تازہ ترین
کام جاری ہے...
سوموار، 26 جنوری، 2015

شدت پسند کون؟؟؟


تقریباً دو ہفتے قبل پیرس میں پیش آنے والے واقعے کے بعد فرانس میں مسلم مخالف واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ نیشنل آبزرویٹری اگینسٹ اسلاموفوبیا نامی ادارے کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو ہفتے کے دوران ایسے 128 واقعات کے بارے میں اطلاع ملی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ 2014ء کے دوران پورے سال میں اتنے مسلم مخالف واقعات پیش آئے تھے جتنے کہ اب دو ہفتوں کے دوران ہی سامنے آچکے ہیں۔

مذکورہ ادارے کے مطابق 128 میں سے 33 واقعات مساجد کے خلاف پیش آئے جبکہ 95 واقعات انفرادی نوعیت کی دھمکیوں پر مبنی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں پیرس اور اس کے گرد و نواح میں پیش آنے والے واقعات شامل نہیں ہیں کیونکہ ان علاقوں سے پولیس نے تاحال اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔

ادارے نے یہ بھی بتایا ہے کہ 2014ء میں اس سے گزشتہ برس کے مقابلے میں ایسے واقعات 41 فیصد کم رونما ہوئے تھے، تاہم پیرس کے واقعے نے فرانس میں مسلم مخالف جذبات کو ایک بار پھر ہوا دی ہے جس کے باعث ایسے واقعات میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار حقائق پر مبنی نہیں ہیں کیونکہ بہت سے مسلمان ایسے واقعات کے خلاف باقاعدہ شکایت درج نہیں کرواتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی شکایتوں کے اندراج کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے رسالے چارلی ہیبڈو کے دفتر پر 7 جنوری کو جب مسلح حملہ ہوا تھا تو اس وقت ڈیوٹی پر موجود ایک مسلم پولیس اہلکار احمد مرابت نے فرائض کی انجام دہی کے دوران  سب سے پہلے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا اور جب حملہ آور فرار ہو کر پیرس کے نواح میں واقع ایک یہودی اکثریتی قصبے کی طرف گئے تو وہاں جس سپر مارکیٹ میں جا کر انہوں نے مزید لوگوں کو نشانہ بنایا، وہاں بھی لوگوں کی جان بچانے کے لیے جو شخص سامنے آیا وہ مالی سے تعلق رکھنے والا چوبیس سالہ نوجوان لسانا بیتھیلی نامی ایک مسلمان ہی تھا۔

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں