تازہ ترین
کام جاری ہے...
جمعرات, مارچ 19, 2015

پاکستانی مرض، چینی علاج


عوامی جمہوریہ چین کئی حوالوں سے ایک مثالی ملک ہے۔ 1949ء میں چینی اشتراکی جماعت (سی پی سی) کی قیادت میں ترقی کے سفر کو نئے سرے سے شروع کر کے چین آج دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کے ساتھ صفِ اول کھڑا ہے۔ ماؤ زے تنگ کی قائدانہ دانش سے چلنے والا ترقی کا یہ مستحکم سلسلہ ڈینگ ژیاؤپنگ، جیانگ زے من اور ہو جنتاؤ سے چلتا ہوا اب ژی جن پنگ تک پہنچ چکا ہے۔

باسٹھ سالہ ژی جن پنگ سی پی سی کے جنرل سیکرٹری اور چین کے صدر ہیں۔ وہ ایک انتہائی ایماندار اور محنتی شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایمانداری اور محنت کے اوصاف ان کے کام میں بھی واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ انہی خوبیوں کے باعث انہیں چین کے عظیم رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب سے انہوں نے سی پی سی اور چین کی قیادت سنبھالی ہے وہ چینی قوم کی تجدید اور ترقی کے لیے کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

ژی جن پنگ اور سی پی سی کے حوالے سے باقی باتیں پھر کبھی سہی کہ یہ دونوں موضوعات تفصیل طلب ہیں۔ ابھی تو مجھے یہاں ژی کی ایک تقریر کا اقتباس پیش کرنا ہے جو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک کارگر نسخہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ژی نے سی پی سی کی اٹھارھویں نیشنل کانگریس کے پولیٹیکل بیورو کے چودھویں اسٹڈی گروپ کی سربراہی کرتے ہوئے 25 اپریل 2014ء کو قومی سلامتی اور معاشرتی استحکام کی حفاظت کے حوالے سے ایک تقریر کی تھی۔ پوری تقریر تو کافی لمبی ہے، اس کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے جو ہمارے لیے مشعل راہ ثابت ہوسکتا ہے۔

"دہشت گردی سے نمٹنا براہ راست قومی سلامتی، لوگوں کے فوری مفادات، اور اصلاح، ترقی اور استحکام سے جڑا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی سلامتی، معاشرتی استحکام اور لوگوں کی فلاح کی حفاظت کرتی ہے۔ ہمیں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے اور دہشت گردی کو ناکام بنانے کے لیے دباؤ ڈالتے رہنا ہوگا۔ ہمیں انسداد دہشت گردی کے لیے ایک مضبوط لائحہ عمل بنانا چاہیے، اس لائحہ عمل میں بہتری لاتے رہنا چاہیے اور انسداد دہشت گردی کے لیے قوت حاصل کرنی چاہیے۔ ہمیں دہشت گردی سے لڑنے کے لیے پیشہ ورانہ افواج اور عوام کو بھرتی کرنا چاہیے، عوام کو دہشت گردی کے خلاف مختلف نوعیت کی سرگرمیوں میں مصروف کرنا چاہیے، دہشت گردی کے خلاف ایک ناقابل تسخیر نیٹ ورک بنانا چاہیے، اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ دہشت گردوں کا چوہوں کی طرح پیچھا کیا جائے۔ ہمیں محب وطن مذہبی شخصیات کو بھی کوئی کردار دینا چاہیے، مذہبی لوگوں کے لیے مثبت رہنمائی کو بڑھانا چاہیے، ثانی الذکر کی عمومی مذہبی ضروریات کو پورا کرنا چاہیے، اور مؤثر طور پر مذہبی انتہا پسندی کی دراندازی کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے۔

دہشت گردی بنیادی انسانی حقوق کا انکار کرتی ہے، انسانی انصاف کو روندتی ہے اور انسانی تہذیب کی مشترکہ قدروں کو چیلنج کرتی ہے۔ یہ نسل یا مذہب کا مسئلہ نہیں ہے۔ دہشت گرد تمام نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مشترکہ دشمن ہیں۔ ہمیں اپنے سرکاری اہلکاروں اور تمام نسلی گروہوں کے لوگوں پر پختگی سے اعتماد اور انحصار کرنا چاہیے، نسلی اتحاد اور معاشرتی استحکام کی حفاظت کے لیے ان کے ساتھ مل کر چلنا چاہیے۔"

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں