تازہ ترین
کام جاری ہے...
ہفتہ, مارچ 28, 2015

سبب کچھ اور ہے۔۔۔ (2)


یمن کی حکومت پر قبضہ کرنے والے حوثی جس تنظیم یا گروہ کا حصہ ہیں اس کا نام انصاراللہ ہے۔ ان لوگوں کو حوثی حسین بدرالدین الحوثی کی وجہ سے کہا جاتا ہے جس نے 2004ء میں یمن میں بغاوت کی بنیاد رکھی تھی۔ الحوثی 10 ستمبر 2004ء کو یمنی افواج کی ایک کارروائی کے دوران یمن کے صوبہ صعدہ کے مران نامی شہر میں مارا گیا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد ہی اس تنظیم سے وابستہ لوگوں نے حوثی کہلانا شروع کیا۔

حوثی یمن کے زیدی شیعہ ہیں۔ شیعہ مکتبۂ فکر سے وابستگی کی بنیاد پر ان کی یمن کے سنی عقائد کے حامل حکمرانوں سے چپقلش ایک قابل فہم بات ہے۔ حوثیوں کی قیادت اس وقت ایک نوجوان عبدالمالک الحوثی کے ہاتھ میں ہے جو حسین بدرالدین کا چھوٹا بھائی ہے۔ اس کے دو اور بڑے بھائی، یحییٰ بدرالدین الحوثی اور عبدالکریم بدرالدین الحوثی، بھی انصاراللہ میں شامل ہیں۔

یمن کی تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ آبادی میں سے ساٹھ سے پینسٹھ فیصد سنی ہیں جن غالب اکثریت شافعی مکتبۂ فکر سے جڑی ہوئی ہے جبکہ کچھ مالکی اور حنبلی بھی ہیں۔ بقیہ پینتیس سے چالیس فیصد شیعہ آبادی ہے جس کی اکثریت زیدی ہے اور باقی اثنا عشری اور اسماعیلی ہیں۔ زیدیوں کی زیادہ تعداد صنعا اور اس کے اردگرد آباد ہے اور یہ تقریباً چار سو قبائل پر مشتمل ہیں۔

رقبے کے لحاظ سے سعودی عرب کے بعد یمن جزیرۂ عرب کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ تقریباً سوا پانچ لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے یمن کے مشرق میں عمان واقع ہے۔ اس کے مغرب میں بحیرۂ احمر ہے۔ جنوب میں بحیرۂ عرب اور خلیجِ عدن موجود ہیں۔ شمال کی طرف سعودی عرب واقع ہے جس کی اٹھارہ سو کلومیٹر لمبی سرحد یمن کے سب سے بڑے علاقے صنعا سے جڑی ہوئی ہے۔

سعودی عرب نے یمن کے دگرگوں حالات اور اپنے ملک کے اندر بعض عناصر کے خلاف کارروائی کی وجہ سے 2003ء میں دونوں ملکوں کے مابین واقع سرحد پر حفاظتی حصار بنانا شروع کیا تو یمنی حکومت نے تین برس قبل کیے گئے 'میثاقِ جدہ' کا حوالہ دیتے ہوئے اس کام پر شدید اعتراض کیا۔ سعودی عرب نے اس حصار کا جواز اس بات کو بنایا تھا کہ یمن سے اسلحے کی ترسیل اور سمگلنگ وغیرہ کو روکا جائے لیکن یمنی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ حصار مقامی آبادی کے لیے شدید مسائل کا باعث بنے گا اور روزگار کے سلسلے میں ہمسایہ ملک کا رخ کرنے والے لوگوں کے لیے امکانات محدود ہوجائیں گے۔ حصار کی تعمیر چار برس رکی رہی لیکن سعودی عرب نے 2008ء میں اسے دوبارہ شروع کیا اور اب یہ حصار کنکریٹ سے بھری ہوئی پائپ لائنز کی شکل میں موجود ہے۔

اب یمن اور سعودی عرب کے جغرافیائی حوالے اور اس پورے منظرنامے کو سامنے رکھیں تو یمن میں حوثی باغیوں کے صنعا اور دیگر علاقوں پر قبضے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے سعودی عرب کا بہت زیادہ مستعد ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نظر نہیں آتی۔ (جاری ہے)

ایک تبصرہ:

  1. بقیہ معلومات کی انتظار ہے ۔ فی الحال ایک اختلاف کی جسارت کر رہا ہوں ۔ سارے حوثی زیدی شیعہ نہیں ہیں ۔ البتہ حوثی قبالئل میں اکثریت شیعہ کی ہے ۔ مجھے تو یہ لوگ بھی امریکی کی سی آئی اے یا اسرائیل کی موساد کا کارنامہ لگتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں