گزشتہ تقریباً گیارہ برس کے دوران میں ذرائع ابلاغ کے درجن بھر اداروں کے ساتھ مختلف حیثیتوں میں کام کرچکا ہوں۔ ان اداروں میں دن رات مذہبی اور نظریاتی وابستگی کے کھوکھلے نعرے لگانے والے بھی شامل ہیں اور انسانی حقوق اور جمہور پرستی کے نام نہاد چیمپئن بھی۔ مطبوعہ اور نشریاتی صحافت کے ان درجن بھر اداروں میں رپورٹر، ایڈیٹر اور اینکر وغیرہ کی حیثیت میں کام کرتے ہوئے جو کچھ دیکھا وہ اپنی جگہ ایک داستان ہے جسے مکمل طور پر بیان کرنے کے لیے یہ موزوں موقع نہیں ہے کہ ابھی تو مجھے بات کسی اور حوالے سے کرنی ہے۔
صحافت کے علاوہ میں کچھ اور صنعتوں میں بھی ملازمت کرچکا ہوں، لہٰذا ان کے حال سے بھی واقف ہوں کہ وہاں کیا کچھ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بالعموم کسی بھی صنعت میں اور بالخصوص صحافت میں یہ رواج ہی نہیں ہے کہ کسی کو اس کا محنتانہ مناسب وقت پر اور موزوں شکل میں ادا کردیا جائے۔ اول تو تنخواہ مقرر ہی اتنی کی جاتی ہے کہ اس سے بس گھر کا چولہا جلتا رہے، اس پر کچھ پکنا نہ پکنا ادارے کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کوئی ادارہ حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے معاوضے کو کسی معقول سطح پر لانا بھی چاہے تو وہ جان اور تن کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے کفایت کرنے والی رقم سے زیادہ پیسے دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
اخبارات میں اخلاقیات اور انسانی اقدار پر مضامین لکھنے والے اور ٹیلیویژن چینلز پر بیٹھ کر ظالم حکمرانوں کو کوسنے والے خود کیا کچھ کرتے ہیں، اس کا احوال مجیب الرحمٰن شامی، نذیر ناجی، ضیاء شاہد، حسن نثار، عرفان صدیقی، ہارون الرشید اور اسی قماش کے دیگر صحافیوں کو قریب سے دیکھنے والوں کو بخوبی معلوم ہے۔ اس فہرست میں سے ایک بزرگ کا نام ان کے مرحوم ہونے کی وجہ سے کاٹ دیا گیا ہے ورنہ کارکنوں کا استحصال کرنے اور نظریاتی وابستگی کے نام پر لوگوں کو بےوقوف بنانے کے حوالے سے وہ ملک بھر میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔
ملک بھر میں موجود صحافیوں کی تنظیمیں بھی استحصال اور ظلم و ستم کے اس سلسلے میں مالکان اور بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کا بھرپور ساتھ دیتی ہیں۔ صحافت سے وابستہ ہزاروں کارکن ایسے ہیں جنہوں کئی کئی مہینے ان کے اداروں کی طرف سے ایک پھوٹی کوڑی بھی ادا نہیں کی جاتی اور آج تک کسی ایک صحافتی تنظیم کی طرف سے بھی اس سلسلے میں کوئی مؤثر لائحہ عمل اختیار نہیں کیا گیا۔ اگر اس مسئلے پر زیادہ شور مچ جائے تو ایک آدھ اجلاس بلا لیا جاتا ہے جس میں نشستن، گفتن، برخاستن کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔
زرد صحافت کا علم اٹھانے والے صحافتی ادارے ملک کے ساتھ کیا کچھ کرتے ہیں اس کا اندازہ لگانا بھی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اے آر وائی کے مرحوم مالک بہت ہی نیک آدمی تھے اور ان کی نیکی کی ایک شاندار مثال یہ ہے کہ آپ نے ایم سی بی سے پانچ ارب روپے سے زائد کا قرضہ لیا تھا جو آج تک واپس نہیں کیا گیا اور بینک رقم واپس مانگتا ہے تو اس کے خلاف پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ جیو اور اے آر وائی سمیت پاکستان کے ہر نجی ٹی وی چینل نے ٹیکس کی مد میں حکومت کے کروڑوں اربوں روپے دینے ہیں لیکن کیا مجال کے کوئی ان کے خلاف کچھ بول سکے۔
زرد صحافت کا علم اٹھانے والے صحافتی ادارے ملک کے ساتھ کیا کچھ کرتے ہیں اس کا اندازہ لگانا بھی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اے آر وائی کے مرحوم مالک بہت ہی نیک آدمی تھے اور ان کی نیکی کی ایک شاندار مثال یہ ہے کہ آپ نے ایم سی بی سے پانچ ارب روپے سے زائد کا قرضہ لیا تھا جو آج تک واپس نہیں کیا گیا اور بینک رقم واپس مانگتا ہے تو اس کے خلاف پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ جیو اور اے آر وائی سمیت پاکستان کے ہر نجی ٹی وی چینل نے ٹیکس کی مد میں حکومت کے کروڑوں اربوں روپے دینے ہیں لیکن کیا مجال کے کوئی ان کے خلاف کچھ بول سکے۔
اب ان سب غنڈوں اور چور ڈاکوؤں کے مقابلے میں شعیب شیخ نے 'بول' کا اعلان کیا اور کارکن صحافیوں کو اچھی تنخواہیں اور مراعات دینے کی بات کی تو ان سب کی چیں بول گئی۔ پاکستان میں تو یہ سلسلہ چل رہا ہے کہ خبری اداروں کے نام پر عقوبت خانے قائم کیے جاتے ہیں اور وہاں ملازمت کے نام پر غلام بھرتی کیے جاتے ہیں۔ ان غلاموں سے جو کام لیا جاتا ہے اس کے بدلے میں کسی معاوضے کی بات ہو تو اس حوالے سے مالکان نے ایک بہت سیدھا سا کلیہ اختیار کررکھا ہے کہ
پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ
بنتے ہیں تیرے چار سو، فی الحال چار رکھ
اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں شعیب شیخ کو کوئی مسیحا سمجھتا ہوں جو کارکن صحافیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے آسمان سے نازل ہوا ہے لیکن وہ کچھ بھی ہے اور جس کے ایماء پر بھی آیا ہے، کم از کم وہ ان لوگوں سے بہتر ہے جو کروڑوں اربوں روپے بھی کھا جاتے ہیں اور ظلم و ستم بھی اس حد تک کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے کئی لوگ اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو چکے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ کتنے کارکن صحافیوں کے بیوی بچے یا ماں باپ اور بہن بھائی ان خبیث مالکان اور بڑے عہدوں پر بیٹھے حرامخوروں کی وجہ سے کتنے کتنے دن تک ایک وقت کی روٹی کو بھی ترستے رہے؟ کون بتا سکتا ہے کہ کتنے ایسے کارکن صحافی ہیں جن کے گھروں میں بیمار پڑے ان کے عزیزوں کو محض اس لیے دوا نصیب نہیں ہوسکی کیونکہ ان کے اداروں کے بدمعاش مالکان محنتانہ ادا نہیں کررہے تھے؟ کس کے علم ہے کہ ان صحافیوں کی تعداد کتنی ہے جو ہر روز سسک سسک کر اس آس پر دفتر جاتے رہے کہ شاید آج انہیں کئی مہینے کی رکی ہوئی تنخواہ میں سے کچھ پیسے مل جائیں اور وہ ان کی مدد سے اپنے پیاروں کے چہروں پر لگے رنج و الم کے داغ دھو سکیں؟ کسے پتہ ہے کہ ایسے کتنے صحافی ہیں جنہیں تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کے وابستگان عید کے روز بھی پڑوسیوں کے رحم و کرم پر رہے؟
لمبے عرصے تک ایک کارکن صحافی کے طور پر کام کرنے اور سینکڑوں کارکن صحافیوں کو ذاتی طور پر جاننے کی وجہ سے میں یہ بات دعوے سے کہتا ہے کہ شعیب شیخ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی گھٹیا پن، حرامخوری اور رذالت کے اس درجے تک نہیں پہنچ سکتا جہاں ہمارے مطبوعہ اور نشریاتی صحافتی اداروں کے مالکان اور ان کے بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ پہلے سے براجمان ہیں۔ اسلام، پاکستان، انسانیت، جمہوریت، یہ سب وہ خوشنما نعرے ہیں جن کو استعمال کر کے یہ حرامخورانِ قوم دن رات لوگوں کو بےوقوف بناتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں پورے حقائق سامنے آجائیں تو شعیب شیخ اپنی تمام تر خباثتوں کے باوجود ان کے مقابلے میں ایک فرشتہ نظر آئے گا۔
پس نوشت: بعض قارئین/احباب کو اس مضمون میں میرا لہجہ بہت تلخ لگا ہوگا لیکن اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ
گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات





