Pages - Menu

منگل، 29 مارچ، 2016

نسلِ آدم کا خون ہے آخر


لاہور میں اتوار کی شام جو سانحہ رونما ہوا اس کے بارے میں اخبارات، ٹیلیویژن اور ابلاغ کے دیگر ذرائع کی مدد سے اعداد و شمار تو آپ تک پہنچ گئے ہوں گے۔ لاہور کے رہائشی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ گلشنِ اقبال پارک شہر کے چند بارونق ترین تفریحی مقامات میں سے ایک ہے۔ ہفتے کے ساتوں دن یہاں عوام کی ایک خاص تعداد موجود ہوتی ہے۔ اتوار کو عام تعطیل کی وجہ سے یہ تعداد کئی گنا ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے بےتحاشا رش اور سیکیورٹی خدشات کے باوجود میں نے اس پارک کے داخلہ گیٹ پر کبھی آنے جانے والوں کی چیکنگ ہوتے نہیں دیکھی۔ یہ بات صرف اسی پارک تک محدود نہیں ہے، شہر کے دیگر اہم پارکوں کا بھی تقریباً یہی حال ہے جن میں جیلانی پارک (جسے عام طور پر ریس کورس بھی کہا جاتا ہے) سرِ فہرست ہے۔ 23 مارچ کی سہ پہر کچھ دیر کے لیے مجھے ریس کورس جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی موجودگی اور حفاظتی انتظامات کی دگرگوں صورتحال یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ سیکیورٹی اداروں نے عوام کی حفاظت کا کام ربِ کائنات کے سپرد کررکھا ہے۔

خیر، اس وقت میرا موضوع شہر کے تفریحی مقامات کے حفاظتی انتظامات یا سیکیورٹی اداروں کی غفلت نہیں بلکہ اتوار کی شام پیش آنے والے دلخراش واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ہے جس کا میں عینی شاہد ہوں۔ یہاں ایک غیر ضروری سی وضاحت کرتا چلوں کہ میرا مکان گلشنِ اقبال پارک سے دو ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سانحے کی خبر ملی تو کچھ دیر کے بعد میں پہلے جائے وقوعہ پر گیا اور پھر فاروق اسپتال سے ہوتا ہوا شیخ زاید اسپتال پہنچا۔ ان دونوں اسپتالوں میں خون کے عطیات دینے والوں اور رضا کارانہ طور پر زخمیوں اور ان کے لواحقین کی خدمت کرنے والوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن، ہلالِ احمر، الخدمت فاؤنڈیشن اور بعض دیگر فلاحی تنظیموں کے کارکن تو اپنا کام کر ہی رہے تھے لیکن ایسے لوگ بھی بہت زیادہ تعداد میں تھے جو کسی ادارہ جاتی وابستگی کے بغیر مصیبت میں گرفتار لوگوں کی خدمت کا انسانی فریضہ ادا کرنے کے آئے ہوئے تھے۔

شیخ زاید اسپتال کے شعبۂ حادثات کے سامنے واقع کھلی جگہ پر کئی نوجوان کھڑے خون کے مطلوبہ گروپس کے بارے میں اعلان کررہے تھے جبکہ شعبۂ حادثات کے اندر خون کے عطیات دینے والے بڑی تعداد میں جمع تھے۔ نیگیٹو اور پازیٹو بلڈ گروپس کی دو الگ الگ قطاریں بنی ہوئی تھیں۔ میں بھی ایک قطار میں لگ کر کھڑا ہوگیا۔ وہاں لوگوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ ہر کسی کی خواہش تھی کہ وہ اپنے خون کا عطیہ دے کر اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈال سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خون کے عطیات دینے کے لیے صرف مرد ہی نہیں بلکہ باپردہ عورتیں بھی آئی ہوئی تھیں۔ وہاں ایک ادھیڑ عمر خاتون بھی اپنے دو بیٹوں کو لے کر آئی۔ بڑے بیٹے کو خون دینے کے لیے اندر بھیج کر چھوٹے سے متعلق مجھ سے پوچھنے لگی، "پتر، ایہہ خون دے سکدا وے؟" (بیٹا، کیا یہ خون دے سکتا ہے؟) میں نے پوچھا، "اماں، ایہدی عمر کنی وے؟" (اماں، اس کی عمر کتنی ہے؟) جواب ملا، "پندرہ سال۔" میں نے کہا، "نئیں اماں، اجے نئیں دے سکدا۔" (نہیں اماں، ابھی نہیں دے سکتا۔)

دیکھتے ہی دیکھتے اسپتال میں خون کے اتنے عطیات جمع ہوگئے تھے کہ وہاں موجود لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے نام، بلڈ گروپ اور رابطہ نمبر درج کروا کے واپس چلے جائیں، اگر ضرورت ہوئی تو ان سے رابطہ کرلیا جائے گا۔ اسپتال کے باہر ایسے لوگ بھی قابلِ ذکر تعداد میں موجود تھے جو خون کے عطیات دینے والوں اور زخمیوں کے لواحقین کے لیے جوس کے ڈبے اور پانی کی بوتلیں لیے کھڑے تھے۔ یہی صورت جناح اور فاروق اسپتال میں بھی نظر آئی۔ ان اسپتالوں میں آئے ہوئے انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار لوگ سماجی رابطے کی ویب گاہوں اور ذرائع ابلاغ پر اقلیت کے نام پر الاپے جانے والے راگ سے بےخبر ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب کی تمیز سے بالاتر ہو کر اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے کام آرہے تھے اور اس کام کے لیے انھیں نہ تو کسی ستائش کی خواہش تھی اور نہ ہی کسی صلے کی تمنا۔ انھیں تو بس یہ پتا تھا کہ

خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر

اتوار، 27 مارچ، 2016

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں، تری رہبری کا سوال ہے


جنید جمشید پر حملے کی ویڈیو مجھے ایک دوست کی وساطت سے رات دو بجے بذریعہ واٹس ایپ موصول ہوئی۔ میں جاگ رہا تھا کیونکہ اس وقت میرے محلے میں ایک جگہ میلاد کی محفل جاری تھی جس میں باقاعدہ آلاتِ موسیقی استعمال کیے جارہے تھے اور بڑے بڑے اسپیکروں کی وجہ سے کافی فاصلے کے باوجود آواز میرے مکان تک آرہی تھی۔ میں اس وقت اس سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ میرے مکان کے دور ہونے کے باوجود اگر "خیر و برکت" مجھ تک پہنچ رہی ہے تو جن کے گھر اس جگہ کے اردگرد واقع ہیں وہ کس حد تک "فیض یاب" ہورہے ہوں گے اور اگر کوئی شخص کسی نہ کسی وجہ سے پہلے ہی بےچین اور بیزار ہے تو یہ "سمعی فیضان" اس کے لیے کس حد تک اثر انگیز ہوگا۔ خیر، میں نے ویڈیو دیکھی، پہلے تو کچھ سمجھ نہ آیا۔ پھر اس دوست کی طرف سے وضاحت کی گئی کہ یہ ویڈیو کیا اور کہاں کی ہے۔ مجھے بےحد افسوس اور تشویش ہوئی اور کچھ سمجھ نہ آیا کہ اس واقعے پر کس طرح کے ردعمل کا اظہار کیا جائے۔

میرا ماننا یہ ہے کہ حملہ کس پر ہوا، کیوں ہوا، کرنے والے کون تھے، ان کا اصل مقصد کیا تھا، حملہ آوروں کا محرک کون تھا، یہ سب باتیں اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہیں لیکن آپ یہ دیکھئے کہ قومی سلامتی کو لاحق شدید خطرات کے اس نازک ترین دور میں ہمارے سیکیورٹی ادارے کیسے مستعد اور چوکنا ہیں کہ ملک کے دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر یہ سب کچھ ہوا اور سیکیورٹی اہلکار ایسے بےنیاز رہے کہ گویا کوئی معمول کی کارروائی ہو۔ قومی سلامتی کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں کا بجٹ جتنا بڑھ رہا ہے ان اداروں سے وابستہ افراد کی بےنیازی میں بھی اتنا ہی اضافہ ہورہا ہے۔ اگر قومی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر حفاظتی اقدامات کا یہ حال ہے تو خود ہی اندازہ لگا لیجیے کہ ہمارے شہر، دیہات، قصبے، کوچے اور قریے کس حد تک محفوظ ہیں؟

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں، تری رہبری کا سوال ہے

میں کئی حوالوں سے جنید جمشید کا ناقد ہوں مگر یہ واقعہ غیر مشروط طور پر انتہائی مذمت کے قابل ہے۔ واقعے میں ملوث افراد نے اس حرکت سے اپنی طرف سے عاشقانِ رسولؐ ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے اس شدت پسندانہ اقدام سے وہ جس مقدس ہستی سے عشق ثابت کرنا چاہ رہے تھے وہ خود سراپا رحم و کرم تھی۔ پاکستان میں اپنے اندر کی وحشت اور جنون کو عشقِ رسولؐ جیسے مقدس جذبے کے لبادے میں پیش کرنے کی یہ پہلی یا آخری کوشش نہیں ہے۔ قبل ازیں بھی ایسے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جن میں عشقِ رسولؐ کے دعویداروں نے ایسی حرکتیں کی ہیں جن سے اس خیال کو تقویت ملی ہے کہ پاکستانی مسلمان عقل و فہم سے عاری ایک بپھرا ہوا ہجوم ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس واقعے اور اسی نوعیت کے دیگر واقعات سے پاکستان اور اس کی اسلامی اساس کوئی فائدہ پہنچنے کی بجائے الٹا نقصان ہی ہوا ہے۔

میں ریاستی نظام کو مذہب سے جوڑنے کا قائل ہوں اور اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ "جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی" لیکن انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں مذہب سے وابستہ لوگ جنون و وحشت کے اظہار کے لیے جس طرح حدیں پھلانگتے جارہے ہیں اسے دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ "عاشقی" یا "پاکستان مارکہ مسلمانی" چنگیزی پر سبقت لے گئی ہے۔ یہ بات بہت تکلیف دہ ہے کہ اسلام اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں مغرب کے مالی ایندھن سے چلنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے گماشتوں اور عوامی چندوں پر چلنے والی مسجدوں کے وابستگان کے رویوں میں صرف اتنا ہی فرق نظر آتا ہے کہ ایک بائیں طرف سے گزند پہنچا رہے ہیں تو دوسرے دائیں جانب سے کچوکے لگارہے ہیں۔ ریاست جس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ دونوں گروہوں کو لگام ڈال کر پاکستان اور اسلام کے تشخص کو مسخ ہونے سے بچائے اس کی ترجیحات اتنی مختلف ہیں کہ رہبروں کا اپنا حال رہزنوں سے بھی بدتر دکھائی دیتا ہے۔

اتوار، 20 مارچ، 2016

ڈاکٹر انور سدید انتقال کرگئے


مختلف تحقیقی و تخلیقی جہتوں کے حامل ڈاکٹر انور سدید 88 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ ان کی نمازِ جنازہ آج بعد از عصر سرگودھا کے بڑے قبرستان میں ادا کی جائے گی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

انور سدید 4 دسمبر 1928ء کو سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے نواحی قصبے میانی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک نومسلم راجپوت خاندان سے تھا۔ ابتدائی تعلیم سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان میں حاصل کی۔ 1944ء میں ایف ایس سی کے لیے اسلامیہ کالج لاہورمیں داخلہ لیا لیکن تحریک پاکستان میں سرگرمیوں کی وجہ سے امتحان نہیں دے سکے۔ 1946ء کے انتخابات میں انھوں نے مسلم لیگ کے لیے خدمات انجام دیں۔ بعدازاں، ان کے بڑے بھائیوں نے میٹرک کی بنیاد پر انھیں محکمہ آبپاشی میں کلرک بھرتی کروادیا۔ 1947ء میں انھوں نے گورنمنٹ انجینئرنگ اسکول، رسول سے سول انجینئرنگ کے ڈپلومے میں داخلہ لیا اور امتحان میں اول بدرجہ اول کامیابی حاصل کرنے کے بعد آبپاشی کے محکمے میں ہی اوورسیئر کے طور پر ملازم ہوگئے۔ ملازمت کے دوران میں انھوں نے ادیب فاضل کا امتحان اول بدرجہ اول پاس کیا اور آزادی کے بعد اس امتحان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ بعدازاں، انھوں نے ایف اے، بی اے (صرف انگریزی) اور ایم اے (اردو) کی اسناد بطور پرائیویٹ امیدوار حاصل کیں۔ ایم اے میں سب سے زیادہ نمبر لینے پر انھیں طلائی تمغہ اور بابائے اردو مولوی عبدالحق گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی ترغیب پر انھوں نے ”اردو ادب کی تحریکیں“ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران میں انھوں نے انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز ڈھاکہ سے ایسوسی ایٹ ممبر آف دی انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز (اے ایم آئی ای) کا امتحان پاس کیا جو ان کے نوکری میں ترقی کا وسیلہ بنا۔ یوں وہ پہلے سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) بنے اور پھر 1977ء میں ایگزیکٹو انجینئر کے عہدے پر ترقی پائی۔ دسمبر 1988ء میں اسی عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
سدید صاحب نے ریٹائرمنٹ کے بعد عملی صحافت میں قدم رکھا۔ 1990ء سے 1995ء تک وہ ’قومی ڈائجسٹ‘ کے مدیر رہے۔ پھر روزنامہ ’خبریں‘ سے ڈپٹی ایڈیٹر کی حیثیت میں وابستہ ہوگئے اور 1998ء تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ بعدازاں،’نوائے وقت‘ سے وابستہ ہوگئے اور یہ سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا۔ سرگودھا میں قیام کے دوران میں وہ کالم نگار کی حیثیت سے ’جسارت‘، ’حریت‘ اور ’مشرق‘ سے منسلک رہے اور ماہنامہ ’اردو زبان‘ کے پسِ پردہ مدیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔


1966ء میں سدید صاحب نے اپنے تخلیقی اور تنقیدی سفر کا آغاز کیا۔ بچوں کے رسالے ’گلدستہ‘ اور فلمی پرچے ’چترا‘ میں لکھنے سے شروعات کی۔ اسی دور میں ڈاکٹر وزیر آغا نے ’اوراق‘ نکالا تو اس کے لیے لکھنے لگے۔ بعدازاں، انھوں نے افسانہ، انشائیہ، سفرنامہ، جائزہ، تحریف، خاکہ، دیباچہ، تبصرہ، ترجمہ، کالم اور شعر کی مختلف اصناف سمیت بہت سی صورتوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ’اردو ادب کی تحریکیں‘، ’اردو ادب کی مختصر تاریخ‘ اور ’پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ‘ جیسی تصنیفات سے تحقیق اور تاریخ نگاری کے میدان بھی انھوں نے اپنا لوہا منوایا۔ ان کی دیگر اہم تصانیف میں ’میر انیس کی قلمرو‘، ’غالب کا جہاں اور‘، ’اقبال کے کلاسیکی نقوش‘، ’شاعری کا دیار‘، ’اردو نثر کے آفاق‘، ’اردو ادب میں سفرنامہ‘، ’انشائیہ اردو ادب میں‘، ’اردو افسانہ - عہد بہ عہد‘، ’مولانا صلاح الدین احمد - شخصیت اور فن‘، ’ڈاکٹر وزیر آغا - ایک مطالعہ‘ اور ’شام کا سورج‘ شامل ہیں۔
ان کی شادی 9 مئی 1956ء کو ان کے چچیرے بھائی میاں بشیر احمد کی بیٹی نصرت بیگم سے ہوئی۔ ان کے چار بیٹے ہیں جو روزگار کے سلسلے میں مختلف شعبوں سے وابستہ ہیں۔