Pages - Menu

اتوار، 14 دسمبر، 2014

میرے بہترین دو گھنٹے


سرکاری ملازمت کی وجہ سے مجھے جو کچھ ناپسندیدہ کام کرنے پڑتے ہیں انہی میں سے ایک کام پر مجھے ان دنوں مامور کیا گیا ہے۔ میرے چھوٹے بیٹے عبدالرحمٰن کے شدید علالت کے باعث اسپتال میں ہونے کے باوجود میں صبح سے شام تک بےتکان اس کام کی انجام دہی میں لگا رہا کیونکہ میرے لیے یہ ایک نیا تجربہ ہے جس کی وجہ سے مجھے سرکاری نظام کے بہت سے معاملات کو سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔ یہ کام کیا ہے اور اس کی وجہ سے میں نے کیا کچھ جانا ہے اس پر میں کسی اور وقت بات کروں گا کیونکہ یہ ایک طویل موضوع ہے اور ابھی دامنِ وقت میں اتنی گنجائش نہیں کہ میں اس موضوع پر بات کرسکوں۔

خیر، گزشتہ روز کام کے دوران اتفاق سے دو گھنٹے کا وقفہ مل گیا۔ میں چونکہ کلمہ چوک کے قریب تھا، لہٰذا سوچا کہ گھر جانے کی بجائے 'ریڈنگز' کا رخ کیا جائے کہ پچھلے تقریباً دو ماہ سے ادھر جانے کا موقع ہی نہ مل پایا تھا۔ کلمہ چوک پر انجینئروں کی بنائی ہوئی بھول بھلیوں سے گزر کر میں چند ہی منٹ میں ریڈنگز پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر پہلے کچھ الماریوں پر سرسری سی نظر ڈالی اور پھر فلسفے کے شعبے میں جا کر برٹرنڈ رسل کی History of Western Philosophy لے کر فرش پر پڑی گدی پر بیٹھ گیا۔ آدھ پون گھنٹے تک جناب رسل کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیے بیٹھا رہا، پھر اٹھ کر کتاب رکھی اور دکان سے باہر نکل گیا کہ ایک دوست مجھے ملنے کے لیے آنے والے تھے۔ ٹیلیفون پر رابطہ ہوا تو پتہ چلا کہ انہیں مزید ایک گھنٹہ لگ سکتا ہے۔ میں پھر دکان کے اندر چلا گیا۔

اندر جا کر میں کسی اجنبی شہر میں نووارد کی طرح ادھر ادھر گھومنے پھرنے لگا۔ مختلف شعبوں کی کتابوں کے ساتھ تاکا جھانکی کے دوران ایوب خاور کی 'محبت کی کتاب' پر نظر پڑی۔ کتاب کا سرورق اور اس پر لکھا ہوا گلزار کا جملہ اچھا لگا تو میں نے کتاب اٹھائی اور غیرارادی طور پر اسے پڑھنا شروع کردیا۔ ایوب خاور کا پونے دو سو صفحات کو محیط یہ منظوم ناول اس حد تک دلچسپ، مسحور کن اور عمدہ تھا کہ میرا اسے چھوڑنے کو جی ہی نہ چاہا۔ پڑھنا شروع کیا تو پھر پڑھتا ہی چلا گیا۔ سنیچر کے روز ریڈنگز میں لوگوں کا ہجوم معمول سے زیادہ ہوتا ہے اور اپنے انتہائی خوبصورت بچوں کے ساتھ ایسی بہت سی بیبیاں بھی آئی ہوتی ہیں جنہیں مونی محسن 'سوشل بٹرفلائیز' کہتی ہیں۔

خیر، 'محبت کی کتاب' ہاتھ میں تھی اور میں دنیا و مافیہا سے بےخبر بس اسے پڑھتا چلا جارہا تھا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ایوب خاور نے ایک اچھے کہانی کار اور منجھے ہوئے شاعر کی طرح شروع سے آخر تک ہر مصرعے اور لفظ کو اس خوبصورتی سے چنا اور برتا ہے کہ قاری کا دھیان بھٹکنے کا کوئی امکان ہی نہیں رہتا۔ کتاب کا آخری صفحہ پڑھ کر کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر دوڑائی تو میرا دو گھنٹے کا وقفہ ختم ہوچکا تھا لیکن 'محبت کی کتاب' نے دل کو کچھ ایسا سرشار کردیا تھا کہ یوں لگا جیسے گزشتہ تین چار ماہ سے ذہن کے دریچوں پر پڑی بیزاری اور اضطراب کی گرد ایوب خاور کے الفاظ کی پھوہار سے دھل گئی ہو۔

'محبت کی کتاب' کے مصنف کو زیادہ تر لوگ ٹیلیویژن ڈراموں کے تجربہ کار ڈائریکٹر اور ایک اچھے شاعر کے طور پر جانتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ ناول پڑھا جائے تو گلزار کی اس بات پر یقین آجاتا ہے کہ 'ایوب خاور نے وہ کام کیا ہے جو صرف وہی کرسکتا تھا۔' کہانی بیان کرتے ہوئے ایوب خاور نے جس بھلے انداز میں پنجابی اور اردو کے امتزاج سے لسانی ترکیبات بنائی اور استعمال کی ہیں، اس کا حقیقی لطف وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو لسانی تشکیلات کے 'کھیل' سے دلچسپی رکھتے ہیں اور ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والی مذکورہ دونوں  زبانوں کے ملاپ سے وجود میں آنے والی ترکیبات کی چاشنی سے واقف ہیں۔ علاوہ ازیں، 'کوڈ سوئچنگ' کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے انگریزی کے الفاظ و تراکیب کو جس انداز سے برتا گیا ہے وہ مذکورہ ناول کے موجودہ دور سے متعلق ہونے پر دال ہے۔

مصنف نے اس ناول میں صرف محبت کی ایک کہانی ہی بیان نہیں کی بلکہ ہمارے ہاں معاشرتی ناہمواریوں کی جو مختلف النوع شکلیں پائی جاتی ہیں انہیں بھی موضوعِ بحث بنایا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو 'محبت کی کتاب' ایک بھرپور ناول ہے جس میں ہمارے معاشرے کے فکری ڈھانچے اور دہرے رویوں سے پیدا شدہ مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ہماری معاشرتی دو عملیوں کے حوالے سے کتابوں میں موجود ایسی تنقیدی باتیں حقیقی زندگی کا حصہ اور صحت مند و نتیجہ خیز مباحث کا موضوع اسی وقت بن سکتی ہیں جب 'محبت کی کتاب' جیسی تصنیفات کتب فروشوں کی دکانوں سے نکل کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچیں اور ان کتابوں میں بیان کردہ فکر انگیز نکات ہماری اجتماعی ذہنی ساخت  و پرداخت پر اثر انداز ہوں۔

منگل، 18 نومبر، 2014

عصبیتوں اور درجے بندیوں سے آزاد ایک عام پاکستانی


میں ایک عام پاکستانی ہوں جو فرقہ وارانہ عصبیتوں اور معاشرتی درجے بندیوں سے ہٹ کر زندگی کو دیکھنے اور جانچنے کا ایک منفرد اور یگانہ نہیں تو کم از کم معتدل نظریہ ضرور رکھتا ہے۔ میں اپنی اس بات کے عین الٹ بھی ہوسکتا ہوں اور میرے ملک میں ایسے سینکڑوں ، ہزاروں یا لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ موجود ہیں جو اس زندگی کے اس قرینے کو حرزِ جاں بنائے ہوئے ہیں اور وہ اپنے نظریے کے برعکس کچھ دیکھنا اور سننا گوارا کر ہی نہیں سکتے، اور نہ ہی وہ اپنے معاشرتی درجے سے نیچے اتر کر کسی چیز کا جائزہ لینے کو تیار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نظریات و درجات کے کیل کانٹوں سے لیس افراد و اجتماعات کے اس معاشرے میں کسی بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے؟ ایک رجائیت پسند آدمی کے طور پر تو میں اس بات کا جواب اثبات میں ہی دوں گا لیکن اگر ذرا دیر کو میں حقیقت پسندی کا چشمہ آنکھوں پر چڑھا لوں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ میرا جواب اس سے مختلف بھی ہوسکتا ہے۔

میرے ملک میں جن طبقات کو سب سے زیادہ طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں سے ایک طبقہ ان مذہبی حضرات کا ہے جو عبادت گاہوں میں عموماً قلیل معاوضے کے عوض مختلف مذہبی رسومات و عبادات کی انجام دہی کے فریضے کو اپنے ذمے لیے ہوئے ہیں۔ میرے معاشرے میں مدرسے میں پڑھنے والا بچہ اپنے ہم چشموں کی طرح عام بچوں کے ساتھ کھیل کود میں حصہ نہیں لے سکتا لیکن کروڑوں لوگوں کی طرح میں توقع یہی کرتا ہوں کہ اس کا رویہ اپنے باقی ہم عمروں سے بہتر نہیں تو کم از کم ان جیسا ضرور ہونا چاہیے۔ میں نے کبھی خود سے یہ بات پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ مدرسے کی چار دیواری کے اندر ایک مخصوص طرز کے مطابق زندگی جینے کا سلیقہ سیکھ کر کئی برس بعد جب وہ بچہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا ہوگا اس وقت میں اسے اپنے محلے کی مسجد کی ذمہ داری سونپ کر معاشرے کے باقی لوگوں سے کاٹ دوں گا تو وہ کٹا پھٹا آدمی ایک غیرمعمولی زندگی کیونکر نہیں جیے گا؟ میں نے کبھی یہ جاننے میں بھی دلچسپی نہیں لی کہ میرے محلے کی مسجد کے امام/خطیب، موٴذن یا خادم کے ساتھ جب محلے کے لوگ ایک عام آدمی جیسا میل جول نہیں رکھتے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ مسجد کے چندے یا محلے کے مخیر حضرات کے رحم و کرم پر پلنے والے مذکورہ افراد کی گزر بسر کیسے ہوتی ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود میں ان افراد سے یہ امید رکھنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ وہ معاشرے میں لوگوں کے ذہنوں، رویوں اور کردار پر مثبت طریقے سے اثرانداز ہوں اور ان میں ایسی انقلاب آفریں تبدیلی لائیں کہ وہ لوگ ایک عادلانہ اور منصفانہ نظام کے قیام کے لیے کوشاں ہوجائیں۔

میرے وطن میں سب سے زیادہ رشک اور تحسین کی نگاہ سے جن طبقات کو دیکھا جاتا ہے ان میں سے ایک طبقہ ان سرکاری افسران کا ہے جن کی اکثریت چودہ جماعتیں پڑھنے کے بعد مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہو کر ”عوامی خدمت“ کے لیے ملازمت کا آغاز کرتی ہے۔ اس ملازمت کے پہلے مرحلے میں ہی ان افسران کو جس تربیت گاہ میں ملک بھر سے اکٹھے کیا جاتا ہے وہاں ان کو ایسا طرزِ بود و باش سکھایا جاتا ہے جس سے انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ آگے چل کر انہوں نے نہ تو عام آدمی کی طرح زندگی گزارنی ہے اور نہ ہی عام آدمی سے تعلقات کی کوئی معقول سطح قائم کرنا ان کے لیے مفید اور سودمند ثابت ہوگا۔ تربیت کے مختلف مراحل سے گزرنے کے دوران ان مستقبل کے افسران کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح نقش ہوجاتی ہے کہ اس ملک کے عوام کی تقدیر کے وہ خالق ہیں اور ساتھ ہی ان میں وہ شانِ بے نیازی بھی پیدا ہوجاتی ہے جو خالقِ تقدیر کا الوہی و انفرادی وصف ہے۔ یہ نئے نویلے افسران جب ملازمت کی باقاعدہ شروعات کرتے ہیں تو اس شانِ بے نیازی کی حفاظت کے لیے انہیں کچھ پاسداران بھی مہیا کردیئے جاتے ہیں اور ان پاسدارانِ بے نیازی کی تعداد عہدوں میں ترقی کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اب یہ افسران نہ تو عام معاشرے کا حصہ رہتے ہیں اور نہ ہی انہیں معاشرے میں بسنے والے عام لوگوں کے حالات کے بارے میں کوئی خبر ہونے پاتی ہے۔ اس سب کے باوجود میں یہ خوش کن خیال اپنے دل میں پالے رکھتا ہوں کہ یہ افسران عوامی خدمت کی ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دیں اور عام آدمی کے لیے معاشی ناہمواریوں اور دیگر مختلف النوع وجوہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا مستحکم اور مستقل حل فراہم کریں۔ علاوہ ازیں، میں بھی چاہتا ہوں کہ ان میں سے ہر شخص خود کو افسر سمجھ کر شاہانہ زندگی گزارنے کی بجائے اپنے آپ کو عوام کا خادم خیال کرتے ہوئے عام آدمیوں کی طرح جیے۔

نظریاتی عصبیتوں اور معاشرتی درجے بندیوں کی قید میں گرفتار مذکورہ دونوں طبقات سے توقعات کا ایک جہان وابستہ کرنے والا میں خود ان دونوں طبقات میں سے کسی سے بھی تعلق نہیں رکھتا کیونکہ میں تو ایک عام پاکستانی ہوں جو عصبیتوں اور درجے بندیوں سے ہٹ کر زندگی کو دیکھنے اور جانچنے کا ایک منفرد اور یگانہ نہیں تو کم از کم معتدل نظریہ ضرور رکھتا ہے۔ اپنے اسی معتدل نظریے کے ساتھ میں نے 9 نومبر کو قومی جوش و جذبے سے سرشار ہو کر علامہ اقبال کا یومِ ولادت بہت دھوم دھام سے منایا اور اقبال کے خواب کے نتیجے میں شکل پذیر ہونے والے اس خطہٴ ارض کے استحکام کے لیے دل سے دعا بھی مانگی کیونکہ اس دیس میں نہ تو میرے مذہبی نظریے کو کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی مجھ پر کوئی غیر حکمرانی کررہا ہے۔

پس نوشت: یہ مضمون روزنامہ 'نئی بات' کے ادارتی صفحات پر 11 نومبر، 2014ء کو شائع ہوا۔

ہفتہ، 16 اگست، 2014

مسئلہ زبان کا نہیں، اقتدار کا ہے


گزشتہ ماہ کے وسط میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے مسلم لیگ (نواز) کی رکن اسمبلی ماروی میمن کی جانب سے مقامی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کے بل کو اکثریت رائے سے مسترد کردیا۔ بل میں بلوچی، بلتی، براہوی، پنجابی، پشتو، شینا، سندھی اور سرائیکی کو اردو کے ساتھ قومی زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں، نیشنل لینگوئج کمیشن کی جانب سے تسلیم کی گئی دیگر تمام بڑی مادری زبانوں کے لئے بھی مذکورہ بل میں یہی مانگ کی گئی تھی۔ 

قائمہ کمیٹی جب یہ بل پیش ہوا تو اس کے حق میں صرف ایک ووٹ پڑا جو مسلم لیگ (نواز) کے رکن اسمبلی سردار امجد فاروق کھوسہ نے ڈالا۔ ماروی میمن خود چونکہ قائمہ کمیٹی کی رکن نہیں ہیں، لہٰذا انہیں اس بل کے لئے ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں تھی۔ ادھر، تحریک انصاف اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ارکان نے بل کی مخالفت کی جبکہ ایم کیو ایم کے رکن نے ووٹ ڈالنے سے ہی گریز کیا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سندھی کے لئے قومی زبان کے درجے کا مطالبہ کرنے والے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی ایاز سومرو نے بھی بل کے مخالف ووٹ دیا۔

ماروی میمن نے اپنے پیش کردہ بل میں جس نیشنل لینگوئج کمیشن کی بات کی ہے، وہ بھی ابھی تک وجود میں نہیں آیا اور مسلم لیگ (نواز) کے دیگر سیاسی وعدوں کی طرح انتخابی منشور کے سردخانے میں ہی پڑا ہوا ہے۔ ماروی میمن نے 2011ءمیں بھی ایک ایسا ہی بل پیش کیا تھا جسے مسترد کردیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں، سینیٹ میں بھی اے این پی کے حاجی عدیل کی جانب سے پیش ہونے والا اسی نوعیت کا ایک بل پہلے ہی رد کیا جاچکا ہے۔

حاجی عدیل یا ماروی میمن کی جانب سے مقامی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے والے بلوں کی بات تو سمجھ میں آتی ہے اور اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ ان تجاویز پر کس حد تک عملدرآمد ممکن ہے، لیکن گزشتہ اسمبلی میں پیش کیا جانے والا ایک بل ناقابل فہم قسم تھا اور شکر ہے کہ اسے مسترد بھی کردیا گیا۔ مذکورہ بل میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اردو کو قومی زبان کی بجائے دوسری پاکستانی زبانوں جیسا درجہ دیدیا جائے اور جب تک یہ زبانیں ترقی یافتہ صورت اختیار نہیں کرتیں، انگریزی متبادل زبان کے طور پر دفاتر میں رائج رکھی جائے۔ ہمیں اس بل اور اس کی تفصیلات کے بارے میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے تحقیقی مجلے ’معیار‘ کے جنوری-جون 2013ءکے شمارے کے ادایے کی وساطت سے علم ہوا۔

یہ تو ایک حقیقت ہے کہ زبانوں کی ترویج و اشاعت ان کے ساتھ وابستہ روزگار کے ذرائع کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہم پر یہ حقیقت واضح ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگنی چاہئے کہ اردو اور مقامی زبانیں پاکستان میں دستور کے آرٹیکل 28 کے تحت تحفظ حاصل ہونے کے باوجود تنزلی کا شکار کس وجہ سے ہیں۔ ویسے بھی ہمارے ہاں دستور میں شامل باقی آرٹیکلز پر کون سا عملدرآمد ہورہا ہے جو اس ایک آرٹیکل پر عملدرآمد نہ ہونے سے کوئی مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔

خیر، ماروی میمن کے پیش کردہ بل میں کہا گیا ہے کہ تمام قومی ریاستوں میں تمام بڑی مادری زبانوں کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہوتا ہے، لہٰذا پاکستان میں بھی تمام بڑی مادری زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دیا جانا چاہئے۔ یہ بات حقائق کے منافی ہے۔ ہمارے ساتھ موجود بھارت میں صرف انگریزی اور ہندی کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے جبکہ اردو، پنجابی، سندھی اور بنگالی سمیت بائیس زبانوں کو آئین کے آٹھویں شیڈول کے تحت سرکاری زبانیں قرار دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم بات یہ ہے کہ بھارت میں ریاستوں یا صوبوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قانون سازی کے ذریعے کسی زبان کو صوبائی سطح پر سرکاری زبان کا درجہ دے سکتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہاں آئین کے تحت سرکاری زبان کا درجہ حاصل کرنے والی بڑی مادری زبانوں کو یہ اہمیت بھی حاصل ہے کہ مقابلے کے امتحانات میں حصہ لینے والے امیدوار ان میں سے کسی بھی زبان کو اختیار کرسکتے ہیں۔

بھارت کی مثال کو سامنے رکھ کر پاکستان کی جانب دیکھا جائے تو یہاں صورتحال یہ ہے کہ اردو کو آئین کے آرٹیکل 251 کے تحت قومی زبان کا درجہ حاصل ہونے کے باوجود اس قابل نہیں سمجھا جاتا کہ مقابلے کے امتحانات میں امیدوار اسے اختیار کرسکیں۔ 1973ءکے آئین میں اردو زبان کے نفاذ کے لیے پندرہ برس کا دورانیہ مقرر کیا گیا تھا لیکن آج چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکنے کے باوجود سرکاری سطح پر اردو کو کہیں بھی نافذ نہیں کیا گیا۔ حد یہ ہے کہ 1979ءمیں اردو زبان کے نفاذ اور ترویج و اشاعت کے لیے وفاقی سطح پر قائم کیا جانے والا بڑا اور مرکزی ادارہ جو ایک وقت تک ’مقتدرہ قومی زبان‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور ایک خودمختار ادارے کی حیثیت سے کام بھی کررہا تھا، اب اپنا اقتدار کھونے کے بعد ’ادارہ فروغِ قومی زبان‘ بن کر رہ چکا ہے اور وزارتِ اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ کے ذیلی ادارے کی حیثیت سے زندگی کے دن پورے کررہا ہے۔

ہمارے ہاں مقامی زبانوں کا مسئلہ تو ایک طرف رہا، پاکستان میں مقتدر طبقات کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ اردو کو ہی اس حد تک اہمیت حاصل ہوجائے کہ وہ حقیقتاً قومی زبان کے درجے پر فائز ہوسکے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ اگر اردو کو مقابلے کے امتحانات اور دیگر اہم معاملات کے لیے وسیلہ ¿ اظہار بنانے کی اجازت دیدی جائے تو مخصوص اداروں اور خاندانوں کی اجارہ داری ٹوٹ جائے گی اور ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ایسے عام پاکستانی مقتدر و مختار بن جائیں گے جن کی گردنوں میں غلامی کا طوق پہنا کر بیوروکریٹ اور سیاستدان ان پر نسل در نسل حکومت کرتے چلے آرہے ہیں۔

پس نوشت: یہ مضمون روزنامہ 'نئی بات' کے ادارتی صفحات پر 12 اگست، 2014ء کو شائع ہوا۔

بدھ، 13 اگست، 2014

اسبابِ مسرت کی دستیابی


ہمارے مسائل کا علاج یہ ہے کہ لوگوں کو معقول بنایا جائے اور انھیں معقول بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی تعلیم معقول طور پر ہو۔ اس وقت تک ہم جن عوامل پر غور کرتے رہے ہیں ان سب کا رجحان تباہی کی طرف ہے۔ توہم پرستی، حماقت اور حقیقت کے ناکافی احساس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ جنسی تعلیم اکثر اعصابی عارضے پیدا کرتی ہے اور جہاں یہ ظاہراً ایسا نہ کرے وہاں بھی اکثر لاشعور میں پریشانی کا بیج بو دیتی ہے، جس سے بالغ زندگی کی خوشی ناممکن ہوجاتی ہے۔ مدارس میں جس قومیت کی تعلیم دی جاتی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ نوجوان کا نہایت اہم فرض انسانوں کا قتل ہے۔ طبقاتی احساس سے اقتصادی بےانصافی پر رضامندی روز بروز بڑھتی ہے اور مقابلے سے سماجی کشمکش میں سنگ دلی کا اضافہ ہوتا ہے۔ کیا یہ بات قابلِ تعجب ہے کہ وہ دنیا جس میں ریاست کی سب طاقتیں نوجوانوں میں ویوانگی، حماقت، قتلِ انسان کے لیے مستعدی، اقتصادی بےانصافی اور سنگ دلی پیدا کرنے میں مصروف ہوں، وہ دنیا خوش نہیں ہے؟ کیا ایسے آدمی کو بدکردار اور مخربِ اخلاق ہونے کا مجرم قرار دیا جاسکتا ہے جو عہدِ حاضر کی اخلاقی تعلیم میں ان برائیوں کی جگہ عقل، شفقت اور احساسِ انصاف کو جگہ دینا چاہتا ہے؟ دنیا میں اس قدر ناقابلِ برداشت حد تک کشیدگی ہے، وہ اس قدر نفرت سے لبریز ہے، یوں بدبختیوں اور تکلیفوں سے اٹی پڑی ہے کہ انسان اس متوازن قوتِ فیصلہ کو کھو بیٹھے ہیں جو اس دلدل سے نکلنے کے لیے ضروری ہے، جس میں انسانیت لڑکھڑا رہی ہے۔ ہمارا زمانہ اتنا پُر اضطراب ہے کہ بہت سے بہترین انسان بھی مایوس ہوگئے ہیں۔ لیکن مایوسی کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ انسانی نسل کی مسرت کے اسباب موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انسانیت ان کے استعمال کو پسند کرے۔

برٹرنڈ رسل کی مشہور تصنیف ’Education and the Social Order‘ کے اردو ترجمہ ’نظامِ معاشرہ اور تعلیم‘ کا فلیپ۔ مترجم جی آر عزیز ہیں اور یہ کتاب مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور نے آخری بار فروری 1988ء میں شائع کی تھی۔

جمعرات، 7 اگست، 2014

زمیں جنبد، نہ جنبد گل محمد


تعلیم اور صحت دو ایسے شعبے ہیں جنہیں دنیا بھر میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہر ملک کے بجٹ میں ان دونوں شعبوں کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ قومی ترقی کے حوالے سے بھی دیکھا جائے تو یہ دونوں شعبے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان شعبوں کی بہتری کسی بھی ملک کے باشندوں کی جسمانی و فکری تنومندی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ یہی افراد آگے چل کر ملکی بہبود کے لیے وہ خدمات سرانجام دیتے ہیں جو دنیا میں ان ممالک کی سربلندی کا باعث بنتی ہیں۔

پاکستان میں جہاں دوسرے تقریباً تمام شعبے عدم توجہی کے باعث تنزلی کا شکار ہورہے ہیں، وہیں مذکورہ دونوں شعبے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی ترقی کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ان دونوں شعبوں کا زوال ہے۔ قومی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ان شعبوں کو پاکستان میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے کس درجہ نظر انداز کیا جاتا ہے اس بات کا پتہ سرکاری اسپتالوں اور اسکولوں اور کالجوں میں جا کر چلتا ہے۔ اندریں حالات، ملکی ترقی کی رفتار بالکل وہی سکتی ہے جو پاکستان میں ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی کی جانب سے انسانی ترقی کے حوالے سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم اور صحت کے حوالے سے پاکستان خطے کا غریب ترین ملک ہے۔ رپورٹ کے مطابق 187 ممالک کی فہرست میں پاکستان146ویں نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ، نیپال اور بھوٹان نے گزشتہ برس کی نسبت انسانی ترقی کے ضمن میں بہتری کا رجحان ظاہر کیا ہے، تاہم پاکستان پچھلے برس بھی اسی نمبر پر تھا جہاں اس سال کھڑا ہے۔

11 مئی 2013ء کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر جو حکومتیں وجود میں آئیں وہ بظاہر ایک دوسرے سے مختلف سیاسی نظریات کی حامل جماعتوں پر مشتمل ہیں۔ سیاسی نظریات میں اختلاف رکھنے کے باوجود چاروں صوبوں اور مرکز میں حکومتی معاملات چلانے پر جو افراد مامور ہیں ان کی کارکردگی کم و بیش ایک جیسی ہی ہے۔ کوئی ایک شعبے کو باقی شعبوں کی قیمت پر ترجیح دے رہا ہے تو کسی نے دوسرا شعبہ پکڑ رکھا ہے لیکن پانچوں میں سے کوئی ایک بھی حکومت ایسی نہیں جس کی کارکردگی کو تمام شعبوں کے حوالے سے معیاری نہیں تو کم از کم تسلی بخش قرار دیا جاسکے۔

اٹھارھویں ترمیم کے بعد تعلیم اور صحت کے شعبے صوبائی حکومتوں کے حوالے کردیئے گئے تھے۔ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے مسلم لیگ (نواز)، تحریکِ انصاف، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی سمیت تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں کہیں نہ کہیں انتظامی حیثیت میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ اس کردار کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے وہ یو این ڈی پی کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کی صورت میں آپ کے سامنے ہے کہ ہمارا ملک ترقی کے حوالے سے ’زمیں جنبد، نہ جنبد گل محمد‘ والی صورتحال سے دوچار ہے۔

سیاسی نظریات کے اختلاف کے بنیاد پر ایک دوسرے کو دن رات الزامات دینے والے کارکردگی کی بنیاد پر خود کو بہتر ثابت کرنے کی حکمت عملی پر کسی بھی طور آمادہ نظر نہیں آتے۔ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ شور تحریکِ انصاف کی طرف سے مچایا جارہا ہے اور کسی نادیدہ ہاتھ کے اشارے پر مسلم لیگ (نواز) کی مرکزی حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی بھرپور کوشش بھی کی جارہی ہے۔ اول الذکر جماعت سے وابستہ افراد کے سامنے جب خیبر پختونخوا میں ان کی کارکردگی پر سوال اٹھائے جاتے ہیں تو وہ ان سوالات کے تسلی بخش جواب دینے کی بجائے سوال اٹھانے والوں کو ہی کوسنے دینے لگتے ہیں۔

پنجاب اور مرکز میں بلا شراکت غیرے اقتدار پر براجمان مسلم لیگ (نواز) کا بھی یہی حال ہے کہ ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکنے کے باوجود عوامی مسائل کا حل محض کھوکھلے نعروں کی صورت میں فراہم کیا جارہا ہے۔ توانائی کا بحران جو پوری معیشت کو ڈبو چکا ہے اور جو کچھ باقی رہ گیا اس کو بھی نگلنے کے در پے ہے، اس کے حوالے سے مسلم لیگ (نواز) کی جانب سے ابھی تک کوئی ایسی حکمت عملی سامنے نہیں آئی جسے اطمینان بخش قرار دیا جاسکے۔

ملک اگر کھوکھلے نعروں کی بنیاد پر ترقی کرسکتے تو آج پاکستان دنیا کا ترقی یافتہ ترین ملک ہوتا لیکن ایسا ہو نہیں سکتا اور افراد کو باتوں، دعووں اور وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی جدوجہد بھی کرنا پڑتی ہے۔ سیاسی میدان کے کھلاڑیوں کو چاہئے کہ وہ عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد ایک دوسرے کی پتلون کا پرچم بنا کر ہوا میں لہرانے پر ہی اکتفا نہ کریں بلکہ قومی ترقی کے لیے بھی کچھ ایسے اقدامات کریں جو اقوامِ عالم میں ہماری توقیر کا باعث بن سکیں۔

ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق مومن وہ ہے جس کا آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بہتر ہو۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہم لوگ مومن کی تعریف کے عین برعکس ہیں کہ ہمارا ہر آنے والا دن گزشتہ دن سے بدتر ثابت ہورہا ہے۔ یو این ڈی پی کی انسانی ترقی کے حوالے سے رپورٹ میں پاکستان کا اس برس بھی 146ویں نمبر پر برقرار رہنا ہماری قومی زندگی اور اجتماعی ترجیحات کے حوالے سے بہت سے سوالات پیدا کرتا ہے اور ان سوالات کے جوابات کسی اور کو نہیں بلکہ پاکستان کی آئندہ نسلوں کو درکار ہیں۔

پس نوشت: یہ مضمون روزنامہ 'نئی بات' کے ادارتی صفحات پر 06 اگست، 2014ء کو شائع ہوا۔

جمعہ، 25 جولائی، 2014

یوم القدس اور ہم


آج پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں یوم القدس منایا جارہا ہے۔ اس دن کے منائے جانے کا مقصد فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے جو تقریباً ساڑھے چھے دہائیوں سے اسرائیل کی ننگی بربریت اور درندگی کا سامنا کررہے ہیں۔ اس موقع پر کم و بیش کروڑوں مسلمان فلسطینیوں کے حق میں دعائیں مانگیں گے اور ساتھ ہی خدائے قادرِ مطلق سے یہ 'مطالبہ' بھی کیا جائے گا کہ اسرائیل کو تباہ و برباد کردے اور اس کا نام و نشان بھی دنیا میں باقی نہ چھوڑ۔ یہ دعائیں کس حد تک بار آور ثابت ہوں گی اس کا اندازہ اسی بات سے لگا لیجئے کہ ساڑھے چھے دہائیوں سے زائد عرصہ ہو چلا ہے مگر نہ تو بےچارے فلسطینیوں کو گلو خلاصی ملی اور نہ ہی اسرائیل نیست و نابود ہوا۔

مغرب کے حمایت یافتہ جارح اور بدمعاش اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے حوالے سے دنیا بھر کے مسلمانوں کا کردار بس دو طرح کا ہی ہے: ایک تو یہ کہ خاموش تماشائیوں کی مانند نہتے فلسطینیوں کو لقمۂ اجل بنتے ہوئے دیکھتے رہیں، اور دوسرا یہ کہ ربِ قہار سے ایسی دعائیں مانگتے رہیں جن کے جواب میں کسی نہ کسی طرح آسمان سے فرشتوں کا نزول ہو اور خود ہی اسرائیل کا قصہ تمام ہوجائے۔ اب ظاہر ہے ان دونوں کاموں میں بےعملی اور بدنیتی کا جو اعلیٰ امتزاج پایا جاتا ہے اس کے بعد نتیجہ کچھ اسی قسم کا برآمد ہوسکتا ہے جیسا کہ ایک طویل عرصے سے ہورہا ہے۔

اسی بےعملی اور بدنیتی کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ 8 جولائی سے شروع ہونے والی فلسطینیوں کی تازہ خونریزی، جس میں اب تک ساڑھے سات سو سے زائد معصوم لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں، کے حوالے سے گزشتہ دو ہفتے سے سماجی رابطے کی ویب گاہوں پر فلسطینیوں کے لئے پاکستانیوں کی طرف سے جو دعائیہ اظہاریے لکھے گئے اور تصاویر لگائی گئیں ان میں ایک ادھورا جملہ بہت تواتر سے پڑھنے کو ملا، "یا اللہ، فلسطین کے مسلمانوں کی غیبی مدد فرما۔" ہم اس جملے کو ادھورا اس لئے سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں اس اہم ترین وجہ کا ذکر ہی نہیں ہے جس کے باعث یہ دعا مانگی جارہی ہے۔ ہمارے خیال میں مذکورہ وجہ سمیت مکمل جملہ کچھ یوں ہونا چاہیے کہ "یا اللہ، فلسطین کے مسلمانوں کی غیبی مدد فرما کیونکہ دنیا کے طول و ارض پر پھیلے ڈیڑھ ارب سے زائد ہم مسلمان تو ہیجڑے ہیں جنہیں تو نے تالیاں پیٹنے کے لئے پیدا کیا ہے۔"

اس حوالے سے ایک بات تو طے ہے کہ عرب ممالک کے بےغیرت اور عیاش حکمران بےحسی اور خباثت میں پاکستانی سیاست دانوں کے بھی باپ ہیں۔ یورپ اور امریکہ کے غلیظ اختلاط سے پیدا ہونے والا اسرائیل معصوم فلسطینیوں پر جو ظلم ڈھا رہا ہے اس کے لئے بالعموم پوری دنیا کے مسلمان حکمران اور بالخصوص عرب ممالک کے شیوخ و رؤسا ذمہ دار ہیں۔ اسی طرح ایران جس نے 1979ء میں یوم القدس کو مسلمانوں کے ایک عالمی یوم کے طور پر منانے کا اعلان و آغاز کیا تھا اس کا بھی یہی حال ہے کہ باتیں واتیں جتنی چاہے کروا لو مگر اس سلسلے میں کسی عملی جدوجہد کا نام وہاں بھی نہیں لیا جاسکتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس دن دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مسلمانیت کے جھوٹے دعویدار خوابِ غفلت سے جاگ گئے اس روز اسرائیل گولہ بارود برسانا تو دور کی بات ہے فلسطینیوں کے خلاف ایک جارحانہ بیان بھی نہیں دے سکے گا۔

پیر، 21 جولائی، 2014

قصہ ایک دہشت گرد طیارے کا۔۔۔


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دہشت گرد مسلم اکثریتی آبادی کے ملک ملائشیا کا ایک مسافر بردار طیارہ یوکرین نامی امن کے گہوارے کے اوپر سے ہلکورے لیتا ہوا گزر رہا تھا۔ طیارہ چونکہ ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتا ہے جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور مسلمان چونکہ ہوتے ہی دہشت گرد ہیں لہٰذا طیارے میں سوار مسافر خواہ کسی بھی ملک اور مذہب سے تعلق رکھتے ہوں وہ سب اگر خود دہشت گرد نہیں بھی تو دہشت گردوں کے ہمدرد اور حامی ضرور تھے۔ طیارہ جس جگہ سے گزر رہا تھا وہاں اتفاق سے روس نواز پیارے پیارے سے باغی اور امریکہ نواز نرم دل فوجی ایک دوسرے کے ساتھ کچھ کھیل ویل میں مصروف تھے۔ دہشت گرد مسلمانوں کا طیارہ ان کے کھیل میں حائل ہوگیا۔ روس اور امریکہ کی آنکھوں کے تاروں نے طیارے کو پہلے تو کچھ نہیں کہا اور اس کی اٹکھیلیاں دیکھتے رہے۔ لیکن جب وہ اٹکھیلیاں خرمستیوں میں تبدیل ہونا شروع ہوئیں تو روس اور امریکہ کے پیاروں نے طیارے پر پھول پھینکنا شروع کردیئے تاکہ طیارہ ان کے کھیل کے میدان کو چھوڑ کر چلا جائے۔ لیکن دہشت گردوں کا طیارہ بھی دہشت گرد ہی نکلا اور ان معصوم کھلاڑیوں کے پھولوں کے بوجھ تلے دب کر زمین پر ڈھیر ہوگیا۔ طیارے کے زمین پر گرنے سے روس اور امریکہ کے حمایت یافتہ امن پسندوں پر کیا گزری اس کا اندازہ آپ اس لئے نہیں لگا سکتے کہ نہ تو آپ روس نواز باغی ہیں اور نہ ہی امریکہ نواز یوکرینی فوجی۔ خیر، اس طیارے میں 80 بچوں سمیت 298 افراد سوار تھے۔ ظاہر ہے جب طیارہ زمین پر گرا تو اس کے پرزوں کے ساتھ اس میں سوار تمام لوگوں کے اجسام بھی ٹکڑوں کی صورت میں ادھر ادھر دور دور تک بکھر گئے جس کی وجہ سے ان اخلاص و محبت کے پتلوں کے کھیل کا میدان خراب ہوگیا۔ چچا بان کی مون کو جب اس بارے میں اطلاع دی گئی تو انہوں نے کہا کہ اصولاً تو ملائشیا کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے کہ اس کے طیارے نے روس اور امریکہ کے شریف کھلاڑیوں کا نہ صرف کھیل خراب کیا بلکہ زمین پر گر کر ان کے لئے کوفت کا باعث بھی بنا لیکن اس بار ہم صرف ہلکی پھلکی سرزنش کر کے معاملے کو رفع دفع کردیتے ہیں، تاہم یہ یاد رہے کہ اگر آئندہ کسی دہشت گرد مسلم ملک کا طیارہ ایسی کسی حرکت میں ملوث پایا گیا تو اس ملک کو اس بات کی سزا بھگتنا ہوگی۔ یوں یہ قصہ اپنے اختتام کو پہنچا اور روس نواز باغی اور امریکہ نواز فوجی پھر سے اپنے امن و آشتی پھیلانے کے کھیل میں مصروف ہوگئے۔

ہفتہ، 19 جولائی، 2014

یہ بات ہے ایک دہائی کی۔۔۔


آج سے ٹھیک ایک عشرہ قبل ہم نے اٹلس ہنڈا لمیٹڈ (اے ایچ ایل) میں ایگزیکٹیو انونٹری مینیجمنٹ کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا تھا۔ ملازمت کے آغاز کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم بی کام کے پرچوں کی تیاری کررہے تھے کہ اخبار میں ایک اشتہار پر نظر پڑی جس میں لکھا تھا کہ اے ایچ ایل کو مختلف شعبوں میں کام کرنے کے لئے گریجوایٹس اور انجینئرنگ میں ڈپلومہ کے حامل افراد کی ضرورت ہے۔ ہم نے سوچا کہ پرچوں کے بعد تو فارغ ہی رہنا ہے کیوں نہ نوکری کے لئے درخواست دی جائے پھر دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے۔ اسی وقت قریبی ڈاکخانے گئے، ایک لفافہ خریدا اور اسے میں اپنا کوائف نامہ ڈال کر سپردِ ڈاک کردیا۔

پرچے شروع ہوگئے اور امتحانات کی بھاگ دوڑ میں یہ یاد ہی نہ رہا کہ ہم نے کسی نوکری کے لئے کوئی درخواست بھی دی تھی۔ خیر، آخری پرچہ دے کر کالج پہنچے تو موبائل فون پر کال موصول ہوئی۔ دوسری جانب سے ایک خاتون بول رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ نوکری کے لئے تحریری امتحان کے سلسلے میں ہمیں شیخوپورہ کے قریب واقع اے ایچ ایل کے موٹرسائیکل پلانٹ پر اگلی صبح آٹھ بجے پہنچنا ہوگا۔ ہم نے اثبات میں جواب دے کر کال منقطع کردی۔

ہم کبھی بھی وقت کے پابند نہیں رہے اور یقین مانیں ہم نے اس بات پر کبھی غرور بھی نہیں کیا! اپنی عادت کے عین مطابق اگلے روز ہم سو کر اس وقت اٹھے جب تقریباً نو بج چکے تھے۔ گھڑی پر نظر پڑی تو حسبِ معمول ذرا سا پریشان بھی ہوئے کہ آج تو آٹھ بجے نوکری کے تحریری امتحان کے لئے پہنچنا تھا مگر کیا مجال کے حوصلہ ہارا ہو۔ اٹھ کر نہائے دھوئے، ناشتہ کیا، جیب میں جھانکا تو اتنے پیسے موجود پائے کہ بآسانی شیخوپورہ تک آنا جانا ہوسکے۔ تیار ہو کر گھر سے نکلے اور مینارِ پاکستان کے سامنے سے شیخوپورہ جانے والی گاڑی پر سوار ہوگئے۔ گاڑی نے جا کر خانپور نہر کے پل پر اتار دیا (دراصل یہ نہر اپر چناب ہے لیکن قریبی گاؤں کی نسبت سے خانپور نہر کہلاتی ہے)۔

وہاں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ فیکٹری کا مین گیٹ سڑک کے ساتھ اندر جانے والے کچے راستے پر ہے۔ گیٹ پر پہنچ کر وہاں موجود محافظین کو بتایا کہ ہم تحریری امتحان کے سلسلے میں تشریف لائے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امتحان شروع ہوئے آدھا گھنٹہ گزر چکا ہے اور اب ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں۔ ہم نے کہا کہ اندر کسی افسر سے بات کرو کہ ایک امیدوار باہر کھڑا ہے اگر اجازت ہو تو اندر آجائے؟ خوش قسمتی سے اجازت مل گئی۔ ایک محافظ ہمارے ساتھ چلتا ہوا ہمیں مین اسمبلی لائن کے سامنے موجود اس دفتر میں لے گیا جہاں درخواست دہندگان کی ایک بڑی تعداد سر جھکائے امتحان دینے میں مصروف تھی۔ ایک خاتون نے ہمارا استقبال کیا (ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ خاتون کا تعلق شعبۂ انسانی وسائل سے ہے اور ہمیں کال بھی آپ نے ہی کی تھی) اور بتایا کہ اب ہمیں امتحان میں اس لئے نہیں بیٹھنے دیا جاسکتا کیونکہ آدھے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے۔ ہم نے کہا کہ آپ پرچہ دے دیجئے، ہم حل کرلیں گے۔ وہ مان گئیں۔

ہمیں ایک جگہ بٹھا کر جوابی کاپی کے ساتھ ایک سوالنامہ تھماتے ہوئے بتایا گیا کہ اب ہمارے پاس پرچہ حل کرنے کے لئے صرف پچیس منٹ ہیں۔ ہم نے پرچے پر نظر ڈالی تو انگریزی زبان، ریاضی اور حسابداری (اکاؤنٹنگ) سے متعلق معلومات کا امتحان لیا جارہا تھا۔ اللہ کا نام لے کر لکھنا شروع کردیا۔ پندرہ منٹ کے بعد ہم نے اضافی کاپی مانگی تو وہ خاتون ہمیں حیرانی سے دیکھنے لگیں۔ کاپی مل گئی اور ہم نے مقررہ وقت سے ایک دو منٹ پہلے پرچہ حل کر کے انہیں پکڑا دیا۔ پرچہ دے کر ایک شریف بچے کی طرح ہم سیدھا گھر پہنچے اور آ کر حسبِ معمول اپنے کمرے میں بیٹھ کر پڑھنے لگ گئے۔

دو تین روز کے بعد انہی خاتون کی کال آئی اور انہوں نے مبارکباد دیتے ہوئے بتایا کہ ہم تحریری امتحان میں نہ صرف کامیاب ہوگئے ہیں بلکہ اے ایچ ایل کی تاریخ میں تحریری امتحان میں سب سے زیادہ نمبر ہم نے ہی حاصل کئے ہیں۔ ہم نے نمبر پوچھے تو بتایا گیا 92۔ ہم نے شکریہ ادا کیا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ خوش معلوم نہیں ہوتے۔ ہم نے جواب دیا کہ سنچری کرتے تو خوشی ہوتی 92 پر کیا خوشی منائیں۔ خیر، انہوں نے بتایا کہ اب ہمارا پہلا انٹرویو ہے جس کے لئے ہمیں دو روز بعد 10 بجے فیکٹری پہنچنا ہے۔

انٹرویو کے لئے گئے۔ انٹرویو ہوگیا۔ مبارکباد کے بعد بتایا گیا کہ اب دوسرا انٹرویو ہوگا۔ ہم چونکہ ان دنوں ایک اردو روزنامے میں مضامین لکھنے کا شغل شروع کرچکے تھے تھے، لہٰذا دوسرے انٹرویو میں انسانی وسائل اور انتظامیہ کے جنرل مینیجر بسرا صاحب نے ہم سے دیگر موضوعات کے علاوہ حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی سیاست پر بھی بات کی اور خاص طور پر فلسطین-اسرائیل تنازعے کے بارے میں ہماری رائے پوچھی۔ خیر، دوسرے انٹرویو میں کامیاب ہوئے تو چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) کے ساتھ تیسرے انٹرویو کے لئے ہمیں بلایا گیا۔ اس انٹرویو کے دوران سی ای او صاحب نے پوچھا کہ آپ کا تو گریجوایشن کا نتیجہ ہی ابھی نہیں آیا۔ ہم نے بتایا کہ اپنے کوائف نامے میں ہم نے یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ امتحانات دے چکے ہیں اور نتیجے کے منتظر ہیں۔ بولے کہ اگر آپ ناکام ہوگئے تو؟ ہم نے کہا کہ کوئی بات نہیں، جو بھی نتیجہ نکلے گا آپ کو لا کر دیدیں گے پھر آپ کی مرضی، جو چاہیں کرلیجئے گا۔ ہم چونکہ لڑکپن میں ایک کمپنی کے تقریباً جنرل مینیجر رہ چکے تھے اور ایک سال کا عرصہ ہم نے بھرپور محنت کی تھی، لہٰذا ہمیں انونٹری مینیجمنٹ اور اسی نوعیت کے دیگر معاملات کی کچھ سمجھ بوجھ تھی۔ انہوں نے ہم سے انونٹری مینیجمنٹ اور کمپیوٹرائزاڈ انونٹری سسٹمز کے بارے میں پوچھا تو ہم نے اپنے محدود علم کے مطابق جوابات دیدیئے۔ ان جوابات کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم جب بھرتی ہوئے تو ہمیں انونٹری مینیجمنٹ کا شعبہ ہی دیا گیا۔ آخر میں انہوں نے پوچھا، تنخواہ کتنی لیں گے۔ ہم نے حساب لگا کر بتایا، چھے ہزار روپے۔ بولے ٹھیک ہے، آپ چلیے، آپ کو آگاہ کردیا جائے گا۔

انٹرویو سے فارغ ہو کر ہم نیچے ہال میں آئے جہاں باقی امیدواران اپنی باری کے منتظر تھے۔ انہوں نے انٹرویو کی تفصیل پوچھی جو ہم نے من و عن بتادی۔ سب کہنے لگے کہ چھے ہزار روپے تو بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ تمہیں تو نوکری نہیں ملے گی۔ ہم نے کہا کوئی بات نہیں، اب جو کہہ دیا سو کہہ دیا۔ اب اتنے ہی پیسے ملیں گے تو نوکری کریں گے ورنہ نہیں۔

اگلے روز کال آئی اور ہمیں مبارکباد دینے کے بعد کہا گیا کہ اپنے مکمل طبی معائنے کے لئے فلاں تاریخ کو گلبرگ میں واقع ابراہیم پولی کلینک پہنچیں۔ ہدایت کے عین مطابق ہم مقررہ تاریخ کو کلینک پہنچے جہاں ہمارا ان ان طریقوں سے معائنہ کیا گیا کہ ہمیں لگا جیسے ہم اٹلس ہنڈا نہیں بلکہ پاک فوج میں بھرتی ہورہے ہیں۔ طبی معائنے کی رپورٹ کمپنی کو بھیج دی گئی جس کے موصول ہوتے ہی ہمیں نوکری پر حاضر ہونے کا حکم صادر کیا گیا۔

19 جولائی 2004ء کو ہم پہلے دن نوکری پر پہنچے تو ہمیں بتایا گیا کہ ہماری تنخواہ مبلغ سات ہزار روپے سکہ رائج الوقت ہوگی۔ تنخواہ کا سنتے ہی ہم اس سوچ میں پڑ گئے کہ اب اضافی ایک ہزار کا کیا کرنا ہے۔ ساتھ ہی کہا گیا کہ فوراً جنرل اسٹور میں پہنچیں اور ایک وردی بمعہ بوٹ فوراً حاصل کریں اور وہاں اپنا ناپ بھی دیدیں تاکہ مزید وردیاں ناپ کے مطابق سِل سکیں۔

پہلے روز ان سب لوگوں سے تعارف بھی ہوا جو ہمارے ساتھ نوکری کا آغاز کررہے تھے۔ انہی افراد میں ایک طارق صدیق تھے جن کے ساتھ ہمارا معاملہ 'پہلے جاں، پھر جانِ جاں، پھر جانِ جاناں ہوگئے' والا ہوا۔ تعارف کے دوران پتہ چلا کہ موصوف ہمارے محلے میں ہی رہتے ہیں اور اتفاق سے ہمارے ابتدائی اسکول میں ہم سے ایک دو جماعتیں پیچھے تھے۔ بس اب جو بےتکلف یاری کا سلسلہ چلا تو تاحال جاری ہے۔ تعلق کے اس سلسلے میں جناب ہمارے مرید بھی ہوئے اور پھر انہیں جلد ہی یہ احساس بھی ہوگیا کہ پیر صاحب کی مکمل پیروی نہیں کرنی کیونکہ یہ بگڑ کر سنورنے کا ہنر جانتے ہیں اور پیچھے چلنے والا اس ہنر سے ناواقفیت کی بنیاد پر کسی بھی جگہ مارا جاسکتا ہے۔

خیر، پہلا ہفتہ ہم لوگوں کی اوریئنٹیشن کا تھا جس کے لئے ہمیں فیکٹری کے تمام حصوں اور لاہور میں واقع مرکزی دفتری کا یکے بعد دیگرے دورہ کرنا تھا اور ایک ہفتے کے بعد رپورٹ جمع کروانا تھی۔ ہم نے یہ مرحلہ احسن طریقے سے پورا کیا اور اس کے دوران ہر وہ حرکت بھی کی جس کی انتظامیہ ہم سے توقع نہیں کرتی تھی۔ اوریئنٹیشن رپورٹ جمع کروائی تو ہمیں کہا گیا کہ ہم نہر کے پل پر واقع یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ میں جا کر اپنا کھاتہ کھلوا لیں تاکہ تنخواہ ماہ بہ ماہ اس کھاتے میں منتقل کی جاسکے۔ کھاتہ کھلوا کر واپس فیکٹری پہنچے تو پتہ چلا کہ ہماری تنخواہ دس ہزار روپے ماہوار کردی گئی ہے۔ ہم حیران تھے کہ افسری کے آغاز میں ہمیں اتنا کچھ دے رہے ہیں تو آگے چل کر کیا کریں گے!

اے ایچ ایل کا ماحول بہت خوشگوار تھا اور افسری ہمیں راس بھی بہت آتی ہے، لہٰذا ہم خوب پھلے پھولے۔ ذمہ داری کوئی خاص تھی نہیں، سو پہلی تنخواہ ملتے ہی انگریزی اور اردو کی کچھ بڑی لغات خریدیں اور پنجاب پبلک لائبریری میں اپنی اسٹوڈنٹ ممبرشپ کو لائف ممبرشپ میں تبدیل کروایا۔ فیکٹری کے اندر ہم اپنی معلومات کی بنیاد پر 'دانشور' اور حرکتوں کی بنیاد پر 'غنڈے' سمجھے جاتے تھے۔ ہماری 'غنڈہ گردی' کی ایک مثال سن لیجئے تاکہ آپ کو اندازہ ہوسکے کہ غنڈے ہم صرف انتظامیہ کی نظر میں تھے، عوام کے لئے تو رابن ہُڈ تھے۔

ہوا یوں کہ ایک رات ہم ڈیوٹی پر موجود تھے۔ اس وقت پوری فیکٹری میں موجود سینئر افسر ہم ہی تھے، لہٰذا ہماری حیثیت انچارج کی تھی۔ کھانے کا وقت ہوا تو سب لوگوں کے ساتھ ہم بھی کینٹین پہنچ گئے۔ ہم نے اپنی باری آنے پر کھانے کی طشتری اٹھائی اور اپنی میز پر آ کر بیٹھ گئے۔ ابھی کھانا شروع ہی کیا تھا کہ ہمیں کچھ شور سنائی دیا۔ دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ کافی سارے مزدور ایسے ہیں جنہیں کھانا نہیں مل رہا کیونکہ کینٹین انتظامیہ کے غلط اندازے کے باعث کھانا کم بنایا گیا ہے۔ ہم نے کینٹین کے انچارج کو بلا کر وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ رات کی شفٹ میں آنے والے مزدوروں کی تعداد کا ٹھیک سے اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے کھانا کم پڑ گیا ہے۔ ہم نے کہا کہ فوری طور پر کھانا تیار کرو تاکہ ان سب کو کھانا مل سکے۔ جواب ملا کہ کھانا تو کینٹین کے منتظم صاحب کی اجازت سے ہی بن سکتا ہے۔ ہم نے کھانا وہیں چھوڑ دیا اور کہا کہ ہماری منتظم صاحب سے بات کرواؤ اور جب تک ان مزدوروں کو کھانا نہیں ملتا تب تک ہم بھی کھانا نہیں کھائیں گے۔ اس نے بہتیری کوششیں کیں کہ ہم مان جائیں اور جب ہم نہ مانے تو چار و ناچار اسے منتظم صاحب سے ہماری بات کروانی پڑی۔ ہم نے انہیں کہا کہ آپ خود یہاں پہنچیں یا ان لوگوں کو اجازت دیں لیکن کھانا مزدوروں کو ملنا چاہیے ورنہ جو ہوگا اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ منتظم صاحب نے بحث کرنا چاہی مگر جلد ہی انہیں سمجھ آگئی کہ مزدوروں کو کھانا دئیے بغیر بات نہیں بنے گی۔ خیر، کھانا تیار کر کے مزدوروں کو دیا گیا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ مل کر کھا لیا۔

اب ظاہر ہے یہ تو ہو نہیں سکتا تھا کہ انتظامیہ اس واقعے پر خاموش رہتی، لہٰذا اگلے ہی روز ہمیں پیشی کے لئے طلب کیا گیا۔ انتظامیہ کے مینیجر بٹ صاحب نے ہمیں بلایا اور لابی میں بٹھا کر پہلے ہم سے اپنا خاندانی تعلق نکالنے کی کوشش کی جسے ہم نے کوئی اہمیت نہیں دی، پھر کہنے لگے کہ سنا ہے کل رات آپ نے شور و غوغا کیا ہے۔ ہم نے پوری صورتحال بتائی تو کہنے لگے کہ آپ انتظامیہ کے آدمی ہیں اور آپ سے ایسی توقع نہیں کی جاتی۔ جواب دیا کہ ہم انسان ہیں اور ہم سے بالکل ایسی ہی توقع کی جانی چاہیے۔ بولے کہ آپ کی پرسنل فائل میں اس واقعے کی رپورٹ لگائی جاسکتی ہے لیکن میں آپ کو صرف وارننگ دے رہا ہوں۔ ہم نے کہا کہ آپ بصد شوق پرسنل فائل میں رپورٹ لگادیں، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کہنے لگے یہ مت بھولیں کہ آپ دنیا کی تیسویں بڑی کمپنی کے ملازم ہیں اور آپ کو کمپنی کل ملا کر 15 ہزار روپے ماہوار دیتی ہے۔ جواب دیا کہ جس نے تیسویں بڑی کمپنی میں پہنچایا ہے وہ پہلی بڑی کمپنی میں بھی لے کے جاسکتا ہے اور کمپنی بھیک نہیں دیتی، محنتانہ ادا کرتی ہے۔ کہنے لگے کہ میں نے آپ کے بارے میں سن رکھا تھا کہ آپ بہت ضدی ہیں اور کسی کی نہیں سنتے، آج دیکھ بھی لیا، آپ جاسکتے ہیں۔ ہم نے شکریہ ادا کیا اور اٹھ کر چلے آئے۔

اسی طرح کے کچھ اور واقعات ہیں جن کی بنیاد پر ہمیں باغی، غنڈہ، سر پھرا اور پتہ نہیں کیا کیا سمجھا جاتا تھا۔ ہم نے کبھی ان باتوں کی تردید اس لئے نہیں کی تھی کہ ہم اپنی 'اصلاح' کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے اور اس بات پر کامل یقین رکھتے تھے کہ 'بٹ صاحب، جس دن آپ نے ظلم کے خلاف بولنا چھوڑ دیا، اس دن آپ انسان نہیں رہیں گے بلکہ ایک ایسے بندر بن جائیں گے جو دیکھنے، بولنے اور سننے کی صلاحیتوں سے قاصر ہے۔'

فیکٹری میں اپنی دوستی بھی ایسے ہی بندوں سے تھی اور ظاہر ہے کوئی دوسرا بندہ ہماری یاری افورڈ بھی نہیں کرسکتا تھا۔ قیوم آفریدی بھی ہمارے جیسا ہی سر پھرا تھا۔ ایک موقعے پر اسٹورز ڈیپارٹمنٹ کے سینئر مینیجر نے ہم پر ایک فضول حکم مسلط کرنے کی کوشش کی تو ہم نے مزاحمت کی۔ اب جو پروانہ جاری ہوا تو ڈیپارٹمنٹ کے بیس میں سے اٹھارہ افسروں نے سینئر مینیجر کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے دستخط کردیئے۔ کاغذ ہم تک پہنچا تو ہم نے پڑھ کر کہا کہ یہ قواعد و ضوابط کے خلاف ہے، ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے۔ یہ بات ابھی ہو ہی رہی تھی کہ سینئر مینیجر خود وہاں پہنچ گئے۔ جب دیکھا کہ ہم دستخط نہیں کررہے تو پروانہ ہمیں تھماتے ہوئے بولے کہ دستخط تو آپ کو کرنے ہی پڑیں گے۔ ہمیں پتہ تھا کہ انہیں فرعون بننے کا بہت شوق ہے، سو ہم نے وہ چٹھی پکڑ کر ان کے منہ پر مارتے ہوئے کہا کہ لو، اب کر لو جو کرنا ہے، دستخط تو نہیں کرنے۔ ہم اسی وقت مین اسٹور سے باہر آئے تو آفریدی نظر آیا۔ ہم نے اسے پوری کہانی سنا کر کہا، یہ یاد رکھنا کہ خوشحال خان خٹک کے ساتھ قبائل میں سے آفریدی ہی کھڑے رہے تھے اور اب تمہارا نسلی اور اصلی امتحان ہے۔ آفریدی ویسے ہی اپنا ہم خیال تھا اور اس جذباتی جملے کے بعد تو وہ مزید ڈٹ گیا، لہٰذا ہم دو بندوں نے سینئر مینیجر کا وہ خلافِ قواعد مراسلہ منسوخ کروایا جس کے بارے میں باقی لوگوں کی رائے یہی تھی کہ عمل چاہے نہ کریں لیکن دستخط ضرور کردیں۔

ایک بار سی ای او سے پھڈا ہوا تو ہم نے ڈٹ کر جواب دیئے۔ وہ بات غلط کررہے تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ انتظامیہ کا ایک نچلے درجے کا افسر ان کی کسی بات کا جواب یوں دے سکتا ہے۔ ہمارے خلاف ایک اور رپورٹ کی گئی۔ جنرل مینیجر بسرا صاحب نے ہمیں طلب کر کے پوچھا، اوئے بٹ، تینوں ڈر نئیں لگدا؟ ہم نے جواب دیا، سر، جے ڈر لگدا تے ایہو جہیاں حرکتاں کردا؟ کہنے لگے، توں نئیں سدھر سکدا۔ ہم نے کہا، کدی وی نئیں سر! ہمارا جواب سن کر بسرا صاحب کی ہنسی چھوٹ گئی۔

ہم نے اپنی ڈگر پر چلتے ہوئے ملازمت کی، اصولوں پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور ایک خاص وقت پر آ کر استعفیٰ لکھ کر انتظامیہ کو تھمایا اور وردی وہاں رکھ کر اپنی خودداری اٹھائی اور فیکٹری سے باہر آگئے۔ اس روز ہم فیکٹری کی گاڑی کی بجائے عام ویگن کے ذریعے گھر پہنچے اور خدا کا شکر ادا کیا کہ انسان کی حیثیت میں ہی واپس آگئے، بندر نہیں بنے۔

یہ سب پڑھ کر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ بےوقوف اور جاہل ہے جو ایسی نوکری چھوڑ کر آگیا۔ لیکن سچ کہیں تو اپنی اصل کمائی یہ اصول پسندی ہی ہے اور ہم کسی بھی قیمت پر اسے نہیں گنوانا چاہتے۔ اس کمائی کی ایک جھلک دیکھئے کہ اے ایچ ایل چھوڑنے کے چھے سات برس بعد ایک بندہ طارق کے ساتھ مجھے ملنے کے لئے آیا اور کہا کہ 'آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپ کو جانتا ہوں۔ مجھے صرف آپ سے ملنے کا شوق تھا کیونکہ فیکٹری میں آپ کے بارے میں لوگوں سے اتنا کچھ سنا ہے کہ میرے دل میں آپ سے ملنے کے لئے شدید خواہش پیدا ہوگئی تھی۔' اب خود ہی سوچیں کہ ایسی عقیدتیں بندے کا دماغ خراب نہ کریں تو اور بھلا کیا ہو!

جمعرات، 19 جون، 2014

تفریق (مختصر افسانہ)


'یار، تم تو جانتے ہوئے کہ ہمارے معاشرے میں جینڈر ڈسکریمینیشن کتنی زیادہ ہے۔ ہر سطح پر عورتوں پر ظلم ہوتا ہے اور ان کے ساتھ ناانصافی کی جاتی ہے۔ بےحسی تو جیسے مردوں کی انسٹنکٹ میں شامل ہے۔۔۔' سیمی ایک بڑے ریستوراں کے ائیرکنڈیشنڈ ڈائننگ ہال میں اعظم کے ساتھ بیٹھی اپنی این جی او اور اس کے کام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صنفی تفریق کے مسئلے پر ایک لمبی تقریر جھاڑ چکی تھی۔ اعظم ایک حد تک اس کا ہم خیال تھا مگر آج تو وہ پوری طرح اس کی ہاں میں ہاں ملاتا چلا جارہا تھا۔ دونوں یونیورسٹی کے دنوں میں ایک دوسرے کے بہت قریب رہ چکے تھے اور اب ایک عرصے کے بعد ملاقات ہوئی تو پرانی یادوں کے ساتھ ساتھ کچھ نئے معاملات بھی ان کی بات چیت کا موضوع بن رہے تھے۔

اسی دوران ڈائننگ ہال میں ایک خاتون اور ایک مرد داخل ہوئے۔ مرد کی چال اور صحت سے نقاہت جھلک رہی تھی۔ اس کے ساتھ آنے والی خاتون نے آگے بڑھ کر کرسی کھینچی اور اسے بیٹھنے کو کہا۔ 'عاصمہ، تم نے خوامخواہ تکلیف کی۔ کرسی میں خود بھی کھینچ سکتا تھا۔' تنویر کی آنکھوں میں ممنونیت کے جذبات در آئے تھے۔ 'تنویر، آپ میرے شوہر ہی نہیں، میرے دوست اور ہمدرد بھی ہیں۔ پچھلے دس سال میں آپ نے مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں ہونے دی اور ہمیشہ ہر طرح سے میرا خیال رکھا۔ اگر آج آپ کی بیماری کی حالت میں میں آپ کے لئے کچھ تھوڑا بہت کررہی ہوں تو یہ کوئی احسان نہیں بلکہ میرا فرض ہے۔ میں تو خوش قسمت ہوں کہ مجھے آپ جیسا ہم سفر ملا۔' عاصمہ کے لہجے سے اپنے شوہر سے محبت کا احساس پوری طرح واضح ہورہا تھا۔

سیمی نے ذرا فاصلے پر بیٹھے ہونے کی وجہ سے عاصمہ اور تنویر کی بات چیت تو نہیں سنی تھی مگر اس نے عاصمہ کو کرسی کھینچتے ہوئے ضرور دیکھا تھا اور اسی بات کو مثال بنا کر وہ اعظم سے کہنے لگی، 'دیکھو، یہ آدمی کتنا بے شرم ہے کہ اس کے ساتھ آئی ہوئی عورت نے اس کے لئے کرسی کھینچی اور وہ کتنے مزے سے اس پر بیٹھ گیا۔ ایسے ہی مرد معاشرے میں عورتوں کو دوسرے درجے کی مخلوق بنا کر رکھ دیتے ہیں۔' 'ہاں، تم ٹھیک کہتی ہو اور ان لوگوں کے یہ رویے کبھی بھی نہیں بدل سکتے۔' اعظم نے سیمی کی بات کو مزید آگے بڑھا دیا۔

کچھ دیر میں ڈائننگ ہال کے اندر ایک اور جوڑا داخل ہوا۔ اس بار مرد نے کرسی کھینچی اور اس کے ساتھ آنے والی خاتون کرسی پر بیٹھ گئی اور وہ اس کے سامنے والی نشست پر براجمان ہوگیا۔ سیمی نے یہ دیکھتے ہی اس نئی مثال کو بھی اپنی گفتگو کا موضوع بنالیا، 'یہ ہے عورت کی حقیقی عزت اور اس کا مقام۔ ایسے ہی ہونا چاہئے۔' اس بار بھی اعظم نے اس کا ہم خیال ہونے کا پورا ثبوت دیا۔ اعظم کے سیمی کی ہاں میں ہاں ملانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ایک عرصے کے بعد اس سے ملا تھا اور اس ملاقات کو وہ کھانے کے بعد مزید یادگار بنانا چاہتا تھا اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن تھا کہ سیمی کو کسی بھی طرح یہ احساس نہ ہو کہ وہ اس کے خیالات سے کوئی اختلاف رکھتا ہے۔

جمعہ، 16 مئی، 2014

اک لونگ گواچا ہے تو کیا شور مچا ہے


سنا ہے کہ کسی ایک قوالی کے نشر ہونے پر ان دنوں وطنِ عزیز میں شور مچا ہوا ہے۔ صحافت سے وابستہ ہوئے دس برس ہوگئے اور ٹیلیویژن سے انسلاک کو بھی ساتواں سال ہے لیکن ہمارے اپنے گھر میں ٹی وی نہیں ہے۔ اسی باعث بہت سا وقت، توانائی اور دماغ ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں، جنہیں کئی اور امورِ مفیدہ میں کھپایا جاسکتا ہے۔ خیر، بات ہورہی تھی اس قوالی کی جس نے پاکستان میں بسنے والی اس مسلم امّہ کا ضمیر جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے جو نہ تو اسلام کے حقیقی پیغام سے واقف ہے اور نہ ہی اسے یہ پتہ ہے کہ ضمیر کس چڑیا کا نام ہے۔ قوالی پر سیخ پا ہونے کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ اس میں اسلامی تاریخ کی دو مقدس ہستیوں کی توہین کی گئی ہے۔ غم و غصے کی یہ کیفیت بالکل جائز اور درست ہے اور مقدس ہستیوں کی تضحیک و توہین کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جانی چاہئے، لیکن ذرا ٹھہرئیے اور کچھ غور طلب نکات پر نظر دوڑائیے! پہلی بات تو یہ کہ کیا یہ واحد قوالی ہے جس میں ایسی ہستیوں کی توہین کی گئی ہے یا صرف وہ دو ہستیاں ہی ایسی ہیں جن کی توہین ہوئی ہے؟ مجھے امید ہے کہ آپ کا جواب نفی میں ہوگا۔ اب یہ بھی سوچیے کہ ایسی اور کتنی قوالیاں، منقبتیں، سلام اور نعتیں ہیں جن میں ہم تعریف و توصیف و تحسین پر اترتے ہیں تو زمین و آسمان کے قلابے ملائے بغیر ہمارا گزارہ ہی نہیں ہوتا؟ میرے خیال میں اس گنتی کے دوران آپ کی انگلیوں کی پوریں کم پڑجائیں گی۔ اب ذرا دل تھام کر بتائیے کہ اس صورتحال میں محض کسی ایک ادارے یا فرد کو گالی دینا یا اس پر پابندی لگانا کس حد تک جائز ہے؟

میں مسلکی تفریق کے شدید ترین مخالفین میں سے ہوں، تاہم کچھ حوالے دئیے بغیر بات مکمل نہیں ہوپائے گی لیکن خیالِ خاطرِ احباب کے پیشِ نظر یہاں کسی فرقے کا نام نہیں لیا جارہا۔ چند برس قبل ایک مکتبِ فکر کے لاہور میں واقع ایک بڑے مدرسے کی جانب سے ایک عالمی شہرت یافتہ عالمِ دین اور مفسرِ قرآن کے قتل کا فتویٰ محض اس بنیاد پر جاری کردیا گیا کہ انہوں نے دورۂ تفسیر کے دوران ایک ایسی مستند حدیث کا حوالہ دیا جو اس مکتبِ فکر کے نظریات سے متصادم تھی۔ لاہور کی سڑکیں اس واویلے کی شاہد ہیں جو اس فتویٰ کے بعد اس مکتبِ فکر کے لوگوں نے مچایا۔ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے کہ وہ شور و غوغا کیسے تھما مگر اس کے بیان کا یہ محل نہیں۔ تعجب اس بات پر ہے کہ اسی مکتبِ فکر سے متعلقہ افراد کی لکھی اور گائی ہوئی ایسی ایسی توہین آمیز چیزیں آپ کو عام طور پر رکشوں، ویگنوں اور عوامی آمد و رفت کے دیگر ذرائع میں سفر کے دوران  سننے کو ملتی ہیں کہ ان کو بنیاد بنا کر شہر میں دنگا فساد کروانا معمولی سی بات ہے لیکن اس مدرسے نے کبھی بھی یہ زحمت گوارا نہیں کی اپنے متعلقین کی اصلاح پر بھی کوئی توجہ دے لی جائے۔ اسی طرح لاہور کے مختلف کونوں میں منعقد ہونے میلوں ٹھیلوں اور محافلِ میلاد کے دوران میں نے خود ایسی ایسی قوالی اور مذہبی شاعری (جسے وہ لوگ اپنے تئیں نعت قرار دیتے ہیں) سنی ہے کہ اس کی بنیاد پر 295 سی لگوا کر سارا محلہ حوالات میں بند کروایا جاسکتا ہے مگر ہمارے ہاں کبھی کوئی عالم ایسی باتوں پر معترض نہیں ہوا۔

اب خدا لگتی بات تو یہ ہے کہ جب آپ عوامی مقامات اور گلی محلوں میں ایسی چیزوں کو فروغ دے رہے ہوں گے تو بھلا ٹیلیویژن اس 'کارِ خیر' میں اپنا حصہ ڈالنے سے کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں اور ریٹنگ تو ایک ایسی شے کا نام ہے جس کے حصول کے لئے اینکرز اور ٹی وی چینل مالکان ہوا میں الٹے لٹکنے کے کرتب تک کر کے دکھا سکتے ہیں۔ اگر آپ کو میری اس بات پر یقین نہ آئے تو گزشتہ برس کی رمضان ٹرانسمیشن میں عالم ہونے کا دعویٰ کرنے والے ایک صاحب کے پروگرام نکال کر دیکھ لیجئے کہ کس طرح وہ افطار کے فوراً بعد لائیو گانے بجوا کر اور طرح طرح کے جانور اپنے پروگرام میں دکھا کر ریٹنگ حاصل کرنے کی سعی میں مشغول دکھائی دیتے ہیں۔

ہمارے ہاں بعض ذی شعور لوگ ٹیلیویژن چینلوں کے ریٹنگ کے پیچھے پاگل ہونے پر اعتراض کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر اس ضمن میں بات کرتے ہوئے وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ ٹی وی چینلز کا ریٹنگ کی دوڑ میں دیوانہ وار بھاگتے ہی چلے جانا بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ ہمارے ہاں عمومی معاشرتی رویے بھی تو ایسے ہیں کہ قومی و اجتماعی معاملات کے ذیل میں سنجیدگی سے دور دور تک ہمارا کوئی لینا دینا ہی نہیں۔ اب ایسی صورتحال میں تو ٹیلیویژن یہی سب کچھ پیش کریں گے جو کچھ وہ کررہے ہیں۔ جس ملک میں ٹی وی کے لچر ڈراموں اور لغو پروگراموں کو دیکھنے والوں کی تعداد مجموعی آبادی کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہو اور وہ ڈرامے اور پروگرام ٹی وی چینل مالکان کے لئے کروڑوں اربوں روپے کے منافع کا ذریعہ ہوں اور اس کام کے لئے ڈالروں اور پاؤنڈوں کی صورت میں بھاری رقوم بھی بطور نذرانہ موصول ہوتی ہوں، وہاں بہاؤ مخالف سوچ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مصداق ہی خیال کی جائے گی۔ اب اس تناظر میں دیکھا جائے تو انور مسعود کی یہ بات ہے تو بہت پرانی مگر موجودہ صورتحال پر بھی اتنی ہی صادق آتی ہے جتنی کہ وہ آج سے چار ساڑھے چار دہائیاں قبل معتبر خیال کی گئی تھی:

کس طرح کا احساسِ زیاں ہے جو ہوا گُم
کس طرح کا احساسِ زیاں ہے جو بچا ہے
ملک آدھا گیا ہاتھ سے اور چپ سی لگی ہے
اک لونگ گواچا ہے تو کیا شور مچا ہے

منگل، 25 مارچ، 2014

غفلت میں تو پڑا ہے مرے چارہ گر کہاں


سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ تھرپارکر کے قحط زدگان کے لئے وزیراعظم محمد نواز شریف کی جانب سے اعلان کردہ ایک ارب روپے کی امداد میں سے صوبائی حکومت کو ابھی تک ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ملی۔ یہ بیان کسی عام آدمی کا نہیں بلکہ سندھ حکومت کے ایک اہم ترین وزیر کا ہے، لہٰذا اس کی صداقت پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعظم نے تقریباً دو ہفتے قبل 10 مارچ کو قحط زدہ علاقے کے دورے کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ سندھ حکومت کو تھرپارکر کے قحط زدگان کی بحالی کے لئے ایک ارب روپے کی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت قحط سے نمٹنے کے لئے سندھ حکومت کو مدد کو تیار ہیں۔

اس اعلان کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ قحط زدہ علاقوں کی بحالی کے لئےسندھ حکومت اگر مالی مجبوری کی بنا پر کوئی خاص پیشرفت نہیں کر پارہی تو وہ جواز اب باقی نہیں رہے گا اور قحط زدہ علاقوں کی بحالی جلد از جلد ممکن ہو پائے گی۔ تاہم اعلان کو دو ہفتے گزر چکنے کے باوجود امدادی رقم کا نہ ملنا ایک تشویشناک امر ہے اور اس سے حکمران طبقے کی عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے غیرسنجیدگی بھی واضح ہوتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے اعلان کے بعد جتنی جلد ممکن ہوسکتا امداد سندھ حکومت کو فراہم کردی جاتی اور اگر اس سلسلے میں امداد کے شفاف طریقے سے استعمال نہ ہونے کا اندیشہ تھا تو وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی نگران مقرر کردیا جاتا جو امداد کے شفاف استعمال کو یقینی بناتا۔

تھرپارکر میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موسم اور بےرحم ہوتا جارہا ہے جس کے باعث قحط زدہ علاقوں میں مزید جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ آئندہ چار سے پانچ ماہ کے دوران ان علاقوں میں اتنی شدید گرمی پڑے گی جس کا عام شہری علاقوں میں رہنے والے افراد تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس صورتحال میں وفاقی سرکار کا سندھ حکومت کو قحط زدہ علاقوں کی امداد کے نام پر جھانسا دینا ایک ناقابلِ معافی قومی جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم کسی بھی صوبے یا علاقے سے تعلق رکھتے ہوں، ان کی انتظامی حیثیت اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ ملک بھر کے عوام کے لئے یکساں سلوک اور خیرخواہی کا مظاہرہ کریں۔

اسی تناظر میں گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں قحط کی صورتحال پر پیش کردہ تحریکِ التوا پر بات کرتے ہوئے جو کچھ کہا وہ انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کو بتائیں گے کہ تھر کے ایشو کے پسِ پردہ سندھ حکومت کے خلاف کیا سازش ہورہی ہے۔ قائم علی شاہ کو معلوم نہیں کہ پاکستانی عوام کی یادداشت اتنی کمزور بھی نہیں ہے کہ وہ تقریباً دو ہفتے قبل دورۂ تھرپارکر کے موقع پر ان کی پُرتکلف و پُرتعیش ضیافت کا احوال بھول گئے ہوں۔

پس نوشت: اس حوالے سے آئندہ دنوں سیاستدانوں کی بےحسی اور ذرائع ابلاغ کی منافقانہ پالیسی پر مزید مضامین لکھنے کا ارادہ ہے۔ (ع ب)

فصلِ گل آئی کہ دیوانے کا موسم آیا


مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے 529 حامیوں کو عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی ہے جبکہ 16 افراد کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ مرسی کے حامی صرف ایک فرد یا جماعت کے حمایتی نہیں ہیں بلکہ وہ ایک نظریے اور ایک فکر کے حامی ہیں۔ وہی نظریہ جو بندوں کو حریت کا رستہ دکھاتا ہے اور وہی فکر جو استعماریت کو کھلے عام دعوتِ مبارزت دیتی ہے۔ اس دعوتِ فکر و عمل کا لازمی نتیجہ یہی تھا کہ ان افراد کو نشانِ عبرت بنا دیا جائے تاکہ آئندہ کوئی استعماریت کے خلاف اٹھنے کی جرات ہی نہ کرسکے۔ استعماری گماشتوں کے خیال میں، عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزا جہاں مرسی کے حامیوں کو ایک عبرتناک انجام سے دو چار کرے گی، وہیں اس کے ذریعے دنیا کے دیگر ممالک میں حریتِ فکر کے داعیین و حاملین کو یہ پیغام بھی ملے گا کہ استعمار کی مخالفت کے نتائج کس قدر سنگین ہوسکتے ہیں۔

عالمی دیہات کہلانے والے اس خطۂ ربع مسکون پر استعماریت نے امریکہ اور اس کے حواریوں کی مدد سے اس مضبوطی سے پنجے گاڑ رکھے ہیں کہ ان کے تسلط سے آزادی کا تصور بھی محال دکھائی دیتا ہے۔ اسی تسلط کو مصر میں عوام کی اکثریتِ رائے سے قائم ہونے والے اخوان المسلمین کی حکومت نے کسی بڑی اور گہری منصوبہ بندی کے بغیر چیلنج کردیا۔ استعمار کے سامنے ڈٹنے کا یہ اعلان کرتے ہوئے اخوان المسلمین کی جانب سے قائدِ حزبِ اقتدار محمد مرسی شاید یہ بھول گئے کہ ان کے پڑوس میں واقع مسلمان ممالک اس سلسلے میں کسی بھی طور ان کی حمایت نہیں کریں گے بلکہ بوقتِ ضرورت انہی ممالک کی جانب سے اخوان المسلمین اور اس کی قائم کردہ حکومت کو شدید مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

مصری دارالحکومت قاہرہ میں گزشتہ برس 3 جولائی کو جب جنرل عبدالفتاح السیسی نے منتخب حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے سرکاری ٹیلیویژن کے ذریعے براہِ راست اقتدار پر قابض ہونے کا اعلان کیا تو جامعۃ الازہر کے سربراہ احمد الطیب اور مصر میں قبطی عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ طوادروس نے فوری طور پر فوج کی حمایت کا اعلان کردیا۔ بعدازاں، اس حوالے سے بالعموم پوری دنیا اور بالخصوص امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سربراہان اور دفاترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات بہت معنی خیز تھے۔ فوج کے اقتدار پر قبضے کے بعد سعودی عرب اور امارات نے جنرل السیسی کو عبوری حکومت کو مستحکم بنانے اور 'عوامی بغاوت' کچلنے کے لئے خطیر مالی امداد بھی دی۔

کوئی زنجیر، کوئی حرفِ خرد لے آیا
فصلِ گل آئی کہ دیوانے کا موسم آیا

مصر میں فوجی بغاوت کے ذریعے منتخب حکومت کو ہٹانا اور مشرق و مغرب سے اس اقدام کی حمایت، دراصل استعماریت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تھا۔ اب مصری عدالت نے صرف دو سماعتوں کے بعد اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے پانچ سو سے زائد کو سزائے موت کا جو حکم سنایا ہے، یہ بھی استعماریت کی مخالفت کو روکنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جنرل السیسی، اس کے حواری اور ان کے پشت پناہ عیاش سعودی و اماراتی حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ ظلم و بربریت پر مبنی اس فیصلے کے ذریعے چند سو افراد کو موت کے گھاٹ اتار کر وہ قافلۂ حریت کا راستہ روک سکتے ہیں۔ یہ ان استعماری گماشتوں کی خام خیالی ہے اور انہیں یہ معلوم نہیں کہ دنیا کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ حریت کی خاطر جان دینے والوں کا لہو رائیگاں نہیں جاتا۔ مصر میں بھی جن مردانِ حر کے لئے آج پروانۂ موت جاری کیا گیا ہے، کل ان کے خون کی سرخی مصر کی گلیوں اور بازاروں میں آزادی کے رنگ بکھیرنے کا وسیلہ بنے گی۔

آخر کو ہو کے لالہ اُگا نو بہار میں
خونِ شہیدِ عشق نہ زیرِ زمیں رہا

جمعہ، 14 مارچ، 2014

فکر کا بحران

پھر منیر نیازی نے پاکستان پر گفتگو شروع کردی، "بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے ہندو کے خوف سے پاکستان بنایا۔ ہرگز نہیں۔ ہم برصغیر میں ایک مثالی شہر بنانا چاہتے تھے۔ ایسا کہ اس کی خوشبو پورے برصغیر میں پھیلے۔" اور منیر نیازی نے اعلان کیا کہ میں کسی سے خوف نہیں کھاتا اور کسی سے نفرت نہیں کرتا۔ میں ان لوگوں سے بھی نفرت نہیں کہ جن کے ہاتھوں تقسیمِ ہند کے وقت میرا خاندان زخمی ہوا تھا۔

پھر منیر نیازی نے مجھے اپنا تصورِ آدمیت سمجھایا۔ "میں چنگیز خاں کی طرح کا آدمی نہیں چاہتا۔ ایسے خدا پرست لوگ دیکھنا چاہتا ہوں جن کے یہاں احساسِ جمال اتنا ہو کہ خبیث قوتیں اس کے رعب میں آجائیں۔ شیلے نے کہا تھا کہ میں اپنی شاعری سے ایسے آدمی اسمبلیوں میں بھیجنا چاہتا ہوں جو ظالمانہ قوانین بنا ہی نہ سکیں۔ میں بھی اپنی شاعری سے ایسے ہی آدمی تیار کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ میرے ہوتے ہوئے پاکستان کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پاکستان ایک خوبصورت دین کی طرح پھیلے گا۔"

اصل میں اب مجھے منیر نیازی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ یہ شخص ایک مرتبہ شروع ہوجائے تو بہت کچھ کہتا ہے۔ سننے والے کا کام صرف اتنا رہ جاتا ہے کہ وہ بیچ بیچ میں گواہی دیتا رہے اور کہتا رہے۔ میں نے سنا، میں گواہ ہوں۔ کہنے لگا، "ہم نے غیر سے جو نفرت پالی تھی اس کی ادھر نکاسی نہیں ہوئی۔ اب خود پر خرچ ہورہی ہے۔ مکالمہ کی بجائے ہم جدائیوں پر تلے ہیں۔ مکالمے رکے ہوئے ہیں۔"

"یا شیخ، اس بیان کی وضاحت کی جائے۔"

"میرے عزیز، تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے ہمارے درمیان مکالمہ جاری تھا۔ اس میں کتنی محبت تھی۔ ہجرت کے بعد ہمارا مکالمہ رک گیا ہے۔ ہم سب کچھ چھپائے بیٹھے ہیں۔ کوئی دل کی بات نہیں کرتا۔ مکالمہ رک جاتا ہے تو پستولوں سے مکالمہ ہوتا ہے۔"

میں نے کہا، "منیر نیازی، میں نے تمہاری بات سنی اور میں نے اقرار کیا، اب کیا ہو؟"

"اب یہ ہو کہ ایک خیال مرکز ہو اور اس خیال کے واسطے سے مکالمہ ہو۔ مکالمہ پھیلے۔ اگر صحیح خیال پیدا ہوجائے تو وہ موسیٰ کے عصا کی طرح غلط خیالوں کے سنپولیوں کو کھا جائے گا۔ سو، میرے دوست یہ سیاسی بحران نہیں، فکر کا بحران ہے۔"

(انتظار حسین کی کتاب 'ملاقاتیں' کے مضمون 'منیر نیازی' سے اقتباس)

ہفتہ، 22 فروری، 2014

یہ بچہ کس کا بچہ ہے؟؟؟

کچھ دیر قبل میں کسی کام سے بازار جانے کے لئے گلی میں نکلا تو گھروں سے کوڑا کرکٹ لینے والا شخص اپنے تین چھوٹے بچوں سمیت گدھا گاڑی لیے چلا آرہا تھا۔ میں جلدی میں تھا، سو دھیان دئیے بغیر گزر گیا۔ کچھ دیر کے بعد میں واپس آیا تو دیکھا کہ ایک مکان کے باہر اس شخص کی سات آٹھ سالہ بچی بیٹھی ایک مرے ہوئے رنگین چوزے کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ اس معصوم بچی کے لئے وہ مرا ہوا رنگین چوزہ بھی ایک دلکش کھلونا تھا کہ 'مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے۔'

میں وہاں تو کچھ آگے بڑھا تو اس شخص کا بچہ ایک گھر کی گھنٹی بجا رہا تھا تاکہ وہاں سے کوڑا کرکٹ لے سکے۔ وہ لڑکا عمر میں اپنی بہن سے ایک دو برس بڑا معلوم ہوتا تھا۔ اس سے تھوڑے ہی فاصلے پر ان دونوں کا چھوٹا بھائی کوڑے کرکٹ سے بھری اس گدھا گاڑی کے ایک کونے پر قبضہ جمائے دنیا کے مصائب و آلام سے بےخبر سورہا تھا۔ نجانے کیوں مجھے اس معصوم بچے کی پُرسکون نیند کے پیچھے معاشرتی ناہمواریوں اور معاشی عدم مساوات کا پیدا کردہ ایک ایسا اضطراب اور انتشار کارفرما دکھائی دیا کہ میں اس کی تصویر بنائے بغیر نہ رہ سکا۔

تصویر بنا لینے کے بعد میں نے اپنے مکان تک جو چند قدم کا فاصلہ طے کیا اس کے دوران ابنِ انشاء کی نظم 'یہ بچہ کس کا بچہ ہے' کا یہ بند مسلسل میں ذہن کے دریچوں میں گردش کررہا تھا:
اس جگ میں سب کچھ رب کا ہے
جو رب کا ہے، وہ سب کا ہے
سب اپنے ہیں، کوئی غیر نہیں
ہر چیز میں سب کا ساجھا ہے
جو بڑھتا ہے، جو اگتا ہے
وہ دانا ہے یا میوہ ہے
جو کپڑا ہے، جو کمبل ہے
جو چاندی ہے، جو سونا ہے
وہ سارا ہے اس بچے کا
جو تیرا ہے، جو میرا ہے
یہ بچہ کس کا بچہ ہے؟
یہ بچہ سب کا بچہ ہے!

جمعہ، 14 فروری، 2014

لفظوں کی کہانی، لفظوں کی زبانی

تھل سے، جسے تھر بھی کہتے ہیں، خشک، سپاٹ علاقہ مراد ہے یعنی اس لفظ سے دور دور تک سوکھی ہموار سطح کا تصور وابستہ ہے۔ یہ دراصل ایسے بہت سے لفظوں سے جڑا ہوا ہے جن سے پیندے، سپاٹ پن، نچلے حصے اور خشکی کے معنی برآمد ہوتے ہیں۔ تلا اور تھلا اور تھالا سامنے کے لفظ ہیں۔ تھال بڑی اور چپٹی سینی کو کہتے ہیں۔ تھالی تھال کی تصغیر ہے۔ ہندی میں تال جھیل کو کہتے ہیں گویا نشیب کا تصور بھی اس سے منسلک ہے۔ پاتال سے تحت الثریٰ کا سب سے نچلا طبقہ مراد ہوتا ہے۔ اردو میں جب آپ 'جل تھل ایک ہوجانا' بولتے ہیں تو ایسی طغیانی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جس میں دور دور تک پانی پھیلا دکھائی دیتا ہے۔ تل پٹ اور تل چھٹ کے معنی واضح ہیں۔ یونانی کے 'تھلاسا' (سمندر) اور تھل میں مماثلت ہے۔ لاطینی میں سمندر کو مارے (mare) کہتے ہیں اور یہ پنجابی کے 'مارو' سے قریب تر ہے۔ لاطینی میں زمین کے لئے tellus کا لفظ بھی ہے جو تل یا تھل سے کچھ قربت رکھتا ہے۔ زمین کے لئے لاطینی میں terra بھی مستعمل ہے جس سے خشکی اور یبوست کے معنی پیوستہ ہیں۔ یہ پنجابی کے 'تریہہ' سے ملتا جلتا ہے (اگرچہ 'تھر' اور 'ثریٰ' سے بھی میل کھاتا ہے۔ م س)

تل اپنے میں چونکہ نشیب کا تصور بھی رکھتا ہے اس لئے یہ وادی کے معنی بھی دیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ تل، تال، تھلا اور انگریزی کا dale (وادی) سب رشتے دار ہیں۔ اب سنیے کہ جرمنی میں جواخیمس تھال نامی ایک جگہ ہے۔ سولھویں صدی عیسوی میں وہاں چاندی کی کانیں تھیں۔ ان کانوں سے جو چاندی نکلتی تھی اس کا نام جواخیمس تھالر پڑگیا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس نام میں تھال کا مطلب وادی ہے۔ انسانوں کی ایک نوع نینڈر تھال کہلاتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس انسان کی باقیات سب سے پہلے نینڈر تھال نامی وادی سے دستیاب ہوئی تھیں۔ قصہ مختصر، جواخیمس تھال سے ملنے والی چاندی سے جو سکے گھڑے گئے وہ جواخیمس تھالر کہلائے۔ اتنے لمبے نام زبان پر آسانی سے نہیں چڑھتے۔ لوگوں نے چاندی کے ان سکوں کو تھالر کہنا شروع کردیا۔ یہی تھالر آخر ڈالر بن گیا۔ اگر ڈالر کا شجرۂ نسب درست ہے تو پھر اس پرانے گیت میں نئے معنی تلاش کئے جاسکتے ہیں: 'آپ کھائیں تھالی میں / ہم کو دیں پیالی میں / پیالی گئی ٹوٹ / چندہ ماموں گئے روٹھ'۔ حالانکہ روٹھنا ہمیں چاہئے تھا لیکن قہرِ درویش برجانِ درویش۔ (یاد آیا کہ اسی کتاب میں خالد احمد نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ 'درویش' کا تعلق در سے نہیں یعنی جو در در پھرے بلکہ درویدن اور دروہ سے ہے یعنی وہ جس نے پیوند لگے کپڑے پہن رکھے ہوں۔) جس کالم کا نچوڑ اوپر درج ہے اس میں اور بھی باتیں ہیں لیکن کالم کو اول تا آخر پیش کرنا مدِنظر نہ تھا۔ صرف ذائقہ چکھانا مقصود تھا۔

(خالد احمد کی 'لفظوں کی کہانی، لفظوں کی زبانی' میں شامل محمد سلیم الرحمٰن کے دیباچہ سے اقتباس)

جمعرات، 13 فروری، 2014

شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی

"پی ایچ ڈی کے مقالات کی تعداد بھی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ان مقالات میں ایک خرابی عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ وہ ضروری و غیرضروری مواد کے ڈھیر سے لدے پھندے ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ضخیم اور فربہ ہوتے ہیں۔ تحقیق کرنے والے کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اسے کیا شامل کرنا ہے اور کیا شامل نہیں کرنا ہے۔ تحقیق کا سارا رف ورک شامل کرنے سے مقالہ تو ضخیم ہوجاتا ہے لیکن اصل موضوع بےضرورت مواد اور پھیلاؤ کی وجہ سے دب کر رہ جاتا ہے۔ بعض مقالات کو پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف تحقیق کرنے والا اس ملبے کے نیچے دب گیا ہے بلکہ اس نے راستہ بھی گم کردیا ہے۔ اب جدید رجحان یہ ہے کہ مقالات میں صرف ضروری مواد شامل کیا جائے اور اختصار و جامعیت پر زور دیا جائے۔ یہ رجحان وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جائے گا۔ موجودہ تحقیقی مقالات کی خرابی کے ذمہ دار وہ استاد ہیں جو جامعات میں ان مقالات کے نگران ہیں اور خود فنِ تحقیق و تدوین کے اصول و مسائل سے نابلد ہیں۔"

یہ اقتباس ڈاکٹر جمیل جالبی کے مضمون 'تحقیق کے جدید رجحانات' سے تعلق رکھتا ہے اور یہ مضمون انہوں نے 1982ء میں لکھا تھا۔ افسوس، صد افسوس کہ تین عشروں سے زیادہ وقت گزر چکنے کے باوجود ہم نے تحقیق و تدقیق کے سفر میں کوئی ترقی نہیں کی بلکہ اگر ہماری جامعات میں ہونے والی سندی تحقیق کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم آگے کی بجائے پیچھے کی طرف جارہے ہیں۔ جالبی صاحب نے وقت کے ساتھ ساتھ تحقیقی رجحان کی ترقی کی جو بات کی تھی وہ کسی زندہ اور بیدار معاشرے پر تو صادق آسکتی ہے مگر ہم جیسے مردہ یا خوابیدہ معاشرے پر اس کا اطلاق شاید ممکن نہیں۔

اب ذرا اپنے جملہ تعصبات ایک طرف رکھ کر سوچئے کہ جس معاشرے میں پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ ترین ڈگری کے حصول کے لئے لوگ جھوٹ بولنے اور چوری چکاری پر یقین رکھتے ہوں وہاں ایک اوسط درجے کے پڑھے لکھے یا ان پڑھ سے زندگی کے مختلف امور کے ذیل میں کیا توقع کیا جاسکتی ہے؟ جہاں جدید جامعات کے آزاد ماحول میں روایتی یا معاصر تعلیم کے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز ہونے کے لئے لوگ تحقیق و تدقیق کا دامن تھامنے کی بجائے دھوکہ دہی، فریب کاری اور جعل سازی کا رجحان رکھتے ہوں، وہاں مسلکی بوجھ تلے دبے قدیم مدارس میں پڑھنے والے کمسن اور نوعمر بچوں سے ہم بھلا کس تحقیقی اور غیرجانبدارانہ رویے کی توقع کرسکتے ہیں؟ جہاں جدید اور خالص تحقیق کے نام پر گھسے پٹے اور فرسودہ خیالات و نظریات کو پرانی شراب کی طرح نئی بوتل میں بند کر کے پیش کرنے کا دستور مروج ہو، وہاں کسی اعلیٰ علمی و فکری روایت کے رواج پانے کی باتیں دیوانے کا خواب نہیں تو اور کیا ہیں؟

ہمارے ہاں سیاستدانوں کی جعلی ڈگریوں کے معاملات سامنے آئے اور بڑے بڑے نامور لوگوں کی پگڑیاں اچھلیں۔ اب ہائر ایجوکیشن کمیشن کو چاہئے کہ ذرا مختلف مضامین کے ماہرین کے طور پر پہچان رکھنے والے اور لاکھوں روپے ماہوار تنخواہیں اور مراعات پانے والے لوگوں کی بھی ڈگریوں کی پڑتال کرے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ اپنے ناموں کے ساتھ عہدوں اور ڈگریوں کے سابقے لاحقے لگانے والے کتنے لوگ حقیقۃً ان سابقوں لاحقوں کے اہل ہیں۔ ہم ادب و لسانیات کے ایک انتہائی ادنیٰ سے طالبعلم ہیں اور ہمیں ان شعبہ ہائے علم کے حوالے سے معلوم ہے کہ لاہور کے بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں بیٹھے ہوئے کتنے ہی 'ڈاکٹر' ایسے ہیں جنہوں نے اقربا پروری کی بوتل سے نکلے ہوئے جن کی مدد سے ڈگریاں حاصل کر کے عہدے اور مراعات حاصل کیں اور نامور ہوئے۔

بدھ، 5 فروری، 2014

میلادِ نبیؐ اور سننِ نبویؐ کی خلاف ورزیاں

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا علیہم السلام کی بعثت کا مقصدِ وحید عرفانِ ذاتِ لم یزل و لایموت تھا اور اس مقصد کے حصول کے لئے ان بزرگ اور برگزیدہ ترین بندگانِ خدا نے اپنی جانوں کی بھی پروا تک نہ کی۔ ان نیک، متقی اور پرہیزگار ہستیوں نے پیغام معرفت کو سعیِ پیہم اور جہدِ مسلسل سے دنیا کے کونے کونے تک پھیلا کر ظلمت کے پردوں کو چاک کیا اور انسانیت کو آفتابِ نورِ حق سے روشناس کرایا۔ ان کے مقدس وجود کے باعث نہ صرف افراد بلکہ اقوام کی زندگیاں اور تقدیریں بدل گئیں۔ ان کی صادق زبانوں سے نکلنے والا ہر ہر لفظ لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتا اور بالآخر لوگ ایمان کی دولت سے مالا مال ہونے میں ہی اپنی ذات کے لئے دائمی فلاح اورحقیقی نجات کو تلاش کرتے۔

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اگر آج دنیا میں کہیں انسانی اقدار، اخلاق، محبت، خلوص اور راست بازی کا وجود باقی ہے، تو اس کا سبب یہ نیک ہستیاں ہی ہیں، لہٰذا ان پاک ہستیوں کا تذکرہ کیا جانا اور ان کے حوالے سے دنوں کا منایا جانا اتنا ہی ضروری اور لازمی ہے جتنا کہ ان اقدار و روایات کا قائم رکھنا۔ یہ متقی ہستیاں اس قابل ہیں کہ ان کے اسمائے مبارکہ روپہلی قراطیس پر سنہری حروف میں لکھے جائیں تاکہ آئندہ اقوام ان صالح ہستیوں اور ان کے نیک اعمال کے بارے آگاہ ہو سکیں۔ ان ہستیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ہر قوم اور ملت کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ یہ نیک ہستیاں کسی ایک ملک، قوم یا ملت نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے سرمایۂ عزت و افتخار ہیں۔

گذشتہ دنوں وطنِ عزیز میں نبی آخرالزماں، پیغمبرِ ذیشاں، ہمدردِ غمزدگاں، شافعِ مذنباں، سیدِ صادقاں، سردارِ پرہیزگاراں، قرارِ قلب و جاں حضرت محمد ﷺ کا میلادِ مبارک نہایت عقیدت و احترام، محبت، ذوق و شوق اور ”دھوم دھام“ سے منایا گیا۔ اس دن کے منائے جانے پر شاید کسی کو بھی کوئی عذر یا اعتراض نہ ہوگا۔ تاہم اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کچھ لوگوں کو اس کے منائے جانے کے طریق کار پر اعتراض ہے اوراس میں وہ کسی حد تک حق بجانب بھی ہیں۔ اس کی ایک بیّن وجہ اسلام کا وضع کردہ طرزِ زندگی ہے، جس میں اس طرح کے کسی بھی دن کے منائے جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جو غیر مسلموں کے کسی تہوار سے مشابہت و مماثلت رکھتا ہو۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس بابرکت اور باسعادت دن کو مناتے ہوئے بھی ہم میں سے بہت سے لوگ ایسی حرکات و سکنات کے مرتکب ہوتے ہیں جو کہ قطعاً غیر اسلامی ہیں۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلامی طرزِ حیات کے برخلاف کسی فعل کا کیا جانا نبیِ محتشم ﷺ سے محبت کا اظہار مطلق نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بحیثیتِ مسلمان کوئی بھی شخص کسی بھی ایسے فعل کا ارتکاب کرنا کبھی بھی گوارا نہیں کرے گا، جس سے اسے نبیِ رحمت ﷺ کی حمایت و تائید کی بجائے آپ ﷺ کی مخالفت و ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے۔ بعض اوقات ہم انجانے میں اور بغیر کسی ارادے کے ایسے افعال کر بیٹھتے ہیں، جن سے ہمیں اپنی محبوب ہستی کی رنجیدگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری حتیٰ المقدور کوشش یہ ہونا چاہئے کہ ہم کسی بھی کام کے کرنے سے قبل یہ دیکھ لیں کہ آیا وہ ہستی جس سے ہمارا تعلق ہے یا جس کی خوشنودی کے لئے ہم اس کام کو کرنے جارہے ہیں، اسے اس کام سے خوشی بھی ہوگی یا نہیں؟

ہمارے یہاں آج کل جو کچھ میلادِ نبی ﷺ کے نام پر کیا جارہا ہے، اسے کوئی بھی ہوش مند، ذی خرد اور باشعور انسان کسی بھی طور اسلامی اقدار و روایات کے پیش نظر عملِ صالح کا نام نہیں دے سکتا۔ حیف صد حیف کہ اب ہم میلادِ پیمبر اعظم ﷺ کو بھی بسنت نائٹ، جشنِ بہاراں، ویلنٹائن ڈے اور دیگر غیر اسلامی و غیر اخلاقی تہواروں کے رنگ میں رنگنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ 12 ربیع الاول کے اگلے روز ایک قومی روزنامہ میں ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے ”مسلمان“ نوجوانوں کو دیکھ کر اس قدر رنج و ملال ہوا کہ جس کا الفاظ میں بیان کرنا غیرممکن محسوس ہوتا ہے۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک طرف تو ہمارے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں ایسی بہنیں، بچیاں اور بیٹیاں موجود ہیں جنہیں تن ڈھانپنے کے لئے پورے کپڑے تک میسر نہیں اور دوسری طرف ”سرکار کی آمد مرحبا، دلدار کی آمد مرحبا“ کے نعروں والے لاکھوں جھنڈے اور بینر گلیوں، محلوں اور سڑکوں پر لہرا رہے ہوتے ہیں۔ حیرت ہے کہ عاشقانِ رسولؐ کے ہوتے ہوئے اس ملک پر امریکہ نواز، مغرب پرست، اسلام دشمن اور پاکستان مخالف لوگ ایوان ہائے اقتدار و اختیار میں بیٹھے حکمرانی کررہے ہیں۔ اسی پر بس نہیں یہ روشن خیال اور ماڈریٹ ٹولہ امریکہ کے طرف سے موصول ہونے والے ہر حکم پر سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے اسے فوراً بامِ تکمیل سے ہمکنار کرانا اپنا فرضِ جانتا ہے۔ یہ نہایت شرم کی بات ہے کہ اس کے باوجود ہم میں سے ہر ایک خود کو دھڑلے سے پکا مسلمان اورسچا عاشقِ رسولؐ کہتا ہے۔

اسلامی عقائد و نظریات کے مطابق چونکہ نبی پاک ﷺ کو سردار الانبیا اور سیدالبشر مانا جاتا ہے، لہٰذا آنحضرت ﷺ کے حوالے سے ایک دن کا مخصوص کیا جانا اور اس کا منایا جانا ایک احسن امر ہے لیکن نبی مکرم ﷺ نے چونکہ اپنی پوری زندگی قواعد و ضوابط کے مطابق گزاری ہے چنانچہ اس دن کو منائے جانے کے بھی کچھ اصول ہونا چاہئیں اور اس دن کو ان اصولوں کے مطابق ہی گزارا جانا چاہئے۔ اس دن کو ایک تہوار کے طور پر منائے جانے سے کہیں بہتر اور افضل ہوگا کہ ہم اس دن کو تحدیثِ نعمتِ ربانی، شکرِ ایزدی اور تجدیدِ عہد ِ مسلمانی کے طور پر منائیں تاکہ اس دن کا ایک واضح مقصد دنیا کے سامنے آسکے۔ اگر ہم اس دن کو واقعی منانا چاہتے ہیں تو ہم سب پر یہ فرض ہے کہ ہم اس دن کو اس طرح سے منائیں کہ اس پورے دن میں اللہ رب العزت کی رضا اور نبی پاک ﷺ کی سنت کے خلاف کوئی عمل نہ کریں اور دن کے اختتام پر خدائے بزرگوار کے حضور سربسجود ہو کر اپنے سابقہ گناہوں کی معافی طلب کریں اور یہ عہد کریں کہ آئندہ اپنی پوری زندگی میں منشائے مالک الملک اورسننِ محمدیؐ کے خلاف
کبھی بھی کوئی بھی کام نہیں کریں گے۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہیں، تو پھر اس دن کو مروجہ طریقوں سے منا کر اللہ خالق و صانعِ ارض و سماوات اور اس کے محبوب نبی ﷺ کے خلاف چلنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔

پس نوشت: ہمارا یہ مضمون آج سے نو برس قبل ایک قومی روزنامہ میں شائع ہوا تھا۔ افسوس کہ تقریباً ایک عشرے کے بعد حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑ گئے ہیں۔ ہم اپنے آئندہ مضمون میں اس مزید بگڑی ہوئی صورتحال پر بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جمعرات، 16 جنوری، 2014

بیگانستان


لاہور کی گلبرگ کالونی بڑی شان کی بستی سمجھتی جاتی ہے۔ لاہور کے ادب نوازو! سچ سچ بتاؤ کیا یہ نواحستان بلکہ بنگلستان کبھی کسی ادبی سرگرمی کا گلستان کہلایا؟ جیسی محفلیں بھاٹی دروازے کے اندر بازار حکیماں میں جما کرتی تھیں، ویسی محفلیں گلبرگ کالونی میں کبھی جمیں؟ یار باشی کے جو رنگ عرب ہوٹل اور نگینہ بیکری میں تھے، اس کالونی کے کسی چائے خانہ میں ہیں؟ ڈبی بازار، گمٹی بازار، قلعہ گوجر سنگھ، مزنگ اور اچھرہ میں ہمسایوں کے درمیان جو قرب اور بےتکلفیاں ہیں، موڈل ٹاؤن کے ہمسایوں کے درمیان ہو ہی نہیں سکتیں۔ میں نے اپنا بچپن موڈل ٹاؤن میں گزارا، اس بستی کے باشندوں میں گرمجوشی ہرگز نہ تھی، ہمسایوں کے بچے البتہ مل کر کھیل لیتے تھے۔ پھر اس بنگلستان کو بیگانستان کیوں نہ کہیں!

بنگلستان کے پروردگان میں وہ حوصلہ ہو ہی نہیں سکتا جو گلیوں کے رہنے والوں میں ہوتا ہے۔ اقبال گلیوں میں پل کر جس طرح حوصلہ مند ہوئے سول لائنز میں پل کر کبھی نہ ہوپاتے۔ وہ شاعر جو بھاٹی دروازے کا مکین نہیں رہا 'شکوہ' جیسی نظم نہیں کہہ سکتا۔ گلبرگ کالونی میں پلا ہوا گویّا وہ بیباکانہ اور دلکشا تان کیسے مار سکتا ہے جو استاد فتح علی خاں کے حصے میں آئی ہے۔

(داؤد رہبر کی 'پراگندہ طبع لوگ' کے مضمون 'میزبان اور مہمان' سے اقتباس)

منگل، 14 جنوری، 2014

امیر خسروؒ کی مشہور نعت (نمی دانم چہ منزل بود)

حکیم ابوالحسن یمین الدین المعروف امیر خسرو دہلویؒ کی مشہور و معروف نعت 'نمی دانم چہ منزل بود' کا مقطع یقیناً آپ نے سنا ہوگا۔ یہاں اس خوبصورت ہدیۂ عقیدت کے اشعار مع ترجمہ پیش کیے جارہے ہیں۔ ان گلہائے ارادت کا اردو میں منظوم ترجمہ کرنے کی سعادت جناب مسعود قریشی نے حاصل کی۔ ہر شعر کے نیچے منظوم ترجمہ درج ہے۔

نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم
بہ ہر سو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم

نہیں معلوم تھی کیسی وہ منزل، شب جہاں میں تھا
ہر اک جانب بپا تھا رقصِ بسمل، شب جہاں میں تھا

پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے
سراپا آفتِ دل بود، شب جائے کہ من بودم

 
پری پیکر صنم تھا سرو قد، رخسار لالہ گوں
سراپا وہ صنم تھا آفتِ دل، شب جہاں میں تھا

رقیباں گوش بر آواز، او در ناز، من ترساں
سخن گفتن چہ مشکل بود، شب جائے کہ من بودم

عدو تھے گوش بر آواز، وہ نازاں تھا، میں ترساں
سخن کرنا وہاں تھا سخت مشکل، شب جہاں میں تھا

 
خدا خود میرِ مجلس بود اندر لا مکاں خسرو
محمدؐ شمعِ محفل بود، شب جائے کہ من بودم

خدا تھا میرِ مجلس لا مکاں کی بزم میں خسرو
محمدؐ تھے وہاں پر شمعِ محفل، شب جہاں میں تھا

پس نوشت: امیر خسرو کے کلام اور ترجمے کے لئے محمد وارث صاحب کے بلاگ صریرِ خامہ سے مدد لی گئی ہے۔