود تو ظاہر و باطن میں ہر طرح سے پورے اور پکے عزازیلِ لعین ہوں اور حکمران ہم پر جبریلِ امین کو مقرر کردیا جائے۔ آصف زرداری ہوں یا نواز شریف، فضل الرحمٰن ہوں یا عمران خان، منور حسن ہوں یا الطاف حسین، ان سب لوگوں میں کہیں نہ کہیں ہمارے اجتماعی وجود اور معاشرتی شعور کی جھلک ہی دکھائی دیتی ہے اور ہماری حقیقت پسندی کا یہ عالم ہے کہ چہرے کے داغ صاف کرنے کی بجائے آئینے کو برا بھلا کہتے ہوئے خود کو یہ تسلی دے لیتے ہیں کہ ہمارے چہرہء انور پر داغ ہائے بدنما کا ظہور مغرب سے طلوعِ آفتاب کے مصداق ہے، سو ایسا ہونا ممکن ہی نہیں!

پسِ تحریر: پیش کردہ تصویر مذکورہ رکشے کی نہیں ہے۔

دیوانہ مرگیا آخر۔۔۔

گزشتہ روز امریکی ریاست جنوبی کیلیفورنیا میں فلم اداکار پال واکر ایک کار حادثے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے۔ پال کی عمر چالیس برس تھی اور انہوں نے مشہورِ زمانہ فلم سیریز 'دی فاسٹ اینڈ دی فیوریئس' کے مرکزی کردار برائن او کونر سے شہرت پائی۔

پال کی موت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ہمارے احباب آج صبح سے کچھ یوں دکھ اور تعزیت کا اظہار کررہے ہیں کہ گویا ان کا کوئی قریبی عزیز داغِ مفارقت دے گیا ہو۔ جس طرح ہمارے احباب نے پال کی موت سے متعلق کیفیت نامے لکھے اور خبریں پیش کی ہیں اس سے ہمیں دیہات کا وہ منظر یاد آرہا ہے جس میں کسی عزیز کی وفات پر خواتین ایک دوسری کے گلے لگ کر وقفے وقفے سے بین کرتی ہیں۔ بین کے دوران ہونے والے ہر وقفے میں خواتینِ الم رسیدہ مرحوم کی نجی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ خاندان کے دیگر رجال، موسم کے حال، ستاروں کی چال اور بازاروں میں نووارد مال سمیت تقریباً دنیا کے ہر موضوع پر اظہار خیال کرتی ہیں اور جیسے ہی کوئی نئی خاتون شریکِ حلقہء ماتم ہوتی ہے تو اس کی آمد پر چند منٹ کے لئے بین کا سلسلہ وہیں سے شروع کردیا جاتا ہے جہاں منقطع ہوا تھا۔

بین کرنے والی خواتین کے نوحہ کناں ہونے کی تو ہمیں سمجھ آتی ہے کہ ان کا کوئی عزیز یا جاننے والا گزر گیا ہے جس کی وفات پر وہ غم و اندوہ کی کیفیت میں مبتلا ہیں، تاہم ہمارے ان احباب پر نجانے کیا گزری ہے کہ ایک اداکار کے مرنے یوں نڈھال ہوئے جارہے ہیں۔ قبل ازیں، بھارتی فلم اداکار راجیش کھنہ اور امریکی موجد و کاروباری اسٹیو جابز کے مرنے پر سوشل میڈیا پر وہ 'غیرمرئی' بین پڑے اور ایسی مجازی دھاڑیں ماری گئیں کہ ایک لمحے کے لئے تو ہمارا بھی جی چاہا کہ گھر کے باہر دریاں بچھالیں۔

دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کی غالب اکثریت پڑھے لکھے اور نوجوان لوگوں پر مشتمل ہے۔ افراد کی یہی دو قسمیں کسی قوم کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لئے اہم ترین کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک جو پہلے ہی مختلف قسم کے مصائب و آلام میں گھرا ہوا ہے وہاں انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان کی قابلِ ذکر تعداد اگر ایک پورا دن کسی اداکار کی موت کا غم مناتے ہوئے گزار دے تو یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ اس ملک کا مستقبل کتنا تابناک ہے اور وہاں خوشحالی کی فصل کب تک کاٹی جانے کے قابل ہوجائے گی۔