تازہ ترین
کام جاری ہے...
پیر, فروری 23, 2015

تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیت ہے


برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع جالون میں سرپتپورا گاؤں میں رہنے والے نچلی ذات کے امر سنگھ دوہرے نامی ایک شخص نے الزام لگایا ہے کہ اونچی ذات کے کچھ بااثر افراد نے گاؤں کی ایک شادی میں اونچی ذات والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی پاداش میں اس کی ناک کاٹنے کی کوشش کی۔ دوہرے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں شکایت لے کر جب وہ متعلقہ تھانے گئے تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بجائے ٹال مٹول کا رویہ اپنایا۔

اگلے روز کچھ سیاسی دباؤ پڑا تو پولیس نے مقدمہ درج کرلیا، تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی۔ بی بی سی کے مطابق اس سلسلے میں ملزمان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی لیکن ان کے گھر پر کوئی موجود نہیں تھا اور اردگرد کے لوگ اس بارے میں بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اس حوالے سے سرپتپورا گاؤں کے اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے سربراہ چھوٹے لال سے رابطہ کیا گیا تو "انہوں نے بھی اس معاملے میں براہِ راست کچھ کہنے سے بچنے کی کوشش کی۔"

دوہرے کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا یا آخری واقعہ نہیں ہے۔ بی بی سی کی مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق دلتوں کے خلاف جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے مگر تمام معاملات کے ذمہ داروں کو سزا نہیں دی جا سکی ہے۔"

اس طرح کے واقعات صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پاکستان اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پیش آتے رہتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک بھی اس سلسلے میں ترقی پذیر ممالک کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور وہاں بھی کسی نہ کسی شکل میں اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جن میں کہیں تو مذہب یا نظریے کو تفریق کی بنیاد بنایا جاتا ہے، کہیں رنگ و نسل کے حوالے سے امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے اور کہیں معاشی و معاشرتی درجہ بندی کو پیش نظر رکھتے ہوئے لوگوں پر ظلم کیا جاتا ہے۔

ایک طرف انسان غاروں سے نکل کر ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے تو دوسری جانب بہتر و کمتر کی تمیز پر مبنی اس نوعیت کے واقعات اس کی اخلاقی گراوٹ پر دال ہیں۔ بندہ و آقا کی تمیز دنیا میں جہاں بھی اور جس بھی صورت میں پائی جاتی ہے وہ انسانوں کے درمیان نفرت، تعصب اور تفریق کے ایسے بیج بو دیتی ہے جو زہریلے اور مہلک ثمرات کی پیداوار کا ذریعہ بنتے ہیں اور انہیں کھا کر انسان اپنے ہم جنسوں پر ظلم و تعدی کو روا سمجھنے لگتا ہے۔ اسی لیے اقبال نے کہا تھا:

تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیت ہے
حذر، اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں