Pages - Menu

اتوار، 26 اپریل، 2015

مطالعہ: ایک اکسیرِ اعظم


کسی مضمون میں حقیقی دلچسپی بہترین استاد ہے۔ یہ تصور اس چینی کہاوت کا عکاس ہے کہ ”علم کے حوالے سے جو لوگ اسے سیکھنے کے لیے پُرعزم ہوتے ہیں وہ ان لوگوں سے بہتر ہوتے ہیں جو اس سے واقف ہوتے ہیں، اور جو اس سے سب سے زیادہ محظوظ ہوتے ہیں وہ بہترین طالبعلم ہوتے ہیں۔“ اہم عہدیداروں کو مطالعے کو ایک کھوج، ایک مشغلے اور صحت مند زندگی کے ایک عنصر کے طور پر اپنانا چاہیے، جو انہیں خوش اور سیکھنے کے لیے زیادہ مشتاق بنائے گا۔ مطالعے میں گہری دلچسپی کے ساتھ ہم جبری بھرتی کیے ہوئے فوجیوں کی بجائے پُرجوش رضاکار بنیں گے، اور مطالعہ ہمارے لیے ایک زندگی بھر ساتھ چلنے والی عادت ہوگی، نہ کہ ایک وقت گزاری کا مشغلہ۔

مطالعے اور عمل کی طرح مطالعہ اور سوچ بچار بھی مل کر ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔ ایک اور چینی کہاوت ہے کہ ”سوچ بچار کے بغیر کیا گیا مطالعہ انسان کو مبہم بناتا ہے جبکہ مطالعے کے بغیر سوچ بچار سے انسان وہمی بن جاتا ہے۔“ اگر آپ کے ذہن میں مسائل ہیں اور آپ ان کا حل ڈھونڈنا چاہتے ہیں تو آپ کو مطالعہ شروع کرنا چاہیے اور دلجمعی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ آپ کو ”بہت زیادہ سیکھنا چاہیے، توجہ سے کھوج کرنی چاہیے، گہرائی کے ساتھ سوچنا چاہیے، مختلف چیزوں میں وضاحت کے ساتھ تمیز کرنی چاہیے اور اخلاص کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔“

ہمیں مطالعے کے لیے وقت نکالنے میں ماہر ہونا چاہیے۔ میں اکثر عہدیداروں کو یہ کہتے سنتا ہوں کہ ہم مزید مطالعہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ”کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے انہیں وقت ہی نہیں مل پاتا۔“ یہ بات ظاہری طور پر قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ کبھی بھی مطالعے میں سست پڑنے کا جواز نہیں ہوسکتی۔ ہمارے کام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے تجویز دی تھی کہ ہمیں سوچنے اور پڑھنے میں زیادہ وقت صرف کرنا چاہیے، اور بے معنی دعوتوں اور رسموں کو کم کرنا چاہیے۔

ان دنوں یہ عوام کا ایک عمومی شکوہ ہے کہ بعض عہدیدار پڑھنے میں کم اور دعوتوں میں زیادہ وقت لگاتے ہیں۔ ”جو خود اندھیرے میں ہیں وہ دوسروں کے لیے رستہ کیا روشن کریں گے۔“ اس سے ہمارے کام پر منفی اثر پڑے گا اور بالآخر ہماری مجموعی ترقی میں رکاوٹ پڑے گی۔ اگر ہم اپنے مطالعے کا نقصان کرتے ہوئے خود کو اپنے کاموں میں مگن کرلیں تو ہم ذہنی طور پر سختی اور لغویت کا شکار ہوجائیں گے۔ جب ہم مطالعہ کررہے ہوں تو ہمیں پوری توجہ اس پر لگانی چاہیے اور توجہ نہیں بٹنے دینی چاہیے۔ ہمارے اندازِ فکر کو مستقل ہونا چاہیے اور اسے عطائیوں جیسا نہیں ہونا چاہیے۔ بغیر تفہیم کے سطحی طور پر پڑھنے کی بجائے ہم جو کچھ پڑھ رہے ہیں اسے اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔ اہم عہدیداروں کو مستقل مزاجی کے ساتھ سیکھنے اور پڑھنے کو ترجیح دینی چاہیے۔ جب ہم اس بات کو خود پر لاگو کریں گے تو ایک دن کے دوران آدھے گھنٹے میں پڑھے جانے والے چند صفحات بھی وقت کا اچھا استعمال ہوں گے۔

(چینی صدر ژی جن پنگ کی کتاب ”چین کا نظامِ حکومت“ سے اقتباس)

جمعہ، 17 اپریل، 2015

عطاء، تم تو مجھ سے بھی چھوٹے تھے یار!


کراچی میں ایک نوجوان مذہبی عالم عطاء سراجی تھا۔ اس جملے میں "تھا" لکھتے ہوئے مجھے انتہائی تکلیف محسوس ہورہی ہے۔ خواہش کے باوجود میری عطاء سراجی سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے درمیان تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کا فاصلہ حائل تھا۔ البتہ اس کی عربی سے اردو اور اردو سے عربی میں ترجمہ شدہ کچھ چیزیں پڑھنے کا کئی بار موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ وہ دونوں زبانوں پر خوب قدرت رکھتا ہے۔ میں فیس بک پر اس کے کیفیت نامے پڑھ کو اکثر سوچتا تھا کہ آئندہ جب کراچی گیا تو اس بندے سے ملاقات کروں گا تاکہ میں اس سے کچھ سیکھ سکوں۔

عطاء کے کیفیت نامے عموماً مسلم دنیا کے حالات کے حوالے سے ہوتے تھے۔ فلسطین اور مصر کے مسئلے پر وہ بہت سرگرم تھا۔ بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کرنے والوں کو چن چن کر سزائیں دینے کا سلسلہ شروع ہوا تو اس مسئلے پر بھی وہ بہت فعال دکھائی دیا۔ کبھی اردو میں چیزیں لکھتا، کبھی عربی میں، اور کبھی خود لکھ کر ترجمہ کردیتا یا پھر کہیں اور لکھی ہوئی چیزیں لے کر ان کا ترجمہ کرتا۔ تحریروں سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس بندے کے دل میں قوم کے لیے سچا درد اور خالص احساس پایا جاتا ہے۔

مخلص اور باصلاحیت نوجوان تو کسی بھی قوم کے لیے انمول خزانے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عطاء ایک ایسا ہی نوجوان تھا کہ اسے قوم کے لیے انمول خزانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ صد افسوس کہ اس شاندار نوجوان سے میری ملاقات ایک خواب ہی بن کر رہ گئی۔ کچھ دیر پہلے ایک دوست کی وساطت سے پتہ چلا کہ عطاء دو روز پہلے ایک ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہوا تھا اور آج اس کا انتقال ہوگیا ہے۔

عطاء کے انتقال کی خبر پڑھ کر مجھے یقین ہی نہیں آیا کیونکہ دو تین روز پہلے تک تو وہ بنگلہ دیش میں قمرالزمان کی پھانسی کے خلاف کیفیت نامے لکھ رہا تھا اور اس کا ایک کیفیت نامہ جو مجھے بہت اچھا لگا وہ یہ تھا، "یہ قانون فطرت ہے کہ اس دنیا میں جو پیدا ہوتا ہے وہ ایک دن ضرور مرتا ہے۔ اگر دنیا کی زندگی کا انجام موت ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم ایک لمحہ کیلئے زندہ رہیں یا ایک صدی تک زندہ رہیں۔ مرنے والی کی قبر سے دنیا صرف یہ پوچھتی ہے کہ تم زندہ رہے تو کس شان سے زندہ رہے اور مرے تو کس آن سے مرے۔۔۔"

عطاء کی باتوں سے جھلکتا خلوص دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ زندگی شان سے گزار رہا ہے۔ میں تو اس شاندار نوجوان سے ملنے کا منصوبہ بنارہا تھا لیکن اس نے فاصلے کو ایک ہزار کلومیٹر سے بڑھا کر اتنا طویل کردیا کہ اب تو وصالِ یار فقط آرزو کی بات دکھائی نہیں دیتا۔ جانا تو سب نے ہی ہوتا ہے لیکن عطاء، تم تو مجھ سے بھی چھوٹے تھے یار!

اتوار، 12 اپریل، 2015

غسل خانہ پیر، گٹر مرید


امریکی صدر کی سرکاری رہائش قصرِ سفید میں پہلا بلاامتیاز غسل خانہ کھول دیا گیا ہے۔ اس غسل خانے کو استعمال کرنے کے لیے صنفی تمیز ضروری نہیں۔ امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق اس غسل خانے کا مقصد ہم جنس پرستوں کے تحفظات دور کرنا ہے۔ ویسے دنیا بھر میں ذلیل ہونے کے بعد اوبامہ انتظامیہ اب غسل خانے بنانے کے قابل ہی رہ گئی ہے۔ یوں بھی اوبامہ نے سوچا ہوگا کہ صدارت چھوڑنے کے بعد کوئی اور کام تو شاید ملنا نہیں ہے تو چلو غسل خانوں کے ٹھیکے لے کر ہی گزارہ کیا جائے گا۔

مسلمہ روایات کے مطابق پارلیمان میں بیٹھے منتخب ارکان کا کام قانون سازی ہے اور ان میں سے جن کو وزارتیں وغیرہ مل جائیں انہوں نے قانون سازی کے ساتھ انتظامی معاملات کو بھی سنبھالنا ہوتا ہے۔ اسی بناء پر پاکستان میں ہم اپنے سیاستدانوں کو طعنے دیتے ہیں کہ وہ قانون سازی چھوڑ کر گٹر اور سڑکیں بنا رہے ہیں۔ لیکن یہاں تو حال یہ ہے کہ ان کا پیر و مرشد غسل خانے بنا کر کریڈٹ لے رہا ہے۔ جب پیر غسل خانے بنائے گا تو ظاہر ہے کہ مرید گٹروں کی تعمیر پر ہی دھیان دیں گے۔ غسل خانہ پیر، گٹر مرید۔۔۔ واہ، کیا شاندار جوڑ ہے!

بدھ، 8 اپریل، 2015

اندر کا آئینہ


یہ آئینہ بھی بڑے کمال کی چیز ہے، ہماری ذات کے وہ سب رنگ، زاویے اور پہلو ہمارے سامنے عکس کی صورت میں پیش کردیتا ہے جن کا اس کے بغیر ہمیں احساس نہیں ہوپاتا۔ ظاہری آئینہ تو محض شکل صورت دیکھنے اور بننے سنورنے کے کام آتا ہے لیکن ایک آئینہ ہمارے اندر بھی نصب ہوتا ہے جو انسانی شخصیت کے نکھار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اندر کا آئینہ جتنا صاف شفاف ہو انسان کی شخصیت اتنی ہی نکھرتی چلی جاتی ہے اور اس پر جتنی گرد پڑی ہو انسان اتنا ہی کجی اور ٹیڑھے پن کا شکار ہوتا جاتا ہے۔

چین کے صدر ژی جن پنگ نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران پارٹی ارکان اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "۔۔۔ حقیقی زندگی میں کچھ لوگ اپنے بارے میں ہمیشہ اچھا محسوس کرتے ہیں اور وہ آئینہ کبھی کبھار ہی دیکھتے ہیں۔ بعض لوگوں کو اپنی خامیوں کا خوب اندازہ ہوتا ہے، لہٰذا وہ آئینہ دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ کچھ اپنی تعریف کرنا پسند کرتے ہیں، لہٰذا وہ آئینہ دیکھنے سے پہلے خود کو اچھی طرح تیار کرلیتے ہیں۔ بعض لوگ خود کو کامل سمجھتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ نقائص صرف دوسرے لوگوں میں ہیں، لہٰذا وہ آئینے کا رخ دوسروں کی طرف ہی رکھتے ہیں۔۔۔"

مجھے ژی کی یہ بات بہت پسند آئی تو سوچا کہ صبح سویرے اسی موضوع پر دو چار جملے میں بھی لکھ لوں اور ساتھ یہ اقتباس بھی استعمال کرلیتا ہوں تاکہ میرے ساتھ ساتھ آپ بھی اس بات سے محظوظ ہوسکیں۔ یہ اقتباس اور میری باتیں تو اپنی جگہ لیکن ہم سب کو ظاہری آئینے کے ساتھ ساتھ باطنی آئینے میں بھی جھانک کر دیکھتے رہنا چاہیے تاکہ ہمیں معلوم ہوسکے کہ ہماری ذات کو اصلاح کی کتنی ضرورت ہے۔

ہفتہ، 4 اپریل، 2015

اسلام: دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب


حال ہی میں سامنے والی ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسلام دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن رہا ہے اور توقع ہے کہ 2050ء میں دنیا کی مسلم اور عیسائی آبادی تقریباً برابر ہوجائیں گی۔ پیو ریسرچ سنٹر کی اس رپورٹ کے لیے دنیا بھر کے ملکوں سے آبادی میں اضافے کی شرح، نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے رجحانات اور تبدیلیِ مذہب کے اعداد و شمار کو سامنے رکھا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "اگلی چار دہائیوں میں عیسائی دنیا کا سب سے بڑا مذہبی گروہ تو رہیں گے، تاہم اسلام کسی بھی دوسرے بڑے مذہب کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیلے گا۔" رپورٹ کے مصنفین نے پیش گوئی کی ہے کہ 2050ء تک دنیا میں مسلم آبادی 2.76 ارب ہوجائے گی جبکہ عیسائی آبادی 2.92 ارب ہوگی۔ یوں دنیا بھر کی آبادی کے مقابلے میں ان دونوں کا تناسب بالترتیب 29.7 اور 31.4 فیصد ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق 2050ء میں ہندو مت دنیا کا تیسرا بڑا مذہب ہوگا جس کے پیروکار دنیا کی کل آبادی کا 14.9 فیصد ہوں گے جبکہ لامذہبیت 13.2 فیصد کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہوگی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چار دہائیوں بعد بھی مسلم آبادی کا سب سے بڑا مرکز ایشیا پیسیفک ہی رہے گا۔ واضح رہے کہ 2010ء میں دنیا کی عیسائی آبادی 2.17 ارب تھی جبکہ مسلمانوں کی مجموعی تعداد 1.6 ارب تھی لیکن موجودہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا میں مسلم آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اوپر بیان کی گئی سب باتیں انگریزی جریدے "ڈان" میں کل شائع ہوئی تھیں۔ میں بہت خوش فہم قسم کا مسلمان ہوں، لہٰذا مجھے تو یہ اعداد و شمار پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ اللہ کا پیغام تیزی سے دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہا ہے اور لوگ جوق در جوق حلقۂ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ لیکن سوچ یہ رہا ہوں کہ کیا دنیا میں مسلمانوں کی تعداد بڑھنے سے اسلام واقعی پھیلے گا یا محض اسلام کے نام لیواؤں کی گنتی میں اضافہ ہوگا؟ اور اگر یہ محض گنتی میں اضافہ ہی ہے تو ایسا اضافہ مذکورہ پیش گوئی سے دس گنا زیادہ تیزی سے بھی ہو تو اس کا اسلام کہلانے والے فلاحِ انسانیت کے اس نظریے کو کیا فائدہ پہنچے گا جس سے وابستگی کا دعویٰ دنیا بھر کے مسلمان کرتے ہیں؟ خیر، یہ سب باتیں چھوڑئیے کہ ان کا تعلق تو سوچ بچار اور غور و فکر سے ہے اور بھلا ہمارا ان چیزوں سے کیا لینا دینا!

بدھ، 1 اپریل، 2015

جی ایس ٹی: مہنگائی کی بنیاد


محمد رمضان لاہور کے نواح میں واقع شرقپور نامی قصبے سے منسلک ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا ہے۔ وہ گزشتہ تقریباً تیس برس سے سرکاری ملازمت کررہا ہے۔ چھے بچوں سمیت اس کے گھر میں کل نو افراد رہتے ہیں جن کی کفالت کی ذمہ داری اس پر ہے۔ سرکاری ملازمت سے ملنے والی ماہانہ بیس ہزار روپے تنخواہ کے علاوہ اپنے گھر کو چلانے کے لیے اس کے پاس موروثی طور پر ملنے والا تقریباً دو ایکڑ کا ایک قطعۂ زمین بھی ہے جس پر وہ اناج وغیرہ کاشت کرتا ہے۔

رمضان نے میٹرک کے امتحانات میں کامیاب ہونے کے بعد جب سرکاری ملازمت شروع کی تو اس وقت اس کی عمر تقریباً اٹھارہ برس تھی۔ ملازمت کے دوران ہی اس نے انٹرمیڈیٹ پاس کیا۔ پھر کوشش کی کہ کسی طرح بی اے بھی کر لے لیکن گھریلو حالات کی سختی نے اسے اس بات کی اجازت نہ دی۔ اس نے کلرک بھرتی ہونے کی بھی کوشش کی مگر سفارش اور رشوت کے بغیر یہ بھی ممکن نہ ہوسکا۔ سو، سرکاری ملازمت میں تین دہائیاں گزارنے کے بعد بھی وہ درجۂ چہارم کا ایک ملازم ہے جس کا کام دوسروں کے حکم پر چائے بنانا اور پانی پلانا وغیرہ ہے۔

رمضان کے مطابق اس کے گھر کے راشن اور یوٹیلٹی بِلوں پر ہی اتنی رقم خرچ ہوتی ہے کہ بعض اوقات اس کی تنخواہ کم پڑجاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں اسے اپنے ان دوستوں یا عزیزوں سے قرض لینے کے لیے رجوع کرنا پڑتا ہے جن کے حالات رمضان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک ڈیڑھ ہفتے کے لیے وہ اپنی ضروریات کو جان و تن کا رشتہ برقرار رکھنے کی حد تک لے جائے تاکہ مہینہ پورا کیا جاسکے۔

رمضان یوں سسک سسک کر زندگی گزارنے والا پہلا یا آخری پاکستانی نہیں ہے۔ اس جیسے لاکھوں بلکہ کروڑوں پاکستانی اسی جیسے حالات کے تحت زندگی گزار رہے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ زندگی انہیں گزار رہی ہے۔ راشن، یوٹیلٹی بل، بچوں کی فیس، علاج معالجے کا خرچ اور دیگر بہت سے اخراجات عام آدمی کی آمدن کو کسی عفریت کی طرح یوں نگل جاتے ہیں کہ گویا وہ کبھی تھی ہی نہیں۔

عوامی حمایت سے ایوان ہائے اقتدار پہنچنے والے سیاستدان انتخابات کے موقع پر جب جھولی پھیلا کر در در جاتے ہیں، اس وقت وہ وعدے تو بہت سے کرتے ہیں لیکن یہ وعدے کبھی بھی ایفا نہیں ہوتے۔ پاکستان کے تناظر میں افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں جمہوری طریقے سے منتخب ہو کر پارلیمان تک پہنچنے والے سیاستدان بھی آمر ہی ہوتے ہیں اور ان کا طرزِ حکمرانی بھی آمروں جیسا ہی ہوتا ہے۔

اگر عوامی لوگ ہونے کے دعویدار پاکستانی سیاستدان واقعی عوام کے دکھ درد کا علاج کرنا چاہیں تو ایسے کئی چھوٹے چھوٹے اقدامات ہیں جن کے عوامی زندگی پر بہت گہرے اور بڑے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح میں کمی لانا ہی ایک ایسا چھوٹا سا اقدام ہوسکتا ہے جس سے مہنگائی جیسے اہم ترین مسئلے کو حل کرنے کے لیے بہت زیادہ مدد مل سکتی ہے۔

اس وقت پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے سوا باقی تمام اشیا پر جی ایس ٹی کی شرح 17 فیصد ہے۔ 2007ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت قائم ہونے سے پہلے تک یہی شرح 15 فیصد ہوا کرتی تھی۔ پی پی پی نے اس شرح کو ایک فیصد بڑھا کا 16 فیصد تک پہنچایا اور اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے اس شرح میں مزید ایک فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 17 فیصد کردیا۔ بازار میں بکنے والی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز پر یہ ٹیکس عائد ہے جس کی وجہ سے 2 فیصد کے فرق سے چیزوں کی قیمتیں کہیں سے کہیں پہنچ چکی ہیں۔ 2 اضافہ کا اثر جانچنے کے لیے بھارت کی مثال دیکھ لیجئے جہاں 2007ء سے پہلے جی ایس ٹی کی شرح 12.50 فیصد تھی لیکن اسے عوام پر بوجھ سمجھتے ہوئے 12.36 فیصد کردیا گیا۔ 0.14 فیصد کمی ویسے تو کچھ بھی نہیں لیکن اس کا مجموعی اثر یقیناً قابلِ ذکر حد تک ہوگا۔

بھارت کی طرح پاکستان میں بھی چونکہ اسی فیصد سے زائد لوگ متوسط اور زیریں متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، لہٰذا جی ایس ٹی سے حاصل ہونے والی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی وہی لوگ ہیں حالانکہ آمدن کے اعتبار دیکھا جائے تو ان کا اعلیٰ اور بالائی متوسط طبقے سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس کے حصول کے دیگر ذرائع کو فعال بنائے اور زندگی کی دوڑ میں پہلے ہی تھکے ہارے لوگوں پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ان کے مسائل میں کمی کا چارہ کرے تاکہ رمضان جیسے لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں میں کم از کم زندہ ہونے کا احساس تو پیدا ہوسکے۔

یومِ احمقاں


آج دنیا بھر میں انسانیت کے روایتی جذبۂ جہالت کے ساتھ "یومِ احمقاں" منایا جارہا ہے۔ کائنات اور اس کے مختلف مظاہر پر اب تک کی گئی تحقیق کے مطابق جاندار مخلوقات کا وجود صرف زمین نامی اس گولے پر ہی پایا جاتا ہے۔ اس وقت زمین پر بسنے والے لوگوں کی تعداد سات ارب سے زائد ہے۔ اگر اربوں باسیوں کا حامل یہ خطہ ایک پورا دن حماقت کے لیے مختص کردے تو اس سے بڑی جہالت کی بات اور کیا ہوگی؟

بھئی، کرنا ہی ہے تو ایک پورا دن ہمدردی، ایثار اور قربانی کے لیے وقف کرو اور لوگوں کو بھرپور ترغیب دو کہ وہ اس روز زیادہ نہیں تو ایک وقت کا کھانا خود کھانے کی بجائے ان لوگوں کو دیدیں جن کے پاس کھانا خریدنے کی استطاعت نہیں ہے، نئے نہیں تو چلو اپنے پرانے اور استعمال میں نہ آنے والے کپڑے اور جوتے ہی ان لوگوں کو دیدیں جن کے پاس تن ڈھانپنے کو کچھ نہیں ہے، چند منٹوں کے لیے ہی سہی اسپتالوں میں پڑے لاوارث مریضوں کی عیادت کے لیے چلے جائیں، یا اور کچھ نہیں تو چلو گلی محلے یا سڑک سے گزرتے ہوئے کسی پریشان حال شخص کو ایک مسکراہٹ کا خوشگوار تحفہ ہی دیدیں۔

انسان کی اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں پر غالب آنے کی خواہش اور اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے کی جانے والی بےرحم جدوجہد کی وجہ سے دنیا ویسے ہی ایک حماقت کدہ بنی ہوئی ہے، ایسے میں ہم "یومِ احمقاں" نہ بھی منائیں تو پتہ چل ہی رہا ہے کہ اشرف المخلوقات کا تاج سر پر پہننے والے ہم لوگ کتنی دانش و بینش کے مالک ہیں۔