لاہور میں اتوار کی شام جو سانحہ رونما ہوا اس کے بارے میں اخبارات، ٹیلیویژن اور ابلاغ کے دیگر ذرائع کی مدد سے اعداد و شمار تو آپ تک پہنچ گئے ہوں گے۔ لاہور کے رہائشی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ گلشنِ اقبال پارک شہر کے چند بارونق ترین تفریحی مقامات میں سے ایک ہے۔ ہفتے کے ساتوں دن یہاں عوام کی ایک خاص تعداد موجود ہوتی ہے۔ اتوار کو عام تعطیل کی وجہ سے یہ تعداد کئی گنا ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے بےتحاشا رش اور سیکیورٹی خدشات کے باوجود میں نے اس پارک کے داخلہ گیٹ پر کبھی آنے جانے والوں کی چیکنگ ہوتے نہیں دیکھی۔ یہ بات صرف اسی پارک تک محدود نہیں ہے، شہر کے دیگر اہم پارکوں کا بھی تقریباً یہی حال ہے جن میں جیلانی پارک (جسے عام طور پر ریس کورس بھی کہا جاتا ہے) سرِ فہرست ہے۔ 23 مارچ کی سہ پہر کچھ دیر کے لیے مجھے ریس کورس جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی موجودگی اور حفاظتی انتظامات کی دگرگوں صورتحال یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ سیکیورٹی اداروں نے عوام کی حفاظت کا کام ربِ کائنات کے سپرد کررکھا ہے۔
خیر، اس وقت میرا موضوع شہر کے تفریحی مقامات کے حفاظتی انتظامات یا سیکیورٹی اداروں کی غفلت نہیں بلکہ اتوار کی شام پیش آنے والے دلخراش واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ہے جس کا میں عینی شاہد ہوں۔ یہاں ایک غیر ضروری سی وضاحت کرتا چلوں کہ میرا مکان گلشنِ اقبال پارک سے دو ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سانحے کی خبر ملی تو کچھ دیر کے بعد میں پہلے جائے وقوعہ پر گیا اور پھر فاروق اسپتال سے ہوتا ہوا شیخ زاید اسپتال پہنچا۔ ان دونوں اسپتالوں میں خون کے عطیات دینے والوں اور رضا کارانہ طور پر زخمیوں اور ان کے لواحقین کی خدمت کرنے والوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن، ہلالِ احمر، الخدمت فاؤنڈیشن اور بعض دیگر فلاحی تنظیموں کے کارکن تو اپنا کام کر ہی رہے تھے لیکن ایسے لوگ بھی بہت زیادہ تعداد میں تھے جو کسی ادارہ جاتی وابستگی کے بغیر مصیبت میں گرفتار لوگوں کی خدمت کا انسانی فریضہ ادا کرنے کے آئے ہوئے تھے۔
شیخ زاید اسپتال کے شعبۂ حادثات کے سامنے واقع کھلی جگہ پر کئی نوجوان کھڑے خون کے مطلوبہ گروپس کے بارے میں اعلان کررہے تھے جبکہ شعبۂ حادثات کے اندر خون کے عطیات دینے والے بڑی تعداد میں جمع تھے۔ نیگیٹو اور پازیٹو بلڈ گروپس کی دو الگ الگ قطاریں بنی ہوئی تھیں۔ میں بھی ایک قطار میں لگ کر کھڑا ہوگیا۔ وہاں لوگوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ ہر کسی کی خواہش تھی کہ وہ اپنے خون کا عطیہ دے کر اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈال سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خون کے عطیات دینے کے لیے صرف مرد ہی نہیں بلکہ باپردہ عورتیں بھی آئی ہوئی تھیں۔ وہاں ایک ادھیڑ عمر خاتون بھی اپنے دو بیٹوں کو لے کر آئی۔ بڑے بیٹے کو خون دینے کے لیے اندر بھیج کر چھوٹے سے متعلق مجھ سے پوچھنے لگی، "پتر، ایہہ خون دے سکدا وے؟" (بیٹا، کیا یہ خون دے سکتا ہے؟) میں نے پوچھا، "اماں، ایہدی عمر کنی وے؟" (اماں، اس کی عمر کتنی ہے؟) جواب ملا، "پندرہ سال۔" میں نے کہا، "نئیں اماں، اجے نئیں دے سکدا۔" (نہیں اماں، ابھی نہیں دے سکتا۔)
دیکھتے ہی دیکھتے اسپتال میں خون کے اتنے عطیات جمع ہوگئے تھے کہ وہاں موجود لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے نام، بلڈ گروپ اور رابطہ نمبر درج کروا کے واپس چلے جائیں، اگر ضرورت ہوئی تو ان سے رابطہ کرلیا جائے گا۔ اسپتال کے باہر ایسے لوگ بھی قابلِ ذکر تعداد میں موجود تھے جو خون کے عطیات دینے والوں اور زخمیوں کے لواحقین کے لیے جوس کے ڈبے اور پانی کی بوتلیں لیے کھڑے تھے۔ یہی صورت جناح اور فاروق اسپتال میں بھی نظر آئی۔ ان اسپتالوں میں آئے ہوئے انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار لوگ سماجی رابطے کی ویب گاہوں اور ذرائع ابلاغ پر اقلیت کے نام پر الاپے جانے والے راگ سے بےخبر ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب کی تمیز سے بالاتر ہو کر اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے کام آرہے تھے اور اس کام کے لیے انھیں نہ تو کسی ستائش کی خواہش تھی اور نہ ہی کسی صلے کی تمنا۔ انھیں تو بس یہ پتا تھا کہ
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر


