Pages - Menu

ہفتہ، 22 فروری، 2014

یہ بچہ کس کا بچہ ہے؟؟؟

کچھ دیر قبل میں کسی کام سے بازار جانے کے لئے گلی میں نکلا تو گھروں سے کوڑا کرکٹ لینے والا شخص اپنے تین چھوٹے بچوں سمیت گدھا گاڑی لیے چلا آرہا تھا۔ میں جلدی میں تھا، سو دھیان دئیے بغیر گزر گیا۔ کچھ دیر کے بعد میں واپس آیا تو دیکھا کہ ایک مکان کے باہر اس شخص کی سات آٹھ سالہ بچی بیٹھی ایک مرے ہوئے رنگین چوزے کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ اس معصوم بچی کے لئے وہ مرا ہوا رنگین چوزہ بھی ایک دلکش کھلونا تھا کہ 'مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے۔'

میں وہاں تو کچھ آگے بڑھا تو اس شخص کا بچہ ایک گھر کی گھنٹی بجا رہا تھا تاکہ وہاں سے کوڑا کرکٹ لے سکے۔ وہ لڑکا عمر میں اپنی بہن سے ایک دو برس بڑا معلوم ہوتا تھا۔ اس سے تھوڑے ہی فاصلے پر ان دونوں کا چھوٹا بھائی کوڑے کرکٹ سے بھری اس گدھا گاڑی کے ایک کونے پر قبضہ جمائے دنیا کے مصائب و آلام سے بےخبر سورہا تھا۔ نجانے کیوں مجھے اس معصوم بچے کی پُرسکون نیند کے پیچھے معاشرتی ناہمواریوں اور معاشی عدم مساوات کا پیدا کردہ ایک ایسا اضطراب اور انتشار کارفرما دکھائی دیا کہ میں اس کی تصویر بنائے بغیر نہ رہ سکا۔

تصویر بنا لینے کے بعد میں نے اپنے مکان تک جو چند قدم کا فاصلہ طے کیا اس کے دوران ابنِ انشاء کی نظم 'یہ بچہ کس کا بچہ ہے' کا یہ بند مسلسل میں ذہن کے دریچوں میں گردش کررہا تھا:
اس جگ میں سب کچھ رب کا ہے
جو رب کا ہے، وہ سب کا ہے
سب اپنے ہیں، کوئی غیر نہیں
ہر چیز میں سب کا ساجھا ہے
جو بڑھتا ہے، جو اگتا ہے
وہ دانا ہے یا میوہ ہے
جو کپڑا ہے، جو کمبل ہے
جو چاندی ہے، جو سونا ہے
وہ سارا ہے اس بچے کا
جو تیرا ہے، جو میرا ہے
یہ بچہ کس کا بچہ ہے؟
یہ بچہ سب کا بچہ ہے!

جمعہ، 14 فروری، 2014

لفظوں کی کہانی، لفظوں کی زبانی

تھل سے، جسے تھر بھی کہتے ہیں، خشک، سپاٹ علاقہ مراد ہے یعنی اس لفظ سے دور دور تک سوکھی ہموار سطح کا تصور وابستہ ہے۔ یہ دراصل ایسے بہت سے لفظوں سے جڑا ہوا ہے جن سے پیندے، سپاٹ پن، نچلے حصے اور خشکی کے معنی برآمد ہوتے ہیں۔ تلا اور تھلا اور تھالا سامنے کے لفظ ہیں۔ تھال بڑی اور چپٹی سینی کو کہتے ہیں۔ تھالی تھال کی تصغیر ہے۔ ہندی میں تال جھیل کو کہتے ہیں گویا نشیب کا تصور بھی اس سے منسلک ہے۔ پاتال سے تحت الثریٰ کا سب سے نچلا طبقہ مراد ہوتا ہے۔ اردو میں جب آپ 'جل تھل ایک ہوجانا' بولتے ہیں تو ایسی طغیانی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جس میں دور دور تک پانی پھیلا دکھائی دیتا ہے۔ تل پٹ اور تل چھٹ کے معنی واضح ہیں۔ یونانی کے 'تھلاسا' (سمندر) اور تھل میں مماثلت ہے۔ لاطینی میں سمندر کو مارے (mare) کہتے ہیں اور یہ پنجابی کے 'مارو' سے قریب تر ہے۔ لاطینی میں زمین کے لئے tellus کا لفظ بھی ہے جو تل یا تھل سے کچھ قربت رکھتا ہے۔ زمین کے لئے لاطینی میں terra بھی مستعمل ہے جس سے خشکی اور یبوست کے معنی پیوستہ ہیں۔ یہ پنجابی کے 'تریہہ' سے ملتا جلتا ہے (اگرچہ 'تھر' اور 'ثریٰ' سے بھی میل کھاتا ہے۔ م س)

تل اپنے میں چونکہ نشیب کا تصور بھی رکھتا ہے اس لئے یہ وادی کے معنی بھی دیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ تل، تال، تھلا اور انگریزی کا dale (وادی) سب رشتے دار ہیں۔ اب سنیے کہ جرمنی میں جواخیمس تھال نامی ایک جگہ ہے۔ سولھویں صدی عیسوی میں وہاں چاندی کی کانیں تھیں۔ ان کانوں سے جو چاندی نکلتی تھی اس کا نام جواخیمس تھالر پڑگیا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس نام میں تھال کا مطلب وادی ہے۔ انسانوں کی ایک نوع نینڈر تھال کہلاتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس انسان کی باقیات سب سے پہلے نینڈر تھال نامی وادی سے دستیاب ہوئی تھیں۔ قصہ مختصر، جواخیمس تھال سے ملنے والی چاندی سے جو سکے گھڑے گئے وہ جواخیمس تھالر کہلائے۔ اتنے لمبے نام زبان پر آسانی سے نہیں چڑھتے۔ لوگوں نے چاندی کے ان سکوں کو تھالر کہنا شروع کردیا۔ یہی تھالر آخر ڈالر بن گیا۔ اگر ڈالر کا شجرۂ نسب درست ہے تو پھر اس پرانے گیت میں نئے معنی تلاش کئے جاسکتے ہیں: 'آپ کھائیں تھالی میں / ہم کو دیں پیالی میں / پیالی گئی ٹوٹ / چندہ ماموں گئے روٹھ'۔ حالانکہ روٹھنا ہمیں چاہئے تھا لیکن قہرِ درویش برجانِ درویش۔ (یاد آیا کہ اسی کتاب میں خالد احمد نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ 'درویش' کا تعلق در سے نہیں یعنی جو در در پھرے بلکہ درویدن اور دروہ سے ہے یعنی وہ جس نے پیوند لگے کپڑے پہن رکھے ہوں۔) جس کالم کا نچوڑ اوپر درج ہے اس میں اور بھی باتیں ہیں لیکن کالم کو اول تا آخر پیش کرنا مدِنظر نہ تھا۔ صرف ذائقہ چکھانا مقصود تھا۔

(خالد احمد کی 'لفظوں کی کہانی، لفظوں کی زبانی' میں شامل محمد سلیم الرحمٰن کے دیباچہ سے اقتباس)

جمعرات، 13 فروری، 2014

شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی

"پی ایچ ڈی کے مقالات کی تعداد بھی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ان مقالات میں ایک خرابی عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ وہ ضروری و غیرضروری مواد کے ڈھیر سے لدے پھندے ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ضخیم اور فربہ ہوتے ہیں۔ تحقیق کرنے والے کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اسے کیا شامل کرنا ہے اور کیا شامل نہیں کرنا ہے۔ تحقیق کا سارا رف ورک شامل کرنے سے مقالہ تو ضخیم ہوجاتا ہے لیکن اصل موضوع بےضرورت مواد اور پھیلاؤ کی وجہ سے دب کر رہ جاتا ہے۔ بعض مقالات کو پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف تحقیق کرنے والا اس ملبے کے نیچے دب گیا ہے بلکہ اس نے راستہ بھی گم کردیا ہے۔ اب جدید رجحان یہ ہے کہ مقالات میں صرف ضروری مواد شامل کیا جائے اور اختصار و جامعیت پر زور دیا جائے۔ یہ رجحان وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جائے گا۔ موجودہ تحقیقی مقالات کی خرابی کے ذمہ دار وہ استاد ہیں جو جامعات میں ان مقالات کے نگران ہیں اور خود فنِ تحقیق و تدوین کے اصول و مسائل سے نابلد ہیں۔"

یہ اقتباس ڈاکٹر جمیل جالبی کے مضمون 'تحقیق کے جدید رجحانات' سے تعلق رکھتا ہے اور یہ مضمون انہوں نے 1982ء میں لکھا تھا۔ افسوس، صد افسوس کہ تین عشروں سے زیادہ وقت گزر چکنے کے باوجود ہم نے تحقیق و تدقیق کے سفر میں کوئی ترقی نہیں کی بلکہ اگر ہماری جامعات میں ہونے والی سندی تحقیق کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم آگے کی بجائے پیچھے کی طرف جارہے ہیں۔ جالبی صاحب نے وقت کے ساتھ ساتھ تحقیقی رجحان کی ترقی کی جو بات کی تھی وہ کسی زندہ اور بیدار معاشرے پر تو صادق آسکتی ہے مگر ہم جیسے مردہ یا خوابیدہ معاشرے پر اس کا اطلاق شاید ممکن نہیں۔

اب ذرا اپنے جملہ تعصبات ایک طرف رکھ کر سوچئے کہ جس معاشرے میں پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ ترین ڈگری کے حصول کے لئے لوگ جھوٹ بولنے اور چوری چکاری پر یقین رکھتے ہوں وہاں ایک اوسط درجے کے پڑھے لکھے یا ان پڑھ سے زندگی کے مختلف امور کے ذیل میں کیا توقع کیا جاسکتی ہے؟ جہاں جدید جامعات کے آزاد ماحول میں روایتی یا معاصر تعلیم کے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز ہونے کے لئے لوگ تحقیق و تدقیق کا دامن تھامنے کی بجائے دھوکہ دہی، فریب کاری اور جعل سازی کا رجحان رکھتے ہوں، وہاں مسلکی بوجھ تلے دبے قدیم مدارس میں پڑھنے والے کمسن اور نوعمر بچوں سے ہم بھلا کس تحقیقی اور غیرجانبدارانہ رویے کی توقع کرسکتے ہیں؟ جہاں جدید اور خالص تحقیق کے نام پر گھسے پٹے اور فرسودہ خیالات و نظریات کو پرانی شراب کی طرح نئی بوتل میں بند کر کے پیش کرنے کا دستور مروج ہو، وہاں کسی اعلیٰ علمی و فکری روایت کے رواج پانے کی باتیں دیوانے کا خواب نہیں تو اور کیا ہیں؟

ہمارے ہاں سیاستدانوں کی جعلی ڈگریوں کے معاملات سامنے آئے اور بڑے بڑے نامور لوگوں کی پگڑیاں اچھلیں۔ اب ہائر ایجوکیشن کمیشن کو چاہئے کہ ذرا مختلف مضامین کے ماہرین کے طور پر پہچان رکھنے والے اور لاکھوں روپے ماہوار تنخواہیں اور مراعات پانے والے لوگوں کی بھی ڈگریوں کی پڑتال کرے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ اپنے ناموں کے ساتھ عہدوں اور ڈگریوں کے سابقے لاحقے لگانے والے کتنے لوگ حقیقۃً ان سابقوں لاحقوں کے اہل ہیں۔ ہم ادب و لسانیات کے ایک انتہائی ادنیٰ سے طالبعلم ہیں اور ہمیں ان شعبہ ہائے علم کے حوالے سے معلوم ہے کہ لاہور کے بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں بیٹھے ہوئے کتنے ہی 'ڈاکٹر' ایسے ہیں جنہوں نے اقربا پروری کی بوتل سے نکلے ہوئے جن کی مدد سے ڈگریاں حاصل کر کے عہدے اور مراعات حاصل کیں اور نامور ہوئے۔

بدھ، 5 فروری، 2014

میلادِ نبیؐ اور سننِ نبویؐ کی خلاف ورزیاں

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا علیہم السلام کی بعثت کا مقصدِ وحید عرفانِ ذاتِ لم یزل و لایموت تھا اور اس مقصد کے حصول کے لئے ان بزرگ اور برگزیدہ ترین بندگانِ خدا نے اپنی جانوں کی بھی پروا تک نہ کی۔ ان نیک، متقی اور پرہیزگار ہستیوں نے پیغام معرفت کو سعیِ پیہم اور جہدِ مسلسل سے دنیا کے کونے کونے تک پھیلا کر ظلمت کے پردوں کو چاک کیا اور انسانیت کو آفتابِ نورِ حق سے روشناس کرایا۔ ان کے مقدس وجود کے باعث نہ صرف افراد بلکہ اقوام کی زندگیاں اور تقدیریں بدل گئیں۔ ان کی صادق زبانوں سے نکلنے والا ہر ہر لفظ لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتا اور بالآخر لوگ ایمان کی دولت سے مالا مال ہونے میں ہی اپنی ذات کے لئے دائمی فلاح اورحقیقی نجات کو تلاش کرتے۔

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اگر آج دنیا میں کہیں انسانی اقدار، اخلاق، محبت، خلوص اور راست بازی کا وجود باقی ہے، تو اس کا سبب یہ نیک ہستیاں ہی ہیں، لہٰذا ان پاک ہستیوں کا تذکرہ کیا جانا اور ان کے حوالے سے دنوں کا منایا جانا اتنا ہی ضروری اور لازمی ہے جتنا کہ ان اقدار و روایات کا قائم رکھنا۔ یہ متقی ہستیاں اس قابل ہیں کہ ان کے اسمائے مبارکہ روپہلی قراطیس پر سنہری حروف میں لکھے جائیں تاکہ آئندہ اقوام ان صالح ہستیوں اور ان کے نیک اعمال کے بارے آگاہ ہو سکیں۔ ان ہستیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ہر قوم اور ملت کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ یہ نیک ہستیاں کسی ایک ملک، قوم یا ملت نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے سرمایۂ عزت و افتخار ہیں۔

گذشتہ دنوں وطنِ عزیز میں نبی آخرالزماں، پیغمبرِ ذیشاں، ہمدردِ غمزدگاں، شافعِ مذنباں، سیدِ صادقاں، سردارِ پرہیزگاراں، قرارِ قلب و جاں حضرت محمد ﷺ کا میلادِ مبارک نہایت عقیدت و احترام، محبت، ذوق و شوق اور ”دھوم دھام“ سے منایا گیا۔ اس دن کے منائے جانے پر شاید کسی کو بھی کوئی عذر یا اعتراض نہ ہوگا۔ تاہم اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کچھ لوگوں کو اس کے منائے جانے کے طریق کار پر اعتراض ہے اوراس میں وہ کسی حد تک حق بجانب بھی ہیں۔ اس کی ایک بیّن وجہ اسلام کا وضع کردہ طرزِ زندگی ہے، جس میں اس طرح کے کسی بھی دن کے منائے جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جو غیر مسلموں کے کسی تہوار سے مشابہت و مماثلت رکھتا ہو۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس بابرکت اور باسعادت دن کو مناتے ہوئے بھی ہم میں سے بہت سے لوگ ایسی حرکات و سکنات کے مرتکب ہوتے ہیں جو کہ قطعاً غیر اسلامی ہیں۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلامی طرزِ حیات کے برخلاف کسی فعل کا کیا جانا نبیِ محتشم ﷺ سے محبت کا اظہار مطلق نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بحیثیتِ مسلمان کوئی بھی شخص کسی بھی ایسے فعل کا ارتکاب کرنا کبھی بھی گوارا نہیں کرے گا، جس سے اسے نبیِ رحمت ﷺ کی حمایت و تائید کی بجائے آپ ﷺ کی مخالفت و ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے۔ بعض اوقات ہم انجانے میں اور بغیر کسی ارادے کے ایسے افعال کر بیٹھتے ہیں، جن سے ہمیں اپنی محبوب ہستی کی رنجیدگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری حتیٰ المقدور کوشش یہ ہونا چاہئے کہ ہم کسی بھی کام کے کرنے سے قبل یہ دیکھ لیں کہ آیا وہ ہستی جس سے ہمارا تعلق ہے یا جس کی خوشنودی کے لئے ہم اس کام کو کرنے جارہے ہیں، اسے اس کام سے خوشی بھی ہوگی یا نہیں؟

ہمارے یہاں آج کل جو کچھ میلادِ نبی ﷺ کے نام پر کیا جارہا ہے، اسے کوئی بھی ہوش مند، ذی خرد اور باشعور انسان کسی بھی طور اسلامی اقدار و روایات کے پیش نظر عملِ صالح کا نام نہیں دے سکتا۔ حیف صد حیف کہ اب ہم میلادِ پیمبر اعظم ﷺ کو بھی بسنت نائٹ، جشنِ بہاراں، ویلنٹائن ڈے اور دیگر غیر اسلامی و غیر اخلاقی تہواروں کے رنگ میں رنگنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ 12 ربیع الاول کے اگلے روز ایک قومی روزنامہ میں ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے ”مسلمان“ نوجوانوں کو دیکھ کر اس قدر رنج و ملال ہوا کہ جس کا الفاظ میں بیان کرنا غیرممکن محسوس ہوتا ہے۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک طرف تو ہمارے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں ایسی بہنیں، بچیاں اور بیٹیاں موجود ہیں جنہیں تن ڈھانپنے کے لئے پورے کپڑے تک میسر نہیں اور دوسری طرف ”سرکار کی آمد مرحبا، دلدار کی آمد مرحبا“ کے نعروں والے لاکھوں جھنڈے اور بینر گلیوں، محلوں اور سڑکوں پر لہرا رہے ہوتے ہیں۔ حیرت ہے کہ عاشقانِ رسولؐ کے ہوتے ہوئے اس ملک پر امریکہ نواز، مغرب پرست، اسلام دشمن اور پاکستان مخالف لوگ ایوان ہائے اقتدار و اختیار میں بیٹھے حکمرانی کررہے ہیں۔ اسی پر بس نہیں یہ روشن خیال اور ماڈریٹ ٹولہ امریکہ کے طرف سے موصول ہونے والے ہر حکم پر سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے اسے فوراً بامِ تکمیل سے ہمکنار کرانا اپنا فرضِ جانتا ہے۔ یہ نہایت شرم کی بات ہے کہ اس کے باوجود ہم میں سے ہر ایک خود کو دھڑلے سے پکا مسلمان اورسچا عاشقِ رسولؐ کہتا ہے۔

اسلامی عقائد و نظریات کے مطابق چونکہ نبی پاک ﷺ کو سردار الانبیا اور سیدالبشر مانا جاتا ہے، لہٰذا آنحضرت ﷺ کے حوالے سے ایک دن کا مخصوص کیا جانا اور اس کا منایا جانا ایک احسن امر ہے لیکن نبی مکرم ﷺ نے چونکہ اپنی پوری زندگی قواعد و ضوابط کے مطابق گزاری ہے چنانچہ اس دن کو منائے جانے کے بھی کچھ اصول ہونا چاہئیں اور اس دن کو ان اصولوں کے مطابق ہی گزارا جانا چاہئے۔ اس دن کو ایک تہوار کے طور پر منائے جانے سے کہیں بہتر اور افضل ہوگا کہ ہم اس دن کو تحدیثِ نعمتِ ربانی، شکرِ ایزدی اور تجدیدِ عہد ِ مسلمانی کے طور پر منائیں تاکہ اس دن کا ایک واضح مقصد دنیا کے سامنے آسکے۔ اگر ہم اس دن کو واقعی منانا چاہتے ہیں تو ہم سب پر یہ فرض ہے کہ ہم اس دن کو اس طرح سے منائیں کہ اس پورے دن میں اللہ رب العزت کی رضا اور نبی پاک ﷺ کی سنت کے خلاف کوئی عمل نہ کریں اور دن کے اختتام پر خدائے بزرگوار کے حضور سربسجود ہو کر اپنے سابقہ گناہوں کی معافی طلب کریں اور یہ عہد کریں کہ آئندہ اپنی پوری زندگی میں منشائے مالک الملک اورسننِ محمدیؐ کے خلاف
کبھی بھی کوئی بھی کام نہیں کریں گے۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہیں، تو پھر اس دن کو مروجہ طریقوں سے منا کر اللہ خالق و صانعِ ارض و سماوات اور اس کے محبوب نبی ﷺ کے خلاف چلنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔

پس نوشت: ہمارا یہ مضمون آج سے نو برس قبل ایک قومی روزنامہ میں شائع ہوا تھا۔ افسوس کہ تقریباً ایک عشرے کے بعد حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑ گئے ہیں۔ ہم اپنے آئندہ مضمون میں اس مزید بگڑی ہوئی صورتحال پر بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔