تازہ ترین
کام جاری ہے...
اتوار, جولائی 21, 2013

الوداع ہیلن!!!

 4 اگست 1920ء کو پیدا ہونے والی مشہور و معروف امریکی صحافی و مصنفہ ہیلن تھامس 20 جولائی 2013ء کو اپنی 93ویں سالگرہ سے دو ہفتے قبل ہی انتقال کرگئیں۔ ہیلن نے 1942ء میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد واشنگٹن ڈیلی نیوز نامی اخبار سے عملی صحافت کا آغاز کیا۔ 4 جون 2010ء کو قصرِ سفید یعنی وہائٹ ہاؤس کے باغیچے میں ہیلن نے ایک انٹرویو کے دوران فلسطین پر قابض یہودیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’وہ فلسطین سے دفع ہوجائیں۔۔۔ ‘ ہیلن کو اس بیان کے تین روز بعد 7 جون 2010ء کو ’روزنامہ ہرسٹ‘ سے مستعفی ہونا پڑا۔

تقریباً سات عشروں کو محیط صحافتی زندگی میں سے انہوں نے آدھی صدی وہائٹ ہاؤس کی رپورٹنگ کرتے ہوئے گزاری۔ وہائٹ ہاؤس میں رپورٹنگ کرتے ہوئے ہیلن نے جان ایف کینیڈی سے لے کر باراک اوبامہ تک دس امریکی صدور کا دورِ حکومت دیکھا۔ کیوبا کے حوالے سے میزائل بحران کا مسئلہ ہو یا ویتنام اور عراق کے حوالے سے جنگ کی بحث، تیل کی قلت کا معاملہ ہو یا امریکی معیشت کی بنیادیں ہلنے پر گفتگو، واٹر گیٹ اسکینڈل ہو یا جوہری ہتھیاروں کی دوڑ پر نوک جھونک، امریکی صدور کو اپنی اخباری کانفرنسوں کے دوران ہمیشہ ہی ہیلن کے تیکھے سوالات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ہیلن بہت نڈر اور بےباک خاتون تھیں۔ 6 کتابیں لکھنے، 30 سے زائد اعزازی ڈگریاں لینے اور بیسیوں اعزازت اور ایوارڈز حاصل کرنے والی وہ بڑھیا مجھے بہت پسند تھی۔ ہیلن، کوئی اور تمہیں یاد کرے نہ کرے مگر میں تمہیں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ الوداع ہیلن، الوداع!!!

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں