Pages - Menu

ہفتہ، 28 مارچ، 2015

سبب کچھ اور ہے۔۔۔ (2)


یمن کی حکومت پر قبضہ کرنے والے حوثی جس تنظیم یا گروہ کا حصہ ہیں اس کا نام انصاراللہ ہے۔ ان لوگوں کو حوثی حسین بدرالدین الحوثی کی وجہ سے کہا جاتا ہے جس نے 2004ء میں یمن میں بغاوت کی بنیاد رکھی تھی۔ الحوثی 10 ستمبر 2004ء کو یمنی افواج کی ایک کارروائی کے دوران یمن کے صوبہ صعدہ کے مران نامی شہر میں مارا گیا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد ہی اس تنظیم سے وابستہ لوگوں نے حوثی کہلانا شروع کیا۔

حوثی یمن کے زیدی شیعہ ہیں۔ شیعہ مکتبۂ فکر سے وابستگی کی بنیاد پر ان کی یمن کے سنی عقائد کے حامل حکمرانوں سے چپقلش ایک قابل فہم بات ہے۔ حوثیوں کی قیادت اس وقت ایک نوجوان عبدالمالک الحوثی کے ہاتھ میں ہے جو حسین بدرالدین کا چھوٹا بھائی ہے۔ اس کے دو اور بڑے بھائی، یحییٰ بدرالدین الحوثی اور عبدالکریم بدرالدین الحوثی، بھی انصاراللہ میں شامل ہیں۔

یمن کی تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ آبادی میں سے ساٹھ سے پینسٹھ فیصد سنی ہیں جن غالب اکثریت شافعی مکتبۂ فکر سے جڑی ہوئی ہے جبکہ کچھ مالکی اور حنبلی بھی ہیں۔ بقیہ پینتیس سے چالیس فیصد شیعہ آبادی ہے جس کی اکثریت زیدی ہے اور باقی اثنا عشری اور اسماعیلی ہیں۔ زیدیوں کی زیادہ تعداد صنعا اور اس کے اردگرد آباد ہے اور یہ تقریباً چار سو قبائل پر مشتمل ہیں۔

رقبے کے لحاظ سے سعودی عرب کے بعد یمن جزیرۂ عرب کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ تقریباً سوا پانچ لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے یمن کے مشرق میں عمان واقع ہے۔ اس کے مغرب میں بحیرۂ احمر ہے۔ جنوب میں بحیرۂ عرب اور خلیجِ عدن موجود ہیں۔ شمال کی طرف سعودی عرب واقع ہے جس کی اٹھارہ سو کلومیٹر لمبی سرحد یمن کے سب سے بڑے علاقے صنعا سے جڑی ہوئی ہے۔

سعودی عرب نے یمن کے دگرگوں حالات اور اپنے ملک کے اندر بعض عناصر کے خلاف کارروائی کی وجہ سے 2003ء میں دونوں ملکوں کے مابین واقع سرحد پر حفاظتی حصار بنانا شروع کیا تو یمنی حکومت نے تین برس قبل کیے گئے 'میثاقِ جدہ' کا حوالہ دیتے ہوئے اس کام پر شدید اعتراض کیا۔ سعودی عرب نے اس حصار کا جواز اس بات کو بنایا تھا کہ یمن سے اسلحے کی ترسیل اور سمگلنگ وغیرہ کو روکا جائے لیکن یمنی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ حصار مقامی آبادی کے لیے شدید مسائل کا باعث بنے گا اور روزگار کے سلسلے میں ہمسایہ ملک کا رخ کرنے والے لوگوں کے لیے امکانات محدود ہوجائیں گے۔ حصار کی تعمیر چار برس رکی رہی لیکن سعودی عرب نے 2008ء میں اسے دوبارہ شروع کیا اور اب یہ حصار کنکریٹ سے بھری ہوئی پائپ لائنز کی شکل میں موجود ہے۔

اب یمن اور سعودی عرب کے جغرافیائی حوالے اور اس پورے منظرنامے کو سامنے رکھیں تو یمن میں حوثی باغیوں کے صنعا اور دیگر علاقوں پر قبضے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے سعودی عرب کا بہت زیادہ مستعد ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نظر نہیں آتی۔ (جاری ہے)

جمعہ، 27 مارچ، 2015

سبب کچھ اور ہے۔۔۔ (1)


بالآخر سعودی عرب نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ 'فیصلہ کن طوفان' نامی اس کارروائی کے لیے سعودی عرب نے اپنے ڈیڑھ لاکھ فوجی اور ایک سو جنگی طیارے مختص کیے ہیں۔ بحرین اور کویت نے بھی اس سلسلے میں پندرہ، پندرہ جنگی طیارے بھیجے ہیں جبکہ قطر نے دس، اردن نے چھے اور سوڈان نے تین جنگی طیارے اس کام میں لگانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ عبدالفتاح السیسی بھی اپنی وفاداری کا ثبوت دینے کے لیے بحریہ اور فضائیہ کے دستے بھیجے گا جبکہ 'ضرورت کے مطابق' برّی فوج بھی بھیجی جائے گی۔

اس حوالے سے ایک اہم پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ پاکستان نے بھی سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو لاحق کسی بھی خطرے کے جواب میں اس کا بھرپور ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں آج وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیراعظم کے مشیر برائے خاجہ امور سرتاج عزیز سمیت سینئر فوجی نمائندوں پر مشتمل وفد سعودی عرب جا کر صورتحال کا جائزہ لےگا جس کے بعد ممکنہ عملی اقدامات کے لیے معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ حکومت پاکستان کے اس اہم فیصلے کے باوجود ملک میں مشرق وسطیٰ کی اس اہم ترین جنگ میں شمولیت کے حوالے سے پوری طرح رائے عامہ ہموار نہیں ہے۔

بین الاقوامی سطح پر حوثی باغیوں کو ایران کا حمایت یافتہ قرار دیا جارہا ہے، تاہم ایران اس بات سے انکاری ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ حوثی قبائل کو کسی قسم کی کوئی امداد فراہم نہیں کررہا۔ عالمی سطح پر ایران اور حوثی باغیوں کے مابین تعلق کے حوالے سے پائے جانے والے تاثر کو دونوں کے شیعہ مکتبۂ فکر سے متعلق ہونے کے علاوہ اس بات سے بھی تقویت ملی ہے کہ گزشتہ ماہ یمن کے سب سے بڑے شہر صنعا پر قبضہ کرنے کے فوراً بعد حوثیوں نے اسے اپنا دارالحکومت قرار دے کر وہاں سے یمن اور ایران کے درمیان ہر ہفتے 28 پروازیں چلانے کا اعلان کیا۔ قبل ازیں، یمن سے کوئی بھی پرواز ایران نہیں جاتی تھی۔

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی جو اپنے ملک سے فرار ہونے کے بعد کل سعودی دارالحکومت ریاض میں پہنچے تھے، 22 جنوری کو صدارتی محل پر قبضے کے بعد قید کرلیے گئے تھے اور حوثی باغیوں نے زبردستی ان سے استعفیٰ بھی لے لیا تھا۔ اِدھر وہ ریاض پہنچے اور اُدھر سعودی عرب نے جنگی طیاروں کی مدد سے حوثی باغیوں پر فضائی حملوں کے ساتھ کارروائی کا آغاز کردیا۔ ایران اس کارروائی سے ناخوش ہے اور اس نے سعودی عرب کے اس اقدام کی مذمت بھی کی ہے۔

یہاں تک کی کہانی تو حقائق پر مبنی ہے اور ان میں سے بیشتر باتیں آپ کو پہلے سے معلوم ہوں گی۔ تصویر کا یہ رخ اہم تو ہے لیکن اس کی مدد سے ہمیں پوری صورتحال سے آگاہی نہیں مل پاتی۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ یمن کے اندر پھوٹنے والے فسادات بین الاقوامی سطح پر ایک  بڑا شیعہ سنی تنازعہ بنتے نظر آرہے ہیں۔ اس معاملے کو پوری طرح سمجھنے کے لیے خلیجی مجلسِ تعاون یعنی جی سی سی کی بالعموم گزشتہ چند برسوں اور بالخصوص پچھلے کچھ مہینوں کی پیشرفتوں اور کارکردگی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ (جاری ہے)

پس نوشت: یہ بات شاید بلاگنگ کے اصولوں کے خلاف ہو لیکن میں اس تحریر کو مختلف حصوں میں بانٹ کر لکھنا چاہتا ہوں تاکہ مضمون کی طوالت اور حقائق و معلومات کی بھرمار کے باعث قارئین بیزار نہ ہوجائیں۔ یہاں یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کہ اس تحریر کے تمام حصے حالیہ تناظر تک ہی محدود رہیں گے کیونکہ تاریخ پر کی جانے والی بحث غیر ضروری طور پر طول کھینچے گی جس کے لیے یہ محل ہرگز مناسب نہیں ہے۔

پیر، 23 مارچ، 2015

یہ تو اخبار کے دفتر کی خبر لگتی ہے


روزنامہ 'ڈان' ایک وقت تک پاکستان کے معتبر ترین جرائد میں شمار ہوتا تھا۔ اس اخبار کی باقاعدہ اشاعت کو سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور پاکستان میں اپنی زریں صحافت کے حوالے سے یہ اخبار ایک روشن تاریخ کا حامل رہا ہے۔ مرکز کی بائیں جانب جھکاؤ رکھنے کے باعث ماضی میں اس اخبار کو کچھ سختیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مجھے اس اخبار کو پڑھتے ہوئے تقریباً ڈیڑھ دہائی گزر چکی ہے اور اسی ڈیڑھ دہائی کے دوران اس اخبار کے ادارتی پالیسی اور دیگر معاملات میں اتنی تبدیلی آئی ہے کہ گزشتہ ساڑھے پانچ چھے دہائیوں میں مجموعی طور پر اتنی تبدیلی نہیں آئی ہوگی۔

ایک عرصے تک انتہائی قابل اعتبار حیثیت رکھنے والا یہ اخبار اب ایسی حرکتوں پر اتر آیا ہے کہ کبھی کبھار اردو کے تیسرے چوتھے درجے کے اخبارات کو بھی مات دے جاتا ہے۔ میں اس اخبار کی شائع کردہ مختلف خبروں اور مضامین کے حوالے سے بہت کچھ لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن سردست مجھے صرف اس خبر کے حوالے سے بات کرنی ہے جو آج اخبار کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی ہے اور کل پرنٹ کی شکل میں لوگوں کو پڑھنے کو ملے گی۔

خبر کی سرخی ہے کہ "بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے بریلوی مسجد بند کردی۔" خبر کی تفصیل میں لکھا ہے کہ یونیورسٹی کے داخلہ گیٹ کے قریب واقع ایک مسجد کو سیکیورٹی خدشات کی بنا پر بند کردیا گیا ہے۔ یہ مسجد چند عشرے قبل مقامی لوگوں نے تعمیر کی تھی، تاہم 2000ء میں جب وہ لوگ سی ڈی اے سے معاوضہ لے کر اپنی زمینیں بیچ گئے تو مسجد غیرآباد ہوگئی تھی۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی مرکزی مسجد میں خطبۂ جمعہ چونکہ عربی زبان میں ہوتا ہے، لہٰذا طلبہ نے اردو خطبے کے اہتمام کی خاطر 2008ء میں مذکورہ مسجد کی مرمت کروا کر اس میں نماز ادا کرنا شروع کردی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو کبھی بھی اس مسجد کی بحالی پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں رہا لیکن سانحۂ پشاور کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مسجد کو بند کردیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف طلبہ نے عدالت سے رخ کیا اور رواں ماہ کی 24 تاریخ کو مقدمے کی سماعت ہوگی۔

مذکورہ مسجد کی مرمت کروا کر اس میں گزشتہ سات برس سے نماز ادا کرنے والے طلبہ نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کوئی مسلکی حوالہ نہیں دیا، یونیورسٹی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کسی مسلک کی حمایت یا مخالفت کی بات نہیں کی لیکن اس کے باوجود 'ڈان' نے سرخی سمیت اپنی خبر میں چھے بار بریلوی مکتبۂ فکر کا حوالہ دیا ہے۔ اخبار میں خبر دینے والے رپورٹر اور خبر کو شائع کرنے والے ایڈیٹر سے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ جب فریقین کسی مسلک کا ذکر نہیں کررہے تو آپ کس بنیاد پر بار بار مسلکی حوالے کو درمیان میں لارہے ہیں؟

دنیا بھر میں مثبت اور متوازن صحافت کے لیے کچھ معیارات مقرر ہیں اور ان معیارات کی خلاف ورزی کو کسی بھی طور اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اسی طرح پوری دنیا میں مخصوص صحافتی رویوں کے حوالے سے زرد صحافت کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے اور ان رویوں کو سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ 'ڈان' کی یہ خبر مثبت اور متوازن صحافت کے معیارات اور اصولوں کے مطابق تو ہرگز نہیں ہے، البتہ زرد صحافت کے تناظر میں اس کا جائزہ لیا جائے تو  صورتحال واضح ہوجاتی ہے۔ یہاں یہ نکتہ ضرور غور طلب ہے کہ 'ڈان' آخر کس کے ایما پر ایسی خبریں چھاپ کر پاکستانی معاشرے میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے! مذکورہ خبر پڑھتے ہوئے مجھے جانثار اختر کا یہ شعر شدت سے یاد آرہا تھا کہ
واقعہ کل تو کوئی شہر میں ایسا نہ ہوا
یہ تو اخبار کے دفتر کی خبر لگتی ہے

جمعہ، 20 مارچ، 2015

ثابت قدمی اور استقلال


رانیا العلول وہ خاتون ہیں جنہیں تقریباً ایک مہینہ پہلے کینیڈا کے شہر مونٹریال کی عدالت میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران حجاب اوڑھے ہوئے ہونے کی وجہ سے کرسیِ انصاف پر بیٹھی خاتون جج کی طرف سے تعصب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جج نے رانیا سے کہا کہ وہ جب تک حجاب نہیں اتاریں گی تب تک ان کی بات نہیں سنی جائے گی۔ رانیا نے حجاب اتارنے سے انکار کردیا جس کے باعث ان کے مقدمے کی سماعت نہ ہوسکی۔ مذکورہ مقدمہ رانیا کی گاڑی سے متعلق تھا جسے مقامی حکام نے اس وقت قبضے میں لے لیا جب رانیا کا اکیس سالہ بیٹا زائد المیعاد لائسنس کے ساتھ اسے چلا رہا تھا۔

اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد کینیڈا سے ہی تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں نعمان احمد اور ریان رافع نے مل کر رانیا کو ایک نئی گاڑی کے لیے رقم مہیا کرنے کی غرض سے انٹرنیٹ پر ایک فنڈ قائم کیا جس میں دو ہفتے کے دوران 52 ہزار ڈالرز کی رقم جمع ہوئی۔ رقم جمع ہونے کے بعد رانیا سے رابطہ کیا گیا تاکہ وہ رقم ان کے سپرد کی جاسکے۔ رانیا صرف عدالت میں ہی ثابت قدم نہیں تھیں، انہوں نے اس موقع پر بھی استقلال کا مظاہرہ کیا اور مذکورہ رقم لینے سے انکار کردیا۔ رانیا کا کہنا ہے کہ یہ رقم انسانی حقوق کے فروغ کے لیے استعمال کی جائے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رانیا روزگار کا کوئی وسیلہ نہ ہونے کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔

"تمہیں نہیں، مجھے ضرورت ہے!"


بعض اوقات کسی کا کہا ہوا ایک جملہ ہی ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور ہم ایسی بہت سے باتیں سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جن پر ہم عام حالات میں توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ میرے ساتھ بھی کل کچھ ایسا ہی ہوا۔ سڑکوں پر آتے جاتے آپ کی طرح مجھے بھی ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں جو کچھ چھوٹی موٹی چیزیں بیچ رہے ہوتے ہیں یا جو اپنی کسی ضرورت کی بنیاد پر کچھ امداد طلب کررہے ہوتے ہیں۔ اسے میری ذہنی خرابی سمجھ لیجئے کہ میں عام حالات میں فقیروں کو پیسے دینے کی بجائے معذرت کرلیتا ہوں، اور خاص طور پر چھوٹے بچوں کو پیسے دینے سے گریز کرتا ہوں، کیونکہ میں معاشرے میں بھیک مانگنے کے کلچر کو فروغ نہیں دینا چاہتا۔ تاہم اگر کوئی شخص کھانا کھانا چاہے تو اس سلسلے میں ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

خیر، بات ہورہی تھی اس واقعے کی جو کل میرے ساتھ پیش آیا۔ ہوا کچھ یوں کہ میں کسی جگہ سے واپس آرہا تھا کہ کیمپس پُل پر اشارہ بند ہونے کی وجہ سے رکنا پڑا۔ میں ٹھہرا تو ایک بزرگ ہاتھ میں کچھ اخبارات لیے میری طرف آئے اور کہنے لگے، "پتر، ایہہ اخبار لے لے! (بیٹا، یہ اخبار لے لو!)" میں نے غیرارادی طور پر کہہ دیا، "بابا جی، مینوں لوڑ نئیں۔ (بابا جی، مجھے ضرورت نہیں ہے۔)" بزرگ نے جواب میں کہا، "تینوں نئیں، مینوں لوڑ اے۔ ایہناں پیسیاں نال میرے بال روٹی کھا لین گے۔ (تمہیں نہیں، مجھے ضرورت ہے۔ ان پیسوں سے میرے بچے روٹی کھا لیں گے۔)" میرے لیے یہ جواب غیرمتوقع تھا۔ فوری ردعمل کے طور پر میں نے جیب سے کچھ روپے نکال کر بزرگ کو تھما دیئے اور ایک اخبار لے کر چل پڑا کہ اشارہ کھل چکا تھا۔

وہاں سے چلنے کے بعد کیمپس سے گھر تک کے رستے میں میں یہی سوچتا رہا کہ ہم روز سڑک پر کتنے لوگوں کو معمولی رقم کے عوض خریدی جاسکنے والی چیزوں کے بارے میں یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ ہمیں ان کی ضرورت نہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اگر یہ چھوٹی موٹی اشیا بکیں گی نہیں تو وہ لوگ گزارہ کیسے کریں گے، اور اگر کسی شے یا خدمت کے عوض انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا تو پھر دو ہی صورتیں رہ جائیں گی کہ یا تو ناتوانی کی حالت میں وہ ہاتھ لوگوں کے آگے پھیلے گا اور یا قوی ہونے کی صورت میں وہ دوسروں پر اٹھے گا!

جمعرات، 19 مارچ، 2015

پاکستانی مرض، چینی علاج


عوامی جمہوریہ چین کئی حوالوں سے ایک مثالی ملک ہے۔ 1949ء میں چینی اشتراکی جماعت (سی پی سی) کی قیادت میں ترقی کے سفر کو نئے سرے سے شروع کر کے چین آج دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کے ساتھ صفِ اول کھڑا ہے۔ ماؤ زے تنگ کی قائدانہ دانش سے چلنے والا ترقی کا یہ مستحکم سلسلہ ڈینگ ژیاؤپنگ، جیانگ زے من اور ہو جنتاؤ سے چلتا ہوا اب ژی جن پنگ تک پہنچ چکا ہے۔

باسٹھ سالہ ژی جن پنگ سی پی سی کے جنرل سیکرٹری اور چین کے صدر ہیں۔ وہ ایک انتہائی ایماندار اور محنتی شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایمانداری اور محنت کے اوصاف ان کے کام میں بھی واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ انہی خوبیوں کے باعث انہیں چین کے عظیم رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب سے انہوں نے سی پی سی اور چین کی قیادت سنبھالی ہے وہ چینی قوم کی تجدید اور ترقی کے لیے کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

ژی جن پنگ اور سی پی سی کے حوالے سے باقی باتیں پھر کبھی سہی کہ یہ دونوں موضوعات تفصیل طلب ہیں۔ ابھی تو مجھے یہاں ژی کی ایک تقریر کا اقتباس پیش کرنا ہے جو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک کارگر نسخہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ژی نے سی پی سی کی اٹھارھویں نیشنل کانگریس کے پولیٹیکل بیورو کے چودھویں اسٹڈی گروپ کی سربراہی کرتے ہوئے 25 اپریل 2014ء کو قومی سلامتی اور معاشرتی استحکام کی حفاظت کے حوالے سے ایک تقریر کی تھی۔ پوری تقریر تو کافی لمبی ہے، اس کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے جو ہمارے لیے مشعل راہ ثابت ہوسکتا ہے۔

"دہشت گردی سے نمٹنا براہ راست قومی سلامتی، لوگوں کے فوری مفادات، اور اصلاح، ترقی اور استحکام سے جڑا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی سلامتی، معاشرتی استحکام اور لوگوں کی فلاح کی حفاظت کرتی ہے۔ ہمیں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے اور دہشت گردی کو ناکام بنانے کے لیے دباؤ ڈالتے رہنا ہوگا۔ ہمیں انسداد دہشت گردی کے لیے ایک مضبوط لائحہ عمل بنانا چاہیے، اس لائحہ عمل میں بہتری لاتے رہنا چاہیے اور انسداد دہشت گردی کے لیے قوت حاصل کرنی چاہیے۔ ہمیں دہشت گردی سے لڑنے کے لیے پیشہ ورانہ افواج اور عوام کو بھرتی کرنا چاہیے، عوام کو دہشت گردی کے خلاف مختلف نوعیت کی سرگرمیوں میں مصروف کرنا چاہیے، دہشت گردی کے خلاف ایک ناقابل تسخیر نیٹ ورک بنانا چاہیے، اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ دہشت گردوں کا چوہوں کی طرح پیچھا کیا جائے۔ ہمیں محب وطن مذہبی شخصیات کو بھی کوئی کردار دینا چاہیے، مذہبی لوگوں کے لیے مثبت رہنمائی کو بڑھانا چاہیے، ثانی الذکر کی عمومی مذہبی ضروریات کو پورا کرنا چاہیے، اور مؤثر طور پر مذہبی انتہا پسندی کی دراندازی کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے۔

دہشت گردی بنیادی انسانی حقوق کا انکار کرتی ہے، انسانی انصاف کو روندتی ہے اور انسانی تہذیب کی مشترکہ قدروں کو چیلنج کرتی ہے۔ یہ نسل یا مذہب کا مسئلہ نہیں ہے۔ دہشت گرد تمام نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مشترکہ دشمن ہیں۔ ہمیں اپنے سرکاری اہلکاروں اور تمام نسلی گروہوں کے لوگوں پر پختگی سے اعتماد اور انحصار کرنا چاہیے، نسلی اتحاد اور معاشرتی استحکام کی حفاظت کے لیے ان کے ساتھ مل کر چلنا چاہیے۔"

منگل، 17 مارچ، 2015

جبر = نفرت


معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر محمد اجمل ایک جگہ لکھتے ہیں کہ "جبر کے نتیجے میں نفرت پیدا ہوتی ہے؛ دوسروں سے نفرت، اپنے آپ سے نفرت۔" گزشتہ روز لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں جبر کی دو مختلف صورتیں دکھائی دیں۔ پہلی صورت میں دو گرجا گھر خودکش حملوں کا نشانہ بنے اور بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا۔ دوسری صورت اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہے جس میں حملوں کے بعد مشتعل ہجوم نے دو نوجوانوں کو پکڑ کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر انہیں جلا ڈالا۔ واقعے کی رپورٹنگ کرنے والے ایک دوست سے صبح سویرے رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ مشتعل افراد شام تک لاشوں کی بےحرمتی کرتے رہے اور ان پر ٹائر پھینک کر آگ کو مزید بھڑکاتے رہے۔

اس انتہائی دلخراش واقعے کے بارے میں کچھ بھی لکھنا بہت دشوار ہے۔ میں گزشتہ پوری رات جاگتا رہا اور آج صبح کالج جاتے ہوئے اور واپسی پر بھی دھیان مسلسل ان دو نوجوانوں کی طرف رہا جو انسانوں کے روپ میں چھپے ان وحشیوں اور درندوں کی بربریت کا نشانہ بنے۔ کالج سے واپس آتے ہوئے دیکھا کہ بند روڈ (رِنگ روڈ) پر مشتعل مظاہرین نے سڑک کو ساندہ اور موٹروے چوک میں بلاک کررکھا تھا۔ یہ سڑک چونکہ شہر کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے اور لاہور کو دوسرے شہروں سے جوڑنے کا وسیلہ بنتی ہے، لہٰذا مسافروں کی بڑی تعداد جن میں کافی زیادہ عورتیں، بچے اور بوڑھے بھی شامل تھے سامان اٹھائے سڑک پر ذلیل و خوار ہورہی تھی۔ مظاہرین کی زیادہ تعداد کم عمر اور نوجوان لڑکوں پر مشتمل تھی جو راہگیروں سے بدتمیزی کرتے اور لڑتے جھگڑتے ہوئے انہیں سڑک استعمال کرنے سے روک رہے تھے۔

بند روڈ سے ملحقہ اکا دکا بستیاں عیسائیوں کی ہیں جبکہ باقی علاقے مسلمانوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ دریائے راوی کے قریب کے علاقوں میں پٹھان آبادی کی زیادہ تعداد ہے جن میں افغان آباد کار بھی قابل ذکر تعداد میں موجود ہیں۔ مشتعل مظاہرین جو کچھ کررہے تھے اگر اس کے جواب میں مسلمان بھی بھڑک جاتے تو شاید مظاہرین کو ان علاقوں میں کہیں چھپنے کی جگہ بھی نہ مل پاتی۔ اس صورتحال میں پولیس یا کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے لیے فوری طور پر اقلیتی مظاہرین کی کوئی مدد کرپانا بھی ممکن نہ ہوتا۔

گرجا گھروں پر ہونے والے خودکش حملے انتہائی قابل مذمت ہیں لیکن ان کے بعد عیسائی مظاہرین نے جس طرح سے دو نوجوانوں کو زندہ جلایا اور جیسے احتجاج کیا ہے اس سے مسلم اکثریت کے دلوں میں ان کے لیے ہمدردی کے جذبات ماند پڑگئے ہیں۔ مشتعل مظاہرین نے جبر کے بیج ڈال کر نفرت کی فصل بوئی ہے۔ ان خودکش حملوں کے منصوبہ ساز تو پتہ نہیں حکومت کے ہتھے کبھی چڑھیں گے یا نہیں، اور پکڑے بھی گئے تو پتہ نہیں وہ کیفر کردار تک پہنچیں گے یا نہیں، لیکن ایک بات تو صاف دکھائی دے رہی ہے کہ دو نوجوانوں کو وحشیانہ تشدد کے بعد زندہ جلا ڈالنا آنے والے دنوں میں بالعموم لاہور اور بالخصوص یوحنا آباد کے عیسائیوں کو بہت مہنگا پڑسکتا ہے۔

اتوار، 15 مارچ، 2015

حادثہ در حادثہ


گزشتہ تقریباً چودہ برس کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے پاکستان نے اپنا اتنا جانی اور مالی نقصان کیا ہے کہ یورپ اور امریکہ کا مجموعی نقصان اس کے آگے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔ آئے روز ہمارے شہر اور شہری دہشت گردانہ کارروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں اور حکومت انہیں تحفظ فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داری سے بالکل بےنیاز دکھائی دیتی ہے۔ حکومت کی اسی بےنیازی اور نااہلی کی وجہ سے ایسے واقعات میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔

آج لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں مسیحیوں کی دو عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا اور دو مبینہ خودکش حملوں کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو پولیس اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق اور 70 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ واقعے کے بعد اہل علاقہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے دومبینہ طور پر مشتبہ افراد کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انہیں جلادیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مشتعل افراد پولیس پر بھی پتھراؤ کیا۔ اپنے عزیز و اقارب کو یوں لقمۂ اجل بنتے دیکھ کر کسی کا اشتعال میں آجانا تو ایک قابلِ فہم بات ہے لیکن اگر ہر کسی کو اشتعال میں آ کر ایسی کارروائیاں کرنے کی اجازت دیدی جائے تو ملک جنگل سے بھی بدتر صورتحال کا شکار ہوجائے گا۔

یوحنا آباد میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی قابل افسوس ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ ریاست کے شہریوں کا تحفظ رنگ و نسل و مذہب کی تمیز کے بغیر ہوتا ہے اور پاکستانی ریاست اپنے اس فرض کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ اس واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کڑی کارروائی بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔ علاوہ ازیں، اس بات کی تفتیش بھی ہونی چاہیے کہ یوحنا آباد کے مشتعل ہجوم نے واقعے کے ردعمل میں جن دو افراد کو تشدد کے بعد زندہ جلادیا وہ کون تھے اور ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ اگر وہ دو افراد معصوم تھے تو ان کو تشدد کا نشانہ بنانے اور جلانے والوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔

اتوار، 8 مارچ، 2015

ہمارا دوغلا پن اور پاکستان


پیش نوشت: یہ تحریر میری نہیں بلکہ فیس بک پر موجود Free Balochistan From Indian Agents نامی ایک صفحے سے لی گئی ہے۔ تحریر کو یہاں پیش کرنے کا مقصد ان سوالات کو اجاگر کرنا ہے جو اس تحریر کو لکھنے والے نوجوان کے ہی نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں دیگر ذہنوں میں بھی بسیرا کیے ہوئے ہیں لیکن چونکہ یہ سوالات ذہن کے نہاں خانوں سے نکل کر زبان پر آ ہی نہیں پاتے، لہٰذا ان کے جوابات بھی نہیں ملتے۔ میرا ماننا ہے کہ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبا لینا مسائل کا حل نہیں بلکہ مزید مسائل کا پیش خیمہ ہے۔ اب آپ تحریر پڑھیے اور ان سوالات پر غور کیجئے!

مجھے قریباً پانچ سال ہو گئے انٹرنیٹ استعمال کرتے اور لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے۔ میں نے ہمیشہ صرف اور صرف اسلام اور پاکستان کی بات کی ہے اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔ میری نظر میں تحریک طالبان پاکستان، بلوچ دہشتگرد تنظیمیں، القاعدہ، بوکو حرم، اور داعش دہشتگرد تنظیمیں ہیں اور ان کا اسلام سے دور دور تک کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ اسلام کو سب سے زیادہ نقصان ان تنطیموں نے اور ان کی سرپرستی کرنے والے امریکہ، بھارت، انگلینڈ، اسرائیل، سعودی عرب اور ایران نے پہنچایا ہے، لہٰذا میری ان کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے اور میں انہیں ننگا کرتا رہوں گا۔ میرے لئے جتنا تکفیری قابل مذمت ہے اتنا ہی قابل مذمت رافضی بھی ہے۔

رہی بات فرقہ وارانہ دہشتگردی کی تو اس کے متعلق میرا اصولی مؤقف یہ ہے کہ ہر ایک کو اپنے اپنے نظریے کا مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور کسی کو اپنا نظریہ زبردستی دوسروں پر ٹھونسنے کا اختیار نہیں ہے۔ بندوق کی زبان جو بھی استعمال کرے چاہے وہ ایم کیو ایم ہو، سپاہ محمد ہو، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ہو، لشکر جھنگوی ہو یا سپاہ صحابہ ہو، میری نظر میں سب دہشتگرد ہیں۔ اب یہاں پہ میں نے کچھ چیزیں نوٹ کی ہیں جن پر میں روشنی ڈالنا چاہتا ہوں اور میرے کچھ سوالات بھی ہیں:

1۔ اگر میں کسی شیعہ عالم کے قتل کی مذمت کروں تو سب کہتے ہیں "ویری گڈ" لیکن جونہی کسی سنی عالم کے قاتلوں کا نام لوں تو لوگ بھڑک جاتے ہیں کہ "فرقہ واریت پھیلا رہا ھے۔" ایسا دوغلا پن کیوں ہے ؟

2۔ اگر میں تحریک طالبان پہ نکتہ چینی کروں تو لوگ کہتے ہیں "شاباش" اور اگر سپاہ محمد کے کسی دہشتگرد کو بے نقاب کروں تو فورا ٹھپہ لگ جاتا ہے کہ کہ "فرقہ واریت پھیلا رہا ھے۔" ایسا دوغلا پن کیوں ہے؟

3۔ اگر میں امام باڑے میں بم دھماکے کی مذمت کروں تو لوگ تعریف کرتے ہیں اور جونہی میں مدرسہ تعلیم القرآن، راولپنڈی کا نام لوں تو لوگ بھڑک جاتے ہیں کہ خواہ مخواہ الزام لگا دیا، بھائی میرے، اس مسجد کو دن کی روشنی میں، کیمرے کی آنکھ کے سامنے شیعہ کے جلوس نے آگ لگائی اور قتل عام کیا۔ کیا وہ نامعلوم افراد تھے؟ کیا شیدی اس جلوس کی قیادت نہیں کررہا تھا؟ پھر ایسا کیوں کہ مجھے دانشور اور میڈیا کہتا ہے کہ چپ کر جاؤ۔ کیا اس لیے کہ میڈیا میں 90 فیصد لوگوں کا تعلق شیعہ فرقے سے ہے؟

4۔ اگر میں داعش کے ظلم کی ویڈیو اپ لوڈ کروں تو لوگ خوش ہوتے ہیں لیکن بشارالاسد کا نام لیتے ہی نام نہاد مسلمانوں کو آگ لگ جاتی ہے کہ وہ تو داعش سے لڑرہا ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا انہیں بیرل بموں سے مرتے معصوم شامی لوگ نظر نہیں آتے؟

5۔ اگر میں شام میں سعودی عرب کے فتنہ پرور کردار کا ذکر کروں تو تالیاں بجتی ہیں، لیکن ایران کا نام لیتے ہی لوگوں کی زبانوں سے گندگی ابلنے لگتی ہے۔ کیا ایران نے شام اور عراق میں اپنی فوجیں نہیں بھیجی ہیں؟ کیا یہ خبیث سنی مسلمانوں کا قتل عام نہیں کر رہے؟ اگر سعودی عرب کا کردار قابل تنقید ہے تو ایران کا کردار بھی قابل تنقید ہے۔

اب آخر میں یہ کہ کسی بھی ملک میں جب اقلیت کو اکثریت بنا کہ پیش کیا جاتا ہے تو وہی حال ہوتا ہے جو شام اور عراق میں شیعہ اقلیت سنی اکثریت کے خلاف کررہی ہے۔ مملکت پاکستان میں بھی کچھ ایسے ہی حالات نظر آرہے ہیں۔ جیسے امریکہ میں یہودی لابی کو مظلوم سمجھا جاتا ہے اور ان کی چالاکیوں کے خلاف بولنا بھی جرم تصور ہوتا ہے، ویسے ہی پاکستان میں بھی ہورہا ہے۔ آپ کے ایک لفظ بولنے کی دیر ہے پھر دیکھیں تماشا۔ توہینِ اہلِ بیت کرنے پہ تو 'جیو' معافی نہیں مانگتا لیکن مولانا احمد لدھیانوی کا صرف مؤقف سنانے پہ میر شکیل شیعہ علما کے گھر جا کہ بذات خود معافی مانگتا ہے۔ اسے تضاد نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟ ملک کی پندرہ فیصد آبادی کو پچاسی فیصد کیوں ظاہر کیا جا رہا ہے؟

پاکستان سب فرقوں اور مذاہب کا ملک اور گھر ہے اور اس پہ سب کا برابر کا حق ہے، لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ یہ ملک ان کے فرقے کی جاگیر ہے تو ایسا نہیں ہوگا۔ ہم غلط کو غلط کہتے رہیں گے چاہے اس کا تعلق کسی بھی فرقے یا گروہ سے ہو، ہم کسی کو مقدس گائے بننے نہیں دیں گے۔ جس کسی کو اس بات سے اختلاف ہو وہ بے شک جا کر اپنی مرضی کا پیج جوائن کر سکتا ہے، ہمیں خوشی ہو گی!

گویم مشکل و گر نہ گویم مشکل


پنجاب حکومت نے گزشتہ کچھ عرصے سے لاؤڈ اسپیکر ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد شروع کروا دیا ہے اور اس سلسلے میں ایکٹ کی خلاف ورزی پر کچھ شہروں اور دیہات میں بعض مقدمات بھی درج ہوئے ہیں۔ لاؤڈ اسپیکر کا غیرضروری استعمال جہاں مسجد کے اردگرد رہنے والوں کے لیے پریشانی اور کوفت کا باعث بنتا ہے وہیں لاؤڈ اسپیکر کو استعمال کرتے ہوئے کہی جانے والی غیر ذمہ دارانہ باتوں کی وجہ سے بہت سے دیگر مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں لیکن یہ بات سمجھانے کی کوشش کی جائے تو لوگ فوراً جذبات کے کیل کانٹوں سے لیس ہو کر بحث بلکہ کج بحثی کے لیے میدان میں اتر آتے ہیں۔

ڈیڑھ دو مہینے پہلے اسی حوالے سے میرے گیارھویں کے بچوں نے مجھ سے پوچھا کہ "سر، شہباز شریف نے اذان سے پہلے صلوٰۃ و سلام پڑھنے پر جو پابندی لگائی ہے، اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟" سوال بہت ہی عجیب سا تھا لیکن یہ چونکہ ایک حساس موضوع ہے، لہٰذا اس پر بات کرنا بھی ضروری تھا۔ خیر، اس موضوع پر ہماری لمبی بات چیت ہوئی اور فیض کی جو غزل ہم پڑھ رہے تھے وہ کہیں درمیان میں ہی رہ گئی۔ گفتگو کے آخر میں بچے کسی حد تک بات کو سمجھ تو گئے لیکن میرے بچے شرقپور اور اس کے گردونواح کے دیہات کی کل آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں ہیں اور باقی ننانوے فیصد سے زائد لوگوں کی اکثریت کو بات سمجھانا مشکل نہیں، تقریباً ناممکن ہے کیونکہ حد سے بڑھے ہوئے جوش و جذبے کے سامنے کوئی دلیل کارگر نہیں ہوسکتی۔

ایسے ہی حد و حساب سے بےنیاز جوش و جذبے کا سامنا مجھے آج صبح سے کرنا پڑرہا ہے۔ میرے ہمسائے نجانے کس وجہ سے گلی میں تمبو لگا کر اور بڑے اسپیکر رکھ کر پورے علاقے کو نعتیں سنوا رہے ہیں۔ نبیِ رحمتﷺ کے عشق و عقیدت سے لبریز ہونے کا دعویٰ کرنے والے ان لوگوں کو اس بات کی مطلق پروا نہیں کہ نبی مکرمﷺ کا کوئی اور امتی بیماری، مصروفیت یا کسی اور ناگزیر وجہ سے اتنی اونچی آواز میں اسپیکر چلانے سے متاثر بھی ہوسکتا ہے۔ اب اگر میں باہر نکل کر ان لوگوں سے کچھ کہوں یا پولیس کو بلاؤں تو محلے کے باقی لوگ انہیں اس عمل سے روکنے کی بجائے مجھے 'سمجھانے' کے لیے آجائیں گے۔

ہفتہ، 7 مارچ، 2015

علم بمقابلہ اطلاعات و معلومات


’ادب لطیف‘ کے جون کے شمارے میں کشور ناہید کے شعری مجموعے ’ملامتوں کے درمیان‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے خالدہ حسین نے یہ لکھا ہے: ”جب علم انسانی تجربے میں ڈھلنے کی بجائے الفاظ کے انبار کی صورت میں انسان پر حملہ آور ہوتا ہے تو زندگی میں الفاظ کی بہتات اور علم کی کمی ہوجاتی ہے۔“

میں نے یہ جملہ پڑھا تو الفاظ کی بہتات کے سلسلے میں مجھے پروفیسر مجیب کی ایک تحریر یاد آگئی۔ انہوں نے اپنی کتاب ’انڈین مسلمز‘ میں کسی جگہ یہ لکھا ہے کہ جس زمانے میں مسلمانوں کے پاس دولت و امارت تھی تو مسلمان رؤسا اور امرا آپس میں فضول خرچی کا مقابلہ کرتے تھے۔ اگر ایک رئیس نے پانچ سو آدمیوں کی دعوت کی تو دوسرا ایک ہزار آدمیوں کی ضیافت کرتا تھا، خواہ اسے مہاجن سے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے۔ اور جب بالآخر یہ دولت و امارت ختم ہوگئی تو یہ فضول خرچی لفظوں میں آگئی۔ اگر مقصد انا کی تسکین ہو تو دولت اور لفظ دونوں کی فضول خرچی ہوتی ہے اور خالدہ حسین کی لفظوں کے انبار والی بات اس جھوٹی تسکین کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ تاہم وہ اس کا سبب یہ بتاتی ہیں کہ علم تجربے میں نہیں ڈھلتا، مگر کیا وہ علم جو تجربے میں نہیں ڈھلتا علم کہلانے کا مستحق ہے؟ ہماری ناقص رائے میں وہ محض اطلاعات و معلومات کی حیثیت رکھتا ہے۔ لفظوں کا انبار انہیں اطلاعات و معلومات سے بنتا ہے جو علم کی سطح پر لائے بغیر یعنی تجربہ بجائے بغیر تقریر و تحریر کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ کسی قسم کا تجربہ ہو، اس میں پوری ذات کی شمولیت ضروری ہوتی ہے۔ یہ عمل نفیِ انا کے بغیر ممکن نہیں۔ اس میں اپنا خول توڑنا پڑتا ہے کہ بغیر ریاضت و انکساری کے تجربہ نہیں ہوسکتا۔ یہی تجربہ علم ہوتا ہے۔ اس علم کے باعث لفظ خود تجربہ بن جاتا ہے۔ اسے آپ چاہیں تو ’زندہ لفظ‘ کہہ لیں۔

اس طرح اطلاعات و معلومات کو تجربہ سے گزار کر علم بنایا جاسکتا ہے۔ علم، عشق اور عبادت تجربے سے عاری ہوں تو جہالت، ہوس اور منافقت بن جاتے ہیں۔ بے ضمیر انسانوں اور بے روح معاشرے کی پرکھ اسی کسوٹی سے ہوتی ہے۔

(سجاد باقر رضوی کے مضمون ’زندہ لفظ‘ سے اقتباس)

جمعرات، 5 مارچ، 2015

اردو ہے میرا نام، میں 'خسرو' کی پہیلی


اردو ہے میرا نام میں ’خسرو‘ کی پہیلی
میں ’میر‘ کی ہمراز ہوں، ’غالب‘ کی سہیلی

دکّن کے ’ولی‘ نے مجھے گودی میں کھلایا
’سودا‘ کے قصیدوں نے میرا حسن بڑھایا
ہے ’میر‘ کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا
میں ’داغ‘ کے آنگن میں کھلی بن کے چمیلی
اردو ہے میرا نام میں ’خسرو‘ کی پہیلی

’غالب‘ نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھایا
’حالی‘ نے مروت کا سبق یاد دلایا
’اقبال‘ نے آئینۂ حق مجھ کو دکھایا
’مومن‘ نے سجائی میرے خوابوں کی حویلی
اردو ہے میرا نام میں ’خسرو‘ کی پہیلی

ہے ’ذوق‘ کی عظمت کہ دیئے مجھ کو سہارے
’چکبست‘ کی الفت نے میرے خواب سنوارے
’فانی‘ نے سجائے میری پلکوں پہ ستارے
’اکبر‘ نے رچائی میری بے رنگ ہتھیلی
اردو ہے میرا نام میں ’خسرو‘ کی پہیلی

کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا
دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ
اپنے ہی وطن میں ہوں مگر آج اکیلی
اردو ہے میرا نام میں ’خسرو ‘ کی پہیلی

شاعر: اقبال اشعر

پس نوشت:  یہ نظم اس ربط پر جنابِ بٹ کی آواز میں سنی جاسکتی ہے۔

اتوار، 1 مارچ، 2015

ثابت قدمی اور استقلال کی ایک نئی مثال


رانیا العلول کا تعلق کویت سے ہے۔ وہ تین بیٹوں کی ماں ہیں اور ان کے خاوند سے ان کی علیحدگی ہوچکی ہے۔ رانیا گزشتہ بارہ برس سے کینیڈا میں مقیم ہیں اور 2007ء میں انہیں کینیڈا کی شہرت بھی مل چکی ہے۔ روزگار کے وسائل نہ ہونے کے باعث وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ سرکاری امداد پر گزر اوقات کررہی ہیں۔

گزشتہ دنوں رانیا کا بیٹا معطل شدہ لائسنس کے ساتھ اپنی ماں کی گاڑی چلا رہا تھا جس پر حکام نے گاڑی ضبط کرلی۔ گاڑی کی واپسی کے لیے ایک مہینے کا وقت دیا گیا، تاہم اس دوران عدالت سے رجوع کر کے مقررہ وقت سے پہلے گاڑی حاصل کرنے کا اختیار بھی موجود تھا۔ رانیا مالی وسائل کی کمی باعث کسی وکیل کی مدد کے بغیر خود ہی مونٹریال کی ایک عدالت میں جج کے سامنے جا کر پیش ہوگئیں۔ کرسیِ انصاف پر بیٹھی ایلیانا مارینگو نے رانیا سے کہا کہ "میرے خیال میں عدالت ایک سیکولر جگہ ہے،" لہٰذا انہیں حجاب اتارنا ہوگا۔ رانیا نے حجاب اتارنے سے انکار کیا تو جج نے کہا کہ "اگر تم حجاب پہنے رکھو گی تو میں تمہاری بات نہیں سنوں گی جیسے کہ میں کسی شخص کو عدالت کے اندر ہیٹ پہن کر یا دھوپ کا چشمہ لگا کر پیش ہونے کی اجازت نہیں دوں گی۔"

جج کے اصرار کے باوجود رانیا نے حجاب نہیں اتارا۔ انہوں نے جج کو بتایا کہ "میں پہلے ہی حکومتی امداد پر ہوں۔ میری علیحدگی ہوچکی ہے۔ میرے تین بیٹے ہیں۔ مجھے مالی مسائل کا سامنا ہے۔" اس کے جواب میں جج کا کہنا تھا کہ "مجھے معلوم ہے لیکن میں اس بارے میں بات نہیں کررہی۔" رانیا شدید مجبوری کی حالت میں تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے حجاب نہیں اتارا اور اپنے مقدمے کی شنوائی کے بغیر ہی گھر واپس لوٹ گئیں۔

اس واقعے نے کینیڈا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ کینیڈا کے امن پسند اور منصف مزاج حلقے ایلیانا مارینگو نامی جج کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ اس بحث اور تنقید کا نتیجہ تو آنے والے دنوں میں سامنے آئے گا، تاہم رانیا شدید مجبوری کی حالت میں بھی حجاب نہ اتارنے کے اپنے عمل سے مسلم خواتین کے لیے ثابت قدمی اور استقلال کی ایک نئی مثال بن کر سامنے آئی ہیں۔