یہ جو دہقان ہیں، یہ جو مزدور ہیں
شب کی زینت ہیں یہ، سحر کا نور ہیں
ان کے دم سے بہاریں ہیں پھیلی ہوئی
ان کے ہاتھوں سے مٹی ہے سونا بنی
زندگی کے سبھی رنگ ان کی عطا
ان کو خالق کے یاروں کا درجہ ملا
تیرے میرے سکوں کا یہ باعث بنیں
ان کے ہونے سے دنیا کی سب رونقیں
زندگانی کا پہیہ ہے ان سے رواں
عزم و ہمت ہیں ان کے درخشاں نشاں
یہ جو نہ ہوں تو جیون ٹھہر جائے گا
روح کا تن سے رشتہ بکھر جائے گا
یہ جو دہقان ہیں، یہ جو مزدور ہیں
شب کی زینت ہیں یہ، سحر کا نور ہیں
پس نوشت: یہ نظم گزشتہ برس 06 مئی کو لکھی گئی اور اسی روز لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی کے 'یومِ مئی' کے حوالے سے منعقدہ مشاعرے میں پڑھی گئی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں