تازہ ترین
کام جاری ہے...
بدھ, اگست 13, 2014

اسبابِ مسرت کی دستیابی


ہمارے مسائل کا علاج یہ ہے کہ لوگوں کو معقول بنایا جائے اور انھیں معقول بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی تعلیم معقول طور پر ہو۔ اس وقت تک ہم جن عوامل پر غور کرتے رہے ہیں ان سب کا رجحان تباہی کی طرف ہے۔ توہم پرستی، حماقت اور حقیقت کے ناکافی احساس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ جنسی تعلیم اکثر اعصابی عارضے پیدا کرتی ہے اور جہاں یہ ظاہراً ایسا نہ کرے وہاں بھی اکثر لاشعور میں پریشانی کا بیج بو دیتی ہے، جس سے بالغ زندگی کی خوشی ناممکن ہوجاتی ہے۔ مدارس میں جس قومیت کی تعلیم دی جاتی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ نوجوان کا نہایت اہم فرض انسانوں کا قتل ہے۔ طبقاتی احساس سے اقتصادی بےانصافی پر رضامندی روز بروز بڑھتی ہے اور مقابلے سے سماجی کشمکش میں سنگ دلی کا اضافہ ہوتا ہے۔ کیا یہ بات قابلِ تعجب ہے کہ وہ دنیا جس میں ریاست کی سب طاقتیں نوجوانوں میں ویوانگی، حماقت، قتلِ انسان کے لیے مستعدی، اقتصادی بےانصافی اور سنگ دلی پیدا کرنے میں مصروف ہوں، وہ دنیا خوش نہیں ہے؟ کیا ایسے آدمی کو بدکردار اور مخربِ اخلاق ہونے کا مجرم قرار دیا جاسکتا ہے جو عہدِ حاضر کی اخلاقی تعلیم میں ان برائیوں کی جگہ عقل، شفقت اور احساسِ انصاف کو جگہ دینا چاہتا ہے؟ دنیا میں اس قدر ناقابلِ برداشت حد تک کشیدگی ہے، وہ اس قدر نفرت سے لبریز ہے، یوں بدبختیوں اور تکلیفوں سے اٹی پڑی ہے کہ انسان اس متوازن قوتِ فیصلہ کو کھو بیٹھے ہیں جو اس دلدل سے نکلنے کے لیے ضروری ہے، جس میں انسانیت لڑکھڑا رہی ہے۔ ہمارا زمانہ اتنا پُر اضطراب ہے کہ بہت سے بہترین انسان بھی مایوس ہوگئے ہیں۔ لیکن مایوسی کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ انسانی نسل کی مسرت کے اسباب موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انسانیت ان کے استعمال کو پسند کرے۔

برٹرنڈ رسل کی مشہور تصنیف ’Education and the Social Order‘ کے اردو ترجمہ ’نظامِ معاشرہ اور تعلیم‘ کا فلیپ۔ مترجم جی آر عزیز ہیں اور یہ کتاب مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور نے آخری بار فروری 1988ء میں شائع کی تھی۔

2 تبصرے:

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں