Pages - Menu

پیر، 26 جنوری، 2015

شدت پسند کون؟؟؟


تقریباً دو ہفتے قبل پیرس میں پیش آنے والے واقعے کے بعد فرانس میں مسلم مخالف واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ نیشنل آبزرویٹری اگینسٹ اسلاموفوبیا نامی ادارے کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو ہفتے کے دوران ایسے 128 واقعات کے بارے میں اطلاع ملی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ 2014ء کے دوران پورے سال میں اتنے مسلم مخالف واقعات پیش آئے تھے جتنے کہ اب دو ہفتوں کے دوران ہی سامنے آچکے ہیں۔

مذکورہ ادارے کے مطابق 128 میں سے 33 واقعات مساجد کے خلاف پیش آئے جبکہ 95 واقعات انفرادی نوعیت کی دھمکیوں پر مبنی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں پیرس اور اس کے گرد و نواح میں پیش آنے والے واقعات شامل نہیں ہیں کیونکہ ان علاقوں سے پولیس نے تاحال اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔

ادارے نے یہ بھی بتایا ہے کہ 2014ء میں اس سے گزشتہ برس کے مقابلے میں ایسے واقعات 41 فیصد کم رونما ہوئے تھے، تاہم پیرس کے واقعے نے فرانس میں مسلم مخالف جذبات کو ایک بار پھر ہوا دی ہے جس کے باعث ایسے واقعات میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار حقائق پر مبنی نہیں ہیں کیونکہ بہت سے مسلمان ایسے واقعات کے خلاف باقاعدہ شکایت درج نہیں کرواتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی شکایتوں کے اندراج کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے رسالے چارلی ہیبڈو کے دفتر پر 7 جنوری کو جب مسلح حملہ ہوا تھا تو اس وقت ڈیوٹی پر موجود ایک مسلم پولیس اہلکار احمد مرابت نے فرائض کی انجام دہی کے دوران  سب سے پہلے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا اور جب حملہ آور فرار ہو کر پیرس کے نواح میں واقع ایک یہودی اکثریتی قصبے کی طرف گئے تو وہاں جس سپر مارکیٹ میں جا کر انہوں نے مزید لوگوں کو نشانہ بنایا، وہاں بھی لوگوں کی جان بچانے کے لیے جو شخص سامنے آیا وہ مالی سے تعلق رکھنے والا چوبیس سالہ نوجوان لسانا بیتھیلی نامی ایک مسلمان ہی تھا۔

اتوار، 25 جنوری، 2015

ایک قابلِ تقلید واقعہ


ایک دن میں اپنے امی ابو کے ساتھ لاہور کے ایک ریسٹورنٹ میں کهانا کهانے گیا۔ وہاں دو ٹیبل چھوڑ کے ایک ادھیڑ عمر بوڑھے میاں اور ان کی بوڑھی محبوبہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک نہایت ہی ڈیسنٹ اور خوش شکل بھائی صاحب ہوٹل میں داخل ہوئے اور واش بیسن پر ہاتھ دھو کر کچھ فاصلے پر ان کے برابر والی ٹیبل پر بیٹھ گئے۔

چونکہ ہم نے اپنے کھانے کا آرڈر پہلے ہی دے دیا تھا تو اس لیے ہم کهانے کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک اس صاحب کے موبائل فون کی بیل بجی جس کے بعد وہ قدرے اونچی آواز میں موبائل پر کسی سے بات کرنے لگے، ان کے بات کرنے کے انداز سے لگ رہا تھا کہ ان کو اللہ نے کوئی بہت بڑی خوشی سے نوازا تھا۔ اور پھر موبائل پر بات ختم کرنے کے بعد وہ وہاں پر موجود سب لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے بلند آواز میں بولے، "خواتین و حضرات! آج میں بہت خوش ہوں کہ اللہ نے مجھے بیٹا عطا کیا ہے اور اس خوشی میں میں آپ سب کو مٹن کڑھائی کھلاؤں گا!" میں اپنی جگہ سے اٹها اور آگے جا کر انہیں مبارک باد دی اور کہا کہ "بھائی! ہم نے تو اپنے کھانے کا آرڈر پہلے ہی دے دیا ہے، یہ سنتے ہی اُنہوں نے کہا، "اچها، چلو کوئی بات نہیں، اس خوشی میں آپ کے کھانے کا بل میں ادا کروں گا!" پھر انہوں نے وہاں پر موجود باقی سب لوگوں بشمول ان بوڑھے میاں جی اور ان کی بڑھیا کے لیے مٹن کڑھائی کا آرڈر کیا اور سب کا بل ادا کر کے اپنا کھانا کھا کے خوشی خوشی چلے گئے۔

چند دنوں کے بعد میں اپنے دوستوں کے ہمراه ایک سینما گیا تو کیا دیکھا کہ وہی صاحب وہاں پر ایک پانچ سال کے بچے کے ہمراہ ٹکٹ کے لیے لائن میں کھڑے تھے۔ میں اپنے دوستوں سے نظر بچا کر ان کے پاس پہنچا، جونہی انہوں نے مجھے دیکھا، دیکھتے ہی مجھے پہچان گئے اور مسکرانے لگے۔ بہرحال سلام دعا کے بعد میں نے طنزیہ کہا کہ "ماشا الله! آپ کا بیٹا تو چند ہی دنوں میں اتنا بڑا ہو گیا ہے۔" میری بات سن کر انہوں نے کہا، "بھائی! چھوڑو اس بات کو، یہ بڑی عجیب کہانی ہے، پھر کسی دن ملو گے تو بتاؤں گا۔" جب اںہوں نے یہ کہا تو میرا تجسس اور بھی بڑھ گیا اور میں نے اصرار کیا کہ وه مجهے یہ عجیب کہانی ابھی بتائیں۔" آخر میرے بہت اصرار پر انہوں نے جو بات بتائی اُس کے بعد میں اپنے آپ کو بہت چھوٹا سمجھنے لگا اور ان کا مقام میری نظروں میں قدرے بلند ہوگیا۔

دوستو! انہوں نے بتایا کہ "اس دن جب میں ریسٹورنٹ میں داخل تو ہاتھ دھونے کیلئے واش بیسن کی طرف گیا تو وہاں ہاتھ دھوتے وقت میں نے ان بوڑهے میاں اور بوڑھی اماں جی کی باتیں سن لی تھیں۔ بوڑھی اماں کہہ رہی تھیں، "آج میرا مٹن کڑهائی کھانے کو دل کر رہا ہے۔" تو اس پر بوڑھے میاں نے بہت افسردہ لہجے میں کہا کہ "میرے پاس پورے مہینے کے لئے صرف دو ہزار روپے ہیں، اگر کڑهائی کهائیں گے تو پورے مہینے گزارہ کیسے ہوگا؟ ایسا کرتے ہیں آج دال روٹی کھا لیتے ہیں، کڑھائی پھر کسی دن کھا لیں گے۔" ان صاحب نے کہا کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے موبائل کی خود ہی بیل بجا کر وہ بیٹے کی پیدائش کا ڈرامہ کیا تھا، تاکہ میں اپنی فرضی خوشی کے بہانے ان کی دلی "خاموش خدمت" کر سکوں۔ میں نے کہا "تو بھائی! آپ صرف انہی بزرگوں کے پیسے دے دیتے، آپ نے خوامخواہ باقی سب لوگوں کو کھانا بھی کھلایا اور ان کا بل بھی ادا کیا۔" تو انہوں نے جواب دیا، "ایسا کر کے میں ان بزرگوں کی عزتِ نفس مجروح نہیں کرنا چاہتا تھا۔"

پس نوشت: یہ تحریر فیس بک سے حاصل کی گئی ہے اور اس کے آخر میں "تحریر نامعلوم" کے الفاظ درج تھے۔

اتوار، 11 جنوری، 2015

"اپنا مریض اٹھا کر گھر لے جاؤ!!!"


کیا آپ نے احمد ندیم قاسمی کا افسانہ 'سفارش' پڑھا ہے؟ اگر نہیں پڑھا تو ضرور پڑھیں۔ اس میں آپ کو ہمارے معاشرے کی ایک ایسی جھلک دیکھنے کو ملے گی جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے موجود تو ہوتی ہے لیکن ہم اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے اور یوں ہمارا معاشرہ ایک ایسی دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ قاسمی صاحب کے دیگر افسانوں کی طرح مذکورہ افسانے میں بھی بہت ہی خوبصورت انداز سے معاشرے میں پائی جانے والی جہالت اور ظلم کی مختلف جہتوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔

مجھے یہ افسانہ اس لیے یاد آگیا کیونکہ میری اس تحریر کا محرک بھی ویسی ہی ایک صورتحال ہے جس کا سامنا قاسمی صاحب کے اس افسانے کے مرکزی کردار کو کرنا پڑا تھا۔ ہوا یوں کہ تقریباً دو ہفتے پہلے ایک انتہائی قریبی دوست کے والد کے دماغ کی شریان پھٹ گئی اور ساتھ ہی ان پر فالج کا حملہ بھی ہوا۔ ابتدائی طبی امداد کے لیے انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال میں لیجایا گیا جہاں انتظامیہ کے ایک بڑے عہدیدار سے میرے دوست کی واقفیت کی بنیاد پر اس کے والد کو اسپتال میں داخلے کے ساتھ ساتھ غیرمعمولی توجہ بھی دی گئی۔

چند دن کے بعد اسپتال والوں نے کہا کہ اب آپ انہیں جنرل اسپتال لے جائیں تاکہ ان کے دماغ کا علاج بہتر طور پر ہوسکے۔ لواحقین نے مریض اٹھایا اور جنرل اسپتال پہنچ گئے۔ وہاں بھی داخلے کے لیے سفارش کی ضرورت پڑی تو میرے دوست کے ایک ہمکار کا بھائی کام آیا اور یوں مریض کو اس اسپتال میں جگہ مل گئی۔ چند روز گزرنے کے بعد اسپتال والوں نے اس نیم بےہوش مریض کے گھر والوں سے کہا کہ ہم مریض کو یہاں مزید نہیں رکھ سکتے، لہٰذا آپ انہیں گھر لے جائیں۔ لواحقین نے ڈاکٹروں کی منت سماجت کی کہ ہم اس اسپتال سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر رہتے ہیں اور مریض نیم بےہوش ہیں تو اگر گھر لیجا کر ان کی حالت بگڑ گئی تو ہم کیا کریں گے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ ہم اب تک جو کرسکتے تھے ہم نے کیا مگر اب مریض کو ہم مزید یہاں پر نہیں رکھ سکتے۔ لواحقین بضد رہے کہ ہم مریض کو اس حالت میں گھر نہیں لے کر جاسکتے۔ ڈاکٹروں اور نرسوں نے مریض پر توجہ دینا بند کردی اور یوں چار و ناچار لواحقین کو اپنا مریض اسپتال سے لے کر جانا پڑا۔

میں نے اپنے دوست سے اس کے والد کا حال پوچھنے کے لیے فون پر رابطہ کیا تو اس نے مجھے پوری صورتحال بتائی۔ میں نے اسے کہا کہ مریض کو گھر لانے سے پہلے ایک بار مجھ سے رابطہ تو کرلیا ہوتا تاکہ میں اسپتال میں کسی سے بات کرلیتا۔ خیر، میرے دوست نے بتایا کہ اس کے والد اب بھی نیم بےہوشی کی حالت میں ہیں اور انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ اب کیا کریں۔ میں نے اسے کہا کہ میں کچھ کرتا ہوں۔ اگلی کال میں نے اپنے ایک عزیز کو ملائی جو ایک بڑے اسپتال کے شعبۂ اعصاب و پٹھہ میں نیورو فزیشن ہیں اور انہیں ساری صورتحال بتانے کے بعد کہا کہ آپ مریض کو اپنے اسپتال میں داخل کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کل صبح ہی انہیں بھیج دیں۔

اگلی صبح میرا دوست اپنے والد کو ایمبولینس میں ڈال کر اسپتال لے گیا تو میرے عزیز نے مریض کو داخل تو کروا دیا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم دو تین روز سے زیادہ انہیں اسپتال میں جگہ نہیں دے سکتے۔ میں شام میں اپنے دوست سے ملنے پہنچا تو اس نے مجھے صورتحال سے آگاہ کیا۔ میں نے اپنے عزیز پر مزید بوجھ ڈالنے کی بجائے اپنے ایک ایسے دوست سے رابطہ کیا جو مذکورہ شعبے کے سربراہ کو جانتے تھے۔ میں نے انہیں صورتحال بتائی اور کہا کہ مریض کی حالت ایسی نہیں ہے کہ انہیں گھر پہ رکھا جاسکے، لہٰذا آپ ڈاکٹر سے کہیں کہ انہیں مریض کی حالت سنبھلنے تک یا کم از کم چند دن مزید یہاں رہنے دیں۔

ان ڈاکٹر صاحب سے رابطہ بھی ہوگیا اور میرے دوست کے والد کو اسپتال میں مزید چند روز رہنے کی مہلت بھی مل گئی لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ اس شہر کے مختلف اسپتالوں میں روزانہ لائے جانے والے ہزاروں مریض جن کی سفارش کرنے والا کوئی نہیں، ان کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا اور جب علاج مکمل ہوئے بغیر ڈاکٹر ان کے لواحقین سے یہ کہتے ہوں گے کہ اپنا مریض اٹھا کر گھر لے جاؤ تو وہ بیچارے کیا کرتے ہوں گے؟ کیا صحتمند اور تندرست زندگی گزارنا صرف ان لوگوں کا حق ہے جو وسائل پر قابض ہیں؟ کیا ہمارے سیاسی قائدین میں سے کسی ایک کو بھی اندازہ ہے کہ اس ملک کے عوام کو علاج معالجے کے حوالے سے کیا کیا مسائل درپیش ہیں اور ان کا حل کس طرح ممکن ہے؟

جمعہ، 9 جنوری، 2015

اسی لاکھ بمقابلہ ڈیڑھ ارب


فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے۔ اس واقعے کے بارے میں جان کر مجھے آنجہانی ہیلن تھامس بہت یاد آئیں۔ جون 2010ء میں اس نوے سالہ بوڑھی نے امریکی صدر کی سرکاری رہائش قصرِ سفید کے باغیچے میں کھڑے ہو کر ایک ٹیلیویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے یہودیوں کے بارے میں کہا کہ 'وہ فلسطین سے دفع ہوجائیں۔' ان الفاظ کا ہیلن تھامس کے منہ سے نکلنا تھا کہ پوری امریکی انتظامیہ حالتِ اسہال میں مبتلا ہوگئی۔ جیسے ہی یہ بات منظرِ عام پر آئی، فوری طور پر اس بی بی سے نہ صرف معافی نامہ لکھوایا گیا بلکہ اسے نوکری سے بھی برخاست کروا دیا گیا کیونکہ بعض لوگوں کے خیال میں اس بیان سے اسرائیل میں بسنے والے اسی لاکھ یہودیوں کی دلآزاری ہوئی تھی۔

یورپ اور امریکہ میں ایک عرصے سے آزادیِ اظہار کے نام پر اسلامی شعائر اور شخصیات کی توہین کے ذریعے دنیا بھر میں رہنے والے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی دلآزاری کا سلسلہ جاری ہے۔ مسلمان جب بھی بین الاقوامی سطح پر ان توہین آمیز حرکات کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں تو یہ کہہ کر بات کو دبانے یا ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مغرب میں لوگوں کو اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی حاصل ہے، لہٰذا حکومتیں اس بات پر قدغن لگانے کا کوئی حق نہیں رکھتیں۔ یہ بات تو بیّن حقیقت ہے کہ آزادیِ اظہار کا بھونڈا جواز دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے پیش کیا جاتا ہے ورنہ یورپ اور امریکہ میں ایسے کئی موضوعات ہیں جن کے حوالے سے اظہارِ رائے پر باقاعدہ پابندیاں عائد ہیں۔ ان موضوعات میں ہولوکاسٹ سب سے اہم ہے جو یہودیوں کے لیے دکھتی رگ کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے یورپ اور امریکہ میں اس کے خلاف بات کرنا ممنوع ہے۔

ہمارے ہاں جو لوگ یورپ اور امریکہ کا نام آتے ہی ادب سے سر جھکا لیتے ہیں، انہوں نے بھی کبھی اس دہرے معیار کے حوالے سے مغرب کو ہدفِ تنقید بنانے کی زحمت گوارا نہیں کی کیونکہ ایسا کر کے وہ اپنے اوپر ہونے والی عنایات کی بارش سے محروم ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ مغرب (اور مغرب نوازوں) کی یہود پروری کو اقبال نے تو اسرائیل کے قیام سے بھی بہت پہلے بھانپ لیا تھا، اسی لیے تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا تھا:

تری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے

اب جہاں تک پیرس میں پیش آنے والے واقعے کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ جب آپ کسی شخص کو گھاؤ پر گھاؤ لگاتے چلے جاتے ہیں تو اس سے کسی معقول ردعمل کی توقع تو ہرگز نہیں کی جاسکتی۔ ویسے بھی دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی اپنے مذہب کے حوالے سے جذباتی کیفیات ایک دوسرے سے انتہائی مختلف ہیں اور ان جذباتی کیفیات کے صرف اور صرف اسی صورت میں مثبت اور متوازن رہنے کی توقع کی جاسکتی ہے کہ اسلامی شعائر اور شخصیات کے خلاف ہونے والی ہرزہ سرائی سے متعلق عالمی سطح پر قانون سازی کی جائے اور بقائے باہمی کے اصولوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے صرف اپنے ہی نہیں، دوسروں کے بھی جذبات و احساسات کا خیال رکھا جائے۔

بدھ، 7 جنوری، 2015

قصہ دو خبروں کا۔۔۔


پہلی خبر ملاحظہ فرمائیے، صدر مملکت ممنون حسین کو اسلام آباد ایئرپورٹ کے راول لاؤنج میں موجود تھے کہ انہیں پینے کے لیے جوس پیش کیا گیا جس کے بعد سول ایوی ایشن کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر انہیں جوس پینے سے روک دیا۔ تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ جوس زائد المیعاد تھا اور اس سے صدر مملکت کی صحت پر برا اثر پڑ سکتا تھا۔ جوس کے زائد المیعاد ہونے کی تصدیق ڈاکٹرز نے بھی کردی ہے جس کے بعد ڈی جی سول ایوی ایشن نے تحقیقات کے لیے بورڈ تشکیل دے دیا ہے۔

اب دوسری خبر بھی دیکھ لیجئے، تھرپارکر میں غذائی قلت کے باعث ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ستانوے دنوں کے دوران تھرپارکر میں غذائی  قلت کے باعث دو سو چوراسی بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ان دونوں خبروں میں بیان کیے جانے والے واقعات کی اہمیت میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کہ ان خبروں کے متن میں، یعنی صدر مملکت کو زائد المعیاد جوس ملنے پر بات کہاں سے کہاں تک پہنچی، یہ سب پوری تفصیل کے ساتھ درج کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ خدانخواستہ اگر صدر مملکت اس جوس کو نوش جاں فرما لیتے تو ان کی طبعِ نازک پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے تھے۔ دوسری جانب، تھرپارکر میں بھوک اور پیاس کی شدت سے سسک سسک کر جان سے ہاتھ دھوتے معصوم بچے بس اسی قابل ہیں کہ دو جملوں میں محض ان کی موت کی وجہ اور اموات کی تعداد بتا دی جائے۔

میں ایک بڑے شہر کا باسی ہوں جہاں پائے جانے والے ہوٹلوں، ریستورانوں، چائے خانوں اور دیگر مقاماتِ خورد و نوش کی تعداد تھرپارکر میں قحط کے باعث جان کی بازی ہارنے والے بچوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ میں معاشرے کے اس طبقے سے تعلق رکھتا ہوں جو ہر مہینے میں دو چار بار تفریحِ طبع کے لیے ان مقاماتِ خورد و نوش کا رخ ضرور کرتا ہے۔ میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ میرے شہر کے ہوٹلوں، ریستورانوں اور چائے خانوں وغیرہ میں ہر مہینے جتنا کھانے پینے کا سامان ضائع ہوتا ہے اس کا محض پچاس فیصد ہی اگر تھرپارکر بھیج دیا جائے تو غذائی قلت کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے لیکن یہ اقدام اس لیے نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اگر ہم نے اپنا وقت، توانائی اور وسائل اس مسئلے کے حل پر لگادیئے تو ہمارا دھیان صدر مملکت اور دیگر انتہائی اہم شخصیات کو کھانے پینے کے لیے دی جانے والی اشیاء سے ہٹ جائے گا اور یوں عین ممکن ہے کہ کسی زائد المیعاد چیز کے کھانے یا پینے سے ان شخصیات میں سے کسی کی طبیعت مکدر ہوجائے۔ باقی رہے تھرپارکر والے بچے تو ان کی اموات پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ انسان مرنے کے لیے ہی تو پیدا ہوتا ہے۔

اتوار، 4 جنوری، 2015

یومِ افسوس


بالآخر ہماری سیاسی قیادت نظام کی آئینی اور جمہوری جڑوں کا دفاع یا جرنیلوں کے مطالبات کے سامنے مزاحمت کرنے میں ناکام ثابت ہوئی۔ پاکستان میں ایک بار پھر فوجی عدالتیں قائم کی جارہی ہیں۔ ان عدالتوں کو قائم کرنے کے لیے سیاست دانوں نے اختیارات کی علیحدگی کے اصول بگاڑنے، آئین کی بنیاد فراہم کرنے والے حقوق کی عمارت توڑنے اور کمزور ریاستی اداروں کو بہتر بنانے کا کام چھوڑنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ درست ہے کہ ہمیں عسکریت پسندی کے خلاف لڑنے کے لیے ایک مربوط حکمت علمی درکار ہے اور اس سلسلے میں سیاسی اور فوجی قیادت کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن فوجی عدالتیں اس مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس حوالے سے تو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ عدالتیں فوجی قیادت کے ایماء پر قائم کی جارہی ہیں۔

گزشتہ روز مسلح افواج کے شعبۂ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر نے اسلام آباد میں ہونے والی کثیر جماعتی کانفرنس سے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا یہ بیان نقل کیا کہ فوجی عدالتوں کا قیام "فوج کی خواہش نہیں بلکہ غیرمعمولی حالات کا تقاضہ ہے۔" ایک روز قبل، آئی ایس پی آر نے جنرل راحیل کا کور کمانڈرز کے اجلاس سے خطاب کا یہ حصہ نقل کیا تھا کہ "دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کے خلاف سخت کارروائی" کو یقینی بنانے کے لیے "جراتمندانہ اور بامعنی فیصلوں" کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ "چھوٹے مسائل کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے کو گنوایا" نہیں جانا چاہیے۔ یہ جمہوریت کے لیے افسوس کا مقام ہے کہ ایک فوجی سربراہ کھل کر سیاسی عمل کے لیے ہدایات دے رہا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ آئین میں ترمیم کا اختیار پارلیمان کو ہے اور دستور کے بنیادی ڈھانچے کے تصور کی اس وقت تجدید ہوئی تھی جب عدالتی تقرری کے عمل پر پارلیمان اور افتخار چوہدری کی سربراہی میں چلنے والی عدالتِ عظمیٰ کے درمیان ٹھن گئی تھی۔ امید کی جاتی ہے کہ جمہوری نظام کے تحت چلنے والی پارلیمان سول اداروں کی وقعت نہیں گھٹائے گی، کجا کہ ایک ایسے ادارے کو مزید طاقت دیدی جائے جو ماضی میں کئی بار آئین کو معزول کر چکا ہے۔

غور کیجئے کہ سول حکومتوں کے تحت ہونے والی سابقہ آئینی ترامیم فوجی آمروں کی پیچھے چھوڑی ہوئی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے تھیں اور اب سول حکومت خود ہی فوج کو مزید بااختیار بنانے کے لئے آئین کو گندا کررہی ہے۔ اکیسویں آئینی ترمیم سول اور جمہوری مقاصد سے غداری کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔

تیسری بات یہ ہے کہ حکومت اور پارلیمان کو موجودہ قانونی نظام اور عدالتی عمل کو فوری طور پر مستحکم بنانے سے ان کے اپنے سوا تو کسی نے بھی نہیں روکا۔ فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے پر جو وقت اور کوششیں صرف کی گئی ہیں اگر انہیں فوجداری قانون کی ساخت درست کرنے کے لیے فوری اصلاحات اور انتظامی اقدامات پر لگایا جاتا تو موجودہ نظام دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کوئی صورت اختیار کرچکا ہوتا۔ افسوس کی بات ہے کہ سیاسی قیادت نے اپنی جمہوری ذمہ داریوں سے دستبردار ہوگئی۔ شاید ہتھیار ڈالنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔

پس نوشت: یہ مضمون مؤقر انگریزی جریدے 'ڈان' کے گزشتہ روز شائع ہونے والے اداریے کا ترجمہ ہے۔