تازہ ترین
کام جاری ہے...
منگل، 8 مئی، 2018

معلم بطور دانشور


"جدید تاریخ میں دانشوروں کے بغیر کوئی بڑا انقلاب رونما نہیں ہوا؛ اس کے برعکس کوئی بڑی انقلاب مخالف تحریک بھی دانشوروں کے بغیر رونما نہیں ہو سکی۔" ایڈورڈ سعید


ایک دانشور کیسے وجود میں آتا ہے؟ کیا معلم بھی دانشور ہو سکتے ہیں؟ معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے وہ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟

یہ چند ایسے سوالات ہیں جو تیزی سے بدلتے ہوئے قومی و بین الاقوامی منظرناموں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ انٹونیو گرامشی، جولین بینڈا، ایڈورڈ سعید اور علی شریعتی سمیت کئی ایسے دانشور ہیں جنہوں نے معاشرے میں دانشوروں کی حیثیت، مقام اور کردار پر روشنی ڈالی۔

گرامشی وہ پہلا شخص تھا جس نے دانشوروں کے اہم کردار پر توجہ مرکوز کی اور اپنی کتاب The Prison Notebooks کا ایک باب اس بحث کے لیے مختص کیا۔ اس کتاب کو نظریۂ اقتدار پر نقد و جرح کی اولین کتاب کی حیثیت حاصل ہے۔ گرامشی کے مطابق ہر فرد دانشور ہوتا ہے، تاہم افراد کا ایک گروہ اپنے مقام و مرتبے کے باعث اپنا کردار ادا کرنے کا قابل ہوتا ہے۔ وہ دانشوروں کو دو گروہوں، یعنی روایتی اور قدرتی، میں تقسیم کرتا ہے۔

اس کے مطابق مبلغین کے مانند معلمین بھی دانشوروں کے روایتی گروہ میں شامل ہیں۔ روایتی دانشوروں کے برخلاف قدرتی دانشور مختلف طبقات اور اداروں کے مقاصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ گرامشی معاشرتی فضا کو دانشوروں کے لیے ایک اہم عنصر سمجھتا ہے۔ یہی معاشرتی فضا انہیں موجودہ معاشرتی اقدار کو بہتر بنا کر معاشرے میں تبدیلی لانے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ علی شریعتی کے مطابق "ایک مخصوص معاشرتی و تاریخی زمان و مکان میں اپنی 'انسانی حیثیت' سے باخبر" شخص ہی دانشور ہوتا ہے۔ دانشور کی یہ تعریف گرامشی کی اس بات سے مطابقت رکھتی ہے کہ معاشرے کا کوئی بھی فرد دانشور کہلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ علی شریعتی، جو خود بھی ایک جامعہ سے معلم کے طور پر وابستہ تھے، کا ماننا ہے کہ معلم کی حیثیت بھی دانشور کی ہی ہے کیونکہ وہ نوجوان نسل کی طرزِ فکر کو متاثر کر کے معاشرتی اصلاح میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ ایڈورڈ سعید اپنی کتاب Representations of the Intellectuals میں مشہور زمانہ تصنیف The Betrayal of the Intellectuals کی مصنفہ جولین بینڈا کے حوالے سے لکھتا ہے کہ "(دانشور وہ ہوتا ہے) جو انسانی شعور کی تعمیر کرنے والے خداداد صلاحیتوں کے حامل اور اخلاقی طور پر عظیم فلسفی بادشاہوں کی مٹھی بھر جماعت پر یقین رکھتا ہے"۔ دانشور کی یہ تعریف اخلاقیات کے ذیل میں متعصب اور محدود ہے۔ اس تعریف میں دانشور کا کردار انتہائی تجریدی اور آئیڈیل معلوم ہوتا ہے۔ دانشوری کا یہ نظریہ مصلوب ہونے سمیت جملہ قربانیوں کا متقاضی ہے۔

ان علما کے ہاں نقطۂ اتحاد ان کا اپنے اپنے منطقے میں دانشور کے طور پر عمل ہے۔ گرامشی اپنی ذہانت کی بنیاد پر کوئی بھی منافع بخش ملازمت حاصل کر سکتا تھا مگر اس نے صحافی بننا پسند کیا کیونکہ اس طرح اسے زیادہ کام کرنے اور ذہنوں کو متاثر کرنے کا موقع مل گیا۔ اس کی اشتعال انگیز سیاسی تحریروں کے باعث اسے دس برس کے لیے جیل بھجوا دیا گیا جہاں اس نے اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔ ایڈورڈ سعید، جو ایک جامعہ میں پروفیسر تھے، نے ایک معلم اور دانشور کی حیثیت سے انتہائی بھرپور زندگی گزاری، اس دوران انہوں نے کئی مروجہ گھسی پٹی روایات کو بھی چیلنج کیا، جس کے جواب میں انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی کتاب Orientalism میں مصنوعی طور پر پیدا کی جانے والی 'طبقاتی برتری' کی بنیادوں کا تنقیدی تجزیہ اور محاکمہ کیا گیا ہے۔ فلسطین کے ساتھ ان کی وابستگی ان کے لیے مختلف گوشوں سے تنقید کا باعث بنی، تاہم انہوں نے اپنے نظریات کے لیے یہ قیمت بھی ادا کی۔

ایران سے نمودار ہونے والے علی شریعتی نے بڑی تعداد میں طلبا کو متاثر کیا۔ بطور معلم وہ اس حد تک معروف ہوئے کہ ان کی کلاس سینکڑوں طلبا پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ ان کی شہرت شاہ کے زیر اثر ایران کی آمرانہ قوتوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی۔ بالآخر انہیں تدریس سے روک دیا گیا، جس کے بعد وہ لندن چلے گئے اور وہیں ایک روز ان کے فلیٹ میں عجیب و غریب حالات میں ان کی لاش برآمد ہوئی۔

برازیلی ماہر تعلیم اور ایکٹیوسٹ پولو فریئر کے مطابق تدریس ایک سیاسی عمل کا نام ہے۔ انہوں  نے 'علم کے حسابی تصور' کو چیلنج کرتے ہوئے تنقیدی تدریس کے حق میں آواز بلند کی۔ انہوں نے تنقیدی تدریس کے نظریے کی محض حمایت ہی نہیں کی بلکہ فی الحقیقت عوام کی فلاح و بہبود کے پیش نظر تنقیدی تعلیم کے نظریے کو عملی جامہ پہنایا۔ فریئر کو بھی حکومت کی جانب سے ان کے نظریات کی پاداش میں قید میں ڈال دیا گیا۔ یہ ان معاصر دانشوروں کی چند مثالیں ہیں جنہوں نے تعلیم میں دلچسپی لیتے ہوئے اپنے نظریات کو عملی سانچے میں ڈھالا اور اس کے باعث صعوبتیں برداشت کیں۔

کیا تدریس واقعی ایک سیاسی عمل ہے، جیسا کہ فریئر نے دعویٰ کیا ہے؟ کیا معلمین کو معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے جدوجہد کرنا چاہیے؟ اب تیزی سے یہ احساس اجاگر ہو رہا ہے کہ علم کی طرح تعلیم بھی براہِ راست اقتدار سے جڑی ہوئی ہے، اور سلسلۂ تعلیم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے معلمین ایک سیاسی عمل میں مصروف ہوتے ہیں۔ تعلیم کو غیر جانبدار اور معروضی شرائط کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ ایڈورڈ سعید یہ تجویز پیش کرنے میں حق بجانب ہیں کہ "سیاست ہر جگہ ہے؛ خالص فن اور فکر یا پھر غیر دلچسپ معروضیت یا ماورائی تھیوری کی سلطنتوں سے مفرور نہیں ہوا جا سکتا"۔

تعلیم کا معاصر منظرنامہ، جس کا بڑا حصہ کاروباری اداروں کے ہاتھ میں ہے، بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر تعلیم کے ایک غیر جانبدار، قدروں سے آزاد اور سیاسی پہلو کو پروان چڑھا رہا ہے، جس کے باعث معلمین کا کردار مشین پر کام کرنے والے کاریگروں کی حد تک سمٹ کر رہ گیا ہے۔ دانش اور دانشور عموماً مغرب کے غالب منطقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی دانشور اپنے افراد، ماحول اور تمدن کو سمجھتے ہوئے اس بات پر عمل پیرا ہوں جس کی وہ تبلیغ کرتے ہیں۔ غیر ملکی تعلیمی نظریوں کو درآمد کر کے اپنے دیسی ماحول کا ادراک کیے بغیر انہیں اپنی مقامی اقدار کا حصہ بنانے سے معاشرتی اقدار کی اصلاح نہیں ہو گی۔

علی شریعتی نے اسی دیسی تناظر پر زور دیتے ہوئے یہ تجویز پیش کی تھی کہ "ایک حقیقی دانشور وہ ہے جو اپنے معاشرے کو جانتا، اس کے مسائل کو سمجھتا، اس کی قسمت کا تعین کر سکتا، اس کے ماضی سے واقف اور اپنے کردار کا تعین کر سکتا ہو"۔ ہمارے معاشرے میں معیاری معاشرتی تبدیلی لانے کے لیے ایسے معلمین درکار ہیں جو بسم اللہ کے گنبد کے مکین نہ ہوں اور تعلیم کو ایک تبدیلی لانے والی قوت مانتے ہوئے اپنے اقوال کو افعال بنا کر پیش کر سکتے ہوں۔ تعلیم کے نیو لبرل ورژن کے مطابق یہ کردار انتہائی دقت طلب ہے۔

پس نوشت: ڈاکٹر شاہد صدیقی کا یہ مضمون 12 جنوری 2009ء کو انگریزی روزنامہ 'ڈان' میں شائع ہوا تھا۔ مضمون کا ترجمہ تو میں نے تبھی کرلیا تھا لیکن اسے کہیں رکھ کر بھول گیا اور نو سال سے زائد عرصے کے بعد چند دن پہلے کسی اور چیز کو تلاش کرتے ہوئے میری اس پر نظر پڑی تو سوچا کہ کیوں نہ اسے بلاگ پر لگایا جائے، اس بہانے میرا سویا ہوا بلاگ بھی جاگ اٹھے گا!
قدیم تر اشاعت
اگلی پوسٹ
یہ سب سے نئی پوسٹ ہے۔

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں