Pages - Menu

اتوار، 24 مئی، 2015

بنتے ہیں تیرے چار سو، فی الحال چار رکھ


گزشتہ تقریباً گیارہ برس کے دوران میں ذرائع ابلاغ کے درجن بھر اداروں کے ساتھ مختلف حیثیتوں میں کام کرچکا ہوں۔ ان اداروں میں دن رات مذہبی اور نظریاتی وابستگی کے کھوکھلے نعرے لگانے والے بھی شامل ہیں اور انسانی حقوق اور جمہور پرستی کے نام نہاد چیمپئن بھی۔ مطبوعہ اور نشریاتی صحافت کے ان درجن بھر اداروں میں رپورٹر، ایڈیٹر اور اینکر وغیرہ کی حیثیت میں کام کرتے ہوئے جو کچھ دیکھا وہ اپنی جگہ ایک داستان ہے جسے مکمل طور پر بیان کرنے کے لیے یہ موزوں موقع نہیں ہے کہ ابھی تو مجھے بات کسی اور حوالے سے کرنی ہے۔

صحافت کے علاوہ میں کچھ اور صنعتوں میں بھی ملازمت کرچکا ہوں، لہٰذا ان کے حال سے بھی واقف ہوں کہ وہاں کیا کچھ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بالعموم کسی بھی صنعت میں اور بالخصوص صحافت میں یہ رواج ہی نہیں ہے کہ کسی کو اس کا محنتانہ مناسب وقت پر اور موزوں شکل میں ادا کردیا جائے۔ اول تو تنخواہ مقرر ہی اتنی کی جاتی ہے کہ اس سے بس گھر کا چولہا جلتا رہے، اس پر کچھ پکنا نہ پکنا ادارے کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کوئی ادارہ حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے معاوضے کو کسی معقول سطح پر لانا بھی چاہے تو وہ جان اور تن کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے کفایت کرنے والی رقم سے زیادہ پیسے دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔

اخبارات میں اخلاقیات اور انسانی اقدار پر مضامین لکھنے والے اور ٹیلیویژن چینلز پر بیٹھ کر ظالم حکمرانوں کو کوسنے والے خود کیا کچھ کرتے ہیں، اس کا احوال مجیب الرحمٰن شامی، نذیر ناجی، ضیاء شاہد، حسن نثار، عرفان صدیقی، ہارون الرشید اور اسی قماش کے دیگر صحافیوں کو قریب سے دیکھنے والوں کو بخوبی معلوم ہے۔ اس فہرست میں سے ایک بزرگ کا نام ان کے مرحوم ہونے کی وجہ سے کاٹ دیا گیا ہے ورنہ کارکنوں کا استحصال کرنے اور نظریاتی وابستگی کے نام پر لوگوں کو بےوقوف بنانے کے حوالے سے وہ ملک بھر میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔

ملک بھر میں موجود صحافیوں کی تنظیمیں بھی استحصال اور ظلم و ستم کے اس سلسلے میں مالکان اور بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کا بھرپور ساتھ دیتی ہیں۔ صحافت سے وابستہ ہزاروں کارکن ایسے ہیں جنہوں کئی کئی مہینے ان کے اداروں کی طرف سے ایک پھوٹی کوڑی بھی ادا نہیں کی جاتی اور آج تک کسی ایک صحافتی تنظیم کی طرف سے بھی اس سلسلے میں کوئی مؤثر لائحہ عمل اختیار نہیں کیا گیا۔ اگر اس مسئلے پر زیادہ شور مچ جائے تو ایک آدھ اجلاس بلا لیا جاتا ہے جس میں نشستن، گفتن، برخاستن کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔

زرد صحافت کا علم اٹھانے والے صحافتی ادارے ملک کے ساتھ کیا کچھ کرتے ہیں اس کا اندازہ لگانا بھی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اے آر وائی کے مرحوم مالک بہت ہی نیک آدمی تھے اور ان کی نیکی کی ایک شاندار مثال یہ ہے کہ آپ نے ایم سی بی سے پانچ ارب روپے سے زائد کا قرضہ لیا تھا جو آج تک واپس نہیں کیا گیا اور بینک رقم واپس مانگتا ہے تو اس کے خلاف پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ جیو اور اے آر وائی سمیت پاکستان کے ہر نجی ٹی وی چینل نے ٹیکس کی مد میں حکومت کے کروڑوں اربوں روپے دینے ہیں لیکن کیا مجال کے کوئی ان کے خلاف کچھ بول سکے۔

اب ان سب غنڈوں اور چور ڈاکوؤں کے مقابلے میں شعیب شیخ نے 'بول' کا اعلان کیا اور کارکن صحافیوں کو اچھی تنخواہیں اور مراعات دینے کی بات کی تو ان سب کی چیں بول گئی۔ پاکستان میں تو یہ سلسلہ چل رہا ہے کہ خبری اداروں کے نام پر عقوبت خانے قائم کیے جاتے ہیں اور وہاں ملازمت کے نام پر غلام بھرتی کیے جاتے ہیں۔ ان غلاموں سے جو کام لیا جاتا ہے اس کے بدلے میں کسی معاوضے کی بات ہو تو اس حوالے سے مالکان نے ایک بہت سیدھا سا کلیہ اختیار کررکھا ہے کہ
پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ
بنتے ہیں تیرے چار سو، فی الحال چار رکھ

اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں شعیب شیخ کو کوئی مسیحا سمجھتا ہوں جو کارکن صحافیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے آسمان سے نازل ہوا ہے لیکن وہ کچھ بھی ہے اور جس کے ایماء پر بھی آیا ہے، کم از کم وہ ان لوگوں سے بہتر ہے جو کروڑوں اربوں روپے بھی کھا جاتے ہیں اور ظلم و ستم بھی اس حد تک کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے کئی لوگ اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو چکے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ کتنے کارکن صحافیوں کے بیوی بچے یا ماں باپ اور بہن بھائی ان خبیث مالکان اور بڑے عہدوں پر بیٹھے حرامخوروں کی وجہ سے کتنے کتنے دن تک ایک وقت کی روٹی کو بھی ترستے رہے؟ کون بتا سکتا ہے کہ کتنے ایسے کارکن صحافی ہیں جن کے گھروں میں بیمار پڑے ان کے عزیزوں کو محض اس لیے دوا نصیب نہیں ہوسکی کیونکہ ان کے اداروں کے بدمعاش مالکان محنتانہ ادا نہیں کررہے تھے؟ کس کے علم ہے کہ ان صحافیوں کی تعداد کتنی ہے جو ہر روز سسک سسک کر اس آس پر دفتر جاتے رہے کہ شاید آج انہیں کئی مہینے کی رکی ہوئی تنخواہ میں سے کچھ پیسے مل جائیں اور وہ ان کی مدد سے اپنے پیاروں کے چہروں پر لگے رنج و الم کے داغ دھو سکیں؟ کسے پتہ ہے کہ ایسے کتنے صحافی ہیں جنہیں تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کے وابستگان عید کے روز بھی پڑوسیوں کے رحم و کرم پر رہے؟

لمبے عرصے تک ایک کارکن صحافی کے طور پر کام کرنے اور سینکڑوں کارکن صحافیوں کو ذاتی طور پر جاننے کی وجہ سے میں یہ بات دعوے سے کہتا ہے کہ شعیب شیخ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی گھٹیا پن، حرامخوری اور رذالت کے اس درجے تک نہیں پہنچ سکتا جہاں ہمارے مطبوعہ اور نشریاتی صحافتی اداروں کے مالکان اور ان کے بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ پہلے سے براجمان ہیں۔ اسلام، پاکستان، انسانیت، جمہوریت، یہ سب وہ خوشنما نعرے ہیں جن کو استعمال کر کے یہ حرامخورانِ قوم دن رات لوگوں کو بےوقوف بناتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں پورے حقائق سامنے آجائیں تو شعیب شیخ اپنی تمام تر خباثتوں کے باوجود ان کے مقابلے میں ایک فرشتہ نظر آئے گا۔


پس نوشت: بعض قارئین/احباب کو اس مضمون میں میرا لہجہ بہت تلخ لگا ہوگا لیکن اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ
گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات

اتوار، 10 مئی، 2015

نوجوان نسل اور ملکی ترقی


۔۔۔ نوجوانوں میں پیشہ ورانہ صلاحیت ہونی چاہیے۔ ترقی اور آگے بڑھنے کے لیے سیکھنا ضروری ہے جبکہ صلاحیت میں نکھار پیدا کرنے کے لیے مشق کام آتی ہے۔ نوجوانوں کی خوبیاں اور صلاحیتیں چینی خواب کی تکمیل پر براہِ راست اثر انداز ہوں گی۔ ایک قدیم چینی کہاوت ہے کہ ”تعلیم کمان ہے جبکہ صلاحیت تیر ہے۔“ اس کا مطلب ہے کہ تعلیم کی بنیاد کمان کی طرح ہے جبکہ صلاحیت ایک تیر کی طرح ہے، بھرپور علم کے ساتھ ہی کوئی شخص اپنی صلاحیت کو پوری طرح استعمال کرسکتا ہے۔ نوجوانی سیکھنے کے لیے اہم ترین وقت ہوتا ہے۔ آپ لوگوں کو سیکھنے کو سب سے پہلی ترجیح، ذمہ داری، اخلاقی حمایت اور طرزِ حیات سمجھنا چاہیے۔ آپ لوگوں کو اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ خواب سیکھنے سے شروع ہوتے ہیں جبکہ پیشہ ورانہ کامیابی کا انحصار صلاحیت پر ہے۔ آپ کو گہری توجہ کے ساتھ سیکھنے کو آگے بڑھنے کی قوت اور صلاحیت کو نوجوان مساعی کے لیے ذریعے کی تعمیر کا وسیلہ سمجھناچاہیے۔

نوجوانوں کو تجدید، دنیا اور مستقبل کے حوالے سے خود کو تیار کرنا چاہیے، اپنے علم کو فوری ضرورت کے احساس کے ساتھ تازہ کرنا چاہیے، انتہائی شوق کے ساتھ تعلیم حاصل کرنی چاہیے، بنیادی علم کی اچھی بنیاد بنانی چاہیے اور اپنے علم کو تازہ کرتے رہنا چاہیے، جوش و جذبے کے ساتھ اپنی مہارتوں کو بڑھاتے ہوئے گہری توجہ کے ساتھ نظریات کا مطالعہ کرنا چاہیے، اور وقت کی ترقیاتی ضرورتوں اور ہماری ذمہ داری کے تقاضوں کے مطابق مستقل طور پر اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو بڑھاتے رہنا چاہیے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ جو کچھ سیکھیں اسے عمل کے سانچے میں ڈھالیں، اپنی بنیادوں اور عوام کے قریب رہیں، اور اصلاح، کشادہ روی اور اشتراکی تجدید کی عظیم بھٹی میں رہیں، حقیقی مہارتیں اور اصل علم حاصل کریں، اپنی صلاحیت بڑھائیں، اپنے آپ کو قابل افراد بنائیں جو اہم معاشرتی ذمہ داریاں اٹھا سکیں۔

سوم، نوجوانوں میں ایجاد اور تخلیق کے لیے جرات ہونی چاہیے۔ جدت کسی قوم کی ترقی کی روح اور کسی ملک کی خوشحالی کا ناقابل تسخیر ذریعہ ہے۔ یہ چینی قومی کردار کا ایک اہم جزو بھی ہے۔ کنفیوشس نے جب کہا تھا کہ ”اگر تم ایک دن میں اپنی تجدید کرسکتے ہو تو روز ایسا کرو۔ ہاں، روزانہ تجدید ہونی چاہیے“، تو ان کا مطلب یہی تھا۔ زندگی کبھی بھی پسماندہ رستے پر چلنے والوں اور موجودہ حالات پر مطمئن ہونے والوں کی حمایت نہیں کرتی، اور یہ کبھی بھی ان کا انتظار نہیں کرتی جو امنگوں سے عاری ہوں اور ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں اور دوسروں کی محنت کے ثمرات سمیٹیں۔ اس کی بجائے وہ ایجاد کی صلاحیت اور جرات رکھنے والوں کو زیادہ مواقع مہیا کرتی ہے۔ نوجوان ہمارے معاشرے کا سب سے متحرک اور تخلیقی گروہ ہیں اور انہیں جدت اور تخلیق کے میدان میں سب سے آگے ہونا چاہیے۔

نوجوانوں میں پہل کرنے کی جرات ہونی چاہیے، انہیں جرات کے ساتھ اپنے ذہنوں کو آزاد کرنا چاہیے اور وقت کے ساتھ ترقی کرنی چاہیے، ان میں آگے بڑھنے کے لیے نشیب و فراز پر چلنے کی ہمت ہونی چاہیے، اور ان میں بزرگوں سے سیکھنے اور پھر ان سے آگے نکلنے کی خواہش ہونی چاہیے۔ اپنی جوان توانائیوں کے ساتھ آپ لوگ ایک جوان ملک اور ایک جوان قوم تعمیر کرسکتے ہیں۔ نوجوانوں میں پہاڑوں کو کاٹ کر رستہ بنانے اور دریاؤں پر پُل باندھنے کی ہمت ہونی چاہیے اور انہیں ناقابلِ تسخیر ہونا چاہیے اور نئے تصورات پیش کرنے کے لیے انہیں بہادری سے آگے بڑھنا چاہیے۔ آپ کو مثبت رویے کا حامل ہونا چاہیے جو سچ کے لیے سرگرداں ہو تاکہ آپ مستقل طور پر تجربہ حاصل کریں اور اپنے منتخب پیشوں میں نئے تصورات پیش کر کے ان سے نتائج حاصل کرسکیں۔

(چینی صدر ژی جن پنگ کی کتاب ”چین کا نظامِ حکومت“ سے اقتباس)

جمعرات، 7 مئی، 2015

فیصلہ آپ کا!


میں ایک مشہور و معروف شخصیت ہوں۔ لوگ میری ایک جھلک دیکھنے کو گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں۔ حسین سے حسین لڑکیاں بھی مجھ سے ایک بار بات کرنے کے لیے ترستی ہیں۔ میں اگر کبھی کسی سڑک یا شاپنگ مال میں نظر آجاؤں تو لوگ سب کام چھوڑ کر مجھے دیکھنے لگتے ہیں۔ مجھ سے آٹوگراف لینے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ میں اپنے ان تمام پرستاروں پر دھیان دینے کی کوشش تو کرتا ہوں لیکن ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ میرے لیے ہر کسی کو وقت دینا یا اس کی بات سننا ممکن ہی نہیں ہے۔

میرے کام کے حوالے سے بھی سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں سے میرا رابطہ رہتا ہے اور میں دن رات شدید مصروفیت میں گزارتا ہوں۔ اس حوالے سے مجھے مختلف دعوتوں میں بھی جانا پڑتا ہے تاکہ لوگوں سے میرے تعلقات مزید استوار ہوں اور میرے کام کے سلسلے میں مجھے مزید ترقی ملے۔ انہی اچھے تعلقات کی بدولت میری شہرت میں شب و روز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ساتھ میرے بینک کے کھاتوں کے ہندسے بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ ہر شخص کی طرح میں بھی چونکہ ایک اچھی زندگی گزارنا چاہتا ہوں، لہٰذا مجھے اس سب سے بےحد محبت ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ میں کوئی خود غرض آدمی ہوں، میں ملک بھر میں اپنی فیاضی اور سخاوت کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہوں۔

ایک رات کچھ دوست مجھے اپنے ہاں دعوت پر بلا لیتے ہیں۔ میں ہوں تو مسلمان اور میرے مذہب نے مجھ پر بہت سی پابندیاں بھی عائد کررکھی ہیں لیکن کیا کروں اگر میں پوری طرح ان پابندیوں کا احترام کرنے لگ جاؤں تو پھر میں اپنے تعلقات سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا، اور اگر یہ تعلقات نہ رہے تو میری عزت، شہرت اور دولت بھی آہستہ آہستہ رخصت ہوجائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے ان تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے ان پابندیوں کو بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے۔ خیر، میں بتارہا تھا کہ میرے کچھ دوستوں نے مجھے ایک رات دعوت پر بلایا۔ ایسی دعوتوں میں اکثر کھانے کے ساتھ شراب و شباب سے بھی دل بہلایا جاتا ہے۔

میں پہلے ہی بتاچکا ہوں کہ میں مسلمان ہونے کے باوجود اپنے کام کی وجہ سے اسلام کی مجھ پر عائد کردہ پابندیوں کا احترام نہیں کرتا، لہٰذا اس محفل میں میں نے بھی جی بھر کر شراب پی۔ میں شدید نشے کی حالت میں تھا اور مجھے گھر بھی پہنچنا تھا۔ میرے ساتھ ڈرائیور نہیں تھا۔ ایک محافظ ضرور تھا لیکن اسے گاڑی چلانی نہیں آتی تھی۔ میں نے نشے کی حالت میں خود ہی گاڑی چلانے کا فیصلہ کیا۔ میں جب گاڑی لے کر نکلا تو اس وقت آپ، جی ہاں آپ، اپنی بےسروسامانی کے سبب اپنے کچھ عزیزوں کے ساتھ فٹ پاتھ پر سورہے تھے۔ میری گاڑی کی رفتار بہت تیز تھی، میرے محافظ نے مجھے رفتار کم کرنے کو کہا لیکن میں شدید نشے کی حالت میں تھا، سو مجھے اس کی بات سمجھ نہیں آئی۔ مجھے نہیں پتہ کہ میری گاڑی کس وقت بےقابو ہو کر فٹ پر سوئے ہوئے آپ لوگوں پر جا چڑھی۔ اس حادثے کی وجہ سے آپ کے ایک عزیز کا موت واقع ہوگئی اور باقی لوگ بری طرح زخمی ہوئے۔ آپ لوگ چیختے چلاتے رہے مگر میں گاڑی لے کر فرار ہوگیا۔

اطلاع ملنے پر پولیس نے مجھے گرفتار کرلیا۔ میں کہتا ہوں کہ میں نے کچھ نہیں کیا، میں نے شراب نہیں پی ہوئی تھی اور نہ ہی میں گاڑی چلارہا تھا۔ میرا محافظ اور کچھ عینی شاہدین میرے خلاف گواہی دیتے ہیں۔یہ مقدمہ تقریباً تیرہ برس تک عدالت میں زیرِ سماعت رہتا ہے۔ تیرہ سال بعد میرا ڈرائیور عدالت کے سامنے آ کر کہہ دیتا ہے کہ گاڑی میں نہیں بلکہ وہ چلارہا تھا۔ عدالت گواہوں کے بیانات کی روشنی میں میرے ڈرائیور کے بیان کو مسترد کردیتی ہے۔ اب عدالت ان سب باتوں کو سامنے رکھ کر جائزہ لے رہی ہے کہ حالات و واقعات اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مجھے مجرم قرار دیا جائے یا میرے بیان کو درست تسلیم کرتے ہوئے مجھے بےقصور مان لیا جائے۔

یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ میں جس صنعت سے وابستہ ہوں اس کے کروڑوں اربوں روپے میرے اوپر چلنے والے اس مقدمے کی وجہ سے داؤ پر لگے ہیں۔ اب عدالت کسی فیصلے پر پہنچنا چاہ رہی ہے۔ عدالت کا فیصلہ تو جو ہونا ہے وہ ہوگا، لیکن میں چاہتا ہوں کہ ایک لمحے کو اس پوری صورتحال کا تصور کرتے ہوئے آپ بتائیے کہ مجھے مجرم قرار دے کر سزا دی جائے یا بےگناہ تسلیم کرتے ہوئے چھوڑ دیا جائے؟؟؟

پیر، 4 مئی، 2015

تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں


میں اس وقت جلالپور جٹاں میں تھا جب برادرِ عزیز قیصر شریف (ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات، جماعت اسلامی) کی طرف سے عثمان ملک کی وفات کے بارے میں خبر ملی۔ میں نے سرسری طور پر پیغام پڑھا اور جواب میں انا للہ و انا الیہ راجعون لکھ کر بھیج دیا۔ شام کے بعد جب میں لاہور واپس آرہا تھا تو موبائل فون پر فیس بک کے ذریعے پتہ چلا کہ قیصر صاحب نے کس عثمان کی بات کی تھی۔ ایک لمحے کے لیے تو مجھے بالکل یقین ہی نہیں آیا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ موت کے لیے کوئی فارمولا تو طے نہیں ہے لیکن پھر بھی عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جوانی مرنے نہیں بلکہ جینے کے لیے ہوتی ہے۔

عثمان سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات آج سے تقریباً چھے برس قبل اس وقت ہوئی جب میں نے سما ٹیلیویژن کو خیرباد کہنے کے بعد وقت ٹی وی میں ملازمت اختیار کی۔ میں نیوز ایڈیٹنگ میں تھا اور عثمان رپورٹنگ میں، اس لحاظ سے ہم دونوں کا کام ایک دوسرے سے بلاواسطہ جڑا ہوا تھا۔ ابتداً میں نے انٹرنیشنل ڈیسک پر کام کیا، پھر مجھے نیشنل ڈیسک کی ذمہ داری بھی دیدی گئی۔ کچھ عرصے کے بعد اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ لاہور کی رپورٹنگ ٹیم کے لیے نیوز ایڈیٹنگ کا ایک الگ یونٹ بنادیا جائے۔ فیصلہ ہوا کہ اس یک رکنی یونٹ کی ذمہ داری مجھے دی جائے۔ میں نے اس نئی ذمہ داری کو بخوشی قبول کرلیا۔

عثمان چونکہ لاہور کی رپورٹنگ ٹیم کا حصہ تھا، لہٰذا اب کام کے سلسلے میں روزانہ ہی ہمارا ایک دوسرے رابطہ ہونے لگا۔ مجھے عثمان کی لکھی ہوئی کسی خبر سے متعلق کوئی بات کرنی ہوتی تو ایکسٹینشن سے فون کرتا اور عثمان فوری طور پر خبر کی تفصیل بتانے لگتا یا اپنی سیٹ سے اٹھ کر میرے پاس ایڈیٹنگ ڈیسک پر آجاتا۔ یہ سلسلہ چند مہینے تک جاری رہا۔ اس دوران میں نے یہ محسوس کیا کہ عثمان بہت محنتی رپورٹر ہے اور اس میں بات کو سمجھنے اور سیکھنے کی چاہ بھی بہت زیادہ ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کر کے کچھ سمجھایا جاتا تو میرا تقریباً ہم عمر ہونے کے باوجود وہ ایک مؤدب بچے کی طرح ساری بات سنتا۔

وقت ٹی وی کو چھوڑنے کے بعد کچھ عرصے کے لیے میں ایک انگریزی اخبار سے منسلک ہوگیا لیکن اس دوران گاہے ماہے عثمان سے ملاقات ہو ہی جاتی تھی کہ ایک ہی شہر میں رپورٹنگ کرنے والے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے ٹکرا ہی جاتے ہیں۔ عثمان کا رویہ ہمیشہ ہی انتہائی پُرتپاک رہا اور اس رویے کے باعث اس سے مل کر ہر بار بہت خوشی ہوتی تھی۔ میں یہ تو بھول گیا ہوں کہ ہماری آخری ملاقات کب ہوئی تھی مگر یہ یاد ہے کہ وہ ایک مقامی صحافتی تنظیم کی طرف سے منعقدہ کوئی پروگرام تھا جس میں ہم ملے تھے۔ یہ سطور لکھتے ہوئے عثمان کا وہ ہنستا کھلکھلاتا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے گردش کررہا ہے مگر افسوس کہ میں اس چہرے کو اب صرف تصویر اور تصور میں ہی دیکھ سکتا ہوں!

جمعہ، 1 مئی، 2015

جیمز ہیریسن: ایک معجزاتی انسان


یہ جو بزرگ آپ کو تصویر میں دکھائی دے رہے ہیں ان کا نام جیمز کرسٹوفر ہیریسن ہے۔ دنیا انہیں ایک معجزاتی انسان کے طور پر جانتی ہے۔ انہیں 'سنہرے بازو کا حامل شخص' بھی کہا جاتا ہے۔ یہ 27 دسمبر 1936ء کو پیدا ہوئے۔ 1950ء میں جب جیمز چودہ برس کے تھے اس وقت ان کے سینے کا آپریشن ہوا۔ آپریشن کے دوران ان کی جان بچانے کے لیے تیرہ لیٹر خون استعمال کیا گیا۔ آپریشن کے بعد جیمز کو اس بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے عزم کرلیا کہ وہ جب اٹھارہ برس کے ہوجائیں گے تو اپنے خون کا عطیہ دے کر لوگوں کی جانیں بچایا کریں گے۔

اٹھارہ برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد انہوں نے اپنے عزم کے مطابق خون عطیہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو ڈاکٹروں کو پتہ چلا کہ جیمز کے خون میں کچھ ایسے غیرمعمولی طور پر مضبوط جراثیم پائے جاتے ہیں جو نوزائیدہ بچوں کو ریسس (Rhesus) نامی بیماری سے بچانے کے لیے کام آسکتے ہیں۔ ڈاکٹروں نے جب یہ بات جیمز کو بتائی تو انسانی جانیں بچانے کا ان کا عزم مزید پختہ ہوگیا اور انہوں نے ریسس سے متاثرہ نوزائیدہ بچوں کی جانیں بچانے کے لیے اپنا پلازمہ (Plasma) عطیہ کرنا شروع کردیا۔

خون کے برعکس چونکہ پلازمہ ہر دو سے تین ہفتے کے بعد عطیہ کیا جاسکتا ہے، لہٰذا جیمز نے اسے اپنا معمول بنالیا۔ مئی 2011ء میں پچھتر برس کی عمر کو پہنچنے سے پہلے تک جیمز ایک ہزار بار اپنا پلازمہ عطیہ کرچکے تھے جس کی مدد سے چوبیس لاکھ سے زائد بچوں کی جانیں بچائی گئیں۔ انہوں نے عطیات کا یہ سلسلہ بعدازاں بھی جاری رکھا جو تاحال چل رہا ہے اور وہ تقریباً ہر دو ہفتے کے بعد اپنا پلازمہ عطیہ کرتے ہیں۔ ان کے پلازمہ سے جن بچوں کی جانیں بچائی گئیں ان میں ان کی اپنی بیٹی ٹریسی کے بچے بھی شامل ہیں۔

خون کے عطیات کے حوالے سے جیمز نے عالمی سطح پر ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جنوری 2013ء میں ایک نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے اس ریکارڈ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ "یہ واحد ریکارڈ ہے جس کے ٹوٹنے کی میں خواہش رکھتا ہوں کیونکہ اگر کوئی اسے توڑے گا تو اسے ایک ہزار (سے زائد) عطیات دینے ہوں گے۔" جیمز جن دنوں چھٹیوں پر ہوتے ہیں وہ تب بھی باقاعدگی کے ساتھ عطیات کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ ان کے خون کی مدد سے ریسس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکے بھی بنائے گئے ہیں جو مذکورہ بیماری سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے نوزائیدہ بچوں یا زچگی سے قبل حاملہ ماؤں کو لگائے جاتے ہیں۔

ان کے خون کی غیرمعمولی اہمیت کے پیش نظر جیمز کی زندگی کا دس لاکھ ڈالرز کے عوض بیمہ کیا گیا۔ 7 جون 1999ء کو ان کی انسانیت کے لیے خدمات کے صلے میں جیمز کو 'میڈل آف دی آرڈر آف آسٹریلیا' سے نوازا گیا۔ انہیں 'آسٹریلین آف دی ائیر' کے اعزاز کے لیے بھی نامزد کیا گیا، تاہم وہ اس اعزاز کو حاصل نہ کرسکے۔ جیمز کو شاید اس اعزاز کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ ان کی خدمات کے سامنے یہ اعزاز بہت ہی چھوٹا ہے۔ جیمز جیسے لوگ کسی ایک ملک، علاقے یا خطے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے فخر کا باعث ہیں۔ ایسے لوگ کسی ایک نسل یا قبیلے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے سر کا تاج ہیں۔ ایسے لوگوں کے دم سے ہی ایثار، قربانی اور اخلاص جیسے الفاظ آج بھی بامعنی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

وجہِ حیات (نظم)


یہ جو دہقان ہیں، یہ جو مزدور ہیں
شب کی زینت ہیں یہ، سحر کا نور ہیں

ان کے دم سے بہاریں ہیں پھیلی ہوئی
ان کے ہاتھوں سے مٹی ہے سونا بنی

زندگی کے سبھی رنگ ان کی عطا 
ان کو خالق کے یاروں کا درجہ ملا

تیرے میرے سکوں کا یہ باعث بنیں
ان کے ہونے سے دنیا کی سب رونقیں

زندگانی کا پہیہ ہے ان سے رواں
عزم و ہمت ہیں ان کے درخشاں نشاں

یہ جو نہ ہوں تو جیون ٹھہر جائے گا
روح کا تن سے رشتہ بکھر جائے گا

یہ جو دہقان ہیں، یہ جو مزدور ہیں
شب کی زینت ہیں یہ، سحر کا نور ہیں

پس نوشت: یہ نظم گزشتہ برس 06 مئی کو لکھی گئی اور اسی روز لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی کے 'یومِ مئی' کے حوالے سے منعقدہ مشاعرے میں پڑھی گئی۔