Pages - Menu

جمعرات، 16 جنوری، 2014

بیگانستان


لاہور کی گلبرگ کالونی بڑی شان کی بستی سمجھتی جاتی ہے۔ لاہور کے ادب نوازو! سچ سچ بتاؤ کیا یہ نواحستان بلکہ بنگلستان کبھی کسی ادبی سرگرمی کا گلستان کہلایا؟ جیسی محفلیں بھاٹی دروازے کے اندر بازار حکیماں میں جما کرتی تھیں، ویسی محفلیں گلبرگ کالونی میں کبھی جمیں؟ یار باشی کے جو رنگ عرب ہوٹل اور نگینہ بیکری میں تھے، اس کالونی کے کسی چائے خانہ میں ہیں؟ ڈبی بازار، گمٹی بازار، قلعہ گوجر سنگھ، مزنگ اور اچھرہ میں ہمسایوں کے درمیان جو قرب اور بےتکلفیاں ہیں، موڈل ٹاؤن کے ہمسایوں کے درمیان ہو ہی نہیں سکتیں۔ میں نے اپنا بچپن موڈل ٹاؤن میں گزارا، اس بستی کے باشندوں میں گرمجوشی ہرگز نہ تھی، ہمسایوں کے بچے البتہ مل کر کھیل لیتے تھے۔ پھر اس بنگلستان کو بیگانستان کیوں نہ کہیں!

بنگلستان کے پروردگان میں وہ حوصلہ ہو ہی نہیں سکتا جو گلیوں کے رہنے والوں میں ہوتا ہے۔ اقبال گلیوں میں پل کر جس طرح حوصلہ مند ہوئے سول لائنز میں پل کر کبھی نہ ہوپاتے۔ وہ شاعر جو بھاٹی دروازے کا مکین نہیں رہا 'شکوہ' جیسی نظم نہیں کہہ سکتا۔ گلبرگ کالونی میں پلا ہوا گویّا وہ بیباکانہ اور دلکشا تان کیسے مار سکتا ہے جو استاد فتح علی خاں کے حصے میں آئی ہے۔

(داؤد رہبر کی 'پراگندہ طبع لوگ' کے مضمون 'میزبان اور مہمان' سے اقتباس)

منگل، 14 جنوری، 2014

امیر خسروؒ کی مشہور نعت (نمی دانم چہ منزل بود)

حکیم ابوالحسن یمین الدین المعروف امیر خسرو دہلویؒ کی مشہور و معروف نعت 'نمی دانم چہ منزل بود' کا مقطع یقیناً آپ نے سنا ہوگا۔ یہاں اس خوبصورت ہدیۂ عقیدت کے اشعار مع ترجمہ پیش کیے جارہے ہیں۔ ان گلہائے ارادت کا اردو میں منظوم ترجمہ کرنے کی سعادت جناب مسعود قریشی نے حاصل کی۔ ہر شعر کے نیچے منظوم ترجمہ درج ہے۔

نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم
بہ ہر سو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم

نہیں معلوم تھی کیسی وہ منزل، شب جہاں میں تھا
ہر اک جانب بپا تھا رقصِ بسمل، شب جہاں میں تھا

پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے
سراپا آفتِ دل بود، شب جائے کہ من بودم

 
پری پیکر صنم تھا سرو قد، رخسار لالہ گوں
سراپا وہ صنم تھا آفتِ دل، شب جہاں میں تھا

رقیباں گوش بر آواز، او در ناز، من ترساں
سخن گفتن چہ مشکل بود، شب جائے کہ من بودم

عدو تھے گوش بر آواز، وہ نازاں تھا، میں ترساں
سخن کرنا وہاں تھا سخت مشکل، شب جہاں میں تھا

 
خدا خود میرِ مجلس بود اندر لا مکاں خسرو
محمدؐ شمعِ محفل بود، شب جائے کہ من بودم

خدا تھا میرِ مجلس لا مکاں کی بزم میں خسرو
محمدؐ تھے وہاں پر شمعِ محفل، شب جہاں میں تھا

پس نوشت: امیر خسرو کے کلام اور ترجمے کے لئے محمد وارث صاحب کے بلاگ صریرِ خامہ سے مدد لی گئی ہے۔

جمعرات، 9 جنوری، 2014

بےجا تنقید


ڈاکٹر تیزی سے ہسپتال میں داخل ہوا، کپڑے تبدیل کیے اور سیدھا آپریشن تھیئٹر کی طرف بڑھا۔ اسے ایک بچے کے آپریشن کے لیے فوری اور ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا۔
 
ہسپتال میں موجود بچے کا باپ ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر چلایا، ’اتنی دیر لگا دی؟ تمہیں پتا نہیں میرا بیٹا کتنی سخت اذیت میں ہے، زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے، تم لوگوں میں کوئی احساس ذمہ داری نہیں ہے۔‘
’مجھے افسوس ہے کہ میں ہسپتال میں نہیں تھا، جیسے ہی مجھے کال ملی میں جتنی جلدی آسکتا تھا، آگیا ہوں،‘ ڈاکٹر نے مسکرا کر جواب دیا۔ ’اب میں چاہوں گا کہ آپ سکون سے بیٹھیے تاکہ میں اپنا کام شروع کرسکوں۔‘
’میں اور سکون سے بیٹھوں، اگر اس حالت میں تمہارا بیٹا ہوتا تو کیا تم سکون سے بیٹھتے؟ اگر تمہارا اپنا بیٹا ابھی مر رہا ہو تو تم کیا کرو گے؟‘ باپ غصے سے بولا۔
ڈاکٹر پھر مسکرا کر کہا، ’ہماری مقدس کتاب کہتی ہے کہ ہم مٹی سے بنے ہیں اور ایک دن ہم سب کو مٹی میں مل جانا ہے، اللہ بہت بڑا ہے اور غفور و رحیم ہے۔ ڈاکٹر کسی کو زندگی نہیں دیتا، نہ کسی کی عمر بڑھا سکتا ہے۔ اب آپ آرام سے بیٹھیں اور اپنے بیٹے کے لیے دعا کریں۔ ہم آپ کے بیٹے کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے۔‘
’بس ان لوگوں کی نصیحتیں سنو، چاہے تمہیں ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو،‘ بچے کا باپ بڑبڑایا۔
 
آپریشن میں کئی گھنٹے لگ گئے لیکن بالآخر جب ڈاکٹر آپریشن تھیئٹر سے باہر آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، ’آپ کا بیٹا اب خطرے سے باہر ہے، اگر کوئی سوال ہو تو نرس سے پوچھ لیں،‘ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔
’کتنا مغرور ہے یہ شخص، کچھ لمحے کے لیے بھی نہیں رکا کہ میں اپنے بچے کی حالت کے بارے میں ہی کچھ پوچھ لیتا،‘ بچے کے باپ نے ڈاکٹرکے جانے بعد نرس سے کہا۔
نرس نے روتے ہوئے جواب دیا، ’اس کا بیٹا کل ایک ٹریفک کے حادثے کا شکار ہو گیا تھا، جب ہم نے اسے آپ کے بیٹے کے لیے کال کی تھی تو وہ اس کی تدفین کا انتظام کررہا تھا۔ اب جبکہ اس نے آپ کے بیٹے کی جان بچالی ہے، تو وہ اپنے بیٹے کی تدفین کے لئے چلا گیا ہے۔‘

کبھی کسی پر بےجا تنقید نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ دوسرے کی زندگی کیسی ہے اور وہ کن مشکلات میں مبتلا ہے۔ تمہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ تمہارے کام آنے کے لیے کتنی بڑی قربانی دے رہا ہے۔


پس نوشت: یہ تحریر سماجی رابطے کی ایک ویب گاہ سے حاصل کی گئی تھی۔

منگل، 7 جنوری، 2014

'معطل کافی' کی روایت

میں اور میرا دوست ایک چھوٹے سے کافی ہاؤس میں داخل ہوئے اور کافی کے لئے آرڈر دیا۔ آرڈر دے کر ہم ایک میز کی طرف بڑھ رہے تھے کہ باہر سے دو لوگ آئے اور انہوں نے کاؤنٹر پر جا کر کہا، 'براہِ مہربانی پانچ کافی دے دیجئے۔ دو ہمارے لئے اور تین معطل۔' انہوں رقم ادا کی، کافی لی اور چلے گئے۔

میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ یہ 'معطل' کا کیا چکر ہے؟ میرے دوست نے کہا کہ رکو، تمہیں ابھی پتہ چل جائے گا۔

کچھ دیر میں چند اور لوگ آئے۔ دو لڑکیاں آئیں، انہوں نے اپنے لئے دو کافی کا آرڈر دیا، کافی لی اور چلی گئیں۔ ان کے بعد تین وکیل آئے اور انہوں نے سات کافی کا آرڈر دیا، جن میں سے تین ان کے لئے تھیں اور سات معطل۔ میں ابھی تک اس سوچ میں تھا کہ یہ معطل کافی کا کیا معاملہ ہے اور ساتھ کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے دھوپ اور اس خوبصورت چوک کا نظارہ کررہا تھا جو کافی ہاؤس کے سامنے تھا۔ اچانک ایک بندہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے آیا، جو دکھنے میں فقیر لگ رہا تھا اور اس نے قابلِ رحم انداز میں پوچھا کہ کوئی معطل کافی ہے؟

تب مجھے پتہ چلا، معطل کافی کا مطلب یہ ہے کہ لوگ کافی ہاؤس میں آتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے پیشگی ادائیگی کردیتے ہیں جو اس گرم مشروب کو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ معطل کافی کی اس روایت کا آغاز نیپلز (Naples) میں ہوا تھا مگر اب یہ دنیا بھر میں پھیل چکی ہے اور بعض جگہوں پر آپ معطل کافی کے ساتھ کھانے کی کچھ اشیاء کا آرڈر بھی دے سکتے ہیں۔

کیا ہر شہر میں ایسے (چائے خانے یا) کافی ہاؤسز اور اشیائے ضروریہ کے اسٹورز ہونا ایک بہت عمدہ روایت نہیں ہوگی جہاں مفلوک الحال لوگ کچھ نہ کچھ ملنے کی امید کے ساتھ آئیں؟ اگر آپ خود کوئی کاروبار کررہے ہیں تو آپ اپنے گاہکوں کے لئے اس سہولت کا اجراء کر کے دیکھئے۔ مجھے یقین ہے کہ بہت سے لوگ اس عمل میں شریک ہونا پسند کریں گے۔

پس نوشت: یہ تحریر اس ربط سے حاصل کردہ متن کا ترجمہ ہے۔

پیر، 6 جنوری، 2014

خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے (از احمد ندیم قاسمی)


خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

 
یہاں جو پھول کھلے، وہ کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

 

 یہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

 

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

 

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

 

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو، کوئی خستہ حال نہ ہو

 

 خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو

اتوار، 5 جنوری، 2014

الجہاد فی الاسلام

دور جدید میں یورپ نے اپنی سیاسی اغراض کے لئے اسلام پر جو بہتان تراشے ہیں ان میں سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ اسلام ایک خونخوار مذہب ہے اور اپنے پیرووں کو خونریزی کی تعلیم دیتا ہے۔ اس بہتان کی اگر کچھ حقیقت ہوتی تو قدرتی طور پر اسے اس وقت پیش ہونا چاہئے تھا جب پیروانِ اسلام کی شمشیر خاراشگاف نے کرۂ ارض میں ایک تہلکہ برپا کررکھا تھا اور فی الواقع دنیا کو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید ان کے یہ فاتحانہ اقدامات کسی خونریز تعلیم کا نتیجہ ہوں۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس بہتان کی پیدائش آفتابِ عروجِ اسلام کے غروب ہونے کے بہت عرصہ بعد عمل میں آئی۔ اس کے خیالی پتلے میں اس وقت روح پھونکی گئی جب اسلام کی تلوار تو زنگ کھا چکی تھی مگر خود اس بہتان کے مصنف یورپ کی تلوار بے گناہوں کے خون سے سرخ ہورہی تھی اور اس نے دنیا کی کمزور قوموں کو اس طرح نگلنا شروع کردیا تھا جیسے کوئی اژدہا چھوٹے چھوٹے جانوروں کو ڈستا اور نگلتا ہو۔ اگر دنیا میں عقل ہوتی تو وہ سوال کرتی کہ جو لوگ خود امن و امان کے سب سے بڑے دشمن ہوں، جنہوں نے خود خون بہا بہا کر زمین کے چہرے کو رنگین کردیا ہو، جو خود دوسری قوموں پر ڈاکے ڈال رہے ہوں، آخر انہیں کیا حق ہے کہ اسلام پر وہ الزام عائد کریں جس فرد جرم خود ان پر لگنی چاہئے؟ کہیں اس تمام مؤرخانہ تحقیق و تفتیش اور عالمانہ بحث و اکتشاف سے ان کا یہ منشاء تو نہیں کہ دنیا کی اس نفرت و ناراضی کے سیلاب کا رخ اسلام کی طرف پھیردیں جس کے خود ان کی اپنی خونریزیوں کے امنڈ کر آنے کا اندیشہ ہے؟ لیکن انسان کی یہ کچھ فطری کمزوری ہے کہ وہ جب میدان میں مغلوب ہوتا ہے تو مدرسہ میں بھی مغلوب ہوتا ہے، جس کی تلوار سے شکست کھاتا ہے اس کے قلم کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتا اور اسی لئے ہر عہد میں دنیا پر انہی افکار و آراء کا غلبہ رہتا ہے جو تلوار بند ہاتھوں کے قلم سے پیش کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ اس مسئلہ میں بھی دنیا کی آنکھوں پر پردہ ڈالنے میں یورپ کو پوری کامیابی ہوئی اور غلامانہ ذہنیت رکھنے والی قوموں نے اسلامی جہاد کے متعلق اس کے پیش کردہ نظریہ کو بلا ادنیٰ تحقیق و تحفص اور بلا ادنیٰ غور و خوض اس طرح قبول کرلیا کہ کسی آسمانی وحی کو بھی اس طرح قبول نہ کیا ہوگا۔

گذشتہ اور موجودہ صدی میں مسلمانوں کی طرف سے بارہا اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے اور اس کثرت سے اس موضوع پر لکھا جاچکا ہے کہ اب یہ ایک فرسودہ اور پامال سا مضمون معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس قسم کی جوابی تحریرات میں میں نے اکثر یہ نقص دیکھا ہے کہ اسلام کے وکلاء مخالفین سے مرعوب ہو کر خود بخود ملزموں کے کٹہرے میں جا کھڑے ہوتے ہیں اور مجرموں کی طرح صفائی پیش کرنے لگتے ہیں۔ بعض حضرات نے تو یہاں تک کیا ہے کہ اپنے مقدمہ کو مضبوط بنانے کے لئے سرے سے اسلام کی تعلیمات اور اس کے قوانین ہی میں ترمیم کر ڈالی اور شدت مرعوبیت میں جن جن چیزوں کو انہوں نے اپنے نزدیک خوفناک سمجھا انہیں ریکارڈ پر سے بالکل غائب کردیا تاکہ مخالفین کی نظر اس پر نہ پڑسکے۔ لیکن جن لوگوں نے ایسا کمزور پہلو اختیار نہیں کیا ان کے ہاں بھی کم از کم یہ نقص ضرور موجود ہے کہ وہ جہاد و قتال کے متعلق اسلامی تعلیمات کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کرتے اور بہت سے پہلو اس طرح تشنہ چھوڑ جاتے ہیں کہ ان میں شک و شبہ کی بہت کچھ گنجائش باقی رہتی ہے۔ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے اصلی ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ اور قتال بغرض اعلائے کلمۂ الٰہی کے متعلق اسلام کی تعلیمات اور اس کے قوانین کو بے کم و کاست اسی طرح بیان کردیا جائے جس طرح وہ قرآنِ مجید، احادیثِ نبویؐ اورکتبِ فقہ میں درج ہیں۔ ان میں سے کسی چیز کو نہ گھٹایا جائے اور نہ اسلام کے اصلی منشاء اور کی تعلیم کی روح کو بدلنے کی کوشش کی جائے۔ میں اس طریقہ سے اصولی اختلاف رکھتا ہوں کہ ہم اپنے عقائد و اصول کو دوسروں کے نقطۂ نظر کے مطابق ڈھال کر پیش کریں۔ دنیا کا کوئی ایک مسئلہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں تمام لوگ ایک نقطۂ نظر پر متفق ہوں۔ ہر جماعت اپنا ایک الگ نقطۂ نظر رکھتی ہے اور اسی کو صحیح بھی سمجھتی ہے، کل حزب بما لدیھم فرحون۔ پس ہم دوسروں کے نقطۂ نظرکی رعایت سے اپنے اصول و عقائد کو خواہ کتنا ہی رنگ کر پیش کریں یہ ناممکن ہے کہ تمام مختلف الخیال گروہ ہم سے متفق ہوجائیں اور سب کو ہمارا وہ مصنوعی رنگ پسند ہی آجائے۔ اس لئے زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے دین کے عقائد اور احکام کو، اس کی تعلیمات اور اس کے قوانین کو ان کے اصلی رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کردیں اور جو دلائل ہم ان کے حق میں رکھتے ہیں انہیں بھی صاف صاف بیان کردیں، پھر یہ بات خود لوگوں کی عقل پر چھوڑ دیں کہ خواہ وہ انہیں قبول کریں یا نہ کریں۔ اگر قبول کریں تو زہے نصیب، نہ قبول کریں تو ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں۔ یہ دعوت و تبلیغ کا صحیح اصول ہے، جسے ہمیشہ سے اربابِ عزم لوگوں نے اختیار کیا ہے اور خود انبیاء علیہم السلام نے بھی اسی پر عمل کیا ہے۔

میں ایک عرصہ سے اس ضرورت کو محسوس کر رہا تھا، مگر احساسِ ضرورت سے بڑھ کر عمل کی جانب کوئی اقدام نہ کر سکتا تھا، کیونکہ اس کام کے لئے بڑی فرصت درکار تھی اور فرصت ہی ایک ایسی چیز ہے، جو کسی اخبار نویس کو میسر نہیں آتی۔

لیکن دسمبر 1926ء کی آخری تاریخوں میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا، جس نے مجھے مشکلات سے قطع نظر کرکے اقدامِ عمل پر مجبور کردیا۔ یہ واقعہ شدھی کی تحریک کے بانی سوامی شردھانند کے قتل کا واقعہ تھا، جس سے جہلاء اور کم نظر لوگوں کو اسلامی جہاد کے متعلق غلط خیالات کی اشاعت کا ایک نیا موقع مل گیا، کیونکہ بدقسمتی سے ایک مسلمان اس فعل کے ارتکاب کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور اخبارات میں اس کی جانب یہ خیالات منسوب کئے گئے تھے کہ اس نے اپنے مذہب کا دشمن سمجھ کر سوامی کو قتل کیا ہے اور یہ کہ اس نیک کام کے کرنے سے جنت کا امیدوار ہے ۔ حقیقت کا علم تو خدا کو ہے، مگر منظرِ عام پر جو کچھ آیا وہ یہی واقعات تھے۔ ان کی وجہ سے عام طور پر اسلام کے دشمنوں میں ایک ہیجان پیدا ہوگیا۔ انہوں نے علمائے اسلام کے اعلانات اور اسلامی جرائد اور عمائدِ ملت کی متفقہ تصریحات کے باوجود اس واقعہ کو اس کی طبعی حدود تک محدود رکھنے کے بجائے تمام امتِ مسلمہ کو بلکہ خود اسلامی تعلیمات کو اس کا ذمہ دار قرار دینا شروع کردیا اور علانیہ قرآنِ کریم پر اس قسم کے الزامات عائد کرنے لگے کہ اس کی تعلیم نے مسلمانوں کو ایسا متعصب بنادیا ہے کہ وہ ہر کافر کو گردن زدنی سمجھتے ہیں اور اسے قتل کرکے جنت میں جانے کی امید رکھتے ہیں۔ بعض دریدہ دہنوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ دنیا میں جب تک قرآن کی تعلیم موجود ہے، امن قائم نہیں ہوسکتا، اس لئے تمام عالم انسانی کو اس تعلیم کے مٹانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ ان غلط خیالات کی نشرو اشاعت اس کثرت کے ساتھ کی گئی کہ صحیح الخیال لوگوں کی عقلیں بھی چکرا گئیں اور گاندھی جی جیسے شخص نے، جو ہندو قوم میں سب سے بڑے صائب الرائے آدمی ہیں، اس سے متاثر ہو کر بتکرار اس خیال کا اظہار کیا کہ ”اسلام ایسے ماحول میں پیدا ہوا ہے، جس کی فیصلہ کن طاقت پہلی بھی تلوار تھی اور آج بھی تلوار ہے۔“

اگرچہ یہ تمام خیالات کسی تحقیق اور علمی تفحص پر مبنی نہ تھے، بلکہ ”طوطی“ کی طرح وہی سبق دہرایا جارہا تھا، جو ”استادِ ازل“ نے سکھادیا تھا، مگر ایک غیر معمولی واقعہ نے ان اوہام میں حقیقت کا رنگ پیدا کردیا تھا، جس سے ناواقف لوگ آسانی کے ساتھ دھوکا کھا سکتے تھے۔ چونکہ ایسی عام بدگمانیاں اشاعتِ اسلام کی راہ میں ہمیشہ حائل ہوتی ہیں اور ایسے ہی مواقع ہوتے ہیں، جن میں اسلام کی صحیح تعلیم کو زیادہ صفائی کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ غبار چھنٹ جائے اور آفتابِ حقیقت زیادہ روشنی کے ساتھ طلوع ہو، اس لئے میں نے فرصت کا انتظار چھوڑ کر اپنے اسی قلیل وقت میں جو ترتیبِ اخبار سے باقی بچتا تھا، پیشِ نظر مضمون کی تحریر و تسوید کا کام شروع کردیا اور ساتھ ہی ساتھ اخبار ”الجمعیة“ کے کالموں میں اس کی اشاعت بھی شروع کردی۔ ابتداً محض ایک مختصر مضمون لکھنے کا ارادہ تھا مگر سلسلۂ کلام چھڑنے کے بعد بحث کے اس قدر گوشے سامنے آتے چلے گئے کہ اخبار کے کالموں میں ان کا سمانا مشکل ہوگیا، اس لئے مجبوراً 23/24 نمبر شائع کرنے کے بعد میں نے اخبار میں اس کی اشاعت بند کردی اور اب اس پورے سلسلہ کو مکمل کرکے کتابی صورت میں پیش کررہا ہوں۔ اگرچہ یہ کتاب مبحث کے اکثر پہلوؤں پر حاوی ہے، لیکن پھر بھی مجھے افسوس ہے کہ وقت کی کمی نے بہت سے مباحث کو تشنہ رکھنے پر مجبور کیا ہے اور جن مضامین کی توضیح کے لئے ایک مستقل باب کی ضرورت تھی، انہیں ایک ایک دودو فقروں میں ادا کرنا پڑا ہے۔ اس کتاب میں میں نے خصوصیت کے ساتھ اس امر کا التزام رکھا ہے کہ کہیں اپنے یا دوسرے لوگوں کے ذاتی خیالات کو دخل نہیں دیا بلکہ تمام کلی و جزوی مسائل خود قرآن مجید سے اخذ کر کے پیش کئے ہیں اور جہاں کہیں ان کی توضیح کی ضرورت پیش آئی ہے، احادیثِ نبویؐ، معتبر کتبِ فقہ اور صحیح و مستند تفاسیر سے مدد لی ہے تاکہ ہر شخص کو معلوم ہوجائے کہ آج دنیا کا رنگ دیکھ کر کوئی نئی چیز پیدا نہیں کی گئی ہے بلکہ جو کچھ کہا گیا ہے، سب اللہ اور اس کے رسولؐ اور آئمۂ اسلام کے ارشادات پر مبنی ہے۔

میں تمام ان غیر مسلم حضرات سے، جو تعصب کی بناء پر اسلام سے اندھی دشمنی نہیں رکھتے، درخواست کرتا ہوں کہ اس کتاب میں اسلام کی اصلی تعلیمِ جنگ کا مطالعہ کریں اور اس کے بعد بتائیں کہ انہیں اس تعلیم پر کیا اعتراض ہے۔ اگر اس کے بعد بھی کسی شخص کو کچھ شک باقی ہو تو میں اسے رفع کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔

('دیباچہ' الجہاد فی الاسلام از سید ابوالاعلیٰ مودودی)

ہفتہ، 4 جنوری، 2014

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

لاہور کے علاقے عسکری نائن کی ناصرہ نامی ایک گھریلو مالکہ نے اپنی دس سالہ ملازمہ ارم کو 70 روپے چوری کرنے کے الزام میں تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ناصرہ نے ارم کو تقریباً سوا دو ماہ پہلے ڈھائی ہزار روپے مہینہ پر ملازمت کے لئے رکھا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ارم اوکاڑہ کے علاقے دیپالپور کی رہائشی تھی۔ اس کا باپ مرچکا ہے اور وہ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ ناصرہ کا کہنا ہے کہ ارم نے پہلے بھی پیسے چرائے تھے اور اس نے تب بھی اسے مارا تھا مگر اس بار اسے غصہ کچھ زیادہ ہی آگیا اور وہ اس بچی پر مسلسل تشدد کرتی رہی جس کے باعث اس کی حالت غیر ہوگئی۔ ناصرہ کا شوہر اور بیٹا اسی حالت میں ارم کو لے کر سروسز اسپتال گئے جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی۔

بڑے گھروں میں کام کرنے والی کسی چھوٹی بچی کی ہلاکت کا یہ پہلا یا آخری واقعہ نہیں ہے۔ گاہے ماہے گھروں میں کام کرنے والے چھوٹے بچوں پر بدترین تشدد کے بارے میں خبریں منظرِ عام پر آتی ہی رہتی ہیں۔ مالداروں کی اکثریت چونکہ کتے کی دم کی نفسیات پر چلتی ہے، لہٰذا ہمیں مستقبل میں بھی ایسے واقعات کے خاتمے کے حوالے سے کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ یہ گھر جہاں چھوٹے بچے ملازم رکھے جاتے ہیں ہمارے معاشرے کے بالائی متوسط اور بالائی طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ عام خیال یہی ہے کہ ان گھروں کے باسی پڑھے لکھے، شریف اور مہذب ہوتے ہیں لیکن ان گھروں کے حوالے سے کبھی کبھار ذرائع ابلاغ کی زینت بننے والی خبروں پر نظر دوڑائی جائے تو دل میں خیال آتا ہے:
؎ نہ جانے کون سے جنگل سے اٹھ کے آئے ہیں
 
ہمارے ان لوگوں کو پڑھے لکھے، شریف اور مہذب کہنے والی بات اگر آپ کے دل میں کھٹک رہی ہے تو چلئے آپ کو ایک چھوٹا سا واقعہ سناتے ہیں۔ ادیب جاودانی لاہور میں نجی اسکولوں کے ایک سلسلے کے مالک اور آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز منیجمنٹ ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ یادش بخیر تقریباً تین برس قبل روزنامہ جنگ لاہور کے کلاسیفائیڈ صفحات پر جاودانی صاحب کے اسکول کا ایک اشتہار شائع ہوا تھا۔ اشتہار کی عبارت کچھ یوں تھی کہ اسکول میں چھوٹے بچوں کی نگہداشت کے لئے دس بارہ سالہ بچی کی ضرورت ہے۔ ہمیں شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ دس بارہ برس کی بچی چھوٹے بچوں کی نگہداشت کی اہلیت رکھتی ہے یا اس عمر میں اسے خود کسی کی جانب سے نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔

مشقتِ بچگان یعنی چائلڈ لیبر دنیا بھر میں ایک جرم کی حیثیت رکھتی ہے اور پاکستان میں اس وقت کئی غیرسرکاری تنظیمیں یعنی این جی اوز اس کے خاتمے کے لئے کوشاں ہونے کی دعویدار ہیں۔ مشقتِ بچگان کے انسداد کے لئے پاکستان میں قوانین بھی موجود ہیں مگر یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ہمارے ہاں قانون طاقتور کے گھر کی لونڈی ہے اور اس کے ساتھ سلوک بھی لونڈی والا ہی کیا جاتا ہے۔ دراصل، قوانین کا نفاذ جن اداروں کی ذمہ داری ہے اور اس نفاذ پر نظر رکھنا جن تنظیموں کے اختیار میں ہے، ان سے وابستہ افراد کی ایک قابلِ ذکر تعداد خود ایسے دھندوں میں مشغول ہوتی ہے جو کسی نہ کسی قانون کی زد میں آرہے ہوتے ہیں۔ گویا محاورے کی زبان میں یوں سمجھ لیجئے کہ ہمارے ہاں بلی کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھا دیا جاتا ہے۔

بات شروع ہوئی تھی دس سالہ ارم سے جو اب سپردِ خاک ہوچکی ہے۔ گو کہ اس کے قتل کے الزام میں ناصرہ، اس کا شوہر اور بیٹا پولیس کی حراست میں ہیں مگر عسکری نائن کے مالدار رہائشیوں کے لئے دیپالپور کے مفلوک باسیوں کو دیت ادا کر کے معاملہ رفع دفع کردینا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ کسی معاشرے کے ظلم و ناانصافی کے مقابلے میں کفر کے ساتھ قائم رہنے والا سنہری قول تو ہم نے بھی سن رکھا ہے مگر سوچ یہ رہے ہیں کہ جس معاشرے کے خمیر میں نصوصِ قرآنی و احادیثِ محبوبِ سبحانیؐ سے کفر اور ظلم و ناانصافی بنیادی اجزائے ترکیبی کے طور پر بحصۂ مساوی شامل ہوں اس کا مستقبل بھلا کیا ہوگا؟

جمعہ، 3 جنوری، 2014

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

چین کے میڈیا میں حال ہی میں ایک تہلکہ خیز خبر منظرِ عام پر آئی ہے کہ 2012ء میں شمالی چین کے ہیبیئی صوبے کے ڈانگ زینگ نامی گاؤں کے ایک مفلوک الحال کسان ژینگ یان لیانگ نے علاج کے لئے رقم نہ ہونے کی وجہ سے اپنی ٹانگ خود ہی آری سے کاٹ لی۔ اطلاعات کے مطابق ژینگ کے پاؤں میں انفیکشن ہونے کی وجہ سے ان کی ٹانگ میں خون کا بہاؤ رک گیا تھا۔ جب انہوں نے اس سلسلے میں ڈاکٹروں سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک ٹانگ کا علاج کیا گیا تو تین لاکھ یوان تک کا خرچ آئے گا اور اگر دوسری ٹانگ کے علاج کی ضرورت بھی محسوس کی گئی تو خرچ بڑھ کر دس لاکھ یوان تک پہنچ جائے گا۔ ژینگ کے پاس کل جمع پونجی بیس ہزار یوان سے زیادہ نہ تھی۔

ژینگ علاج معالجے کی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے کئی مہینے شدید درد برداشت کرتے رہے۔ اس دوران میں ان کے پاؤں کالے ہوگئے اور جلد اور گوشت سڑنے لگا۔ شدید تکلیف کے مسلسل بہاؤ کے سامنے بالآخر ہتھیار ڈالتے ہوئے ژینگ نے وہ اقدام کیا جس کا تصور ہی انسان پر لرزہ طاری کردیتا ہے۔ انہوں نے آری کی مدد سے خود ہی اپنی ٹانگ کاٹ لی اور اس دوران میں شدید تکلیف کو برداشت کرنے کے لئے انہوں نے ایک چھری تولیے میں لپیٹ کر اپنے دانتوں کے درمیان میں رکھ لی۔

ژینگ کے ٹانگ کاٹ لینے کی خبر تقریباً ایک برس کے بعد جب میڈیا کے ذریعے عام ہوئی تو لوگوں نے ان کے علاج کے لئے تین لاکھ یوان سے بھی زیادہ کی رقم کا چندہ جمع کرلیا جبکہ انہیں مفت علاج کی پیشکش بھی کی گئی۔ ژینگ کہتے ہیں کہ انہیں علاج سے زیادہ اپنے حالات کی فکر لاحق ہے کہ ان آمدنی پہلے ہی کچھ نہیں ہے اور اگر ایسے میں وہ بالکل ہی لاچار ہو کر بستر پر پڑگئے تو دو وقت کی روٹی کہاں سے میسر آئے گی۔

اس صورتحال نے چین کے دیہات میں علاج معالجے کی سہولیات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ سوا ارب سے زائد نفوس پر مشتمل اس ملک میں آدھی سے زیادہ آبادی دیہات سے متعلق ہے مگر 80 فیصد سہولیات کا ارتکاز صرف شہروں تک ہی ہے۔ یہاں ایک بات ضمناً یاد آگئی کہ عالمی وسائل کے حوالے سے کی گئی تحقیقات یہ بھی بتاتی ہیں کہ دنیا کے 80 فیصد وسائل پر 20 فیصد لوگ قابض ہیں جبکہ بقیہ 20 فیصد وسائل میں 80 فیصد لوگوں کو گزر اوقات کرنا پڑتی ہے۔ خیر، یہ وسائل اور ان کی غیرمنصفانہ تقسیم کی بحث کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔

شمالی چین کے باسی ژینگ یان لیانگ کا یہ دلخراش واقعہ ہمیں اپنے جنوبی اور وسطی پنجاب کے کسی اللہ ڈیوایا یا محمد بوٹا کی صورتحال سے بہت مماثلت رکھتا دکھائی دیتا ہے۔ فاقوں سے دن رات نبرد آزما یہ مفلس ویسے تو کبھی بھی حکومت یا ان کے نام پر کروڑوں روپے ڈکار جانے والی غیرسرکاری تنظیموں یعنی این جی اوز کی توجہ کا مرکز نہیں بنتے لیکن جیسے ہی ان میں سے کوئی شخص اپنے بچوں کے گلے میں 'برائے فروخت' کا بورڈ لٹکا کر کسی پریس کلب کے سامنے آ کر کھڑا ہوجائے یا اس سے بھی آگے بڑھ کر انتہائی سنگین قدم اٹھاتے ہوئے حالات کے جبر سے بچنے کے لئے اپنے کنبے کے ساتھ مل کر اجتماعی خودکشی یا خودسوزی کی کوشش کرے اور اتفاق سے بچ جائے تو سرکاری محکمے اور 'ڈکاری' تنظیمیں ہڑبڑا کر خوابِ غفلت سے بیدار ہوتی ہیں اور فوراً اس خاندان کے لئے امداد کا اعلان کردیا جاتا ہے۔

ہم بات کو یہاں ختم کرنا چاہ رہے تھے مگر اسی ذیل میں ایک واقعہ اور یاد آگیا تو سوچا وہ بھی آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرلیا جائے۔ گزشتہ دنوں ہماری امریکہ میں اپنی ایک عزیزہ سے فون پر بات ہوئی۔ خاتون پیدائشی امریکی ہیں اور وہاں نرس کے طور پر خدمات انجام دیتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ان کا آپریشن ہوا تھا تو ہم نے خیریت معلوم کرنے کے لئے فون کیا تھا۔ باتوں باتوں میں ہم نے پوچھا کہ علاج کا خرچ کس نے اٹھایا اور معالجین نے دو مہینے کے لئے جو آرام تجویز کیا ہے، اس کے لئے ملنے والی رخصت تنخواہ کے ساتھ ہے یا بغیر۔ انہوں نے بتایا کہ رخصت بغیر تنخواہ کے ہے اور علاج معالجہ کافی مہنگا ہے، لہٰذا اس سلسلے میں کچھ مدد ایک تنظیم نے کی اور کچھ بہن بھائیوں کا ایثار آڑے آیا۔


اب واپس آئیے ژینگ سے شروع ہونے والی بات کی طرف، اس تکلیف دہ واقعے اور اس کے بعد پیش کئے گئے ضمنی حوالوں سے ایک بات تو واضح ہوگئی ہے کہ مفلس خواہ اشتراکیت کے دعویدار چین کے باشندے ہوں، سرمایہ داریت کے دلدادہ امریکہ کے باسی ہوں یا اسلامی تشخص کے بزعمِ خود حامل پاکستان کے رہنے والے ان کی حالت اور حالات میں مطابقت بالکل ویسے ہی پائی جاتی ہے جیسے مذکورہ تینوں ملکوں میں اگنے والے ایک ہی قسم کے پھل یا سبزیاں ایک دوسرے سے مماثل ہوتے ہیں۔

جمعرات، 2 جنوری، 2014

آبرومندانہ امن


انتظار حسین نے روزنامہ 'مشرق' کے ادبی صفحے کے لئے کالم لکھنے کا آغاز کیا تو ریاض بٹالوی کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے ادیبوں سے ملاقاتیں شروع کردیں۔ انہی ملاقاتوں کو وہ صفحۂ قرطاس پر منتقل کر کے کالم کی شکل میں شائع کروا دیتے۔ 'اخباری ملاقاتوں' کا یہ سلسلہ ایک عرصہ جاری رہا۔ بعد ازاں ان ملاقاتوں پر مبنی کالم 1982ء میں کتابی صورت میں 'ملاقاتیں' کے نام سے شائع ہوئے۔

انہی ملاقاتوں کے سلسلے میں انتظار حسین جب احمد ندیم قاسمی سے ملے تو ان سے دیگر موضوعات کے علاوہ پاک بھارت تعلقات کے ذیل میں بھی بات چیت ہوئی۔ انتظار حسین نے سمجھوتہ ایکسپریس کے بارے میں پوچھا تو قاسمی صاحب نے کہا 'جنگ سے ہر ادیب کو نفرت ہے مگر امن آبرومندانہ ہونا چاہئے۔ ہندوستان پاکستان کے درمیان سیاسی اور ثقافتی روابط ضرور قائم ہونے چاہئیں لیکن ہمیں اپنی قومی شناخت اور پاکستانی ادب کی پہچان کا بھی تحفظ کرنا چاہئے۔ ہندوستان کے اہل قلم دوستوں کی طرف سے جو اظہارِ محبت ہوتا ہے، وہ سر آنکھوں پر مگر جب وہ ایک تہذیب کا نام لے کر سرحدوں کو بےمعنی قرار دیتے ہیں تو ہم اسے ایک چال سمجھتے ہیں۔ پاکستانی ادیبوں کو اس معاملہ میں محتاط رہنا چاہئے۔'

قاسمی صاحب ادیبوں کی اس قسم سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں حقیقی معنوں میں دانشور کہا جاسکتا ہے۔ انٹرویو کے دوران پوچھے گئے مذکورہ سوال کے جواب میں انہوں نے 'آبرومندانہ امن' کی اصطلاح استعمال کر کے بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے ایک بہت بڑے عقدے کی گرہ کشائی کردی۔ ہم جس دنیا میں بس رہے ہیں وہاں کسی بھی ایک ملک یا خطے کا دیگر ممالک اور خطوں سے کٹ کر اور الگ ہو کر رہنا ممکن نہیں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف ممالک اور خطوں کے مابین قائم ہونے والے تعلقات کی حدود کا تعین کیسے کیا جائے کہ بہرطور ملکوں کے باہمی تعلقات صد فی صد انسانی رشتوں جیسے نہیں ہوتے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے لئے ہر قدم قواعد و ضوابط کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اٹھانا پڑتا ہے۔

مختلف ملکوں اور خطوں کے درمیان تعلقات کئی دائروں میں بٹے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں کہیں علاقائی و جغرافیائی صورتحال اپنا کردار ادا کرتی ہے تو کہیں نظریاتی وابستگی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ کہیں مشترکہ مفادات وجہِ اتحاد بنتے ہیں تو کہیں معاشی معاملات اختلاط کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔ ان سبھی صورتوں میں اگر کوئی ملک اپنا وقار اور سالمیت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کو آبرومندانہ سطح پر قائم کیا جائے۔

پاکستان اور بھارت ہمسایہ ممالک ہیں۔ ان دونوں کے درمیان مطابقت کے بھی کئی رشتے پائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، علاقائی امن و سلامتی کا دارومدار بھی بہت حد تک ان دونوں ہمسایوں کے باہمی تعلقات پر ہے۔ یہ رشتے اور علاقائی امن اس بات کے متقاضی ہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے صحت مند تعلقات قائم کر کے آگے بڑھیں اور یوں ایک دوسرے کے لئے امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کا وسیلہ بنیں۔ صحت مند تعلقات کے قیام کے لئے بنیادی کلیہ اسی بات کو بنانا پڑے گا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے وقار اور سالمیت کی قدر کرتے ہوئے باہمی معاملات میں افہام و تفہیم کے ساتھ ساتھ آبرومندانہ اتحاد کے اصولوں کو بھی اپنائیں۔ بصورتِ دیگر تعلقات تو شاید قائم ہوجائیں گے مگر ان کے مستحکم اور دیرپا ہونے کی ضمانت فراہم کرنا ممکن نہیں۔

بدھ، 1 جنوری، 2014

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی


10 ستمبر 2013ء کی بات ہے۔ ہم بعد از دوپہر کسی کام سے پریس کلب جانے کے لئے گھر سے نکلے تو رستے میں نہر کے پل والے اشارے پر پہنچ کر ہم نے دیکھا کہ ایک بزرگ گدھا گاڑی لیے کھڑے ہیں۔ انہوں نے گدھا گاڑی پر لکڑیوں کے گٹھے لاد رکھے تھے جو رسی کے کھلنے کی وجہ سے زمین پر گر پڑے تھے۔ لوگ قریب سے گزر رہے تھے مگر کوئی مدد کے لئے رکا نہیں۔ پہلے تو ہم بھی ان کے قریب سے گزر گئے مگر چند قدم ہی آگے گئے تھے کہ ضمیر نے لعنت ملامت شروع کردی کہ ایک بزرگ کو مدد درکار ہے اور تم ہو کہ دیکھتے بھالتے یوں انجان بن کر چلے پڑے ہو۔ اس احساس کا پیدا ہونا تھا کہ ہم نے موٹرسائیکل کا رخ موڑا اور چند ہی ثانیوں میں ان بزرگ کی مدد کرنے کے لئے ان کے پاس پہنچ گئے۔ ہم جا کر موٹرسائیکل کھڑی کر کے ابھی ان بزرگ کی طرف بڑھے ہی تھے کہ پیچھے سے ایک نجی کالج کے وردی میں ملبوس سات آٹھ طلبہ بھی ہاتھ بٹانے کے لئے آگئے۔ یہ سب دیکھ کر قریب سے گزرتا ہوا ایک نوجوان بھی اپنی موٹرسائیکل ایک طرف کھڑی کر کے اس عمل میں ہمارے ساتھ شریک ہوگیا۔

لکڑیاں بہت بھاری تھیں اور ہم دو دو افراد مل کر ایک ایک گٹھے کو اٹھا رہے تھے۔ کچھ ہی منٹوں میں وہ سب لکڑیاں دوبارہ گدھا گاڑی پر لاد دی گئیں اور پھر رسی اس احتیاط کے ساتھ باندھی گئی کہ ان بزرگ کو اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے دوبارہ کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
٭٭٭٭٭

اسی طرح چند روز پہلے ہم نے ایک سڑک پر گزرتے ہوئے ایک رکشہ دیکھا جس کے پیچھے لکھا ہوا تھا کہ یہ رکشہ فلاں فلاں علاقے میں رات 12 بجے سے صبح 5 بجے تک ایمبولینس کے طور پر مفت دستیاب ہے۔ نیچے ڈرائیور کا نام اور فون نمبر درج تھا۔
٭٭٭٭٭
 
کہنے کو تو یہ دونوں باتیں انتہائی معمولی سی ہیں اور اس طرح کے کئی واقعات آپ نے بھی اپنی روزمرہ زندگی میں دیکھے ہوں گے مگر ہم ان باتوں کو محض معمولی باتیں نہیں سمجھتے بلکہ ان کو معاشرتی بےحسی کی راکھ میں چھپی ہوئی حساس چنگاریوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے اور ملک کے بارے میں اکثر منفی باتوں کو ہی فروغ دیا جاتا اور ذرائع ابلاغ میں تو خاص طور پر چن چن کر ایسے واقعات کی تشہیر کی جاتی ہے جن سے ملک کی بدنامی میں اضافہ ہوتا ہے۔ آئے روز ہونے والے چشم کشا انکشافات کے باعث اب عام آدمی بھی اس بات سے بہت حد تک واقف ہوچکا ہے کہ ذرائع ابلاغ ایسا کس کے اشارے پر اور کیوں کرتے ہیں۔

اوپر بیان کی جانے والی دونوں باتوں میں جو چیز واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے وہ جذبۂ ایثار اور انسانی ہمدردی ہے۔ ہم اور ہمارے ساتھ ان بزرگ کا ہاتھ بٹانے والے نوجوان اس بات سے واقف نہیں تھے کہ ہم جس کی مدد کررہے ہیں اس کی نسل، مذہب یا عقیدہ کیا ہے اور نہ ہی اس رکشہ ڈرائیور کو اس بات سے کوئی سروکار ہے کہ اس سے رات گئے مدد مانگنے والا کس رنگ و نسل و مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔

یہ دونوں باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ہمارے لوگ جذبات و احساسات سے ابھی پوری طرح عاری نہیں ہوئے اور ان کے دلوں میں اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے لئے اعانت اور قربانی کے بنیادی جذبے ابھی کسی حد تک باقی ہیں۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ اگر ان جذبات و احساسات کو ٹھیک طرح سے استعمال کرتے ہوئے کوئی باقاعدہ صورت دیدی جائے تو یہی لوگ پاکستان کو ایک ترقی یافتہ اور خوشحال مملکت بنانے کے لئے مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔