تازہ ترین
کام جاری ہے...
بدھ، 24 جولائی، 2013

تبدیلی کی ایک جھلک

گزشتہ رات میرے ایک دوست کی کال آئی۔ یہ معلوم ہونے پر کہ میں گھر میں ہوں، انہوں نے کہا کہ میں آپ کو لینے آرہا ہوں۔ کچھ ہی دیر میں گاڑی دروازے پر آ کر رکی اور میرے سوار ہوتے ہی ہم دونوں روانہ ہوگئے۔ رستے میں پتہ چلا کہ ہم علامہ اقبال ٹاؤن کے ایک بلاک میں جارہے ہیں جہاں کوئی صاحب ہمارے منتظر ہیں۔ مقررہ جگہ پر پہنچ کر میرے دوست نے فون کیا تو ایک نوجوان سامنے سے چلتا ہوا آیا اور آ کر گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر نشست پر براجمان ہوگیا۔

نوجوان نے ہاتھ ملاتے ہوئے بات کا آغاز کیا کہ ”ہم نے اپنے ہمسائے میں موجود پلاٹ پر مقیم ایک شخص کو دو ہزار روپے ماہانہ کے عوض بجلی فراہم کررکھی تھی اور اس سے طے پایا تھا کہ وہ صرف ایک بلب اور ایک پنکھا استعمال کرے گا۔ اس شخص نے استری اور دھلائی مشین وغیرہ کا استعمال کیا جس سے بجلی کی تار جل گئی۔ ہم لوگوں نے اسے بجلی کی فراہمی بند کردی۔ میرے ابو اس سلسلے میں بات کرنے گئے تو اس شخص نے انہیں دھکا دیا۔ وہ گھر آگئے اور پھر ہم سات آٹھ لوگوں نے وہاں جا کر اس شخص کی خوب پٹائی کی۔ اس نے پولیس اور ایمبولینس کو کال کردی۔ ایمبولینس کے ذریعے وہ اسپتال پہنچا تو میرے ابو بھی وہاں پہنچ گئے۔ ڈاکٹر نے اس شخص کا طبی معائنہ کرنے کے بعد اسے رخصت کردیا اور ڈسچارج سلپ میرے ابو کو دیدی۔“

یہاں تک اپنی کتھا سنانے کے بعد اس نوجوان نے بتایا کہ اب اس معاملے میں پولیس بھی ملوث ہوچکی ہے اور ایس ایچ او کہتا ہے کہ ”تم لوگوں نے بڑا ظلم کیا ہے، سو اب میں تمہارے خلاف مقدمہ ضرور درج کروں گا۔“ یہ کہہ کر نوجوان نے ایس ایچ او اور پولیس کی شان میں کچھ غیرپارلیمانی کلمات کہے جنہیں یہاں لکھنا سینسر بورڈ کی غیرتِ ایمانی کو للکارنے کے مترادف ہے۔ خیر، نوجوان نے بتایا کہ میاں (محمودالرشید) صاحب نے تو ایس ایچ او کو کال کردی ہے مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا، لہٰذا اب اس علاقے کے رکن قومی اسمبلی (یعنی شفقت محمود) سے کہا جائے کہ وہ ایس ایچ او کو فون کریں تاکہ وہ ان کے خلاف قانونی کارروائی سے باز رہے۔ میرے دوست نے کہا کہ ”ایم این اے کو اس میں ڈالنے کی ضرورت نہیں، میاں صاحب پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں، ان کا فون زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔“

ہم جس جگہ کھڑے تھے اس کے بالکل سامنے پولیس چوکی تھی جبکہ تھانہ وہاں سے کچھ فاصلے پر تھا۔ میرے دوست گاڑی سے اتر کر چوکی میں گئے اور وہاں سے ایک پولیس اہلکار کے بارے میں پتہ کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے چھٹی پر ہے۔ میرے دوست نے واپس آ کر اس نوجوان سے کہا کہ وہ جا کر اس سلسلے میں کسی اور سے بات کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ نوجوان گاڑی سے اتر گیا اور ہم دونوں چائے پینے کے لئے ایک ہوٹل کی طرف چل پڑے۔ رستے میں میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ یہ لڑکا کون تھا؟ انہوں نے جواب دیا، ”ہماری پارٹی کا اسپورٹر ہے۔“

3 تبصرے:

  1. بہت زبردست تحریر اور ایک کھلا پیغام
    بھائی جی اس معاشرے کو ہمیں زبردستی سدھارنا پڑے گا ۔۔۔ یعنی ڈنڈے سے

    جواب دیںحذف کریں
  2. بلاگ پر خوش آمدید نجیب بھائی۔
    معاشرے کو سنوارنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم سب اپنی اپنی سطح پر خود کو سنواریں۔ ہر اینٹ ٹھیک رکھی جائے گی تو عمارت بھی ٹھیک بن جائے گی۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. بس جی۔
    تبدیلیاں شروع شروع میں ایسے ہی آتی ہیں۔
    پھر میچور ہوجاتی ہیں۔
    اور پھر نئی تبدیلی اُن کی جگہ لے لیتی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں