Pages - Menu

منگل، 31 دسمبر، 2013

تقویمی مماثلت اور پاکستان


1947ء اور 2014ء کے کیلنڈر ایک دوسرے سے مماثل ہیں، یعنی 1947ء کا آغاز بھی بدھ کے روز ہوا تھا اور 2014ء کی شروعات بھی اسی دن سے ہونے جارہی ہے۔ اس حساب سے آئندہ برس پندرہ اگست اسی دن کو آئے گا جس روز یہ اڑسٹھ برس قبل آیا تھا۔ 1947ء بالعموم برِعظیم ہندوستان کے تمام بسنے والوں اور بالخصوص پاکستانیوں کے لئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس برس کے آٹھویں مہینے کے وسط میں صرف ہندوستان نامی خطہ ہی تقسیم نہیں ہوا تھا بلکہ اس کے ایک مخصوص نظریے سے وابستگی رکھنے والے باسیوں نے اپنے لہو سے اپنی تقدیر بھی لکھی تھی۔ تقدیر کی یہ تحریر سرحد نامی لکیر بن کر ہندوستان کے سینے پر کھنچ گئی اور یوں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔

ہمارے ہاں دو مخالف گروہوں کے مابین پاکستان کے نظریاتی وجود اور دستوری ڈھانچے سے متعلق پائی جانے والی لمبی لمبی اور لاحاصل بحثیں اپنی جگہ، تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے قائدین اسلامی تشخص کی بناء پر ہی الگ مملکت کا مطالبہ کررہے تھے۔ یہ مطالبہ پاکستان نامی عمارت کے لئے نیو کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر اس نیو کو ہٹا دیا جائے تو پاکستان کے وجود کا جواز فراہم کرنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہو کر رہ جائے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے قیام سے قبل مختلف مذہبی جماعتوں نے اس کی مخالفت بھی کی لیکن وہ مخالفت نظریاتی و اصولی معاملات سے زیادہ منصوبہ جاتی مسائل سے تعلق رکھتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد اس کے قیام کی مخالفت کرنے والے بھی قومی زندگی کے دھارے میں ایک موافق قوت کے طور پر شریک ہوگئے۔

1947ء سے آج تک پاکستان کا سفر معاشرتی، معاشی، دستوری اور دیگر حوالوں سے کیسا رہا، اس کا جائزہ آپ اور ہم اپنے اپنے طور پر لے سکتے ہیں کہ ہر شخص کا جائزہ درحقیقت اس کے انفرادی تعصبات کا عکاس ہوتا ہے، اور ہم کسی پر اپنی ذاتی عصبیت کو مسلط کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ گزشتہ چھیاسٹھ سے زائد برسوں میں پاکستان نے بلاشبہ بہت کچھ کھویا اور بہت کچھ پایا۔ جہاں بہت سے مسائل پیدا ہوئے، وہیں بہت سی سہولتوں نے بھی جنم لیا۔ جہاں بعض حوالوں سے تنزلی ہمارا مقدر بنی، وہیں کئی حوالوں سے ترقی نے بھی آگے بڑھ کر ہمیں گلے لگایا۔ جہاں ہمارا قومی لبادہ کچھ بدنما دھبوں سے دغدار ہوا، وہیں بعض تابناک ستاروں نے ہماری اجتماعی مانگ بھی سجائی۔

یہ سب کچھ گزر گیا۔ آج ہمارے پاس اس سب کو بنظرِ غائر جانچنے کا موقع تو ضرور ہے، تاہم ہم ان میں سے کسی بھی امر کے وقوع کو روکنے یا بدلنے پر قدرت نہیں رکھتے کہ گزرے ہوئے وقت کا جائزہ تو لیا جاسکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ ماضی کا سفر کر کے کسی بگڑے ہوئے معاملے کو درست کرلیا جائے۔ سالِ آئندہ کی ساعتیں زندگی کے دریچوں پر دستک دے رہی ہیں اور اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اپنی ذاتی اور قومی فلاح و بہبود کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے 1947ء سے مماثلت رکھنے والے اس نئے برس کے تین سو پینسٹھ دنوں کو کیسے بسر کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ پروردگار پاکستان کو امن و آشتی کا گہوارہ بنائے اور ہم سب پر اپنی رحمت نازل کرے۔ آمین

پیر، 30 دسمبر، 2013

یہ رات (از احمد ندیم قاسمی)


دلیلِ صبح طرب ہی سہی یہ سناٹا
مگر پہاڑ سی یہ رات کٹ چکے تو کہوں
پسِ نقاب ہی پنہاں سہی عروسِ سحر
مگر یہ پردۂ ظلمات ہٹ چکے تو کہوں

یہ رات بھی تو حقیقت ہے تلخ و تند و درشت
اسے سحر کا تصور مٹا نہیں سکتا
مجھے تو نیند نہیں آئے گی کہ میرا شعور
شبِ سیاہ سے آنکھیں چرا نہیں سکتا

اگر نشانِ سفر تک کہیں نہیں، نہ سہی
میں رینگ رینگ کے یہ شب نہیں گزاروں گا
شکست سے مرا اخلاق اجنبی ہے ندیم
سحر ملے نہ ملے، رات سے نہ ہاروں گا

جمعہ، 27 دسمبر، 2013

یہ بھی مرا قصور کہ تم ہو دروغ گو

یہ واقعہ مارچ 2012ء کے ابتدائی دنوں کا ہے۔ ایک صبح ہمارے ایک دوست نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور کہا کہ ایک بین المذاہب کانفرنس کے سلسلے میں چار روز کے لئے آپ کو اندرونِ سندھ لے کر جانا ہے۔ ہم نے کہا کہ دفتر سے اجازت لے کر ہم آپ کو آگاہ کریں گے۔ خیر، اجازت مل گئی اور دو روز کے بعد ہم لوگ پہلے لاہور سے بذریعہ پرواز کراچی اور پھر وہاں سے بذریعہ بس رات گئے میرپور خاص پہنچے۔ کانفرنس کا اہتمام ایک پاکستانی غیرسرکاری تنظیم یعنی این جی او کی طرف سے کیا گیا اور یہ بات ہمیں بعد میں معلوم ہوئی کہ اس کے لئے رقم یا فنڈنگ ایک معروف بین الاقوامی عیسائی ادارے کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والے تقریباً تمام افراد کا تعلق شعبۂ صحافت سے تھا، تاہم مقررین مختلف شعبۂ ہائے حیات سے منسلک تھے۔

کانفرنس کے مختلف سیشنز کے دوران جن لوگوں نے خطاب کیا ان میں ڈپٹی بشپ آف حیدرآباد فادر ڈینیل فیاض، روزنامہ عبرت حیدرآباد کے مذہبی ایڈیشن کے انچارج جے پرکاش مورانی، معروف ہندو وکیل ایم پرکاش، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سندھ کے نمائندے ڈاکٹر آشوتم اور 'ہیرالڈ' کے ایڈیٹر محمد بدر عالم شامل تھے۔ کانفرنس میں جو باتیں اور بحثیں ہوئیں انہیں تفصیل سے بیان کرنے کو دل تو بہت چاہ رہا ہے مگر اس کام کے لئے یہ موقع مناسب نہیں کہ ابھی ہمیں صرف اس سیشن سے متعلق بات کرنا ہے جس میں بدر عالم نے پاکستان کی معاشرتی تاریخ کو ایک خاص نقطۂ نظر سے پیش کرنے کی کوشش کی۔

گفتگو کے آغاز میں بدر عالم نے تختے پر مارکر سے ایک تکون بنائی۔ اب بات چلی تو سب سے پہلے جوگندر ناتھ منڈل کا ذکر آیا کہ وہ پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے اسپیکر تھے اور انہوں نے ہی قائداعظم محمد علی جناح سے حلف لیا تھا۔ تکون کے تینوں کونوں پر بدر عالم نے قائداعظم، منڈل اور پاکستان کے نام لکھ دیئے۔ پھر پہلے دو نام مٹا کر ایک کونے پر انہوں نے پاکستان-1947ء لکھا، دوسرے کونے پر اسلام-1000 اور تیسرے کونے پر پنجابی/بلوچی/سندھی/پشتون لکھ دیا۔ بدر عالم ہماری معاشرتی تاریخ کے ابتدائی حصے پر بات کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ جناح صاحب بہت بڑے ویژنری اور زیرک تھے۔ ہم نے اچھا موقع جانتے ہوئے ہاتھ ہوا میں لہرایا اور کہا کہ حاضرین کو اگر محمد اسد اور قائداعظم کی طرف سے انہیں سونپی جانے والی ذمہ داریوں کے بارے میں بھی بتادیا جائے تو مناسب رہے گا۔ بدر عالم نے پوچھا کہ محمد اسد کہاں کے رہنے والے تھے۔ ہمارا جواب تھا کہ شاید آسٹریا کے۔ فرمایا، میں کسی غیرملکی پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ عرض کی گئی کہ وہ ان اولین لوگوں میں سے تھے جنہیں قائداعظم نے خود پاکستانی شہریت سے نوازا تھا، لہٰذا اب بتادیجئے کہ ان کے پاس کیا ذمہ داری تھی۔ بدر عالم قدرے برہم ہو کر بولے تو پھر آپ ہی بتادیجئے۔ ہم نے کہا کہ ہم تو سامع ہیں، آپ ہی بتائیے تو مناسب رہے گا۔ کہنے لگے، نہیں، آپ بتائیں اب۔ ہم نے جواب دیا کہ محمد اسد مفسرِ قرآن ہیں اور انہوں نے بخاری شریف کی شرح بھی لکھی ہے۔ انہیں قائداعظم کی طرف سے پاکستان کے پہلے دستور کے لئے اسلامی سفارشات مرتب کرنے کا کام سونپا گیا تھا اور انہوں نے سفارشات مرتب بھی کیں جو آج بھی کسی محکمے میں محفوظ پڑی ہیں۔ بدر عالم کہنے لگے کہ یہ جناح صاحب کی غلطی تھی۔ عرض کی گئی کہ ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ وہ بہت بڑے ویژنری اور زیرک تھے۔ فرمایا، ہاں مگر ان سے غلطی ہوئی تھی۔

خیر، خطاب آگے چل پڑا۔ اب تاریخ کے تقریباً ہر موڑ پر ہماری اور بدر عالم کی آپس میں مڈبھیڑ ہورہی تھی اور وجہ صاف ظاہر تھی کہ وہ تاریخ کو اپنی مرضی کا رنگ دینا چاہ رہے تھے اور ہم ان سے گزارش کررہے تھے کہ ہم سب لوگ بھی آپ کی طرح صحافی ہیں، آپ تاریخ بیان کرتے ہوئے اپنے نقطۂ نظر سے الگ ہو کر تصویر کے دونوں رخ ہمارے سامنے رکھ دیں اور فیصلہ ہمیں کرنے دیں کہ کب، کہاں اور کیا گڑبڑ ہوئی۔ بالآخر بدر عالم تپ کر بولے کہ آپ اس لئے ایسی باتیں کررہے ہیں کیونکہ آپ کی پرورش 'منصورہ' میں ہوئی تھی۔ ہم نے کہا کہ بدر صاحب، ذاتیات پر تو ہم بھی اتر سکتے ہیں مگر ہم آپ جیسے نہیں اور آپ کی اس حرکت سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ آپ اختلافِ رائے رکھنے والوں سے کیسے پیش آتے ہیں۔

کانفرنس کے دیگر سیشنز کی طرح یہ سیشن بھی ہمیں اس کانفرنس کے اغراض و مقاصد سے بخوبی واقف کررہا تھا۔ ہمارا کسی 'روشن خیال' سے یہ پہلا ٹاکرا نہیں تھا، تاہم اس واقعے سے ہم پر یہ واضح ہوگیا کہ لبرلزم کے دعویدار خواہ کتنے ہی پڑھے لکھے ہوں اور وہ کسی بھی پیشے منسلک سے ہوں، ان سے غیرجانبداری اور صاف گوئی کی توقع کرنا عبث ہے۔

ہفتہ، 14 دسمبر، 2013

اپنے باپ کا نہ سمجھو مال۔۔۔

وفاقی حکومت توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے ملک بھر میں تین کروڑ انرجی سیورز مفت تقسیم کررہی ہے۔ ایک انرجی سیور کی قیمت کم از کم سو روپے بھی فرض کرلی جائے تو اس حساب سے تین کروڑ انرجی سیورز کی خریداری پر تین ارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہوگی۔ اس منصوبے کی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں تشہیر پر جو خرچہ اٹھ رہا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ اسی طرح فی گھر دو انرجی سیورز کی تقسیم کے لئے ظاہر ہے بندے بھی درکار ہوں گے کہ چراغ کے جن یا آسمان کے فرشتے اس طرح کے کام نہیں کرتے۔ علاوہ ازیں، ان انرجی سیورز کی خریداری کے بعد انہیں بحفاظت رکھنے کے لئے گودام وغیرہ کی بھی ضرورت پیش آئے گی کہ کسی فیکٹری سے لے کر انہیں فوراً شہر شہر اور قریہ قریہ جا کر پہنچا آنا عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ اگر تشہیر، خریداری کے بعد گودام میں رکھنے اور پھر ہر شہر، قصبے اور گاؤں تک ان انرجی سیورز کو پہنچانے کا خرچ دس کروڑ روپے تصور کرلیا جائے تو یوں کل ملا کر اس منصوبے کا خرچہ ایک محتاط اندازے کے مطابق تین ارب دس کروڑ روپے تک پہنچ جائے گا۔

ہمارے اندازے کے مطابق آنکی گئی اس تین ارب روپے سے زائد رقم کو ذہن میں رکھئے اور موجودہ حکومت کی ایک اور غیردانشمندانہ حرکت پر غور کیجئے کہ رواں برس پاکستان کے بیرون ممالک میں موجود ستر میں سے بائیس سفارتخانوں کو بند کرنے کی تجویز سامنے لائی گئی۔ تجویز کے مطابق جن ممالک میں موجود سفارتخانے بند کرنے کا سوچا جارہا ہے وہ ممالک لاطینی امریکہ، افریقہ اور وسط ایشیاء میں پڑتے ہیں۔ ان بائیس سفارتخانوں کو بند کر کے حکومت سالانہ تقریباً ایک ارب روپے کی بچت تو کر لے گی مگر غیرملکی (بالخصوص لاطینی امریکہ اور افریقہ کی) منڈیوں تک رسائی، عالمی برادری میں اثر و رسوخ اور دیگر سفارتی و تزویراتی حوالوں سے جو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، وہ اس بچت سے کہیں مہنگا ثابت ہوگا۔

پاکستان کے عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے مختلف مدات میں ٹیکس ادا کر کے جس خزانے کو بھرتے ہیں وہ نہ تو کسی کے باپ کا مال ہے اور نہ ہی کسی کی والدہ ماجدہ کو جہیز میں ملا تھا۔ جن افراد کو اپنے ووٹوں کے ذریعے منتخب کر کے لوگ اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ملکی معاملات کو چلاتے ہوئے عقل اور ہوش سے کام لیں گے اور ملک کے خزانے کو ایک امانت سمجھ کر استعمال کریں گے۔ ہمارے حکمرانوں کو ذاتی تشہیر اور دریا دلی دکھانے کا اگر اتنا ہی شوق ہے تو اپنی گرہ سے مال خرچ کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکیں، اس طرح کے مقاصد کے لئے قومی خزانے کو کیوں استعمال میں لاتے ہیں۔ تین کروڑ انرجی سیورز کی خریداری اور اس منصوبے کی دیگر مدات پر قومی خزانے سے جو اربوں روپے خرچ ہورہے ہیں اتنی رقم سے عوام کی فلاح و بہبود کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کوئی ترقیاتی منصوبہ لگایا جائے تو ملکی مسائل کے حل میں کسی حد تک مدد مل سکتی ہے۔

جمعہ، 6 دسمبر، 2013

اے گرفتارِ ابوبکر و علی ہشیار باش

تین روز قبل کراچی میں مجلسِ وحدت المسلمین کے رہنما علامہ دیدار علی جلبانی کو قتل کردیا گیا اور آج لاہور میں اہلِ سنت والجماعت پنجاب کے صدر مولانا شمس الرحمٰن معاویہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے۔ علامہ جلبانی شیعہ مکتبِ فکر میں اہم حیثیت کے حامل تھے تو مولانا معاویہ دیوبندی مسلک کے سرکردہ لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔

سانحہء راولپنڈی کے بعد پاکستان میں مذہب کے نام پر قتل و غارت گری کا نیا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ اس حوالے سے کسی سنّی سے بات کریں تو وہ بھرپور جذباتی انداز میں شیعوں کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد سے لے کر دورِ حاضر تک ایسے ایسے واقعات کا حوالہ دیتا ہے کہ جواب میں صلح جوئی پر مبنی کوئی بات کہنا ہی مشکل ہوجاتا ہے اور اگر کسی شیعہ کو کچھ سمجھانا چاہیں تو جواباً وہ بھی تاریخ کے اسی دورانیے کو لے کر ایسے ایسے دلائل پیش کرتا ہے کہ مصلحت کا کوئی امکانی رستہ ہی نظر نہیں آتا۔ ہر مسلک کا ماننے والا خود کو سچا اور پکا مسلمان کہتا ہے مگر جب عمل کا مرحلہ آتا ہے تو وہ وہی سب کچھ کرتا ہے جو اس کی اندھی تقلید اس سے تقاضہ کرتی ہے۔

دنیا کے تقریباً ہر ملک میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے مختلف الخیال لوگ بستے ہیں۔ ان لوگوں کے مابین بھی فکری اختلافات اتنے ہی سنجیدہ اور سنگین ہیں جتنے شیعہ اور سنّی کے نظریاتی جھگڑے مگر وہ اپنے نظریاتی فرق کو ایک طرف رکھ کر بقائے باہمی اور رواداری کے اصولوں کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ پورے عالم میں ایک ہم ہی ہیں جنہیں اپنی دنیا بہتر بنانے سے زیادہ اپنے کسی ہمسائے، دوست یا عزیز کی آخرت سنوارنے کی پڑی ہوتی ہے اور اسی چکر میں ہم خود اذیتِ مسلسل میں رہنے کے ساتھ ساتھ اس شخص کا جینا بھی دوبھر کردیتے ہیں۔

اس بات پر تو ہم سب متفق ہیں کہ پاکستان اور اسلام مخالف قوتیں کسی بھی طور ہمیں مستحکم ہوتے اور پھلتے پھولتے نہیں دیکھ سکتیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان میں مختلف مسالک کے لوگوں کو آپس میں لڑوا کر اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود ہم کبھی بھی اپنے مسلکی دائرے سے نکل کر پاکستان اور اسلام کو ان بیرونی سازشوں سے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ اقبال نے آج سے کئی دہائیاں پہلے انہی سازشوں کو بھانپتے ہوئے ہمیں ایک نصیحت کی تھی:
اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش
اے گرفتارِ ابوبکر و علی ہشیار باش

بدھ، 4 دسمبر، 2013

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

ایک قومی روزنامہ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق احمد گجر نے اپنے بھائی رکن صوبائی اسمبلی چوہدری گلزار احمد گجر کی انتخابی مہم کے لئے اشتہارات کی مد میں دل کھول کر رقم خرچ کرنے والے معطل سب انسپکٹر چوہدری ذوالفقار علی گجر کو نہ صرف بحال کیا بلکہ انہیں تھانہ وحدت روڈ کے ایس ایچ او کے طور پر بھی تعینات کردیا۔ ذوالفقار گجر نے سی سی پی او کے بھائی کی انتخابی مہم کے لئے جو اشتہارات چھپوائے ان میں موصوف نے اپنی تصویر بھی ساتھ لگوائی۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں جب ذوالفقار گجر سے مؤقف لینے کے لئے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اشتہارات چھپوانے والا شخص ان کا ہم شکل اور ہم نام ہوگا۔

ہم شکل اور ہم نام ہونے کے اس بیان سے یقیناً ہماری طرح آپ بھی لطف اندوز تو بہت ہوئے ہوں گے مگر اب ذرا اس بات کا اس پہلو سے بھی جائزہ لیجئے کہ ہمارے ہاں قانون کے نفاذ پر مامور افراد کس ذہنیت کے حامل ہیں اور وہ عام لوگوں کو کتنا بےوقوف اور سادہ لوح خیال کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں تھانہ کلچر کی قبیحات کی مذمت کرتے ہوئے پولیس میں عملِ تطہیر کی اہمیت پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے جو عملی اقدامات کیے ان کے تحت پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں غیرمعمولی اضافہ بھی کیا گیا۔ شہباز شریف کے اقدامات اپنی جگہ مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان اقدامات کے نتیجے میں خاطر خواہ نتائج برآمد ہو پائے یا نہیں اور اگر خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے تو اس کی کیا وجوہات ہیں اور بھلا اور کون سے ایسے اقدامات ہوسکتے ہیں جن کی مدد سے پولیس جیسے اہم ترین محکمے کی 'قلبِ ماہیئت' ممکن ہے۔

مذکورہ خبر میں جن رکن صوبائی اسمبلی کا ذکر ہے ان کا تعلق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے ہی ہے۔ جس افسر پر مبینہ 'اشتہاری رشوت' کے ذریعے اثر انداز ہوا گیا وہ کوئی اے ایس آئی، سب انسپکٹر یا انسپکٹر نہیں بلکہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل اور صوبائی دارالحکومت کے نظم و نسق کا سربراہ ہے۔ جہاں ڈی آئی جی کے عہدے پر فائز شخص بھی غیرقانونی اور غیراخلاقی طریقوں سے اثر انداز ہونے کا رجحان رکھتا ہو وہاں ایک سپاہی یا حوالدار سے بھلا کیسی اخلاقیات اور فرض شناسی کی توقع کی جانی چاہئے؟

اب دیکھنا یہ ہے کہ اخبار کے ذریعے اس بات کے عام ہوجانے کے بعد خادمِ اعلیٰ کہلانے والے صوبائی حاکمِ اعلیٰ اپنی جماعت کے رکن صوبائی اسمبلی اور سی سی پی او لاہور کے خلاف کیا کارروائی کرتے ہیں۔ اگر اس سلسلے میں روایتی سیاسی مصلحت کوشی کو بنیاد بنا کر معاملہ دبا دیا گیا تو سمجھ لیجئے کہ پنجابی محاورے کے مطابق چور اور کتی نے آپس میں ساٹھ گانٹھ کررکھی ہے اور اب اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔

پیر، 2 دسمبر، 2013

بات تو سچ ہے مگر۔۔۔


آج یونیورسٹی سے واپسی پر چوبرجی کے قریب ایک رکشے پر نظر پڑی جس کے پیچھے ایک انتہائی فکر انگیز جملہ لکھا ہوا تھا۔ جملہ کچھ یوں تھا کہ "جس ملک میں واٹر کولر پر رکھے ہوئے گلاس کو زنجیر سے باندھنا پڑے اور مسجدوں میں لوگوں کو آخرت سے زیادہ اپنے جوتوں کی فکر ہو، وہاں صدر یا وزیراعظم کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"

یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور ایسے کئی معاملات ہیں جن کی طرف ہمارا دھیان عام طور پر جاتا ہی نہیں اور اگر دھیان اس طرف چلا بھی جائے تو ہم یہ سوچ کر اس خیال کو باطل قرار دے دیتے ہیں کہ بھلا میرے سنورنے سے یہاں کون سی تبدیلی آجانی ہے۔ ذرا سوچئے کہ جس ملک میں لوگ ٹریفک کے اشارے پر محض کچھ سیکنڈز کے لئے دوسرے کے حقوق کا احترام نہیں کرتے، وہاں مستقل طور پر انسانی حقوق، حقوقِ نسواں اور اقلیتوں کے حقوق کا رونا چہ معنی دارد؟ جہاں دکان کے بورڈ پر جلی حروف میں "و من غش فلیس منی" کے الفاظ لکھے ہوں اور پھر عین اس کے نیچے کھڑے ہو کر دودھ میں پانی ملا کر بیچتے ہوئے توہینِ حکمِ رسول دھڑلے سے کی جائے وہاں عشقِ رسول کے کھوکھلے دعوے محض زبانی جمع خرچ نہیں تو اور کیا ہیں؟ جہاں ایک خوانچہ فروش چار آنے کا نفع حاصل کرنے کے لئے آٹھ جھوٹی قسمیں کھانے کو ناگوار کی بجائے ناگزیر خیال کرتا ہوں وہاں اقوال و اعمال میں کون سی ایسی مطابقت پائی جاتی ہوگی جس کے مطابق ہم خود کو دینِ مبین کے پیروانِ متین کہلانے کا مستحق سمجھتے ہوں؟

یہ تو قانون قدرت ہے کہ جیسے لوگ ہوتے ہیں ان پر ویسے ہی حکمران مسلط کردیئے جاتے ہیں۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا ہے کہ ہم سب خود تو ظاہر و باطن میں ہر طرح سے پورے اور پکے عزازیلِ لعین ہوں اور حکمران ہم پر جبریلِ امین کو مقرر کردیا جائے۔ آصف زرداری ہوں یا نواز شریف، فضل الرحمٰن ہوں یا عمران خان، منور حسن ہوں یا الطاف حسین، ان سب لوگوں میں کہیں نہ کہیں ہمارے اجتماعی وجود اور معاشرتی شعور کی جھلک ہی دکھائی دیتی ہے اور ہماری حقیقت پسندی کا یہ عالم ہے کہ چہرے کے داغ صاف کرنے کی بجائے آئینے کو برا بھلا کہتے ہوئے خود کو یہ تسلی دے لیتے ہیں کہ ہمارے چہرہء انور پر داغ ہائے بدنما کا ظہور مغرب سے طلوعِ آفتاب کے مصداق ہے، سو ایسا ہونا ممکن ہی نہیں!

پسِ تحریر: پیش کردہ تصویر مذکورہ رکشے کی نہیں ہے۔

دیوانہ مرگیا آخر۔۔۔

گزشتہ روز امریکی ریاست جنوبی کیلیفورنیا میں فلم اداکار پال واکر ایک کار حادثے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے۔ پال کی عمر چالیس برس تھی اور انہوں نے مشہورِ زمانہ فلم سیریز 'دی فاسٹ اینڈ دی فیوریئس' کے مرکزی کردار برائن او کونر سے شہرت پائی۔

پال کی موت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ہمارے احباب آج صبح سے کچھ یوں دکھ اور تعزیت کا اظہار کررہے ہیں کہ گویا ان کا کوئی قریبی عزیز داغِ مفارقت دے گیا ہو۔ جس طرح ہمارے احباب نے پال کی موت سے متعلق کیفیت نامے لکھے اور خبریں پیش کی ہیں اس سے ہمیں دیہات کا وہ منظر یاد آرہا ہے جس میں کسی عزیز کی وفات پر خواتین ایک دوسری کے گلے لگ کر وقفے وقفے سے بین کرتی ہیں۔ بین کے دوران ہونے والے ہر وقفے میں خواتینِ الم رسیدہ مرحوم کی نجی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ خاندان کے دیگر رجال، موسم کے حال، ستاروں کی چال اور بازاروں میں نووارد مال سمیت تقریباً دنیا کے ہر موضوع پر اظہار خیال کرتی ہیں اور جیسے ہی کوئی نئی خاتون شریکِ حلقہء ماتم ہوتی ہے تو اس کی آمد پر چند منٹ کے لئے بین کا سلسلہ وہیں سے شروع کردیا جاتا ہے جہاں منقطع ہوا تھا۔

بین کرنے والی خواتین کے نوحہ کناں ہونے کی تو ہمیں سمجھ آتی ہے کہ ان کا کوئی عزیز یا جاننے والا گزر گیا ہے جس کی وفات پر وہ غم و اندوہ کی کیفیت میں مبتلا ہیں، تاہم ہمارے ان احباب پر نجانے کیا گزری ہے کہ ایک اداکار کے مرنے یوں نڈھال ہوئے جارہے ہیں۔ قبل ازیں، بھارتی فلم اداکار راجیش کھنہ اور امریکی موجد و کاروباری اسٹیو جابز کے مرنے پر سوشل میڈیا پر وہ 'غیرمرئی' بین پڑے اور ایسی مجازی دھاڑیں ماری گئیں کہ ایک لمحے کے لئے تو ہمارا بھی جی چاہا کہ گھر کے باہر دریاں بچھالیں۔

دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کی غالب اکثریت پڑھے لکھے اور نوجوان لوگوں پر مشتمل ہے۔ افراد کی یہی دو قسمیں کسی قوم کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لئے اہم ترین کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک جو پہلے ہی مختلف قسم کے مصائب و آلام میں گھرا ہوا ہے وہاں انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان کی قابلِ ذکر تعداد اگر ایک پورا دن کسی اداکار کی موت کا غم مناتے ہوئے گزار دے تو یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ اس ملک کا مستقبل کتنا تابناک ہے اور وہاں خوشحالی کی فصل کب تک کاٹی جانے کے قابل ہوجائے گی۔

اتوار، 17 نومبر، 2013

قاتل بھی میرے یار تھے، مقتول بھی عزیز

راولپنڈی میں کل جس طرح خون کی ہولی کھیلی گئی اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم انسانوں کے معاشرے میں نہیں بلکہ ایک ایسے جنگل میں بس رہے ہیں جہاں درندے اور وحشی، معصوموں کے خون کے پیاسے بن کر جگہ جگہ دندناتے پھررہے ہیں۔ راولپنڈی اپنی جغرافیائی حیثیت کے اعتبار سے کوئی عام شہر نہیں ہے کہ اس کے پڑوس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد واقع ہے جو پاکستان کی سیاسی و ریاستی قوت کا مرکز ہے۔ علاوہ ازیں، پاکستان کی فوجی قیادت راولپنڈی کے دامن میں ہی بستی ہے۔ جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) اس راجہ بازار سے محض دو میل کے فاصلے پر ہے جہاں گزشتہ روز کئی گھنٹے تک موت کا ننگا ناچ ہوتا رہا۔

موت کا آسیب جب راجہ بازار میں کھلے عام گھوم رہا تھا اس وقت نہ تو کہیں وفاقی حکومت کے جادو گر دکھائی دئیے اور نہ ہی صوبائی حکومت کے عاملوں کا وجود کہیں نظر آیا۔ اس دوران قانون کے نفاذ اور امن و امان کے قیام کے لئے قائم کردہ تمام ادارے بھی یوں بےسدھ دکھائی دئیے جیسے کسی مسیح کے 'قم باذن اللہ' کہنے کے منتظر ہوں۔ سچ کہوں تو مجھے کل ایک بار پھر پاکستان کے دفاع کے مضبوط ہاتھوں میں ہونے کے تمام تر دعوے کھوکھلے اور بےبنیاد دکھائی دئیے۔ بھلا یہ کیسے مضبوط ہاتھ ہیں کہ جن کی قوت کی ذرا سی بھی پروا کیے بغیر  چند شرپسند عناصر نے دیکھتے ہی دیکھتے شہر کے ایک اہم حصے کو اپنے قابو میں لے لیا اور پھر جب تک ان کا جی چاہا وہ وہاں آگ اور خون کا کھیل کھیلتے رہے؟

تصادم کی نفسیات وحشت اور دہشت کے خمیر سے وجود میں آتی ہے۔ اسی لئے جب دو گروہوں کے مابین تصادم ہوتا ہے تو وہ یہ نہیں پوچھتا کہ کس پر ترس کھانا ہے اور کس کے سر کو تن سے جدا کرنا ہے۔ اس وقت تو جنون سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو ماؤف کردیتا ہے اور بس یہ دھن سر پر سوار ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح حزبِ مخالف کو خاک میں ملادیا جائے، اور یہی سب کچھ گزشتہ روز ہوا۔ میں مسلکی تفریق کا شدید مخالف ہوں، سو اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ کس فرقے کے کتنے بندے مرے اور کس مکتبہء فکر کے کتنے افراد زخمی ہوئے۔ خون کسی کا بھی بہا ہو، مجھے تو بس یہ پتہ ہے کہ داغدار میری دھرتی ہوئی ہے۔ مرے کسی بھی نظریے سے تعلق رکھنے والے ہوں، میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ چھری کلمہ پڑھنے والوں کی گردن پر چلی ہے۔ لاشہ کسی بھی گھر سے اٹھا ہو، مجھے تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بین میری ذات کے اندر پڑرہے ہیں۔

خلافِ معمول گزشتہ چوبیس گھنٹے میں میرا کافی زیادہ وقت سوشل میڈیا پر 'آوارہ گردی' کرتے ہوئے گزرا۔ میرے شیعہ دوست کل رات سے اب تک اس کوشش میں ہیں کہ کسی بھی طرح وہ سنّیوں کو اس سارے معاملے کے لئے پوری طرح ذمہ دار ثابت کردیں جبکہ میرے سنّی دوستوں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ شیعوں کو مجرم ثابت کیے بغیر سکھ کا سانس نہیں لیں گے۔ مختلف تصاویر، اسنیپ شاٹس، ویڈیو کلپس اور تحریریں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لائی اور لگائی جارہی ہیں تاکہ کسی بھی طرح مخالف فریق کو جھوٹا اور گنہگار ثابت کر کے اپنی بےگناہی اور معصومیت کی دلیل مہیا کی جاسکے۔ میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے یہ تماشہ دیکھ رہا ہوں اور واصف علی واؔصف کا یہ شعر مسلسل میرے ذہن میں گردش کررہا ہے:
قاتل بھی میرے یار تھے، مقتول بھی عزیز
واؔصف میں اپنے آپ میں نادم بڑا ہو

اتوار، 13 اکتوبر، 2013

قصہ ایک لبرلیے کا


پاکستان کے علاقے سوات سے تعلق رکھنے والی بچی ملالہ یوسفزئی کو امن کا نوبیل انعام نہ ملنے کی خبر آئی اور یوں ہر طرف پھیل گئی جیسے جنگل میں لگی ہوئی آگ۔ میں اس وقت کسی کام میں مصروف تھا، لہٰذا موبائل فون پر اس خبر سے متعلق موصول والے پیغام کو میں نے اتنی ہی اہمیت دی جتنی میں عمومی خبروں سے متعلق پیغامات کو دیا کرتا ہوں کہ ایک بار پڑھا اور پھر حذف کردیا۔ کام سے فارغ ہونے کے بعد موبائل کے ذریعے ہی پہلے ٹوئٹر اور پھر فیس بک پر حالات کا جائزہ لیا تو ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔ کوئی انعام نہ ملنے پر ماتم کررہا تھا تو کوئی طعنے دے دے کے مزے لے رہا تھا۔ کہیں انعام کا فیصلہ کرنے والی جیوری کو گالیاں پڑرہی تھیں تو کہیں نوبیل انعام کو ہی بےوقعت قرار دیا جارہا تھا۔ یہ سب دیکھ کر مجھے یکایک اپنے دوست الیاس لبرلیے کا خیال آیا کیونکہ وہ انتہائی حساس آدمی ہے اور ملالہ کے معاملے میں اس کی حساسیت کچھ اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

الیاس لبرلیا اور میں ایک دوسرے کو تب سے جانتے ہیں جب ہم نے چیزوں کے بارے میں کوئی واضح مؤقف اپنانے کا سلیقہ بھی نہیں سیکھا تھا۔ گویا یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہم لڑکپن سے ایک دوسرے کے ہمجولی ہیں اور ہم نے سکھ دکھ کی کئی بہاریں اور خزائیں مل کے دیکھی اور جھیلی ہیں۔ الیاس کا پورا نام تو کچھ اور ہے مگر اپنے خیالات میں 'روشنی' کی بھرمار کے باعث اس نے 'لبرلیا' کا دم چھلہ اپنے نام کے ساتھ جوڑ لیا ہے اور اب یہی دم چھلہ اس کی پہچان بن کر رہ گیا ہے۔
 
خیر، الیاس لبرلیے کا خیال آتے ہی میں نے اسے فون کیا۔ گھنٹی تو بج رہی تھی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا۔ میں مسلسل کوشش کرتا رہا کیونکہ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اس وقت کیا کررہا ہوگا۔ بالآخر کچھ دیر کے بعد لبرلیے نے فون اٹھا ہی لیا۔ میں نے حسبِ معمولی سلام سے بات کا آغاز کیا تو آگے سے لبرلیے کی سسکیوں اور آہوں نے میرا استقبال کیا۔ میں اس صورتِ حال کے لیے پہلے سے تیار تھا، لہٰذا میں نے اپنے روایتی بےتکلف انداز میں لبرلیے کو ایک گالی دیتے ہوئے پوچھا، 'تیرا کون مرگیا اے؟' 'بٹ، اوہناں دا بیڑا غرق ہووے۔ اوہناں نیں چنگا نئیں کیتا۔' لبرلیے نے اتنی بات کہی اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گیا۔ میں چونکہ لبرلیے کو پہلے بھی کئی مرتبہ بدترین صورتِ حال میں سنبھال چکا تھا، لہٰذا مجھے اندازہ تھا کہ مجھے اس وقت کیا کرنا ہے۔ میں نے پھر اسی انداز میں اس سے پوچھا، 'توں کجھ کھادا وی اے کہ بس اپنی بھین دا غم منانا پیا ویں؟' لبرلیے کچھ نہ بولا مگر اس کی ابھرتی ہوئی سسکیوں اور آہوں نے میرے سوال کا نفی میں جواب دیدیا۔ مجھے لگا کہ اب ذرا کسی اور طریقے سے اس کا علاج کرنا پڑے گا، لہٰذا میں نے اس سے پوچھا کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور کیا کررہا ہے۔ اس نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ گھر پر ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ میں کچھ دیر میں اس کے گھر پہنچ رہا ہوں۔
 
پچیس منٹ بعد میں نے لبرلیے کے گھر پہنچ کر دروازے پر دستک دی تو اس کے بڑے بھائی خالد مطمئن برآمد ہوئے۔ الیاس لبرلیے کے برعکس اس کے بڑے بھائی خالد مطمئن بہت ہی صابر و شاکر آدمی ہیں اور وہ بدترین حالات میں بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ میں نے لبرلیے کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اندر ہے اور وہ سب گھر والے میرا ہی انتظار کررہے تھے کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ لبرلیے کو ایسی صورتِ حال میں میں ہی ٹھیک کرسکتا ہوں۔ میں اندر داخل ہوا اور گھر میں موجود افراد کو سلام کرتے اور حال احوال پوچھتے ہوئے سیدھا لبرلیے کے کمرے میں چلا گیا، جہاں وہ کسی جہنمی داروغے کی طرح الٹا پڑا تکیے میں منہ دے کے رو رہا تھا۔ میں نے جاتے ہی اس کی کمر پہ دوہتڑ مار کر اسے اٹھایا تو لبرلیا مجھ سے لپٹ کر کسی 'تازہ بیوہ' کی طرح دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ میں نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا، 'بیٹا، چپ کر جا، باقی دا ماتم محرم چہ کرلئیں۔' لبرلیا کہاں سننے والا تھا، سو وہ بس روتا ہی رہا۔ کچھ دیر کے بعد اس کی حالت کچھ درست ہوئی تو سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ میں نے پوچھا، 'ہن دس کیہ تکلیف اے تینوں؟' 'بٹ، اوہناں ۔۔۔۔۔۔ نے ملالہ دا انعام کسے ہور نوں دے دتا وے۔ ایہہ دھاندلی اے۔ ایہدے پچھے کوئی سازش اے۔' لبرلیا اب بھی آہیں بھررہا تھا۔ 'اچھا! کیہڑی سازش؟' میں واقعی متجسس تھا۔ 'جیوری دے بندے غلط سن۔ اوہناں نوں کسے نے کہیا سی کہ ملالہ نوں انعام نہ دینا۔' لبرلیے نے آہ بھر کر جواب دیا۔ 'تیرا کیہہ خیال اے کون ہوئیے گا ایہدے پچھے؟ شاہداللہ شاہد یا فرید پراچہ تے جیوری چہ نئیں بیٹھے سن کدھرے؟' میں اسے نارمل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ 'بٹ، مذاق نہ کر۔ میں سچ کہہ رہیا واں، اے سازش اے۔ ایہناں دا بیڑا غرق ہوجانا وے۔ اوہ تنظیم جنہوں انعام دتا نیں ہن اوہدا وی بیڑا غرق ہوئیے گا۔' لبرلیا عورتوں کی طرح بددعائیں اور کوسنے دے رہا تھا مگر اب آہوں میں کمی آچکی تھی۔ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا، 'فکر نہ کر پتر، اوہناں نے کہیا اے کہ ملالہ ایس واری نئیں جِتی تے کوئی گل نئیں، اسی اگلے سال وی اوہنوں انعام دے سکنے واں۔' میری بات سن کر لبرلیے کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک پیدا ہوئی۔ 'واقعی، انج ہوسکدا اے؟' لبرلیے کے لہجے میں تجسس تھا اور آہیں اس تجسس کے اندر چھپی ہوئی خوشگواریت کے نیچے دب چکی تھیں۔ میں نے کہا، 'آہو بیٹا، جیہڑے بندے اوہناں دے ہندے نیں، اوہناں نوں تے اوہ کدی وی کجھ وی دے سکدے نیں۔ توں چل ہن اٹھ کے منہ دھو تے چل روٹی کھان چلیے۔' 'روٹی تے گھر وی پکی اے۔' لبرلیے نے اطلاع دینے کے انداز میں کہا۔ 'مینوں پتا اے کہ گھر وی روٹی پکی اے پر اوس روٹی تے تیری بھین نوں انعام نہ ملن دے صدمے دا ختم نئیں پڑھیا جاسکدا۔' میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے لبرلیے کو چھیڑا تو وہ بھی میری بات سن کر مسکراتے ہوئے منہ دھونے کے لئے چلا گیا۔

اتوار، 6 اکتوبر، 2013

دس مبارک راتیں‎

قرآن مجید کی سورۃ الفجر میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
والفجر (1) و لیال عشر (2)
ترجمہ: قسم ہے فجر کی۔ قسم ہے دس راتوں کی۔
 
محدثین و مفسرین کرام کے مابین ان آیات کی تفسیر کے ذیل میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا اس فجر سے مراد کوئی ایک مخصوص صبح ہے یا ہر روز طلوع ہونے والی سحر مگر اس حوالے سے محدثین و مفسرین کرام کی بڑی جماعت متفق ہے کہ یہاں بیان ہونے والی دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی راتیں ہیں جبکہ بعض مفسرین کرام نے اس سے مراد رمضان المبارک کے آخری عشرے کی راتیں یا محرم الحرام کے پہلے عشرے کی راتیں لی ہیں۔ بہرطور اس سورہ مبارکہ میں جن دس راتوں کا ذکر ہے، انہیں بہت ہی مبارک و مکرم اور فضیلت والی قرار دیا گیا ہے۔ جو لوگ ان راتوں سے مراد ذی الحجہ کے عشرہ اول کی راتیں لیتے ہیں، وہ ان راتوں کو عبادت میں مشغول رہ کر گزارتے ہیں اور اس عشرے کی پہلی سے نویں تاریخ تک روزے بھی رکھتے ہیں۔
 
صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث کا مفہوم کچھ یوں ہے: نبی مکرم ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان (ذی الحجہ کے) دس دنوں میں کئے جانے والے نیک اعمال سے عام دنوں میں کی جانے والی کوئی بھی نیکی زیادہ مقبول نہیں۔ بعض صحابہ کرام نے دریافت کیا، جہاد بھی نہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا، جہاد بھی نہیں، الاّ یہ کہ کوئی شخص اپنی جان اور مال لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور ان میں سے کوئی بھی چیز لے کر واپس نہ لوٹے (یعنی شہید ہوجائے)۔
 
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ زیادہ مبارک ہے یا ذی الحجہ کا پہلا عشرہ؟ آپ نے جواب دیا، رمضان المبارک کے آخری عشرے کی راتیں ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی راتوں سے زیادہ افضل ہیں کیونکہ ان میں لیلة القدر شامل ہے جو تمام راتوں کی سردار ہے۔ اور ذی الحجہ کے پہلے عشرے کے دن رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دنوں سے زیادہ مبارک ہیں کیونکہ ان میں یومِ عرفہ شامل ہے جو تمام دنوں میں سب سے زیادہ افضل و اشرف ہے۔

جمعہ، 16 اگست، 2013

ہر شخص اپنے فرض سے غافل ہے آج کل​

آج صبح معمول کے مطابق کالج کے لئے گھر سے نکلا تو رِنگ روڈ پر تقریباً پندرہ منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد دیکھا کہ ایک بزرگ اور درمیانی عمر کا شخص سڑک پر زخمی حالت میں پڑے ہیں اور قریب ہی ایک موٹرسائیکل بھی گِری ہوئی ہے۔ حادثہ اس شخص کی تیز رفتاری اور بابا جی کی بےدھیانی کی وجہ سے ہوا تھا۔ دو تین افراد ان دونوں کو اٹھا کر سڑک کی ایک طرف لارہے تھے۔ میں نے فوری طور پر اپنی موٹرسائیکل کو ایک طرف لگایا اور ریسکیو 1122 والوں کو کال کی تاکہ وہ بروقت پہنچ کر زخمیوں کو اسپتال منتقل کرسکیں۔ اتنے میں ایک دو اور لوگوں نے بھی ریسکیو والوں سے رابطہ کیا کہ وہ جلدی پہنچیں کیونکہ دونوں افراد کی حالت کافی بگڑی ہوئی تھی۔ وہ درمیانی عمر کا شخص بےہوش تھا جبکہ وہ بزرگ ہوش میں تھے مگر ان کی حالت بھی کافی خراب تھی۔ ریسکیو والوں کا رسپانس ٹائم 7 منٹ ہے مگر 15 منٹ گزرنے کے باوجود بھی وہاں کوئی نہ پہنچا تو میں نے دوبارہ کال ملائی اور آپریٹر کو غصے سے کہا کہ ’جب بندے مر جائیں گے اس وقت گاڑی بھیجو گے کیا؟‘ ’سر، گاڑی نکل چکی ہے اور اب پہنچنے والی ہوگی!‘ کچھ ہی دیر میں وہاں بہت سے لوگ جمع ہوچکے تھے جن میں زیادہ تعداد ’تماشہ‘ دیکھنے والوں کی تھی۔

اتنے میں ٹریفک پولیس کا ایک وارڈن وہاں پہنچ گیا اور اس نے قریب ہی موجود اپنے سینئرز کو وائرلیس پر حادثے کی اطلاع دی تو کچھ ہی دیر میں ٹریفک پولیس کا ایک انسپکٹر کار میں وہاں پہنچ گیا۔ انسپکٹر نے آ کر کچھ دیر صورتحال کا جائزہ لیا اور لوگوں سے کہا کہ وہ اس بےہوش شخص کو سڑک کے کنارے پر تھوڑا آگے لے جائیں۔ میں نے اس کے قریب جا کر کہا کہ آپ کے پاس کار ہے تو اس کو اسپتال کیوں نہیں پہنچادیتے۔ ’اس گاڑی کو سڑک سے نیچے نہیں اتار سکتے!‘ ’چاہے بندہ مرجائے مگر کار سڑک پر کھڑی رہنی چاہئے،‘ میں غصے اور پریشانی کے عالم میں تھا۔ ’میں یہ گاڑی اس کام کے لئے استعمال نہیں کرسکتا!‘ انسپکٹر کا جواب ’قانون کے مطابق‘ تھا۔

اسی دوران میری اپنی کلائی گھڑی پر نظر پڑی تو 11 بج رہے تھے اور اب میں کسی بھی صورت ساڑھے گیارہ تک کالج نہیں پہنچ سکتا تھا۔ جیب سے موبائل نکال کر صدرِ شعبہ کو اطلاع دینا چاہی کہ میں تاخیر سے پہنچوں گا، وہ میری کلاس کو سنبھال لیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے شعبہ کے تیسرے ساتھی آج چھٹی پر ہیں اور وہ تینوں کلاسوں کے بچوں کو بیک وقت نہیں سنبھال سکتے، سو مجھے جلد از جلد کالج پہنچنا چاہئے۔ اب نہ چاہتے ہوئے مجھے بھی ان دونوں زخمیوں وہیں چھوڑ کر کالج کی طرف روانہ ہونا پڑا۔ یوں تو انہیں اسپتال پہنچانے کے لئے کئی افراد موجود تھے مگر مجھے ایک عجیب سی الجھن نے گھیر رکھا تھا۔ کالج کی طرف جاتے ہوئے دس بارہ برس قبل پڑھا ہوا قطعہ مسلسل میرے ذہن کے دریچوں میں گونج رہا تھا:
تارِ نفس ہی خنجرِ قاتل ہے آج کل​
آساں ہے موت، زندگی مشکل ہے آج کل​
کیوں حادثات روز کا معمول بن گئے​
ہر شخص اپنے فرض سے غافل ہے آج کل​

تاریخ: یکم اکتوبر 2012ء

جمعرات، 8 اگست، 2013

’بےاعتنائی‘

کہتے ہیں، کون کہتے ہیں یہ مجھے نہیں پتہ مگر میں نے اسی طرح سنا ہے کہ کہتے ہیں، جب گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے، اور جب میرا برا وقت آنا ہوتا ہے تو میں ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی بہت ہی خاص بات یا اہم ترین کام کرنا بھول جاتا ہوں۔ اپنے اس بھلکڑپن کی وجہ سے میں کئی بار شرمندگی کا سامنا بھی کرچکا ہوں اور مستقبل قریب و بعید میں بھی سدھرنے کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ سچ پوچھیں تو میں آرزو اور ارادہ تو رکھتا ہوں مگر یہاں مجھے فیض کا کہا سچ دکھائی دیتا ہے کہ
وصالِ یار فقط آرزو کی بات نہیں​

میری اوپر بیان کی گئی باتوں سے ہرگز یہ مراد نہ لی جائے کہ ڈائریا کی حالت میں استعمال کیا جانے والا او آر ایس میرے دماغ کو چڑھ گیا جس کی وجہ سے میں بہکی بہکی باتیں کرنے لگ گیا ہوں۔
 
ویسے تو ہر ماں کو ہی اپنے بچے بہت عزیز ہوتے ہیں مگر میری اماں میرے حوالے سے بےحد جذباتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میری چھوٹی چھوٹی مثبت حرکتوں پر وہ بہت خوش ہوتی ہیں اور کسی چھوٹی سی بھول پر بہت دکھی بھی ہوجاتی ہیں۔ میں تو پھر میں ہی ہوں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ میں کوئی بھول چوک نہ کروں، سو اکثر و بیشتر میں ایسی حرکتیں کرتا رہتا ہوں جس سے اماں کو پریشان ہونے کے مواقع میسر آتے رہتے ہیں۔ کئی بار سمجھایا ہے کہ اتنا پریشان مت ہوا کریں کہ کبھی نہ کبھی تو سدھر ہی جاؤں گا اور نہ بھی سدھرا تو اتنا یقین دلاتا ہوں کہ مزید نہیں بگڑوں گا۔ بس یہی وہ مقام ہے جہاں اماں مزید الجھن میں مبتلا ہوجاتی ہیں اور پھر پاکستانی سیاست دانوں کی طرح مجھے اپنے بیان کی سو سو وضاحتیں کرنا پڑتی ہیں اور کئی بار وضاحتوں کے چکر میں مزید پھنس جاتا ہوں۔
 
اماں اور میرے تعلق میں بیانات اور پھر وضاحتیں ایک معمول کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔ وہ بےچاری تنگ آتی ہیں، روتی ہیں اور پھر کسی چھوٹی سی بات پر خوش ہو کر سب کچھ بھول جاتی ہیں۔ اگر رونے دھونے کے دوران چپ کرانے کے لئے میں یہ کہوں کہ میری شکر پاری، آپ مجھے بہت عزیز ہیں، تو رونا بھول کر ہنستے ہوئے جواب دیتی ہیں کہ اس طرح کی مسکہ بازی مجھ پر اثر نہیں کرتی۔ خیر، میں انہیں کسی نہ کسی طرح منا لیتا ہوں اور اگلی بار پھر کوئی نہ کوئی حرکت ایسی کر بیٹھتا ہوں کہ اماں پھر سے پریشان ہوجاتی ہیں۔
 
مجھے یہ احساس بھی ہے کہ وہ مجھ سے ہزاروں میل دور اکیلی رہتی ہیں اور اس صورت میں ان کا جذباتی انحصار مجھ پر اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ ان سے کہتا ہوں کہ ہمارے پاس پاکستان آجائیں تو یہ ان کے لئے ممکن نہیں کہ ایک تو اس عمر میں اتنا لمبا سفر اکیلے نہیں کرپائیں گی اور دوسرا پاکستان کے ماحول اور موسم میں ان کا گزارہ ہی نہیں ہوسکے گا۔ دوسری جانب جب وہ مجھے امریکہ منتقل ہونے کو کہتی ہیں تو میں یہ کہہ کر معذوری کا اظہار کرتا ہوں کہ میرے لئے پاکستان اور لاہور کے بغیر رہنا بہت مشکل ہے اور ویسے بھی میں اس ملک کی بہتری کے لئے اپنے حصے کا کردار یہیں رہ کر ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اماں کو پاکستان کے حوالے سے میرے نظریات اور جذبات کی شدت کا بخوبی اندازہ ہے اس لئے دعائیں دیتے ہوئے موضوع بدل لیتی ہیں۔
 
موضوع تو آج بھی بدل سکتا تھا مگر میری حرکت ہی ایسی تھی کہ اماں بات ختم ہونے تک ناراض اور دکھی رہیں۔ دراصل، 6 اگست کو اماں کی سالگرہ تھی اور میں ایسا بےوقوف ہوں کہ مجھے بالکل یاد ہی نہیں رہا۔ بھولنے کی ایک وجہ میری طبیعت کی خرابی بھی تھی۔ پورا دن بار بار موبائل فون کا کیلنڈر دیکھ کر سوچتا رہا کہ آج کا دن بھلا کس وجہ سے خاص ہے مگر میرے بھلکڑ دماغ میں یہ خیال ایک بار بھی نہیں آیا کہ آج اماں کی سالگرہ ہے۔ اماں کی ناراضگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں نے فیس بُک پر جب کوئی تازہ پوسٹ ارسال کی تھی تو اس وقت وہ آنلائن تھیں مگر میرے آفلائن ظاہر ہونے کی وجہ سے مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ موجود ہیں، لہٰذا اس وقت بھی میں انہیں مبارکباد نہ دے سکا۔
 
اپنی اس حرکت کی وجہ سے آج میں نے فون پر بات کرتے ہوئے اماں کو روتے سنا تو بہت تکلیف ہوئی اور خود پر بےحد غصہ بھی آیا کہ میں ہر بار ایسی باتیں کیوں بھول جاتا ہوں جو بہت ہی ضروری ہوتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ پچھلے دو ہفتوں سے مسلسل اتوار کو سنیچر سمجھ کر اماں کا نمبر ملاتا ہوں اور پھر احساس ہوتا ہے کہ آج تو مصروف ہوں گی مگر ساتھ ہی خود کو لعن طعن کرتے ہوئے یہ بھی سوچتا ہوں کہ انہوں نے سنیچر کا پورا دن اس آس پر گزار دیا ہوگا کہ میرا فون کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی روتی ہوئی اماں کو اپنی ’مسکہ بازی‘ سے میں نے ہنسا تو دیا مگر وہ جاتے ہوئے بھی یہی کہہ کرگئیں کہ انہیں اس بات کا بہت دکھ ہوا۔ اماں تو چلی گئیں مگر میں خود کو ابھی تک بیٹھا ملامت کررہا ہوں کہ مجھے اماں کی محبت اور خلوص کے جواب میں اس قدر ’بےاعتنائی‘ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔

بدھ، 7 اگست، 2013

علم کے فروغ اور سود کی تعدیم کا تعلق

ایک اور بڑا مسئلہ جس پر حکومتِ وقت خصوصی توجہ دینے کے عزم کا اظہار کرچکی ہے، تعلیم کا مسئلہ ہے۔ تعلیم کی سطح اور پھیلاؤ دونوں اس قدر توجہ طلب ہوچکے ہیں کہ ان میں مزید تاخیر کی گنجائش بہت کم ہے۔ دسیوں ایجوکیشن کمیشنوں نے پاکستان کی تخلیق سے پہلے بھی اور اس کے مابعد بھی تمام متعلقہ مسائل کے جواب دیئے ہوئے ہیں، (سوائے ایک کے) اور ان پر اصلاح کی چنداں گنجائش نظر نہیں آتی۔ دقت صرف ایک ہے اور اس کا نام سرمایہ ہے۔ تعلیم کو نتیجہ خیز اور عام کرنے کے لئے جتنے وسائل کی ضرورت ہے وہ سرے سے میسر ہی نہیں۔ نئے سکول بناؤ، انہیں تخلیقی و فنّی رجحان دو، یونیورسٹی کی تعلیم اور بالخصوص آرٹس کی تعلیم بےانتہا قابلیت کے طلباء کے لئے مختص کرو، لیبارٹریاں بناؤ، کھیل کے میدان بناؤ، پرائمری مدارس کی تعداد میں تین گنا اضافہ کرو، ایک یا دو استادوں والے پرائمری سکول صحیح تعلیمی بنیاد فراہم کرنے سے قاصر رہتے ہیں، ان میں استادوں کی تعداد بڑھاؤ۔ اب اگر ہزاروں نئے سکول کھولے جائیں اور ہزاروں سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کی جائے اور اس پر مستزاد یہ اصرار کہ اساتذہ کی تنخواہوں میں اتنا اضافہ کرو کہ ملک کے بہترین نوجوان اس پیشہ کی طرف راغب ہوجائیں۔ جس تجویز کو بھی دیکھو ٹنوں سونا مانگتی ہے۔ ایک بات جو کسی ایجوکیشن کمیشن نے نہیں بتائی وہ یہ ہے کہ ٹنوں سونا کہاں سے آئے گا؟ حکومت کی آمدنی تو وہی ہے جو ٹیکسوں سے وہ حاصل کرتی ہے۔ ان ٹیکسوں کو قومی پیداوار کے ایک مناسب جز سے آگے لے جانا ترقیِ معکوس کا پیش خیمہ بن جاتا ہے، لہٰذا بنیادی حل اس تمام مسئلے کا قومی پیداوار میں انقلاب آفریں اضافہ ہے۔ اس سطح کا اضافہ اسی سطح کی سرمایہ کاری کے بغیر ممکن نہیں، اور سرمایہ کاری کی سطح میں انقلاب آفریں اضافہ سود اور بنکنگ ریزرو ختم کرنے کے بغیر ناممکن ہے۔
 
ایک چھوٹی سی مثال سے شاید بات واضح ہوجائے، آج شرح سود صفر پر لے آئیے تو ملک کے تمام بیمار کارخانے صحت مند ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے کسی کا بیلنس شیٹ اٹھا کر دیکھیے تو ایک قدرِ مشترک جو ہر بیمار کارخانے میں نظر آئے گی، یہ ہے کہ کارخانے پر سود کا بوجھ اس کی مجموعی آمدنی سے کہیں زیادہ ہے۔ اب نقصان اٹھا کر کارخانہ چلانا کسی کے بس میں نہیں ہوتا، لہٰذا کارخانہ بند ہوجاتا ہے اور بیمار کارخانہ کہلاتا ہے۔ ان بیمار کارخانوں میں ملک کی مجموعی صنعتی سرمایہ کاری کا ایک چوتھائی لگا ہوا ہے۔ آج شرح سود صفر پر لے آئیے تو ان میں سے ہر کارخانہ صحت مند کارخانہ بن جاتا ہے اور ہزار ہا لوگوں کی روزی اور حکومت کی آمدنی میں بیش بہا اضافے کی صورت نکل آتی ہے۔ صحیح پالیسی بنانے میں سوائے قوتِ فیصلہ کے کچھ خرچ نہیں ہوتا، الٹا حکومت کا خزانہ بھرنا شروع ہوجاتا ہے۔
 
پھر شرح سود صفر تک گرنے سے محض بیمار کارخانے ہی صحت مند نہیں ہوں گے، صحت مند کارخانے چھلانگیں لگانے لگیں گے اور پیداوار بڑھانے کی بھرپور کوششیں کریں گے، مسابقت کے تقاضے نت نئے کارخانے وجود میں لائیں گے اور پھر محض نئی صنعتیں اور نئی ٹیکنالوجی ہی میسر نہیں آئے گی، زراعت پیشہ لوگ ٹریکٹر اور ٹیوب ویل لگائیں گے کیونکہ سرمایہ بغیر سود کے میسر ہے۔ متوسط لوگ پاور لوم قسم کے چھوٹے چھوٹے کارخانے لگائیں گے، غریب لوگ چھوٹے چھوٹے مرغی خانے یا ایک دو بھینس خرید کر اپنی روزی پیدا کرلیں گے اور جو اس قابل بھی نہیں، وہ ان ملازمتوں کی طرح رجوع کرسکیں گے جو سرمایہ کاری میں اضافہ کی وجہ سے پیدا ہوجائیں گی۔ ان سب کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک طرف بےروزگاری صفر کی سطح تک اتر جائے گی، دوسری طرف ہر سمت سے قومی دولت میں اضافہ ہونا شروع ہوجائے گا اور اس مسلسل اضافے کا ایک حصہ حکومت کے خزانے تک پہنچ کر اسے بھرنا شروع کردے گا۔ یہ واحد طریقہ ہے جس سے وہ ٹنوں سونا میسر آسکتا ہے جس سے تعلیم (اور بہت سی چیزوں) کی نتیجہ خیز اصلاح اور توسیع دونوں کا راستہ کھل جاتا ہے۔

(شیخ محمود احمد کی ’سود کی متبادل اساس‘ سے اقتباس)
 
پسِ تحریر: نومبر 1977ء میں اسلامی نظریاتی کونسل نے سود کی متبادل اساس کا فیصلہ کرنے کے لئے ماہرینِ معاشیات اور ممتاز بنک کاروں پر مشتمل ایک پینل تشکیل دیا تھا۔ شیخ محمود احمد ایک ممتاز ماہرِ معاشیات کی حیثیت سے اس پینل کے رکن تھے اور آپ نے فروری 1980ء میں پینل کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ پر مارچ 1980ء میں ایک جامع اختلافی نوٹ تحریر کیا تھا جو بعدازاں ’سود کی متبادل اساس‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوا۔ اس اختلافی نوٹ کو بالغ نظر اور سنجیدہ فکر حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی، تاہم اس میں پیش کردہ سفارشات کو پاکستان میں مروج سودی نظام کے خاتمے کے لئے سرکاری سطح پر استعمال کرنے کی زحمت کبھی گوارا نہیں کی گئی۔

جمعرات، 1 اگست، 2013

رضیہ پاکستانی اور میڈیائی غنڈے

اکیسویں صدی کا موڑ مڑتے ہی پاکستانی معاشرہ میڈیا نامی عفریت کے ہتھے چڑھ گیا۔ یکے بعد دیگرے نشریاتی ادارے قائم ہونا شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے عام آدمی محاوراتی رضیہ کی طرح ان نشریاتی اداروں کے نرغے میں پھنس گیا۔ نجی ٹیلیویژن چینل چونکہ سرمایہ دارانہ نظام کے استعماری ایجنڈوں کو فروغ دینے کے لئے وجود میں آئے تھے، لہٰذا ان سے کسی بھی بہتری کی توقع یا معاشرے میں کسی صحت مند رحجان کی ترویج کی امید دیوانے کے خواب سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایسے نشریاتی اداروں کی بنیاد بھی رکھی گئی جن کے قیام کا واحد مقصد اپنے مالکان کی کالے دھن کو سفید کرنے کی کوششوں میں ممد ثابت ہونا تھا۔

یادش بخیر قومی اسمبلی میں موجودہ قائد حزبِ اختلاف اور سابق وفاقی وزیر برائے محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ نے تین برس قبل اسمبلی اجلاس کے دوران ایک توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ بارہ نجی ٹیلیویژن چینلوں نے ٹیکس کی مد میں حکومت کو پونے تین ارب روپے ادا کرنا ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی ادارہ اپنے ذمے واجب الادا رقم ادا کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس واجب الادا خطیر رقم میں آدھے سے زیادہ حصہ اس نجی نشریاتی ادارے کا تھا جو خود کو صحافتی اور انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار اور قانون کا اول درجے کا پاسبان گردانتا ہے۔

نجی نشریاتی اداروں کی بدعنوانی کا حوالہ محض مالی ہی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ بھی ہے۔ خبری مواد کی جمع آوری سے لے کر اس کے تدوین کے مراحل سے گزر کر نشر ہونے تک دنیا بھر میں جن مسلمہ اصولوں کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے، ہمارے ہاں ان اصولوں کی دھجیاں کس طرح اڑائی جاتی ہیں اس کا مشاہدہ ہمیں تین بڑے نشریاتی اداروں سے انسلاک کے دوران ہوا۔ ایک انتہائی تکلیف دہ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کی نشریاتی صحافت خبری عمارت کے لئے نیو کی حیثیت رکھنے والی ادارتی حکمتِ عملی یا ایڈیٹوریل پالیسی کے نام سے ہی ناواقف دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں نجی نشریاتی اداروں کی ادارتی حکمتِ عملی محض اس کلیے کے گرد گھومتی ہے کہ بہتر سے بہتر ریٹنگ لے کر زیادہ سے زیادہ اشتہارات کیسے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

ریٹنگ کی اس دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے نجی ٹیلیویژن چینلوں نے ہر طرح کی اخلاقی، معاشرتی اور مذہبی اقدار کو بھی بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ رواں برس ریٹنگ نام کی بلا ماہِ رمضان کے تقدس کو بھی نگل گئی ہے۔ ہر نجی ٹی وی پر رمضان نشریات کے نام سے پیش کئے جانے والے پروگراموں کی میزبانی رنگ برنگے ڈیزائنر کُرتوں میں ملبوس سرمایہ دارانہ استعماریت کے دلدادہ جدید ملا کررہے ہیں یا سحر و افطار کے اوقات میں رحمتوں اور برکتوں کے پردے میں نحوستیں اور خباثتیں بانٹنے کے لئے میڈیا کا دیوِ استبداد اداکاراؤں اور عام دنوں میں صبح کی نشریات پیش کرنے والی نیلم پریوں کا رہینِ منت دکھائی دیتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں بسنے والے عام آدمی کی فکری پستی یا سادہ لوحی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ظلمت کے ان تاجروں سے ضیاء خریدنے کے لئے ٹیلیویژن کہلانے والے چوکور برقی ڈبے سے یوں چپکا بیٹھا ہے جیسے بندر کا نومولود بچہ ماں کے سینے سے لپٹا ہوتا ہے۔ 2002ء میں نشریاتی اداروں کی نگرانی کے لئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نامی ادارے کا قیام تو عمل میں لایا گیا تھا مگر پاکستان میں سیاسی اور ذاتی مفادات چونکہ اکثر ہی وسیع تر قومی مفاد کا روپ دھار لیتے ہیں، لہٰذا ہمارے سامنے کوئی ایک بھی ایسی بیّن مثال موجود نہیں جسے پیمرا کی مثبت کارکردگی کے ضمن میں پیش کیا جاسکے۔ اگر حکومت، پیمرا اور نجی نشریاتی اداروں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ایک وقت آئے گا جب 'نشریات گردی' کے ستائے ہوئے لوگ بجلی کی بندش اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی طرز پر ٹیلیویژن چینلوں کے دفاتر پر دھاوا بول دیا کریں گے کیونکہ پاکستانی میڈیا آزاد تو کب کا ہوچکا مگر ذمہ دار ابھی تک نہیں ہوسکا۔


پسِ تحریر: یہ مضمون بنیادی طور پر 'ہم آپ ڈاٹ کام' نامی ویب سائٹ کے لئے لکھا گیا تھا اور وہاں شائع بھی ہوچکا ہے۔

منگل، 30 جولائی، 2013

زندہ لفظ

 
روح پرور اور تخلیقی معاشرہ بےجان لفظوں کی آماجگاہ نہیں ہوتا۔ ایسے معاشرے میں اقدار کے متعلق تقریریں نہیں ہوتیں، نعرے بلند نہیں کئے جاتے۔ صداقت، نیکی اور حسن کی اقدار نعروں کی صورت میں بلند بانگ لفظوں میں ادا ہونے کے بجائے انسانی عمل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہی وہ صورت ہے جس میں معنی خود لفظ بن جاتے ہیں اور ایسے ہی لفظوں کو ہم ’زندہ لفظ‘ کہتے ہیں۔ اس کے برعکس غیرتخلیقی معاشرے میں قول و عمل کا تضاد لفظوں کو بےروح اور عمل کو بےجہت بنادیتا ہے۔ اس بات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی شے کی حرمت باقی نہیں رہتی۔ ترجیحات ختم ہوجاتی ہیں اور اعلیٰ و ادنیٰ کی تمیز مٹ جاتی ہے۔ زندگی کی سمتیں کھوجاتی ہیں۔ افراد کھوکھلے ہوجاتے ہیں۔ انسانوں کی معنوی وحدت ختم ہوجاتی ہے۔ لفظ اور معنی کا ربط ٹوٹ جاتا ہے اور زندگی کے کھوکھلے پن کو بھرنے کے لئے مجرد نعرے بروئے کار آتے ہیں جو زندگی کی لغویت اور بےمعنویت میں مزید اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ نعرے زیادہ لگنے لگیں تو سمجھ لیجئے کہ عمل رک گیا ہے۔

(سجاد باقر رضوی کے مضمون ’زندہ لفظ‘ سے اقتباس)

اتوار، 28 جولائی، 2013

’عبقری‘ کے روحانی اقتباسات

آج سویرے ہاکر ’ڈان‘ کے ساتھ ماہنامہ عبقری لاہور کا تازہ شمارہ بھی پھینک گیا۔ حسبِ معمول قریب از دوپہر بیدار ہو کر گیراج میں اخبار لینے گیا تو وہاں بیچارے ’ڈان‘ کو ’عبقری‘ کے ’روحانی بوجھ‘ تلے دبا ہوا پایا۔ یکے بعد دیگرے دونوں کو بالترتیب مرغوبیت اور مرعوبیت سے اٹھایا اور بغیر ٹیلیویژن والے ٹی وی لاؤنج میں اپنی مخصوص نشست پر براجمان ہو کر پہلے ’ڈان‘ پر نظر دوڑائی۔ سرخیوں اور مضامین کے عناوین کو دیکھنے کے بعد چنیدہ چیزوں کے تفصیلی مطالعے کو موقوف کرتے ہوئے خود کو اپنے ہی باذوق ہونے کا ثبوت فراہم کرنے کے لئے ’عبقری‘ کی جانب مائل ہوا کہ مجلے کی پیشانی پر ’باذوق مردوں اور باوقار خواتین کے لئے جسے بچے بھی پڑھ سکتے ہیں‘ کے الفاظ درج تھے۔ اب جو فہرست مضامین پر نظر ڈالی تو دنیا و مافیہا کے ہر ممکنہ اور غیرممکنہ مسئلے کا حل ’عبقری‘ میں پوشیدہ پایا۔ اگلے پچپن صفحات پر جو کچھ درج تھا اسے مکمل طور پر ہضم کی سکت آپ کے روحانیت سے عاری معدے میں یقیناً نہیں ہوگی، تاہم کچھ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیے اور اپنی حیاتِ آسودگی طلب کو اطمینان کی دولت سے مالا مال کیجئے کہ ’عبقری‘ میں ’گھر بھر کی جسمانی بیماریوں، ذہنی الجھنوں اور روحانی مسائل کا حل‘ موجود ہے۔

تبادلہ رکوانا
اگر کسی کا تبادلہ مرضی اور بلا کسی سبب کے دور دراز ہوگیا ہو یا وہ چاہتا ہو کہ دوبارہ اسی پوسٹ پر اسی شہر میں واپس آجاؤں تو سورہء لہب پارہ نمبر 30 مکمل باوضو ہر روز عشاء کی نماز کے بعد انیس مرتبہ انیس روز تک بلاناغہ پڑھیں اور متبادلہ کی منسوخی کی دعا کریں۔ انشاءاللہ تبادلہ منسوخ ہوجائے گا۔

مقدمہ میں کامیابی
بعض لوگ اپنی غلطی سے یا بعض مرتبہ دشمنوں اور حاسدوں کی چال کے سبب مقدمات میں الجھ جاتے ہیں اور عدالت کے چکر لگا لگا کر وقت اور رقم دونوں برباد کردیتے ہیں لیکن مقدمہ میں جگہ جگہ ناکامی ہوتی ہے۔ مقدمہ میں کامیابی کیلئے گھر کے سب افراد مرد عورت کثرت سے یاحفیظ پڑھیں۔ انشاءاللہ تعالیٰ مقدمہ میں کامیابی ہوگی۔

مقبولیت اور عزت
جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا چہرہ پرکشش و پرنور ہوجائے۔ اس کی ہیبت ہر شخص کے دل پر قائم ہوجائے اور وہ لوگوں کو جو بھی حکم دے وہ اس کی تعمیل کریں تو اسے چاہیے کہ ہر روز تازہ غسل کر کے بالکل سفید لباس پہن کر بعد نماز عشاء مکمل تنہائی میں دو نفل ادا کرنے کے بعد المومن سات سو چھیاسی مرتبہ روزانہ پڑھے تو اکتالیس دن کے بعد دیوار پر ایک نور ظاہر ہوگا اور اس کو ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے یہ نور اس کے دل میں منتقل ہورہا ہے اور اس کے بعد اس میں یہ صفت پیدا ہوجائے گی کہ جو بھی وہ لوگوں کو حکم دے گا۔ لوگ اس کی تعمیل کریں گے اور اس کے چہرے پر ایک خاص قسم کا نور ہر وقت جلوہ گر رہے گا اور انشاءاللہ تعالیٰ اس کی قدر و منزلت میں خوب اضافہ ہوگا۔

مراقبے سے فیض پانے والے
محترم حکیم صاحب السلام علیکم! آپ مراقبے کے بارے میں کافی فرماتے ہیں اور لوگوں کی کیفیات بھی بہت ہیں، کچھ عبقری میں کیفیات پڑھنے سے اور آپ کے درس اور حلقہ کشف المحجوب میں مراقبہ پر زور دینے سے مجھ میں بہت شوق پیدا ہوا۔ روزانہ تھوڑا سا مراقبہ کرتا ہوں، کافی عرصے بعد ایک دو بار ہلکی سی کیفیت ہوئی ہے، ایک بار سفید سی چیز کو اوپر آسمان پر جاتے ہوئے دیکھا اور ایک مرتبہ خود کو خانہ کعبہ کے قریب محسوس کیا۔ اب جب بھی مراقبہ شروع کرتا ہوں تو نور کو آسمان سے آتے ہوئے محسوس کرتا ہوں۔ جب سے مراقبہ کرنا شروع کیا ہے میری الحمدللہ بہت سی پریشانیاں دور ہورہی ہیں اور مجھے سکون کی نیند نہیں آتی تھی، میں ڈیپریشن کا مریض تھا مگر الحمدللہ ہر وقت دماغی سکون رہتا ہے اور میں پرسکون نیند سوتا ہوں۔ مراقبے نے میرے بہت سارے مسائل حل کردئیے ہیں۔ (خ،م۔لاہور)

روحانی پھکی کی کیا بات ہے۔۔۔ !!!
محترم حکیم صاحب السلام علیکم! میں عبقری کی پچھلی چھ ماہ سے قاری ہوں اور تقریباً دو ماہ سے روحانی پھکی استعمال کررہی ہوں اور اس نیت سے استعمال کرتی ہوں کہ اللہ میری تمام بیماریاں دور کردے، اللہ کے حکم سے کافی فرق پڑا ہے۔ اس سے پہلے گرمیاں شروع ہوتے ہی پاؤں پر دانے نکلتے تھے جو پانی والے ہوتے تھے اور اس سے پہلے خارش ہوتی ہے جب سے پھکی استعمال کی ہے۔ اللہ کا کرم ہے کہ اس مرتبہ پانی والے دانے نہیں بنے، کافی فرق ہے اور پیٹ میں بھی سکون محسوس ہوتا ہے۔ (ثریا ناز)
 
امید واثق ہے کہ آپ کو ’عبقری‘ کے ان روحانی اقتباسات سے کافی فرق پڑا ہوگا اور پیٹ میں بھی سکون محسوس ہورہا ہوگا، بصورتِ دیگر مبلغ چالیس روپے سکہ رائج الوقت میں ’عبقری‘ خرید فرمائیے اور ’سانس میں ذکر بسانے کا سائنسی طریقہ‘، ’جنات کا پیدائشی دوست (قسط نمبر 46) از علامہ لاہوتی پراسراری‘، ’عبقری وظیفے سے حج کیسے ہوا؟‘، ’جنات کا دیا کباب کھایا اور زندگی برباد‘ اور ’چاق و چوبند رہنے کے انوکھے راز‘ جیسی روحانی تحریروں سے مستفید و مستفیض ہوئیے۔

پسِ تحریر: جو احباب حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی اور ’عبقری‘ کی باتوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں ان سے معذرت کا خواستگار ہوں مگر میرے نزدیک یہ سب طنز و مزاح کے سوا کچھ بھی نہیں۔