تازہ ترین
کام جاری ہے...
سوموار، 4 مئی، 2015

تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں


میں اس وقت جلالپور جٹاں میں تھا جب برادرِ عزیز قیصر شریف (ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات، جماعت اسلامی) کی طرف سے عثمان ملک کی وفات کے بارے میں خبر ملی۔ میں نے سرسری طور پر پیغام پڑھا اور جواب میں انا للہ و انا الیہ راجعون لکھ کر بھیج دیا۔ شام کے بعد جب میں لاہور واپس آرہا تھا تو موبائل فون پر فیس بک کے ذریعے پتہ چلا کہ قیصر صاحب نے کس عثمان کی بات کی تھی۔ ایک لمحے کے لیے تو مجھے بالکل یقین ہی نہیں آیا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ موت کے لیے کوئی فارمولا تو طے نہیں ہے لیکن پھر بھی عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جوانی مرنے نہیں بلکہ جینے کے لیے ہوتی ہے۔

عثمان سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات آج سے تقریباً چھے برس قبل اس وقت ہوئی جب میں نے سما ٹیلیویژن کو خیرباد کہنے کے بعد وقت ٹی وی میں ملازمت اختیار کی۔ میں نیوز ایڈیٹنگ میں تھا اور عثمان رپورٹنگ میں، اس لحاظ سے ہم دونوں کا کام ایک دوسرے سے بلاواسطہ جڑا ہوا تھا۔ ابتداً میں نے انٹرنیشنل ڈیسک پر کام کیا، پھر مجھے نیشنل ڈیسک کی ذمہ داری بھی دیدی گئی۔ کچھ عرصے کے بعد اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ لاہور کی رپورٹنگ ٹیم کے لیے نیوز ایڈیٹنگ کا ایک الگ یونٹ بنادیا جائے۔ فیصلہ ہوا کہ اس یک رکنی یونٹ کی ذمہ داری مجھے دی جائے۔ میں نے اس نئی ذمہ داری کو بخوشی قبول کرلیا۔

عثمان چونکہ لاہور کی رپورٹنگ ٹیم کا حصہ تھا، لہٰذا اب کام کے سلسلے میں روزانہ ہی ہمارا ایک دوسرے رابطہ ہونے لگا۔ مجھے عثمان کی لکھی ہوئی کسی خبر سے متعلق کوئی بات کرنی ہوتی تو ایکسٹینشن سے فون کرتا اور عثمان فوری طور پر خبر کی تفصیل بتانے لگتا یا اپنی سیٹ سے اٹھ کر میرے پاس ایڈیٹنگ ڈیسک پر آجاتا۔ یہ سلسلہ چند مہینے تک جاری رہا۔ اس دوران میں نے یہ محسوس کیا کہ عثمان بہت محنتی رپورٹر ہے اور اس میں بات کو سمجھنے اور سیکھنے کی چاہ بھی بہت زیادہ ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کر کے کچھ سمجھایا جاتا تو میرا تقریباً ہم عمر ہونے کے باوجود وہ ایک مؤدب بچے کی طرح ساری بات سنتا۔

وقت ٹی وی کو چھوڑنے کے بعد کچھ عرصے کے لیے میں ایک انگریزی اخبار سے منسلک ہوگیا لیکن اس دوران گاہے ماہے عثمان سے ملاقات ہو ہی جاتی تھی کہ ایک ہی شہر میں رپورٹنگ کرنے والے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے ٹکرا ہی جاتے ہیں۔ عثمان کا رویہ ہمیشہ ہی انتہائی پُرتپاک رہا اور اس رویے کے باعث اس سے مل کر ہر بار بہت خوشی ہوتی تھی۔ میں یہ تو بھول گیا ہوں کہ ہماری آخری ملاقات کب ہوئی تھی مگر یہ یاد ہے کہ وہ ایک مقامی صحافتی تنظیم کی طرف سے منعقدہ کوئی پروگرام تھا جس میں ہم ملے تھے۔ یہ سطور لکھتے ہوئے عثمان کا وہ ہنستا کھلکھلاتا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے گردش کررہا ہے مگر افسوس کہ میں اس چہرے کو اب صرف تصویر اور تصور میں ہی دیکھ سکتا ہوں!

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں