Pages - Menu

ہفتہ، 28 فروری، 2015

حقوقِ نسواں کا دوہرا معیار


مغرب اپنی اسلام مخالف جنگ کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کررہا ہے۔ انہی حربوں میں سے ایک اہم حربہ آزادیِ نسواں ہے جس کا نام لے کر دنیا بھر کے مسلمان ممالک میں بےحیائی پھیلانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں ایسے افراد اور اداروں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جاتی ہے جو مسلمان لڑکیوں اور عورتوں کو آزادیِ نسواں کے اس دامِ ہم رنگِ زمیں میں پھانسنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اس حوالے سے چند روز پہلے ایران سے تعلق رکھنے والی ایک اڑتیس سالہ خاتون مسیح علی نژاد کو سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا میں "انسانی حقوق کا ایوارڈ" بھی دیا گیا ہے۔ مسیح علی نژاد، جن کا اصل نام معصومہ علی نژاد قمی ہے، کو جس خدمت کے عوض یہ ایوارڈ دیا گیا وہ یہ ہے کہ موصوفہ نے فیس بک پر ایک صفحہ بنا رکھا ہے جہاں وہ ایران سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں اور عورتوں کو حجاب کے بغیر اپنی تصویریں پیش کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مسیح خود ایران میں نہیں بلکہ انگلستان میں رہتی ہیں جہاں ایرانی خواتین کو بےحجاب کرنے کے لیے انہیں مغربی میڈیا کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

مسیح کو ایوارڈ دینے والے ادارے، جنیوا سمٹ فار ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی کا کہنا ہے کہ یہ ایوارڈ "بےآوازوں کو آواز مہیا کرنے اور ایرانی خواتین کی بنیادی انسانی حقوق، آزادی اور مساوات کے لیے جدوجہد کی حمایت کے لیے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے" کے عوض دیا گیا۔ بیس غیرسرکاری تنظیموں کے اتحاد سے وجود میں آنے والے اس ادارے کے دل میں انسانیت اور بالخصوص مسلمان عورتوں کے لیے ہمدردی کا سمندر ایسے زور شور سے ٹھاٹھیں مار رہا ہے کہ اس کی لہریں جنیوا سے تقریباً پانچ ہزار کلومیٹر دور تہران تک پہنچ رہی ہیں۔

کاش یہ لہریں ذرا سی اور طاقتور ہوتیں تاکہ یہ مزید آٹھ نو سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتیں۔ یہ اضافی فاصلہ طے کرنے کی سکت اگر ان لہروں میں ہوتی تو میری شدید خواہش ہے کہ انہیں دوسری جانب رخ کر کے کینیڈا کے شہر مونٹریال میں پہنچنا چاہیے تھا جہاں ایک عدالت میں کرسیِ انصاف پر براجمان جج صاحبہ نے ایک مسلم خاتون کا مقدمہ اس وقت تک سننے سے انکار کردیا جب تک اس خاتون نے اپنا حجاب نہیں اتارا۔ اس خاتون پر اس وقت کیا گزری یہ آپ اس کے انٹرویو میں سن یا پڑھ سکتے ہیں جو انٹرنیٹ پر موجود ہے۔

بنیادی انسانی حقوق، آزادی اور مساوات، یہ سب وہ کھوکھلے نعرے ہیں جنہیں مغرب نے دنیا کو غچا دینے کے لیے گھڑ رکھا ہے۔ آپ چاہیں تو مجھ سے اختلافِ رائے رکھیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اسلام دشمنی کے معاملے میں مغرب نہ تو انسانی حقوق کی پروا کرتا ہے، نہ کسی آزادی کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ مساوات کا کوئی خیال کرتا ہے۔

جمعہ، 27 فروری، 2015

کون سا لاہور اور کہاں کا ادب؟؟؟


رواں ماہ لاہور میں دو عظیم الشان بین الاقومی تقریبات منعقد ہوئیں۔ پہلی تقریب تو پانچ روزہ بین الاقوامی کتاب میلہ تھا جو 05 سے لے کر 09 فروری تک جاری رہا۔ اس میلے میں میں نے جو کچھ دیکھا وہ "کتاب میلے کی سیر" کے عنوان سے پہلے ہی اس بلاگ پر پیش کیا جاچکا ہے۔ دوسری تقریب سہ روزہ بین الاقوامی لاہور ادب میلہ تھا جو 20 سے 22 فروری تک جاری رہا۔ اب اس کا احوال بھی سن لیجئے!

میں چونکہ پیدائشی طور پر خوش فہم واقع ہوا ہوں، لہٰذا تقریب کے پہلے روز میں خود کو یہ تسلی دے کر مال روڈ پر واقع الحمرا آرٹس سنٹر لے گیا کہ گزشتہ دو برسوں میں تو چلو ناسمجھی کی وجہ سے ادب میلے کا انعقاد ٹھیک طرح سے نہیں ہو پایا ہوگا لیکن اس بار انتظامیہ کسی حد تک پختہ کار ہوچکی ہوگی، اور ان لوگوں نے سوچا ہوگا کہ اس بار لاہور ادب میلے کے نام سے ہونے والی اس تقریب میں لاہور اور ادب کو بھی کچھ نہ کچھ جگہ دے ہی دی جائے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اس بار بھی بہت سے لاہور کے عاشقوں اور ادب کی پجاریوں کی طرح میرے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے کیونکہ الحمرا سنٹر میں سخت ترین حفاظتی حصار کے اندر ایک خاص معاشرتی طبقے نے میلہ تو بپا کررکھا تھا لیکن اس میں لاہور اور ادب کہیں بھی نہیں تھے۔

یہ سب منظر دیکھ کر حالت تو میری بگڑ رہی تھی مگر میں نے ہمت نہ ہاری اور ایک ایک کر کے الحمرا کے پانچوں ہال دیکھ مارے، لیکن واقعی وہاں تو کچھ بھی نہیں تھا۔ آنکھیں مل مل کر سامنے لگے ہوئے بینروں کو غور سے پڑھا جن پر جلی حروف میں Lahore Literary Festival کے الفاظ درج تھے۔ چند لمحے کے لیے تو مجھے یوں لگا کہ شاید میں لاہور اور لٹریری کا معانی و مفاہیم سے واقف نہیں ہوں۔ پھر خیال آیا کہ ان دو سیدھے سادے الفاظ کے ایسے بھلا کون سے معانی ہوسکتے ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ فوراً جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل فون نکالا اور اس پر یکے بعد دیگرے یہ دونوں الفاظ لکھ کر انٹرنیٹ کی مدد سے ان کے معانی تلاش کرنے کی کوشش کی۔ مجھے شدید حیرت ہوئی کہ دونوں الفاظ کے معانی بعینہٖ وہی تھی جو میرے ذہن میں پہلے سے موجود تھے۔

الحمرا سنٹر کے سبزہ زاروں اور صحن میں ادھر ادھر گھوم پھر کر دیکھا کہ کوئی اپنا ہم زبان مل جائے مگر "یہ نہ تھی ہماری قسمت۔۔۔" پھر سوچا کہ پیدائش سے لے کر اب تک زندگی کے بتیس چونتیس برس اسی شہر کی گلیوں، محلوں میں اور سڑکوں پر گزارے ہیں اور اسی مال روڈ پر آوارہ گردی کرتے بھی چودہ پندرہ برس ہونے کو ہیں تو الحمرا سنٹر میں حسبِ معمول کوئی نہ کوئی جاننے والا تو ضرور ملنا چاہیے لیکن ایک چہرہ بھی شناسا نہ ملا۔ میلے میں شرکت کرنے والوں کے لباس اور زبان پر غور کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں اپنے لاہور میں نہیں بلکہ کسی اور شہر میں ہوں۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ میں اس تقریب کو میلہ بھی رعایتاً ہی کہہ رہا ہوں ورنہ وہاں میلے کا بھی کوئی رنگ نہیں تھا۔

خیر، میں خود کو ملامت کرتا ہوا سخت حفاظتی حصار میں منعقد ہوتی اس عجیب و غریب تقریب سے نکلا اور اس عزم کے ساتھ گھر کی راہ لی کہ اگلے تین روز تک الحمرا کی طرف منہ بھی نہیں کرنا کہ اس تماشے کی وجہ سے کہیں میں لاہور اور ادب سے متنفر ہی نہ ہوجاؤں!

بدھ، 25 فروری، 2015

مستقل مزاجی ایک عظیم نعمت ہے


چوتھی صدی قبلِ مسیح سے تعلق رکھنے والے چین کے مشہور فلسفی، مفکر اور ماہرِ تعلیم ژُن زی کا کہنا ہے کہ ”اگر ایک باہمت جنگی گھوڑا ایک بار چھلانگ لگائے تو وہ دس قدم سے زیادہ کا فاصلہ طے نہیں کرسکتا، لیکن اگر ایک ادنیٰ گھوڑا دس دن چلتا رہے تو وہ اپنی مستقل مزاجی کی بدولت ایک لمبا رستہ طے کرسکتا ہے۔ اگر ایک مجسمہ ساز آدھے رستے میں ہی کام کرنا چھوڑ دے تو وہ ایک کمزور سی لکڑی کو بھی نہیں کاٹ سکتا، لیکن اگر محنت کرتا رہے تو وہ دھات اور پتھر کو بھی تراش سکتا ہے۔“

کنفیوشس، تاؤ اور مو(زی) کے اس پیروکار کی بات کو چین نے پلّے سے باندھ لیا اور گزشتہ چھے دہائیوں میں مستقل مزاجی کی بنیاد پر وہ کمال کر کے دکھایا جس نے ساری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ چین کی مثال سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مستقل مزاجی ایک ایسی عظیم نعمت ہے جو آپ کو دوسروں سے ممتاز کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ہم نے تاریخِ عالم میں جتنے بھی عظیم لوگوں کے بارے میں پڑھا ہے، ان کی زندگی کے معمولات پر نظر ڈالیں تو جو بات ہمیں سب سے واضح نظر آئے گی وہ ان کی مستقل مزاجی ہی ہے۔ مستقل مزاجی کے بغیر کامیابی کا تصور ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے ذہن میں یہ خیال بٹھا لے کہ وہ آکسیجن کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔ سو، کامیابی کی آکسیجن یعنی مستقل مزاجی کو اپنائیے اور اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دیجئے جو آپ کے لیے خوشحالی اور آسودگی کی ضامن ہوگی۔

پیر، 23 فروری، 2015

تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیت ہے


برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع جالون میں سرپتپورا گاؤں میں رہنے والے نچلی ذات کے امر سنگھ دوہرے نامی ایک شخص نے الزام لگایا ہے کہ اونچی ذات کے کچھ بااثر افراد نے گاؤں کی ایک شادی میں اونچی ذات والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی پاداش میں اس کی ناک کاٹنے کی کوشش کی۔ دوہرے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں شکایت لے کر جب وہ متعلقہ تھانے گئے تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بجائے ٹال مٹول کا رویہ اپنایا۔

اگلے روز کچھ سیاسی دباؤ پڑا تو پولیس نے مقدمہ درج کرلیا، تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی۔ بی بی سی کے مطابق اس سلسلے میں ملزمان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی لیکن ان کے گھر پر کوئی موجود نہیں تھا اور اردگرد کے لوگ اس بارے میں بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اس حوالے سے سرپتپورا گاؤں کے اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے سربراہ چھوٹے لال سے رابطہ کیا گیا تو "انہوں نے بھی اس معاملے میں براہِ راست کچھ کہنے سے بچنے کی کوشش کی۔"

دوہرے کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا یا آخری واقعہ نہیں ہے۔ بی بی سی کی مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق دلتوں کے خلاف جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے مگر تمام معاملات کے ذمہ داروں کو سزا نہیں دی جا سکی ہے۔"

اس طرح کے واقعات صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پاکستان اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پیش آتے رہتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک بھی اس سلسلے میں ترقی پذیر ممالک کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور وہاں بھی کسی نہ کسی شکل میں اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جن میں کہیں تو مذہب یا نظریے کو تفریق کی بنیاد بنایا جاتا ہے، کہیں رنگ و نسل کے حوالے سے امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے اور کہیں معاشی و معاشرتی درجہ بندی کو پیش نظر رکھتے ہوئے لوگوں پر ظلم کیا جاتا ہے۔

ایک طرف انسان غاروں سے نکل کر ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے تو دوسری جانب بہتر و کمتر کی تمیز پر مبنی اس نوعیت کے واقعات اس کی اخلاقی گراوٹ پر دال ہیں۔ بندہ و آقا کی تمیز دنیا میں جہاں بھی اور جس بھی صورت میں پائی جاتی ہے وہ انسانوں کے درمیان نفرت، تعصب اور تفریق کے ایسے بیج بو دیتی ہے جو زہریلے اور مہلک ثمرات کی پیداوار کا ذریعہ بنتے ہیں اور انہیں کھا کر انسان اپنے ہم جنسوں پر ظلم و تعدی کو روا سمجھنے لگتا ہے۔ اسی لیے اقبال نے کہا تھا:

تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیت ہے
حذر، اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

اتوار، 22 فروری، 2015

ایک قابلِ تقلید مثال


بھکیا چندرکلا بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بلند شہر میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ وہی بلند شہر ہے جس کا ذکر مشتاق احمد یوسفی نے اپنی ایک تحریر میں "بلن شے" کے نام سے کیا ہے۔ ویسے بلند شہر قاری عاشق الٰہی بلند شہری اور دیگر کئی مثبت اور اہم حوالوں سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہی بلند شہر کشور ناہید کی جنم بھومی بھی ہے۔

خیر، بات ہورہی تھی چندرکلا کی جنہوں نے مقابلے کے امتحان میں کامیابی کے بعد 2008ء میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) میں ملازمت شروع کی۔ وہ ملازمت کے آغاز سے ہی ایماندار اور محنتی افسر کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں، چندرکلا ایک قابل اور باہمت انسان بھی ہیں۔ تقریباً دس برس قبل دورانِ تعلیم شادی ہوجانے کے باوجود انہوں نے اپنے خوابوں کو پورا کرنے کا سفر جاری رکھا اور پہلے بی اے اور پھر معاشیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران انہیں اپنے گھر والوں کا تعاون بھی حاصل رہا۔

چندرکلا کا تعلق تلنگانا ریاست کے ضلع کریم نگر کے گرجانا پلّی نامی چھوٹے سے گاؤں کے ایک قبائلی خاندان سے ہے۔ وہ دسویں کے امتحان میں بہتر طور پر کامیاب نہیں ہو پائیں، پھر سول سروس کے امتحانات میں انہیں تین بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر چوتھی بار کوشش کر کے کامیابی حاصل کرتے ہوئے آئی اے ایس کا حصہ بن گئیں۔

دسمبر 2014ء کے وسط میں چندرکلا نے بلند شہر میں ایک سڑک کی تعمیر اور مرمت کے کام کا جائزہ لیا تو وہاں انہوں نے دیکھا کہ انتہائی ناقص میٹریل استعمال کیا جارہا ہے جبکہ کاغذات میں جو کچھ ظاہر کیا گیا ہے وہ اس کے الٹ ہے۔ چندرکلا نے وہیں اس منصوبے پر کام کرنے والے سرکاری افسروں اور ٹھیکیداروں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ کیمرے کی آنکھ نے اس سارے منظر کا محفوظ کرلیا اور پھر انٹرنیٹ کی مدد سے یہ ویڈیو جغرافیائی حدود کو پھلانگتے ہوئے نہ صرف دوسری ریاستوں بلکہ دوسرے ملکوں تک بھی پہنچ گئی۔ آپ بھی یہ ویڈیو دیکھیے اور چندرکلا کی ایمانداری کی داد دیجئے۔

پیر، 16 فروری، 2015

کنجوس اور کمینے لوگ


بجلی گئی تو میں نے بیگم سے کہا کہ باہر گلی والا بلب بند کردو ہمیں اسے جلائے رکھنے سے کیا فائدہ ہونا ہے اور ویسے بھی یو پی ایس کا بیک اپ اب پہلے کی نسبت کم ہوتا جارہا ہے۔ خوش قسمتی سے بیگم نے بلا چون و چرا میری بات مان لی اور بلب بند کردیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے فرمائش کی کہ کچھ پکوڑے وغیرہ بنادو کہ بھیگے موسم میں پکوڑوں کا اپنا ہی مزہ ہے۔ بیگم نے کہا کہ گھر پر بیسن ختم ہوچکا ہے، اگر پکوڑے کھانے ہیں تو جا کر مارکیٹ سے بیسن لے آئیں۔ اب ماننے کی باری میری تھی، سو میں اٹھا اور چپل پہن کر بیسن لینے کے لیے نکل گیا۔

گلی میں پہنچ کر دیکھا کہ صرف ایک دو گھروں کے باہر ہی بلب جل رہے ہیں حالانکہ ہماری گلی کے تقریباً تمام گھروں میں یو پی ایس کی سہولت موجود ہے۔ خیر، میں اندھیرے میں ہی مارکیٹ کی جانب چل پڑا۔ میں ابھی کچھ ہی دور گیا تھا کہ میرا پاؤں گلی کے درمیان میں پڑی ہوئی ایک اینٹ سے ٹکرایا۔ پاؤں کافی زور سے ٹکرایا تھا اس لیے تکلیف بھی بہت ہوئی۔ اینٹ کو گلی کے درمیان سے ہٹاتے ہوئے میں دل میں اپنے پڑوسیوں کو گالیاں دے رہا تھا کہ کتنے کنجوس اور کمینے لوگ ہیں کہ یو پی ایس کی مدد سے ایک بلب جلائے رکھنے سے ان کی جان جاتی ہے۔

بدھ، 11 فروری، 2015

حصولِ تازہ کھانا مہم


پنجاب کے بے تاج بادشاہ شہباز شریف صوبے کے مختلف شہروں اور علاقوں میں عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بعد ایسے بیانات دینے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں جن کو سن یا پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ موصوف سے زیادہ اس ملک کے عوام کا دکھ کوئی اور محسوس کر ہی نہیں سکتا۔ ہر سال مون سون میں لاہور کے لکشمی چوک میں لمبے بوٹ پہن کر پہنچ جانا آپ کا محبوب مشغلہ ہے، اسی لیے گزشتہ چھے برس سے مسلسل صوبے پر حکمرانی کرنے کے باوجود آپ نے نکاسیِ آب کا مسئلہ حل نہیں کروایا کہ یوں لمبے بوٹ پہن کر بارش کے پانی میں سیر کرتے ہوئے تصویریں کھنچوانے کا انتہائی قابلِ فہم جواز ختم ہوجائے گا۔

عوامی دکھ درد کا احساس کرتے ہوئے شہباز شریف نے حال ہی میں ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ انہیں چونکہ وقت بے وقت مختلف قسم کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے یہاں وہاں آنا جانا پڑتا ہے اور اس دوران کبھی کبھار تازہ کھانا ملنا مشکل ہوجاتا ہے، اور تازہ کھانا نہ ملنے کی وجہ سے وزیراعلیٰ کی طبعِ نازک پر برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جس سے صوبے کے عوام بھی متاثر ہوں گے، لہٰذا آپ نے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (ایس اینڈ جی اے ڈی) سے کہا ہے کہ فوری طور پر ان کے لیے ساڑھے تینتیس لاکھ روپے مالیت کی 'رِیفر کنٹینر' نامی پُرتعیش گاڑی خریدی جائے تاکہ اجلاسوں کے دوران انہیں تازہ کھانا مہیا کیا جاسکے۔

وزیراعلیٰ کے پرسنل سیکرٹری نے سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی سے محض مذکورہ گاڑی خریدنے کا ہی نہیں کہا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ گاڑی کی خریداری عمل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ شعیب سلیم نامی ایک وکیل کا ضمیر پتہ نہیں کس وجہ سے بیدار ہوگیا ہے اور انہوں نے ہمارے انتہائی دردِ دل رکھنے والے وزیراعلیٰ کے لیے گاڑی خریدنے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس ملک میں لوگوں کو تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہاں شہباز شریف کے لیے ایسی گاڑی خریدنا دستور کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔ مزید دلخراش بات یہ ہے کہ درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے عدالتِ عالیہ کے جج جناب شمس محمود مرزا نے صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے کہ پندرہ روز کے اندر اس سلسلے میں جواب دیا جائے۔

ہم چونکہ توہینِ عدالت کی سزا سے ڈرتے ہیں اس لیے عزت مآب جج صاحب کو تو کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اس وکیل کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دینے کو دل چاہ رہا ہے۔ کوئی پوچھے کہ بھئی یہ ساڑھے تینتیس لاکھ روپے کی ہمارے انمول وزیراعلیٰ کے آگے بھلا کیا حیثیت ہے۔ اگر صوبے میں قابلِ ذکر تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں تو بھلا اس میں وزیراعلیٰ کا کیا قصور ہے؟ اور ویسے بھی صاف پانی مہیا نہ کرنا کوئی ایسا جرم تو نہیں ہے نا جس کی پاداش میں آپ صوبے کے بےتاج بادشاہ کو اجلاس کے دوران تازہ کھانا حاصل کرنے کے انتہائی بنیادی حق سے محروم کردیں!

ویسے تو کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ، لیکن پھر بھی ہماری عدالتِ عالیہ سے دست بستہ گزارش ہے کہ شعیب سلیم کی درخواست کو نہ صرف رد کیا جائے بلکہ الٹا ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات بھی جاری کیے جائیں کہ ان کی جرات کیسے ہوئی ہمارے ہمدردی کے جذبے سے سرشار وزیراعلیٰ کی حصولِ تازہ کھانا مہم میں ٹانگ اڑانے کی۔ لگے ہاتھوں وزیراعلیٰ سے بھی ایک گزارش ہے کہ مختلف اجلاسوں کے دوران آپ کے کپڑوں پر سلوٹیں پڑ جاتی ہیں جو صوبے کے عوام کو ہرگز اچھی نہیں لگتیں، اس لیے ایک ایسی گاڑی جلد از جلد خریدنے کے احکامات جاری کیے جائیں جس میں آپ کے لیے بیس پچیس جوڑے استری شدہ حالت میں ہر وقت موجود رہیں تاکہ آپ ہر اجلاس کے بعد سلوٹوں سے پاک نیا سوٹ پہن کر جلوہ گر ہوں۔

جمعہ، 6 فروری، 2015

کتاب میلے کی سیر


لاہور میں مؤرخہ 05 فروری سے پانچ روزہ بین الاقوامی کتاب میلے کا آغاز ہوگیا ہے۔ کتاب کے ساتھ میلے کا لفظ کچھ عجیب سا لگتا ہے لیکن اگر ان دنوں آپ کو جوہر ٹاؤن لاہور میں واقع ایکسپو سینٹر جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو ایسا ہی لگے کہ جیسے وہاں کوئی میلہ لگا ہوا ہے۔


ہمارے شہر میں تفریح کے بہت سے مواقع میسر آجاتے ہیں لیکن ایسے عمدہ اور شاندار مواقع کم ہی ملتے ہیں جہاں تفریح کے ساتھ ساتھ علم اور کتابوں کا حوالہ بھی موجود ہو۔


خوشی اس بات کی ہے کہ شہری بڑی تعداد میں اس کتاب میلے میں شرکت کے لیے ایکسپو سینٹر کا رخ کررہے ہیں۔ کتاب میلے میں شرکت کے لیے آنے والے کنبوں اور بالخصوص بچوں کو دیکھ کر یہ خوشی دوبالا ہوجاتی ہے۔


کتاب میلے میں لگائے گئے اسٹالز کو جس سلیقے سے سجایا گیا ہے وہ بھی قابلِ دید اور قابلِ داد ہے۔ آنکھوں کو لبھانے والے رنگوں کے غباروں سے سجے ہوئے اسٹالز ہمیں تو بہت ہی اچھے لگے۔


یہ کتاب میلہ چونکہ بین الاقوامی نوعیت کا ہے، لہٰذا دوسرے ممالک کے اداروں کی کتابیں بھی وہاں موجود ہیں جو مناسب رعایت پر خریدی جاسکتی ہیں۔ لیکن بھارت کے اداروں کی کتاب میلے میں شرکت ہماری توقع سے بہت ہی کم رہی۔


کتاب میلہ محض کتابی دنیا تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ تمدنی حوالوں کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اسی مناسبت سے خانۂ فرہنگِ ایران، لاہور نے بھی وہاں اپنا ایک اسٹال لگایا ہوا ہے تاکہ ایران کے تمدن اور ثقافت کے بارے میں لوگوں کو آگاہی فراہم کی جاسکے۔


کتاب میلے کی مناسبت سے قدرت اللہ کمپنی نے ایکسپو سینٹر کی بالائی منزل پر موجود ایک کمیٹی روم میں مقابلۂ حسنِ قرات کا بھی اہتمام کررکھا تھا۔ مقابلے کے نتیجے کا تو ہم کو نہیں پتہ، البتہ ہم نے ایک تصویر ضرور کھینچ لی تھی۔


کتاب میلے کی سیر کرتے ہوئے بس ایک ہی چیز ہم پر گراں گزری اور وہ تھی ایک اسٹال پر لگے ہوئے انتہائی شوخ گانوں کی ضرورت سے زیادہ اونچی آواز۔ میلے میں ایسی چیزیں معمول کی بات ہوسکتی ہیں لیکن منتظمین کو خیال رکھنا چاہیے کہ یہ کتاب میلہ ہے۔


ہم کتاب میلے کی سیر کو جائیں اور وہاں سے کچھ خریدیں نہ، یہ تو ناممکن سی بات ہے۔ اور آپ کو تو پتہ ہے کہ کتابوں سے ہمیں جنون کی حد تک لگاؤ ہے، اسی لیے تو ہم نے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ سے لے کر آکسفرڈ یونیورسٹی پریس تک کوئی ادارہ نہیں چھوڑا جہاں سے خریداری نہ کی ہو۔


کتاب میلے کی سیر کر کے باہر نکلے تو ایکسپو سینٹر کی دیو قامت دیواروں پر لگے جہازی سائز کے بینرز ہمیں بہت پسند آئے تو سوچا کہ آپ کے لیے ان کی تصاویر بھی بنا لی جائیں۔




یہ کتاب میلہ 09 فروری بروز سوموار تک چل رہا ہے اور صبح سے شام تک لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ آپ اگر لاہور میں ہیں تو اپنی مصروفیات سے کچھ وقت ضرور نکالیے اور اپنے گھر والوں یا احباب کے ہمراہ جا کر کتاب میلے سے لطف اندوز ہوئیے!